الترغیب والترھیب :تعارف

صاحب الترغیب والترھیب :علامہ امام محدث حافظ عبدالعظیم بن عبدالقوی ابومحمدزکی الدین منذری شامی بصریؒ ہیں،جن کی ولادت باسعادت شعبان المعظم ۵۸۱اوروفات ۴/ذی قعدہ ۶۵۶ھ میں ہوئی ۔

حافظ منذریؒ کے متعلق آپ کے لائق شاگردعلامہ شرف الدین عزالدین فرماتے ہیں : ہمارے استاذ محترم علم حدیث میں بے نظیر ،صحیح ،ضعیف ،معلول احادیث اوراحادیث کے معانی واحکام سے خوب واقف تھے، اختلا فِ طرق ،غریب ومشکل الفاظِ حدیث پرآپ کی نظر گہری تھی۔

حافظ منذری ؒ نے مختلف اساتذہ سے علم حاصل کیاہے ، جن میں علامہ موفق الدین بن قدامہ بھی ہیں ،آپ سے ایک جم غفیرنے علم حاصل کیا ،جن میں علامہ تقی الدین بن دقیق العید ،شرف الدین عز الدین رحمھم اللہ ہیں،حافظ منذری ؒ نے بہت ساری کتابیں فن ِحدیث میں تصنیف فرمائی ہیں ،جن میں ”مختصرسنن ابی داود“”مختصرصحیح مسلم “الترغیب والترھیب “وغیرہ ہیں ۔

سبب تالیف

حافظ منذری ؒ فرماتے ہیں : جب میں”مختصرسنن ابی داؤد“کے املاءسے فارغ ہوا، تو بعض بلندہمت ،دنیاسے بے زار،آخرت کے شوقین ،علم وعمل سے متصف طلبہ نے درخواست کی کہ میں ترغیب وترہیب سے متعلق احادیث پر ایک مختصرجامع کتاب کا املاءکراؤں،(تاکہ عمل کرنے والوں کے لیے عمل میں نشاط وقوت کا سبب اور معاصی سے بچنے میں خوف وخشیت کا باعث بنے)چنانچہ میں نے اس کتاب کا املاءکرایا جو سائز میں مختصر،علم میں وسیع اورمتعددکتب ِحدیث میں منتشر ترغیبی وترہیبی روایات کو جامع ہے ۔

الترغیب والترھیب کا اسلوب نگارش

حافظ منذری ؒ نے مقدمة الکتاب میں اپنی کتاب’’الترغیب والترھیب‘‘ کی ترتیب واسلوب کو خودبالتفصیل بیان فرمایا ہے، چنانچہ آپ نے لکھاہے : ٭میں نے سندکے حذ ف کے ساتھ حدیث کو ذکرکرنے کے بعدان مشہورکتابوں کا حوالہ دیاہے، جن سے یہ حدیث لی گئی ہے،بسااوقات حدیث متعددکتب میں موجودہوتی ہے؛ لیکن میں نے بعض مقامات پر کتب تسعہ(صحاح ستہ ،موطاامام مالک ،مسنداحمد ،سنن دارمی )کے حوالہ پراکتفاءکیاہے۔ ٭اگرحدیثِ مذکوران کتابوں سے لی گئی ہو جن کے مصنفین نے صحاح احادیث کے پیش کرنے کا التزام نہیں کیا ے،تومیں نے آخرِحدیث میں سند کے متعلق صحت،ضعف وغیرہ کے اعتبارسے مختصرکلام کیاہے ۔

حدیث صحیح ،حسن یا ان سے قریب ترہو، حدیث کی ابتداءلفظ“ عن فلان

٭اگرحدیث صحیح ،حسن یا ان دونوں سے قریب ترہو،تو میں نے حدیث کی ابتداءلفظ“ عن فلان“سے کی ہے ۔ نیزحدیث مرسل،منقطع،معضل کو بھی لفظ ” عن فلان“سے شروع کیاہے ۔ سند میں کوئی مبہم راوی ہو ،یا ایساکوئی راوی ہو، جس کی بعض ائمہ نے توثیق کی ہواور بعض نے اس کی تضعیف یارواة کے سلسلہ میں غیرمضرکلام ہو، تومیں نے اس طرح کی حدیث کوبھی لفظ ”عن فلان“سےشروع کیاہے ۔ یاکوئی روایت مرفوعاً مروی ہو؛ حالانکہ اس کاموقوف ہونا صحیح ہے ،یا متصلا ًروایت کی گئی ہو، منقطع ہونا صحیح ہو،تو میں نے اس طرح کی احادیث کوبھی لفظ ”عن فلان“سے شروع کیاہے، موخرالذکرتینوں اقسام کے اواخرمیں سند کی حقیقت پراختصارکے ساتھ روشنی ڈالی دی ہے ۔

٭جوروایت حددرجہ ضعیف ہو ،مثلا سندمیں کسی روای پرکذب ،یااتہمام بالکذب کاالزام ہو ،یا اس روای کی احادیث کے ترک پر اتفاق منقول ہو ،یا ائمہ جرح وتعدیل نے ”لیس بشئی“یاضعیف جدافرمایا ہو،یا جس روای کی متعلق صرف تضعیف ہی منقول ہو،تومیں نے اس طرح کی روایات کو لفظ ”رُوِی “ سے شروع کیا ہے اورآخر سندمیں کسی طرح کا تبصرہ نہیں کیاہے، پس نہایت ضعیف احادیث کی دوعلامتیں ہو ئیں(۱) لفظ ”رُوِی “سے شروع کیاجانا (۲)آخرمیں سندپرکلام کا نہ ہونا۔

قارئین کرام سے گزارش

قارئین کرام سے گزارش ہے کہ وہ حافظ منذری ؒ کے ترغیب وترہیب پرمشتمل احادیث کے اس عظیم ذخیرہ سے حافظ منذری ؒ کے مذکورہ بالااصول کو پیش نظررکھ کرخوب استفادہ کریں ،حضرت اقدس شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا صاحب نوراللہ مرقدہ نےالترغیب والترھیب کے اس جامع و بے نظیرذخیرئے حدیث سے اپنی مقبول ومشہور کتاب ”فضائل اعما ل“ میں خوب استفادہ کیاہے ۔ مزید اصلاحی ،علمی وتحقیقی مضامین کے لئے رجوع فرمائیں https://faizaneqasmi.com