اذان کےمواقع

اذان کےمواقع: اذان کی مشروعیت اصلًا نماز باجماعت کے اعلان کے لئے ہے اوریہ سنت مؤکدہ ہے ،اس کے علاوہ دیگر مقاصد کے لئے بھی اذان دی جاتی ہے۔

الف:نومولود بچہ کے کان میں اذان دینا اور بائیں کان میں اقامت کہنا مسنون ہے ۔

عن بن عباس ؓان النبی ﷺ اذن فی اذن الحسن بن علی یوم ولد ،فاذن فی اذن الیمنی ،واقام فی اذنہ الیسری فی ھذا الاسنادین ضعف ،شعب الایمان ،رقم الحدیث ( ۸۳۷۱)

حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں: جس دن حضرت حسن پیداہوئے ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے دائیں کان میں اذان دی اوربائیں کان میں اقامت کہی ۔

عن حسین بن علی ؓ قال قال رسول اللہ ﷺ من ولد لہ مولود ،فاذن فی اذنہ الیمنی ،واقام فی اذنہ الیسری لم تضرہ ام الصبیان، مسند ابو یعلی رقم الحدیث (۶۶۳۴)وروی البیھقی فی شعب الایمان، رقم الحدیث (۸۳۷۰)

حضرت حسین بن علی ؓ فرماتے ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس آدمی کو بچہ پیداہو،اس نے اس کے دائیں کان میں اذان اوربائیں کان میں اقامت کہی ،تو اس بچہ کو ام الصبیان کی بیماری نہیں لگے گی۔

جن بھوت نظر آئیں ،تو اذان دینا

ب:جب جن بھوت نظر آئیں ،تو اذان دینا ۔

رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا

اذاتغولت الغیلان ،فنادو بالصلوة فان الشیطان اذا سمع بالاذان ادبر ولہ حصاص۔(مسلم۱۶۷/۱)

جب جن بھوت نظر آئیں ،تو نمازوالی اذان دو ،اس لئے کہ جب شیطان اذان کی آواز سنتاہے ،تو ریح خارج کرتا ہوابھاگتاہے۔

حضرت ابو ہریرة ؓ ،حضرت جابر ؓسے مرفوعًا اور عمر ؓ بن خطاب سے موقوفًا مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

جب جن بھوت نظر آئیں ،تو نماز والی اذان دو ،اس سے شیطان بھاگ جاتاہے اور وہ انسان کو کوئی نقصان نہیں پہنچاسکتا۔

عن سھیل بن ابی صالح قال ارسلنی ابی الی بنی حارثة ،قال ومعی غلام لنا وصاحب لنا ،فناداہ مناد من حائط باسمہ قال ،فاشرف الذی معی علی الحائط ،فلم یر شیئًا ،فذکرت ذالک لابی ،فقال لو شعرت انک تلقی ھذا ،لم ارسلک ،ولکن اذا سمعت صوتا ،فناد بالصلوةفنی سمعت ابا ھریرة یحدث عن رسول اللہ ﷺانہ قال ن الشیطان اذا نودی بالصلوة ،ولی ولہ حصاص ۔(رواہ مسلم باب فضل الاذان وھرب الشیطان۱۶۷/۱)

وری الطبرانی فی الاسط عن ھذا الطریق بلفظ اذا تغولت لکم الغول ،فنادوا بالاذان فان الشیطان اذا سمع النداءاادبر ،ولہ حصاص ،لم یر ھذا الحدیث عن سھیل بن اابی صالح لا عدی بن فضل ،تفرد بہ ابو عامر( رقم الحدیث: ۷۶۴۶)

عن جابر بن عبد اللہ ؓ قال قال رسول اللہ ﷺ :علیکم بالدلجة ،فان الاارض تطوی بالیل ،فاذا تغولت لکم الغیلان ،فنادو ا بالااذان ۔(السنن الکبری للنسائی الاامر بالااذان ،رقم الحدیث۲۳۶)

قال عمرؓبن الخطاب :اذا تغولت لاحدکم الغیلان ،فلیوذن ،فان ذالک لایضرہ۔ (رواہ البیھقی فی دلائل النبوة ،جماع ابواب کیفیةنزول رقم الحدیث ۳۰۲۹)

قال عبدالحی اللکھنویؒ فھذہ الاخبار والاثار دلت علی مشروعیة الاذان عند رویة الغیلان وضعف بعضھا لا یضر فی فضائل الاعمال ،وقال النووی ؒ لذالک ینبغی ان یؤذن اذان الصلوة ذا عرض للا نسان شیطان ۔(السعایة ۴۸/۲)

شرارت یابداخلاقی کی بناپراذان دینا

ج:جب بیوی یا بچہ شریریابداخلاق ہوجائیں یا جانور سرکش ہوجائے، توان کے کان میں اذان دینے سے شرارت کم ہوجائے گی ہے ،ان شاءاللہ ۔

ابو منصور دیلمی نے حضرت علی ؓ ہی سے روایت کی ہے کہ جب گھر والوں میں سے کسی کے اخلاق خراب ہوجائیں ،(بیوی ،بچہ ،خادم وغیرہ )یا جانور سرکش ہوجائے، تو اس کے کان میں اذا ن دو ،(ان شاءاللہ شرارت وغیر میں کم ہوجائے گی ،یہ اذان کےمواقع سے ہے)

روی الدیلمی عنہ قال قال رسول اللہ ﷺ :من ساءخلقہ من انسان ،ودابة ،فاذنوا فی ااذنہ۔ (مرقاة المفاتیح ،کتاب الااذان ،۳۳۳۲) ویقول العلامۃ عبد الحی للکھنوی ؒ : ” اذا استصعبت علی احدکم دابتة ،اوساءخلق زوجتہ ،او احد من اھل ،فلیؤذن فی اذنہ ،رواہ الغزالی فی احیاءعلوم الدین حقو ق المملوک ،قال الحافظ العراقی اخرج ابو منصور الدیلمی فی مسند الفردوس من حدیث حسین بن علی بن ابی طالب نحوہ بسند ضعیف “(السعایة ۴۵/۲)

غمزدہ کے کان میں

د:غمزدہ کے کان میں ۔ حضرت علی ؓ فرماتے ہیں : مجھے رسول اللہ ﷺنے دیکھا اور فرمایا : اے علی !میں تمھیں غمزدہ دیکھ رہاہوں ،لہذا تم اپنے گھر کے کسی فر د سے کہو کہ وہ تمہارے کان میں اذان دے ،اس لئے کہ اذان غم کو دور کردیتی ہے ۔

حضرت علی ؓ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺکے فرمان کے مطابق اس پرعمل کیا ،تومیں نے اس کو ایسا ہی مفید پایا ،دیلمی کہتے ہیں اس سند کے تمام روات نے اس عمل کو آز مایا ،تو سب نے اسی طرح پایا ۔(معلوم ہواکہ یہ بھی اذان کےمواقع میں سے ہے)

ویسن ایضا عن الھم ،وسوءالخلق لخبر الدیلمی عن علی ؓ راٰنی النبی اللہ ﷺحزینا ،فقال یاابن ابی طالب !انی اراک حزینا ،فمر بعض اھلک یؤذن فی اذنک ،فانہ درا الھم ،قال فجربتہ ،فوجتہ کذالک ،وقال (الدیلمی )کل من رواتہ الی علی جربہ ،فوجدہ کذالک (مرقاة المفاتیح ،کتاب الاذان ،۳۳۱/۲)

شیخ الحدیث مولانا محمد زکریاؒ صاحب نے لکھا ہے

ہ:جن وشیطان جس پر حاوی ہوچکا ہو، اس کے کان میں، حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریاؒ صاحب نے لکھا ہے : واستنبط با لحدیث بعض السلف الاذان فی غیر وقت الصلوة لدفع اثرات الشیاطین والجن ۔ (اوجز المسالک ۳۵/۲)

و:لشکرکے دشمن سے مڑ بھیڑ کے وقت ۔ ز:غضبناک آدمی پر ۔ ح:آگ لگ جانے پر ۔ ک:راستہ بھٹک جانے پراذان دینا ۔ ( یہ اذان کےمواقع ہیں)

علامہ شامی لکھتے ہیں: فی حاشیة البحر للخیر الرملی :رایت فی کتب الشافعیة انہ قدیسن الاذان لغیر الصلوة،کما فی اذن المولود ،والھموم ،والمصروع،ومن ساءخلقہ ،من انسان اوبھیمة ،وعند مزدحم الجیش ،وعند الحریق ۔۔۔

عند تغول الغیلان وعند تمرد التمرد لخبر صحیح فیہ ،اقو ل ولابعد فیہ عند نا (ردالمحتار ۲۰۵ کتاب الاذان ،السعایة ۴۵/۲، اوجز المسلک ۳۵/۲،اعانة الطالبین فی الفقہ الشافعی ۱۷۶۲۲۶۷/۱ مولفہ السید البکری ان السید محمد شطا الدمیاطی وکذا تحفة المحتاج علی شرح المنھاج ۵۱۵فیھماتفصیلات من شاء، فلیراجع )

اصلاحی ،فکری ،علمی اورتحقیقی دینی مضامین ومقالات کے لئے فیضان قاسمی ویب سائٹhttps://faizaneqasmi.com کی رجوع فرمائیں۔