ختم نبوت تکمیل ِانعام

ختم نبوت تکمیل ِانعام

”الیوم اکملت لکم دینکم،واتممت علیکم نعمتی،ورضیت لکم الاسلام دینا“۔(المائدۃ: ۳)

آج میں نے تمہارادین مکمل کردیا،اپنی نعمت تم پرتمام کردی اورتمہارے لئے دین اسلام کو پسند کیا۔
عربی زبان میں کمال اورتمام دونوں لفظ نقصان (کمی) کے مقابل میں استعما ل ہوتے ہیں،ان میں فرق یہ ہے خارجی اوصاف کے نقصان(کمی بیشی) کی تکمیل کو کمال کہاجاتاہے اور اجزاء کے اعتبار سے نقصان

اورکمی کوتاہی کی تکمیل کو تمام کہاجاتاہے۔
اس آیت میں دنوں لفظ جمع کردئے گئے ہیں اوربتایاگیا کہ دین اسلام اب ہرپہلوسے کامل ومکمل ہوچکا ہے،اللہ کی نعمت پور ی ہوچکی ہے،دین اسلام نہ اجزاء کے اعتبارسے ناقص ہے نہ اوصاف کے اعتبارسے ناقص ہے۔

یہ آیت کریمہ اس امت کی اس عظیم الشان خصوصی فضیلت کو بیا ن کررہی ہے جوباقراراہل کتاب اس امت سے پہلے کسی کونہیں ملی،یعنی اللہ تعالی نے اپنا دینِ مقبول اس امت لئے ایساکامل فرمادیاکہ قیامت تک اس میں ترمیم کی ضرور ت نہیں رہی، عقائد،عبادات،معاملات،معاشرت،اخلاق، سیاست وحکومت شخصی واجتماعی آداب، مستحبات ومکروہات،واجبات وفرائض اورحلال وحرام کے جملہ قوانین اورقیامت تک لئے تمام معاش ومعاد کے ضروری وبنیادی اصول خواہ وہ زندگی کے کسی بھی شعبہ سے متعلق ہوں؛ امت کے لئے اس طرح واضح کردئے گئے ہیں کہ اب یہ امت تاقیام قیامت کسی نئے دین یانئے نبی کی شریعت کی محتاج نہیں رہی،اس خیرامت کے نبی اس دنیا سے رخصت ہوئے تو اپنی امت کے لئے یک ایسی صاف وسیدہی اورروشن شاہراہ تیارفرماکرگئے کہ جس پر چلنے والے کو دن ورات میں کوئی خطرہ مانع نہیں۔

”قدترکتکم علی البیضاء لیلھا کنھارھا’۔(ابن ماجۃ:رقم۳۴ص:۵)

میں نے تمہیں ایک ایسے صاف روشن اورسیدھے راستے پرچھوڑ اہے کہ جس کا رات ودن برابر ہے،(حق وباطل واضح رہیں گے) لہذایہ امت کسی نئے دین اورنئے نبی کی محتاج نہیں ہے۔
حافظ ابن کثیر ؒ اس آیت کی تفسیرکرتے ہوئے تحریرفرماتے ہیں:
”ھذہ اکبر نعم اللہ عزوجل علی ھذ ہ الامۃ، حیث اکمل تعالیٰ لھم دینھم،فلایحتاجون الی دین غیرہ،
ولاالی نبی غیرنبیھم۔صلوات اللہ وسلامہ علیہ۔ولذا جعلہ اللہ تعالیٰ خاتم الانبیاء،وبعثہ الی الجن والانس الخ”
(تفسیرابن کثیر المائدۃ: ۳)
اللہ تعالیٰ کا اس امت پر یہ بہت بڑاانعام ہے کہ اس نے امت کا دین کامل کردیا ہے کہ اب اسے نہ کسی اوردین کی ضرورت رہی، نہ کسی اورنبی کی، اس کہ لئے آپ کو خاتم النبیین بنایا ہے اورانسان وجنات سب کے لئے رسول بناکر بھیجاہے،آپ آخری نبی اورآپ کی امت آخری امت ہے۔
معلوم ہواکہ ختم نبوت دینی ارتقاء اوردین محمدی کا عظیم الشان کمال ہے کہ اس سے بڑااورکوئی کمال اورا س امت کے لئے اس سے بڑاانعام اورکوئی نہیں ہوسکتا۔
ایک حدیث میں آپ نے فرمایا:
”اناآخرالانبیاء وانتم آخرالامم”
(رواہ ابن ماجۃعن نواس بن سمعان فی حدیث طویل، فتنۃ الدجال: ۷۷۰۴،ص:۷۹۲)
میں آخری نبی ہوں اورتم آخری امت ہو۔
امام فخرالدین رازی ؒمذکورہ آیت تفسیرمیں تحریرفرماتے ہیں:
”ان الدین ماکان ناقصاالبتۃ؛ بل کان ابداکاملا،یعنی کانت الشرائع النازلۃ من عنداللہ تعالیٰ کافیۃ
فی ذالک الوقت الاانہ تعالیً کان عالما فی اول وقت االمبعث بان ماھوکامل فی ھذاالیوم لیس بکامل فی الغد،
ولاصلاح فیہ، فلاجرم کان ینسخ بعدالثبوت،وکان یزید بعدالعدم، وامافی آخرزمان المبعث، فانزل اللہ تعالی
شریعۃ کاملۃ،وحکم ببقائھا الی یوم القیامۃ،فالشرع ابدا،کان کاملاالاان الاول کمال الی وقت مخصوص،
والثانی کمال الی یوم القیامۃ، فلاجل ھذاالمعنی قال: الیوم اکملت لک دینکم“۔
(التفسیرالکبیر،المائدۃ: ۳،۱۱/۹۰۱زکریا)
دین الہی کبھی ناقص نہیں تھا؛بلکہ ہمیشہ سے کامل تھا اورتمام شرائع الہیہ اپنے اپنے وقت کے لحاظ سے بالکل مکمل اورکافی تھیں؛مگراللہ تعالیٰ پہلے ہی سے جانتاتھا کہ وہ شریعت جوآج کامل ہے، کل کے لئے کافی نہ ہوگی،اس لئے اس کووقت مقررہ پر پہنچ کر منسوخ کردیاجاتاتھا؛لیکن آخرزمانِ بعثت میں اللہ تعالیٰ نے ایسی شریعت کاملہ بھیجی جوہرزمانہ کے اعتبارسے کامل ہے اور اس شریعت کے تاقیامِ قیامت باقی رہنے کا فیصلہ فرمایا،خلاصہ یہ کہ پہلی شریعتیں بھی کامل تھیں؛ مگر ایک مخصوص وقت تک کے لئے اوریہ شریعت قیامت تک کے لئے کافی اورکامل اوراسی معنی کے بنا پر الیوم اکملت لکم دینکم فرمایا ہے۔
غرض یہ کہ سابقہ انبیاء علیہم ا لصلوۃ والسلام مخصو ص قوم کے لئے مبعوث ہوتے تھے اوران کی شریعتیں بھی مخصوص وقت کے لئے ہوتی تھیں،ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم قیامت تک کے لئے تمام انس وجن کے لئے مبعوث ہوئے،تو آپ کی شریعت بھی کامل ہے اورقیامت تک لئے کافی ہوگی،یہ خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصی شرافت اورآخرالامم کی مخصو ص فضیلت ہے۔(مستفاد: ختم نبوت: ۳۳۱تا ۸۳۱، ترجمان السنۃ)
جھوٹے مدعیان نبوت سے متعلق پیشین گوئی
اللہ تعالیٰ عالم الغیب والشہادہ ہیں،اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے کہ قیامت تک کیسے خوفناک فتنے امت میں پیش آئیں گے اوران فتنوں کے سربراہ کون لوگ ہوں گے،اللہ تعالیٰ نے جس قدرمناسب وضروری سمجھا فتن وحوادث کی کچھ تفصیلات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتائیں ان میں عقیدۂ ختم نبوت میں رخنہ پیداکرنے

والے جھوٹے مدعیان نبوت کی تفصیلات یا ان سے متعلق اشارات بھی شامل ہیں۔
حضرت ثوبان ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ وسلم نے ارشادفرمایا:
”انہ سیکون فی امتی کذابون ثلثون کلھم یزعم انہ نبی،وانا خاتم النبیین،لانبی بعدی“۔(ترمذی:۹۱۲۲،۲/۵۴)
قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک کہ بہت سے دجال اورجھوٹے مدعیان نبوت اٹھائے جائیں گے جن میں سے ہرایک یہ کہے گا وہ نبی ہے؛حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں،میرے بعد کسی کو نبی بنایانہیں جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں