اذان کے بعد کی دعائیں

اذان کے بعد کی دعائیں: جب اذان مکمل ہوجائے، تو سب سے پہلے درود ابراہیمی پڑھے ،اس کے بعد اذان کے بعد کی عائیں پڑھے ،احادیث میں کئی دعائیں وارد ہوئی ہیں ،اللہ تعالیٰ ٰ تو فیق عطافرمائے، تو تمام دعاؤوں کو پڑھے۔

ابن ھمام ؒ نے اذان کے بعد کی پانچ دعائیں نقل فرماکر لکھاہے کہ اس سلسلہ میں بے شمار احادیث وارد ہوئی ہیں۔
مقصود بھلائی کی ترغیب ہے ،اللہ تعالیٰ ہم کو تمام حالات میں طاعت میں طاقت و قوت عطافرمائے ۔

جو شخص اذان کی آواز سنے اور اذان کے بعد یہ دعا پڑہے،اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں کو معاف فرمادیتے ہیں

أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، رَضِيتُ بِاللهِ رَبًّا وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، غُفِرَ لَهُ ذَنْبُهُ۔(رواہ مسلم عن سعد بن وقاص: ۱۶۷/۱، رقم :۳۸۶)

میں گواہی دیتاہوں کہ اللہ کے سواکوئی معبود نہیں ہے ،وہ تنہا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ہے اورمیں گواہی دیتاہوں کہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں ، میں اللہ سے راضی ہوں رب ہونے کے اعتبارسے ، اسلام سے خوش ہوں دین ہونے کے اعتبارسے اور محمدصلی اللہ علیہ وسلم سے راضی ہوں رسول ہونے کے اعتبارسے ۔

جومیرے لئے وسیلہ طلب کرے گا ،اس کے لئے میری شفاعت واجب ہوگی۔

جب تم اذان سنو ،تو جو مؤذن کہے، وہی کلمات کہو ،پھر مجھ پر درود پڑھو ،جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود پڑھے گا،اللہ تعالیٰ اس کے بدلہ اس پر دس رحمتیں نازل فرماتے ہیں، پھرمیرے لئے اللہ تعالیٰ سے وسیلہ طلب کرو ،وسیلہ جنت میں ایک درجہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے بندوں میں سے صرف ایک بندے کوحاصل ہوگا اورمجھے امید ہے کہ وہ بندہ میں ہی ہوسکتاہوں ،پس جومیرے لئے وسیلہ طلب کرے گا ،اس کے لئے میری شفاعت واجب ہوگی۔

اللَّهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ، وَالصَّلاَةِ القَائِمَةِ آتِ مُحَمَّدًا الوَسِيلَةَ وَالفَضِيلَةَ، وَابْعَثْهُ مَقَامًا مَحْمُودًا الَّذِي وَعَدْتَهُ، حَلَّتْ لَهُ شَفَاعَتِي يَوْمَ القِيَامَةِ( ۔بخاری وزادالبیھقی )انک لاتخلف المیعاد (السنن الکبری ۷۶۹/۱)

اے دعوت تامہ کاملہ،صلوة قائمہ کے پروردگار!(یعنی وہ اللہ جس کے لئے یہ اذان اورجس کے لئے یہ نماز قائم کی جارہی ہے ) محمدصلی اللہ علیہ وسلم کو وسیلہ اورفضیلہ کا خاص درجہ اورمرتبہ عطا فرمااورآپ کواس مقام محمود پرفائز فرما جس کا تونے وعدہ کیاہے ،بے شک تو وعدہ کی خلاف ورزی نہیں کرتا ۔

جوشخص مصیبت وپریشانی میں ہو ،اس کو چاہئے کہ مؤذن کے اذان کا انتظارکرے

اذان کاجواب دینے کے بعد اس دعاکو پڑہے،پھر دعاکرے۔ ان شاءاللہ ۔اللہ تعالی ٰ دعاکو قبول فرمائیں گے۔

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنْهُ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔إذَا نَادَى الْمُنَادِي لِلصَّلَاةِ فُتِحَتْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ وَاسْتُجِيبَ الدُّعَاءُ، فَمَنْ نَزَلَ بِهِ شِدَّةٌ أَوْ كَرْبٌ فَلْيَتَحَيَّنْ الْمُنَادِيَ إذَا كَبَّرَ كَبَّرَ، وَإِذَا تَشَهَّدَ تَشَهَّدَ، وَإِذَا قَالَ حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ قَالَ حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، وَإِذَا قَالَ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ قَالَ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، ثُمَّ يَقُولُ: اللَّهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ الْحَقِّ الْمُسْتَجَابَةِ الْمُسْتَجَابِ لَهَا، دَعْوَةِ الْحَقِّ وَكَلِمَةِ التَّقْوَى، أَحْيِنَا عَلَيْهَا وَأَمِتْنَا عَلَيْهَا وَابْعَثْنَا عَلَيْهَا وَاجْعَلْنَا مِنْ خِيَارِ أَهْلِهَا مَحْيَانَا وَمَمَاتَنَا، ثُمَّ يَسْأَلُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ حَاجَتَهُ۔(مستدرک للحاکم ۱؍۷۱)

جب مؤذن اذان دیتاہے ،تو آسمان کے دروازے کھول دئے جاتے ہیں اوردعائیں قبول کی جاتی ہیں ،لہذا جوشخص مصیبت وپریشانی میں ہو ،اس کو چاہئے کہ مؤذن کے اذان کا انتظارکرے ،جب مؤذن اذان دے ،تو اذان کا جواب دے ،اس کے بعد (اپنی دینی ودنیوی ) ضروریات وحاجات کو اللہ جل جلالہ سے مانگے۔

اے اللہ !سچی اورمقبول دعوت حق کے رب ! جومقبول اورحق کی دعوت اورتقوی کے کلمہ پر مشتمل ہے ، اے اللہ ہمیں اسی پرزندہ رکھ، اسی پرموت نصیب فرما ،اسی پرہماراحشرفرمااورہمیں اس دعوت کے بہترین لوگوںمیں شامل فرمازندہ ہونے کی حالت میں بھی اورمردہونے کی حالت میں بھی ۔

مغر ب کی اذان کے بعد اس دعا کو پڑھے۔

حضرت ام سلمہ ؓ فرماتی ہیں: رسول اللہ ﷺ نے مجھے یہ دعا سکھائی کہ اذان مغر ب کے بعد اس کو پڑہوں۔

عَنْ أَبِي كَثِيرٍ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: عَلَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَقُولَ عِنْدَ أَذَانِ الْمَغْرِبِ: «اللَّهُمَّ إِنَّ هَذَا إِقْبَالُ لَيْلِكَ، وَإِدْبَارُ نَهَارِكَ، وَأَصْوَاتُ دُعَاتِكَ، فَاغْفِرْ لِي۔(رواہ ابوداؤد ۷۸/۱،رقم :۵۳۰)

اے اللہ!یہ وقت رات کے آنے کا ،دن کے جانے کا اورتیرے داعیوں کی پکارکاہے ،تومیری مغفرت فرما۔

ان دعاؤوں کے علاوہ احادیث میں بہت ساری دعائیں آ ئی ہیں، ہم نے صر ف بعض جامع دعاؤوں کونقل کیاہے ۔
اللہ تعالی ٰہمت وطاقت عطافرمائے ،تو تمام کو پڑھے ،کسی ایک دعاکو لازم نہ سمجھے ،جب ان دعاؤں سے فارغ ہوجائے ،تواپنی دنیا وآخرت کے لئے دعائیں کرے ،اس لئے کہ یہ قبولیت کا وقت ہے،اس سلسلہ میں بہت ساری احادیث آئی ہیں۔(اذان ومؤذنین رسول اللہ : ۷۹مرتب عبداللطیف قاسمی )