احیاء العلوم(امام غزالیؒ): تعارف

احیاء العلوم :( عربی میں احیاء علوم الدین )اپنے فن”علم باطن“(احسان)میں شاہکاروبے نظیر،عظیم ومقبول ترین تصنیف ہے جس سے ہرزمان ومکان میں مشائخ عظام ،علماءکرام ،خواص وعوام استفادہ کرتے آئے ہیں ،اس قابل وصدافتخارکتاب کے مصنف مشہورومتبحرعالم دین،متقی وپرہیزگار،دنیاسے بے زار،آخرت کے طلب گار،علوم عقلیہ ونقلیہ کے علم بردار،اسرارشریعت وطریقت کے واقف کار،مشکل ترین مسائل کا حل مختصروآسان ترین عبارت میں پیش کرنے میں یکتائے روزگار،آخرت کے مسافربے قرارحجة الاسلام ابوحامدمحمدبن محمدبن محمدغزالیؒ(۴۵۰ھ:۵۰۵ھ)ہیں۔

امام غزالی ؒایک زمانہ دشمنانِ اسلام اورفرق باطلہ وضالہ سے برسرپیکاررہنے ،ایک عرصہ داز تک جامعہ نظامیہ بغدادکی دارالحدیث کی مسندکو رونق وزینت بخشنے اورارباب سلطنت وحکومت میں بے پناہ مقبولیت کے بعد،حشم وخدم اورشاہانہ اعزاز واکرام کو پس پشت ڈال کردنیا سے بے رغبتی کا اظہارفرماتے ہوئے خلوت وگوشہ نشینی کی زندگی گزاری ۔

اس طویل زندگی کے نشیب وفراز سے گزرنے کے بعد آپ نے کا میابی اورعنداللہ مقبولیت کے لیے اس تجرباتی زندگی سے جو تنائج اخذکئے ،ان کا ماحصل یہ ہے کہ نجات وکامیابی اورعنداللہ مقبولیت کے لیے ”صفت احسان“ شرط اول ہے ،اسی بنیادی نکتہ کو مدنظررکھتے ہوئے امام غزالی ؒنے بقیہ زندگی اصلاح خَلق، ریاضت نفوس ، تزکیہ قلوب اورتہذیب اخلاق میں گزاری ۔

نیزاس موضوع میں نہایت نافع وعمدہ تصانیف مرتب فرمائیں ،چنانچہ احیاء العلوم میں بھی اعمال صالحہ کو حسین وجمیل ،قابل قبول اورآداب ومستحبات سے مزین بناکر اللہ کی دربارمیں پیش کرنے کا طریقہ بیان کیاہے ،نیز باطن کو اخلاق رزیلہ سے پاک صاف کرنے اور اس کو اخلاق حمیدہ سے مجلی بنانے کی تمام تدابیرکوسوزدروںاور پوری قوتِ فکرسے آیات قرآنیہ ،احادیث نبویہ ،اقوال سلف اوردلائل عقلیہ کے ذریعہ مزین ومدلل کرتے ہوئے بیان فرمایاہے ۔

امام غزالیؒ نے احیاءالعلوم کو چارحصوں میں تقسیم فرمایاہے:

عبادات

عبادات: جس میں اسلام کے بنیادی فرائض ،عقائد،نماز ،روزہ،زکوة ،اورحج کے فضائل ومسائل اوران ہی قابل قبول بنانے کے آداب ومستحبات ،اسراروحکم نیزفضائل علم،فضائل قرآن اورفضائل ذکرکے اسراروحقائق اورآداب وشرائط کو ذکرفرمایا۔

عادات

اس ربع میں انسانی مصالح وحوائج جو عادات سے تعلق رکھتی ہیں مثلًاا کل و شرب،نکاح،کسب،،معاشرت، سفر،آداب ِمعیشت،اورحلال وحرام وغیرہ ان انسانی ضروریات کو شرعی شرائط اورنبوی آداب کے ذریعہ عبادات بنانے کے طریقے بیان فرمائے ہیں اوران کی پرزور ترغیب دی ہے ۔

نیز اس ربع میں امربالمعروف ،نہی عن المنکر، اخَلاق ِنبوت ،خَلوت وگوشہ نشینی کے آداب اور سماع ووجد کے آداب بھی ذکرفرمائے ہیں ۔

مہلکات

امام غزالی ؒ نے اس ربع میں انسان کو ہلاک وبرباکرکرنے والی اور آخرت میں وبال کا سبب بننے والی خصائل ذمیمہ، قرآن وحدیث میں جن سے اجتناب کرنے کا حکم ورادہواہے اور شریعت میں جن کوگناہ کبیرہ میں شامل کیا گیاہے یعنی :غضب،حقد،حسد،کبر،عجب،غرور،ریاء،بخل،حبِ دنیا ،حبِ جاہ ،شہوتِ بطن وشہوتِ فرج وغیرہ کی حقیقت ، اسباب،علامات،ان کی قباحت ومذمت ،خسارہ ونقصان اوران اخلاق رزیلہ کے ازالہ کی تدابیرکو بیان فرمایاہے ۔

منجیات

اس ربع میں امام غزالیؒ نے ان اخلاق حسنہ کا ذکرفرمایا ہے جوعنداللہ وعندالناس محبوب ومقبول ہیں،انبیاء ، صدیقین ،شہداءاورصالحین کا شعارہیں،نیز انسان کو انسان بننے اورکامل ومکمل مومن بننے کے لیے ضروری ہیں ، وحدانیت ،توبہ ،خوف ورجاء،اللہ کی محبت وشوق،اخلاص ،توکل ،تفکر،زہدعن الدنیا، صبروشکرکے حقائق،ضرورت اورفضائل کو بیان فرمایاہے ۔

نوٹ

امام غزالی ؒ کے بعض معاصرین نے احیاء العلوم کے بعض مضامین اوربعض اصطلاحات جو اہل تصوف کے نزدیک متعارف ہیں ان کے سلسلہ میں اعترا ض کیا تھا جن کا مفصل جواب خودامام غزالیؒ نے ”کتاب الاملاءفی اشکالات الاحیاء“میں دیاہے ،نیزان مخضوص اصطلاحات کی وضاحت فرمائی ہے،بعض ناشرین نے اس کو اصل کتاب سے ملحق کرکے شائع کیاہے۔

احیاء العلوم میں بطورخاص ربع ثالث وربع رابع میں بعض ضعیف اور غیرمستنداحادیث وواقعات بھی ذکرکردئے گئے ہیں ،علامہ زین الدین ابوالفضل عبدالرحیم بن حسین عراقی ؒالمتوفی (۸۰۶ھ) نے احیاء العلوم میں مندر ج احادیث کی ”المغنی عن حمل الاسفارفی الاسفارفی تخریج مافی الاحیاءمن الاخبار“کے نام سے تخریج کی ہے۔

بعض ناشرین نے حافظ عراقی کی اس تخریج کواحیاء العلوم کے حاشیہ میں شائع کرنے کا اہتمام کیاہے