تابعین وسلف صالحین کا عمل

خلیفہ عبدالملک بن مروان کے عہدِخلافت میں حارث نامی شخص نے نبوت کا دعوی کا،خلیفہ عبدالملک نے جوحضرات صحابہ وتابعین کے متفقہ فتوی وفیصلہ سے اس کو قتل کرکے سولی پر ﷺچڑھادیا۔

امام طحاوی ؒ نے اپنی تصنیف لطیف ”عقیدۃ الطحاوی“میں تحریرفرماتے ہیں:
”کل دعوۃ نبوۃ بعدنبوتہ فغی،وھوی،وھوالمبعوث الی عامۃ الجن،وکافۃ الوری بالحق والھدی“
(عقیدۃ الطحاوی: ۸۴)
ہردعویئ نبوت آں حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے بعدگمراہی وضلالت ہے؛بلکہ اسلام سے خروج وبغاوت ہے؟آپ کو تمام جن وانس کے کے جانب حق اورہدایت کے ساتھ مبعوث کیاگیاہے۔
قاضی عیاض ؒ ”شفاء“ میں مذکورہ تحریرفرماتے ہیں:
”وفعل ذالک غیرواحدمن الخلفاء، والملوک باشباھمم، وأجمع علما ء وقتھم علی صواب فعلھم،والمخالف
فی ذالک من کفرھم کافر۔(الشفاء بتعریف حقوق المصطفی۲/۲۳۶)
اخبر صلی اللہ علیہ وسلم أنہ خاتم النبیین، لانبی بعدہ،واخبرعن اللہ تعالیٰ انۃ خاتم النبیین،
وأنہ ارسل کافۃ للناس وأجمعت الامۃ حمل ھذاالکلام علی ظاھروان مفہومہ المراد بہ دون تاویل، وتخصیص،
فلاشک فیکفرھولاء الطوائف کلھا قطعا اجماعا وسمعا۔(بحوالہ ختم نبوت: ۸۰۳)
الغرض
الغرض قرآن،حدیث،صحابہ وتابعین،ائمہ مجتہدین اورعلماء وسلف کا متفقہ فصیلہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں،ختم نبوت آپ کی شان ہے،امت کے لئے انعام ہے، جواس کا منکرہے وہ کافرہے،جوشخص محمدرسول اللہ کو خاتم النبیین نہ سمجھے، وہ بھی کافرہے اورجو جھوٹے نبی کی تصدیق کرے،وہ بھی کافرہے،لہذاعہدنبوت ہی میں دعوی کرنے والے جھوٹے مدعیان نبوت مسیلمہ کذاب،اسودعنسی،طلیحہ،سجاح سے لے کر مرزاغلام احمدقادیانی اورشکیل بن حنیف تک سب کا فرہیں اوران کی تصدیق کرنے والے بھی کافرہیں،قیامت تک جو بھی شخص قیامت تک نبوت کا دعوی کرے، وہ بھی کافرہے،حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام قرب قیامت میں دنیامیں محمدرسول اللہ خاتم النبیین کے خلیفہ کی حیثیت سے تشریف لے آئیں گے نہ کہ بحیثیت نبی ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں