اذان اوراقامت کی سنتیں

اذان کی سنتیں: باوضو اذان واقامت کہنا۔

نمبر(۱)رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :کوئی آدمی بلا وضو اذان نہ د ے۔

لَا يُؤَذِّنُ إِلَّا مُتَوَضِّئٌ(رواہ الترمذی عن ابی ھریر ة،باب ماجاءفی کراھیة الاذان بغیر اذان ۵۰/۱)

علامہ کاسانی ؒ تحریر فرماتے ہیں

مِنْهَاأَنْ يَكُونَ الْمُؤَذِّنُ عَلَى الطَّهَارَةِ؛ لِأَنَّهُ ذِكْرٌ مُعَظَّمٌ فَإِتْيَانُهُ مَعَ الطَّهَارَةِ أَقْرَبُ إلَى التَّعْظِيمِ، وَإِنْ كَانَ عَلَى غَيْرِ طَهَارَةٍ بِأَنْ كَانَ مُحْدِثًا يَجُوزُ، وَلَا يُكْرَهُ حَتَّى لا يُعَادَ فِي ظَاهِرِ الرِّوَايَةِ۔(البدائع ۳۷۴/۱)

نمبر(۲)قبلہ رخ ہوکر اذان واقامت کہنا ۔

عن معاذ بن جبل ؓفی حدیث طویل قال فیہ فا ستقبل القبلة ،(رواہ ابو داؤد، باب کیف الاذان ۷۵/۱)

علامہ کاسانی ؒ فرماتے ہیں

مِنْهَا أَنْ يَأْتِي بِالْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ؛ لِأَنَّ النَّازِلَ مِنْ السَّمَاءِ هَكَذَا فَعَلَ، وَعَلَيْهِ إجْمَاعُ الْأُمَّةِ، وَلَوْ تَرَكَ الِاسْتِقْبَالَ يُجْزِيهِ لِحُصُولِ الْمَقْصُودِ وَهُوَ الْإِعْلَامُ، لَكِنَّهُ يُكْرَهُ لِتَرْكِهِ السُّنَّةَ الْمُتَوَاتِرَةَ، (البدائع ۳۷۰/۱)

بلند جگہ کھڑے ہوکر اذان کہنا

نمبر(۳)بلند جگہ کھڑے ہوکر اذان کہنا ۔قبیلہ نجار کی ایک انصاری صحابیہ کہتی ہیں : میراگھر مسجد کے قریب تھا اور سب سحضرت بلال ؓاس پر فجر کی اذان دیاکرتے تھے ۔

عَنْ امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ قَالَتْ: كَانَ بَيْتِي مِنْ أَطْوَلِ بَيْتٍ حَوْلَ الْمَسْجِدِ وَكَانَ بِلَالٌ يُؤَذِّنُ عَلَيْهِ الْفَجْرَ۔(ابوداؤد باب الاذان فوق المنارة۷۷/۱)

نمبر(۴)کھڑے ہوکر اذان کہنا ۔

رسول اللہ ﷺ نے حضرت بلالؓ سے فرمایا

يَا بِلَالُ قُمْ فَنَادِ بِالصَّلَاةِ۔(مسلم باب بدأ الاذان ۱۶۴/۱)

حضرت عبداللہ بن زید فرماتے ہیں

رَأَيْتُ رَجُلًا كَأَنَّ عَلَيْهِ ثَوْبَيْنِ أَخْضَرَيْنِ، فَقَامَ عَلَى الْمَسْجِدِ فَأَذَّنَ۔(ابوداؤدباب کیف الاذان ۷۴/۱)

علامہ کاسانی فرماتے ہیں

أَنْ يُؤَذِّنَ قَائِمًا إذَا أَذَّنَ لِلْجَمَاعَةِ، وَيُكْرَهُ قَاعِدًا؛ لِأَنَّ النَّازِلَ مِنْ السَّمَاءِ أَذَّنَ قَائِمًا حَيْثُ وَقَفَ عَلَى حَذْمِ حَائِطٍ، وَكَذَا النَّاسُ تَوَارَثُوا ذَلِكَ فِعْلًا، فَكَانَ تَارِكُهُ مُسِيئًا لِمُخَالَفَتِهِ النَّازِلَ مِنْ السَّمَاءِ وَإِجْمَاعَ الْخَلْقِ۔(البدائع ۳۷۴/۱)

نمبر(۵)کانوں کے سوراخ میں انگلیاں رکھ کراذان کہنا۔

رسول اللہ ﷺ نے حضرت بلال ؓکو حکم فرمایاکہ کانوں کے سوراخ میں انگلیاں رکھ کر اذا ن دیاکریں اوراس کی حکمت یہ بیان فرمائی کہ یہ طریقہ تمہاری آواز کی بلندی میں معاون ہوگا۔

أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِلَالًا أَنْ يَجْعَلَ إِصْبَعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ، وَقَالَ: «إِنَّهُ أَرْفَعُ لِصَوْتِكَ۔(باب السنۃ فی الاذان :۵۲)

علامہ کاسانیؒ تحریرفرماتے ہیں

وَمِنْهَا أَنْ يَجْعَلَ أُصْبُعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ لِقَوْلِ النَّبِيِّ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – لِبِلَالٍ: «إذَا أَذَّنْتَ فَاجْعَلْ أُصْبُعَيْكَ فِي أُذُنَيْكَ، فَإِنَّهُ أَنْدَى لِصَوْتِكَ وَأَمَدُّ بَيَّنَ الْحُكْمَ وَنَبَّهَ عَلَى الْحِكْمَةِ» وَهِيَ الْمُبَالَغَةُ فِي تَحْصِيلِ الْمَقْصُودِ، وَإِنْ لَمْ يَفْعَلْ أَجْزَأَهُ لِحُصُولِ أَصْلِ الْإِعْلَامِ بِدُونِهِ۔(بدائع الصنائع: ۳۷۳/۱)

نمبر(۶)بلندآواز سے اذان واقامت کہنا۔

ریوڑمیں یا جنگل میں رہو،تو بلند آواز سے اذان دو

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوسعیدخدریؓ سے فرمایا

رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابو سعید خدری ؓ سے فرمایا :جب تم اپنی بکریوں کے ریوڑ میں ہو یا جنگل میں رہو اور اذان کاوقت ہوجائے تو بلند آواز سے اذان دو اس لئے کہ جہاں تک آواز پہنچے گی ،وہاں تک کے جوبھی مخلوق جن وانس وغیرہ سنیں گے ،قیامت کے دن وہ تمہارے لئے گواہی دیں گے۔

أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الخُدْرِيَّ، قَالَ لَهُ: إِنِّي أَرَاكَ تُحِبُّ الغَنَمَ وَالبَادِيَةَ، فَإِذَا كُنْتَ فِي غَنَمِكَ، أَوْ بَادِيَتِكَ، فَأَذَّنْتَ بِالصَّلاَةِ فَارْفَعْ صَوْتَكَ بِالنِّدَاءِ، فَإِنَّهُ: «لاَ يَسْمَعُ مَدَى صَوْتِ المُؤَذِّنِ، جِنٌّ وَلاَ إِنْسٌ وَلاَ شَيْءٌ، إِلَّا شَهِدَ لَهُ يَوْمَ القِيَامَةِ(رواہ البخاری باب رفع الصوت بالنداء۸۶/۱،البدائع الصنائع ۳۶۹/۱)

نمبر(۷)خوش الحانی سے اذان واقامت کہنا

اللہ کے نبی ﷺ نے حضرت عبداللہ بن زید سے فرمایا:بلال کو کلمات اذان کی تلقین کروکہ وہ اذان دیں ،اس لئے کہ وہ تم سے اچھی آواز والے ہیں۔

أَلْقِهِ عَلَى بِلَالٍ فَإِنَّهُ أَنْدَى صَوْتًا مِنْكَ قِيلَ مَعْنَاهُ أَرْفَعُ صَوْتًا وَقِيلَ أَطْيَبُ فَيُؤْخَذُ مِنْهُ اسْتِحْبَابُ كَوْنِ الْمُؤَذِّنِ رَفِيعَ الصَّوْتِ وَحَسَنَهُ وَهَذَا مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ۔(شرح مسلم للنووی۱۶۴/۱)

نمبر(۸)حی علی الصلوۃ کے موقع پرچہرہ داہنی جانب اورحی الفلاح کے موقع پربائیں جانب پھیرنا۔

حضرت عون بن ابی جحیفہ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ میں نے حضرت بلال ؓ کو دیکھاکہ وہ اذان دیتے وقت اپنا چہرہ ادھرادھرگھمارہے ہیں ۔

عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: رَأَيْتُ بِلَالًا يُؤَذِّنُ وَيَدُورُ وَيُتْبِعُ فَاهُ هَاهُنَا، وَهَاهُنَا،۔(رواہ الترمذی باب ماجائ فی ادخال الاصبع عندالاذان ۴۹/۱)

نمبر(۹)کلمات اذان میں ہرکلمہ کو اطمینان سے اداکرنا (اللہ اکبراللہ اکبرایک کلمہ کے حکم میں ہیں۔

اذان ٹہر ٹہر کردیاکرو ،اقامت جلدی جلدی کہاکرو

رسول اللہ ﷺ نے حضرت بلال ؓ سے فرمایا : جب تم اذان دیاکرو تو ٹہر ٹہر کر (ہرکلمہ کو ایک سانس میں )اذان دیاکرو ،جب اقامت کہاکرو تو جلدی جلدی کہاکرو (ایک جیسے کلمات کو ایک سانس میں اداکیاکرو )

إِذَا أَذَّنْتَ فَتَرَسَّلْ فِي أَذَانِكَ، وَإِذَا أَقَمْتَ فَاحْدُرْ۔(رواہ الترمذی باب ماجائ فی الترسل فی الاذان ۴۸/۱)

علامہ کاسانی فرماتے ہیں

وَمِنْهَا أَنْ يَفْصِلَ بَيْنَ كَلِمَتَيْ الْأَذَانِ بِسَكْتَةٍ، وَلَا يَفْصِلَ بَيْنَ كَلِمَتَيْ الْإِقَامَةِ بَلْ يَجْعَلُهَا كَلَامًا وَاحِدًا۔(بدائع الصنائع۳۶۹/۱)

نمبر(۱۰)کلمات اذان واقامت کو تسلسل سے اداکرنا (بات چیث وغیرہ سے انقطاع نہ ہو )

علامہ کاسانی لکھتے ہیں

مِنْهَا أَنْ يُوَالِيَ بَيْنَ كَلِمَاتِ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ؛ لِأَنَّ النَّازِلَ مِنْ السَّمَاءِ وَالَى وَعَلَيْهِ عَمَلُ مُؤَذِّنَيْ رَسُولِ اللَّهِ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ۔(بدائع ۳۶۹/۱)

نمبر(۱۱)کلمات اذان واقامت کے درمیان ترتیب کا لحاظ رکھنا ،اگرتقدیم وتاخیرہوجائے ،توجہاں سے بے ترتیبی ہوئی ،وہاں سے اعادہ کرلے ۔

دَلِيلُ كَوْنِ التَّرْتِيبِ أَنَّ النَّازِلَ مِنْ السَّمَاءِ رَتَّبَ، وَكَذَا الْمَرْوِيُّ عَنْ مُؤَذِّنَيْ رَسُولِ اللَّهِ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – أَنَّهُمَا رَتَّبَا؛ وَلِأَنَّ التَّرْتِيبَ فِي الصَّلَاةِ فَرْضٌ، وَالْأَذَانُ شَبِيهٌ بِهَا فَكَانَ التَّرْتِيبُ فِيهِ سُنَّةً۔(بدائع ۳۶۹/۱)

نمبر(۱۲)اذان فجرمیں حی علی الفلاح کے بعد الصلوۃ خیرمن النوم کا اضافہ بھی مسنون ہے ۔

ویقول ندبا بعد فلاح اذان الفجر الصلوة خیر من النوم (الدرالمختار مع ردالمحتار ۵۴/۴)

نمبر(۱۳)مغرب کے علاوہ اذان واقامت کے درمیان اتنا وقفہ دینا کہ مصلی حضرات اپنی ضروریات سے فارغ ہوکر شریکِ جماعت ہوسکیں ۔

وَاجْعَلْ بَيْنَ أَذَانِكَ وَإِقَامَتِكَ قَدْرَ مَا يَفْرُغُ الآكِلُ مِنْ أَكْلِهِ، وَالشَّارِبُ مِنْ شُرْبِهِ، وَالمُعْتَصِرُ إِذَا دَخَلَ لِقَضَاءِ حَاجَتِهِ۔(رواہ الترمذی ۴۸/۱)

رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا: ہراذان واقامت کے درمیان اتناوقفہ رکھوکہ کہ کھانے والا کھانے سے ،پینے والاپینے سے اور استنجاء کرناوالااپنی ضرورت سے فارغ ہوجائے ۔(اذان اورمؤذنین رسول اللہ ﷺ: ۵۵تا۵۹)

اقامت کی سنتیں

جو چیزیں اذان میں مسنون ہیں وہ تما م چیز یں اقامت میں بھی مسنون ہیں ؛البتہ چند چیزیں مستثنٰی ہیں ،
علامہ حصکفی ؒ تحریرفرماتے ہیں: اذان اقامت کی طرح ہے۔

والاقامة کالاذان فیما مر (الدر المختار مع رالمحتار۵۵/۴)

نمبر(۱)دودفعہ ”قدقامت الصلوة “کا اضافہ کرنا۔
نمبر(۲)اقامت میں اذان کے بنسبت آواز کا پست ہونا ۔

علامہ کاسانی ؒ فرماتے ہیں

یجھر بالاقامة لکن دون الجھر بالاذان لان المطلوب العلام بھا دون المقصود من الاذان (بدائع۳۶۹/۱)

نمبر(۳)کلمات اقامت میں حدر کرنا ۔(ایک جیسے کلمات کو وقف کی نیت سے ساکن پڑھتے ہوئے ایک سانس میں ادا کرنا )

عن انس ؓ قال امر بلال ان یشفع الاذان ،وان یوتر الاقامة الا القامة (رواہ البخاری ،باب الاقامة واحدة الا قدقامت الصلوٰة۱۵۸۸۵/۱)قولہ ویحدر فی الاقامة الحدر الوصل والسرعة والجمع بین کل کلمتین (الجوھرة النیرة ۵۳/۱)

نمبر(۴)قدقامت الصلوة پر حقیقی وقف کرنا ۔(تقدم حدیث انس فی البخاری )
نمبر(۵)کانوں میں انگلیاں نہ رکھنا ۔(تقدم عبارة البدائع ورد المحتار)
نمبر(۶)جو اذان دے، اسی شخص کااقامت کہنا ۔

حضرت زیاد بن حارث صدائی ؓ فرماتے ہیں

میں نے فجر کی اذان دی ،جب اقامت کاوقت ہوا، تو حضرت بلال ؓ نے اقامت شروع کردی ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قبیلہ صداءکے ساتھی نے اذان دی ہے ،جو اذان دے ،وہی شخص اقامت بھی کہے ۔(خلاصہ حدیث )

ان اخا صداءاذن ،ومن اذن ،فھو یقیم-(رواہ ابوداؤد، باب من اذن فھو یقیم ۷۶/۱)

نمبر(۷)امام کے مسجد میں حاضر ہونے کے بعد اقامت شروع کرنا۔

حضرت بلال ؓ اذان دیاکرتے اور اور آپ ﷺ کا انتظار کرتے رہتے ،جب دیکھتے کہ آپ علیہ السلام اپنے حجرہ مبارکہ سے نماز کے لئے نکل چکے ہیں ،تب اقامت شروع فرماتے۔

عن جابر بن سمرة قال کان بلال یوذن ثم یمھل، فاذا رأی النبی ۔ ﷺ۔ قد خرج اقام الصلوة ۔(رواہ ابوداآد ،باب فی المآذن ینتظر الامام ۷۹/۱)

نوٹ:”حی علی الصلوة“”حی علی الفلاح “میں چہرہ دائیں بائیں پھیرنا،یہ بھی مستحب ہے ۔(تقدم تخریجةعن عبارةابن عابدین)

مسئلہ : اقامت کے فورًابعد امام کو نماز شروع کرنا مستحب ہے، اگر امام کسی عذر کی وجہ سے متصلا نماز شروع نہ کرے، تو اقامت کا اعادہ نہیں کیاجائے گا ۔

عن انس مالک قال اقیمت الصلوة،فعرض للنبی ﷺ رجل ،فحبسہ بعد مااقیمت الصلوة(رواہ البخاری باب الکلام ذا اقیمت الصلوة)

قال العینی ؒ: فیہ دلیل علی ان اتصال الاقامة لیس من وکید السنن ،وانما ھو من مستحباتھا۔ (عمدة القاری ۲۲۲/۴) اذان ومؤذنین رسول اللہﷺ: ۵۹)

دینی اصلاحی ،فکر ی اورتحقیقی مضامین کے لئے فیضان قاسمی ویب سائٹ https://faizaneqasmi.comکا مطالعہ کیجئے اوردوست واحباب کو بھی شئیرکیجئے ۔