اساتذہ اورمعلمین قوم وملت کے راہنما

اساتذہ اورمعلمین قوم وملت کے راہنما اورہبر
حضرت مولانا مفتی جمال الدین صاحب قاسمی
صدرالمدرسین دارالعلوم حیدرآباد

الحمدللہ رب العلمین والصلوة والسلام علی خاتم النبیین امابعد

اساتذہ اورمعلمین قوم وملت کے راہنما اورہبرہوتے ہیں ،نسل نوکی تربیت اوراس کی استعداد اورصلاحیتوں کو صحیح اورمثبت رخ دینے میں ان کا نمایاں کردارہوتاہے ،جیسے ایک باغباں اورمالی باغ کے پیڑاورپودوں کی حفاظت کرتاہے اورمسلسل ان کی نگہداشت کرتاہے ،ایسے ہی ایک مثالی معلم واستاذ ملت کے ایک ایک فرد پراپنی توجہ مرکوز کرتاہے اوراس کی خوابیدہ صلاحیتوں کو اجاگر کرکے اسے معاشرے کا ایک صالح اورمفید عنصربناتاہے ،اساتذہ قوم وملت کے سرمایہ کے محافظ اورنگہبان ہوتے ہیں ،معاشرتی ذمہ داریوں سے عہدہ برآہو نے اورزمانے کے جدید تقاضوں سے نمٹنے کے لئے معلم کا کردارانتہائی اہمیت کا حامل ہوتاہے ۔

میں معلم بناکر بھیجاگیاہوں

اساتذہ اورمعلمین کی اسی اہمیت کی وجہ سے خود اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے معلم کی حیثیت سے اپنا تعارف کروایاہے اورارشادفرمایا: انمابعثت معلما : ابن ماجہ: ۲۲۹)

میں معلم بناکر بھیجاگیاہوں ۔
قرآن کریم بھی آپ کے فرائض منصبی کو بیان کرتے ہوئے کچھ یوں گویاہے

لقدمن اللہ علی المؤمنین اذ بعث فیھم رسولا منھم یتلو علیھم آیاتہ ویزکیھم ویعلمھم الکتاب والحکمة، وان کانو من قبل لفی ضلال مبین۔(آل عمران : ۱۶۴)

حقیقت یہ ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے مومنوں کے اوپربڑااحسان فرمایاہے کہ ان کے درمیان ان ہی میں سے ایک رسول بھیجا جو ان کے سامنے اللہ کی آیتوں کی تلاوت کرے ،انہیں پاک وصاف بنائے اورانہیں کتاب وحکمت کی تعلیم دے جبکہ یہ لو گ اس سے پہلے یقینا کھلی گمراہی میں تھے۔

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی جس انداز میں تربیت فرمائی ،وہ اپنی مثال آپ ہے ،آپ کی بافیض صحبت اورپختہ تربیت کے نتیجے میں صحابہ کرام میں سے ہرفرد اپنے عہد کاگل سرسبد ،اقوام عالم کے لئے مینارہ نوراورنوع انسانی کے لئے باعث شرف وافتخاربنا۔

قرآن کریم نے ان پاکباز ہستیوں کی رضی اللہ عنہم ورضوعنہ کا تمغہ وامتیاز عطاکیا ،زبان رسالت نے انہیں نجوم ہدایت قراردیا،آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مثالی تربیت کے نتیجے میں صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی جوبرگزیدہ جماعت تیارہوئی ،زمانہ کروٹیں بدلے ان کی نظیر لانے سے قاصرہے ۔

ایک مثالی معلم کا فرض ہے کہ وہ طلبہ کو دین وایمان کا داعی اورعلم برداربنائے

اساتذہ اورمعلمین معاشرے کی تعمیرمیں کلیدی کرداراداکرتے ہیں ؛اس لئے ان کے کاندھے پر ذمہ داریاں بھی کافی زیادہ ہیں ،ان ذمہ داریوں کو بحسن وخوبی نبھانا اساتذہ کے لئے ضروری اورناگزیرہے ،اساتذہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ طلبہ کی سیرت سازی پرخاص توجہ دیں ،انہیں ایک ذمہ داراورفرض شناس شہری بنائیں ،ان کے دلوں میں بلند نصب العین اورعرش پیما مقاصد کے حصول کے لئے جستجو ،جوش اورولولہ پیداکریں ،ایک مثالی معلم کا فرض ہے کہ وہ طلبہ کو اسلامی تہذیب وثقافت کے حوالے سے غیور اورحمیت پسند بنائے اوردین وایمان کا داعی اورعلم برداربنائے ۔

آج کے اس پرفتن اورمہیب دورمیں جہاں بہت سے شعبے انحطاط پذیر اورزوال آمادہ ہیں ،وہیں استاذ اورشاگرد کا پاکیزہ رشتہ بھی حددرجہ متاثرہواہے ،اب نہ شاگردوں کے دلوں میں اساتذہ کی وہ عزت اورمقام ہے جس کے وہ صحیح معنوں میں مستحق اورحق دارہیں اورنہ اساتذہ میں خلوص اوردیانت داری کا وہ قیمتی جوہر باقی رہا جو ان کو محنت وجا ں فشانی اورمسلسل جستجو ولگن پرآمادہ رکھتاتھا اورطلبہ کی کردارسازی کے لئے انہیں بے تاب رکھتاتھا ۔

تعلیمی شعبہ پر تن آسانی وتن پروری کی گہری چھاپ پڑگی ہے

آج تعلیمی شعبہ پر تن آسانی اورتن پروری کی گہری چھاپ پڑگی ہے ،جس کی وجہ سے تعلیم آج ایک قابل فروخت شیءہوچکی ہے ،ضرورت تھی کہ اس تعلق سے ایک ایسی تحریرمرتب کی جائے جس میں معاشرے کے اندراساتذہ کا مقام اوران کے مرتبہ کو اجاگرکیا گیاہو اوران کی ذمہ داریوں کو بیان کیا گیاہوتاکہ استاذ وشاگرد کا پرتقدس رشتہ بحال اورقوم وملت کی زبوں حالی اورفسوں کاری کا خاتمہ ہو۔

اساتذہ کاکردار اوران کی ذمہ داریاں

بہت خوشی ومسرت کی بات ہے کہ عزیز مکرم مولانامفتی عبداللطیف صاحب قاسمی زاداللہ علمہ وفضلہ استاذ جامعہ غیث الہدی بنگلور جن کے قلم گل ریز سے متعدد کتابیں نکل چلی ہیں اورعوام الناس اوراہل علم کے حلقوں میں پذیرائی حاصل کرچکی ہیں ،انہوں نے اس جانب اپنی توجہ مبذول کی اورحضرات فقہاءومحدثین اوربرصغیرکے مشاہیر علماءکے سبق آموز واقعات کی روشنی میں اساتذہ کا مقام اوران کی ذمہ داریوں کو واضح کیا ،آخرمیں حضرت مولانا سلیم اللہ خاں صاحب رحمة اللہ علیہ ،حضرت مولانا قاری امیرالحسن صاحب رحمة اللہ علیہ ،حضرت مولاناتقی عثمانی صاحب اورحضرت مولانا رفیع عثمانی صاحب زیدمجدہم کے افادات کو اچھے اوردل کش انداز میں ترتیب دیاہے ۔

امیدہے کہ یہ رسالہ مؤلف کی دیگر تالیفات کی طرح ہاتھوں ہاتھ لیاجائے گا ،ذوق وشوق سے اسے پڑھاجائے گا اورمعاشرے میں اساتذہ کی عزت اوروقات کو بحال کرنے میں یہ رسالہ نشان راہ کا کام دے گا ۔

اللہ تبارک وتعالیٰ سے دعا ہے کہ مؤلف کے قلم کو تادم ِحیات سیال اوررواں رکھے ،ان کی تحریروں کو شرف قبولیت سے نوازے اورآئندہ بھی اس طرح کی تالیفات کی توفیق ِارزانی نصیب فرمائے ۔آمین ثم آمین

(حضرت مولانا مفتی )محمد جمالد الدین قاسمی دارالعلوم حیدراباد ۲۹/ صفرالمظفر۱۴۴۲؁ھ مطابق ۱۷/ اکتوبر ۲۰۲۰؁ء،مذکوربالامضون حضرت والا نے ’’ اساتذہ کاکردار اوران کی ذمہ داریاں‘‘ کے لئے بطورتقدیم تحریرفرمایاہے ۔

درس قرآن ،درس حدیث،فقہ وفتاوی ،اصلاحی ،فکری اورعلمی وتحقیقی مضامین کے لئے فیضان قاسمی ویب سائٹ https://faizaneqasmi.comکی طرف رجوع کریں ،دوست واحباب کو بھی متوجہ کریں ۔