ختم نبوت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امتیازی شان

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا:
”ان مثلی ومثل الانبیاء من قبلی کمثل رجل بنی بیتا، فأحسنہ، وأجملہ الاموضع لبنۃ من زاویۃ،
فجعل الناس یطوفون بہ، ویتعجبون لہ،ویقولون:ھلا وضعت ھذہ اللبنۃ؟ قال: فانا:اللبنۃ،
وانا خاتم النبیین۔(رواہ جماعۃ ورواہ البخاری عن ابی ھریر ۃ: ۵۳۵۳،۱/۱۰۵)
میری اورمجھ سے پہلے انبیاء کی مثال ایسی ہے کہ ایک شخص نے بہت ہی حسین وجمیل محل بنایا؛ مگراس کے ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑدی،لوگ اس کے اردگردگھومنے اوراس پر عش عش کرنے لگے اوریہ کہنے لگے کہ ایک اینٹ بھی کیوں نہ لگادی گئی؟(اگرلگادی جائے توکیاہی بہترہوتا)آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں وہی کونے کی آخری اینٹ ہوں اورمیں نبیوں کے آخرمیں آنے والا ہوں۔
حضرت ابوہریرۃ ؓ سے مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا:
”فضلت علی الانبیاء بست:أعطیت جوامع الکلم،ونصرت بالرعب،واحلت لی الغنائم،وجعلت لی الار ض طھوراومسجدا،وارسلت الی الخلق کافۃ،وختم بی النبییون“۔(رواہ مسلم: ۳۲۵،۱/۹۹۱)
مجھے تمام انبیاء پرچھے باتوں میں فضیلت دی گئی ہے (۱)مجھے جوامع الکلم عطاکے گئے ہیں (۲) رعب وجلال (ہیبت ودبدبہ) سے میری مددکی گئی ہے (۳)میرے لئے مال غنیمت حلال کردیاگیا ہے (سابقہ امتوں کے لئے مال غنیمت حلال نہ تھا)(۴) زمین کی مٹی کو میرے لئے طہارت کا ذریعہ بنایاگیاہے اورمیرے لئے تمام زمین کو نماز پڑھنے کی جگہ بنائی گئی ہے (۵)مجھے تمام مخلوق کی طرف نبی بناکربھیجاگیاہے(برخلاف انبیاء سابقین کے کہ وہ خاص خاص قوموں کی طرف کسی خاص علاقہ میں ایک محدود زمانہ تک لئے مبعوث ہوتے تھے) (۶)مجھ پرانبیاء علیہم السلام کے سلسلہ کوختم کردیاگیا (اب کسی کو نبی بنایانہیں جائے گا)۔
مذکوہ بالا حدیث سے معلوم ہواکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قیامت تک کے تمام انسان وجنات کے لئے نبی بنایاجانا اور آپ علیہ السلام پر سلسلہ نبوت کو ختم کرنا یہ آپ کی امتیازی شان ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں