امام العصرحضرت مولانا محمدانورشاہ کشمیریؒ:آپ کا نام محمدانورشاہ بن شیخ معظم شاہ بن شاہ عبدالکبیربن شاہ عبدالخالق ہے ،آبائی وطن بغدادہے ، آپ کی ولادت سے دوصدی پہلے آپ کا خاندان بغداد سے منتقل ہوکر اولاملتان،پھرلاہوربعدازاں کشمیرمیں فروکش ہوا ۔

آپ کی ولادت وادی کشمیرمیں بروز ہفتہ۲۷/شوال ۱۲۹۲؁ھ ہوئی ،نیک سیرت ،زاہد ہ عابدہ ماں نے آپ کی بہترین تربیت کی ،آپ کے والدمحترم عابدوزاہد نہایت متدین اوراپنے علاقہ کے مرجع تھے ۔

تعلیم وتربیت اوراساتذہ کرام

پانچ سال کی عمر میں اپنے والدمحترم سے ناظرہ قرآن مجید مکمل فرمایا، ناظرہ قرآن مجید سے فارغ ہونے کے بعداپنے والدمحترم ہی سے شیخ سعد ی شیرازی کی گلستان وبوستان ،جلال الدین دوانی ،نظامی اور امیرخسرو کی جو کتابیں اردو فارسی کی اس وقت رائج تھیں ، انہیں پڑھیں اورکشمیرہی میں دوسال علم صرف ،نحو ، منطق و اصول فقہ وغیر ہ علوم وفنون کی کتابیں پڑھیں ،دس سال کی عمر میں اردوفارسی نظم ونثرپر قدرت حاصل فرمالی ۔

اس کے بعدمغربی پنجاب کے علاقہ” ہزارہ“ تشریف لے گئے جہاں تین سال تعلیم حاصل کی،ہزارہ میں حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن ؒکی شہرت اورعلمی عظمت وجلال کی شہرت سنی ، آپ سے شرف تلمذ حاصل کرنے کے شوق میں دارالعلوم دیوبندحاضرہوئے ۔

دارالعلوم دیوبندحاضری

اس وقت شیخ زمن حضرت مولانا محمودحسن دیوبندی قدس اللہ سرہ دارالعلوم دیوبند کے صدرالمدرسین تھے ،اس درس گاہ میں چارسال علم حاصل کیا ،حضرت شیخ الہند سے صحیح بخاری ،سنن ابوداؤد ،جامع ترمذی اور ہدایہ آخرین پڑھیں ، صحیح مسلم ،سنن نسائی اور سنن ابن ماجہ مولانا اسحاق کشمیری سے پڑھیں ،دارالعلوم دیوبند سے فراغت کے بعد حضرت اقدس مولانا رشیداحمد گنگوہی ؒ سے حدیث کی اجازت ملی ،آپ کے ہاتھ پر بیعت کی ،حضرت گنگوہی ؒ کی طرف سے خلافت بھی ملی ۔(تاریخ دارالعلوم۷۳/۲ ) ۔

حرمین شریفین زیارت وحاضری کے موقع پر شیخ حسین طرابلسی صاحب رسالہ حمیدیہ ، والحصون الحمیدیة سے ملاقات ہوئی اور انہوں شاہ صاحب کو اپنی سند سے روایت حدیث کی اجازت دی اور اجازت نامہ میں بلندکلمات تحریرفرمائے ۔(نفحة العنبر فی حیاة الشیخ الانور للشیخ محمدیوسف البنوری ؒ)

تدریسی خدمات

علامہ انورشاہ کشمیریؒ رسمی فراغت کے بعدچندماہ مدرسہ ”عبدالرب“ دہلی میں تدریسی خدمات انجا م دیں،پھرجناب محمدامین صاحب کی تحریک پر ”’مدرسہ امینہ“ دہلی کی بنیاد رکھی اور چندسال خدمت کرنے کے بعد وادی کشمیر میں۱۳۲۰؁ ھ مطابق ۱۹۰۳؁ء کو ”بارہ مولہ “ میں مدرسہ ”فیض عام “ شروع فرمایا اور تین سال خدمت کرنے کے بعد۱۲۲۳؁ھ م ۱۹۰۹؁ءکو حرمین شریفین تشریف لئے گئے ،واپسی کے بعد تھوڑاعرصہ کشمیرمیں گزارنے کے بعد ۱۳۲۷؁ھ مطابق ۱۹۰۹؁ءاساتذہ سے ملاقات کے لئے دیوبند حاضرہوئے ، حضرت شیخ الہند نے آپ کو دارالعلوم تدریسی خدمت کے لئے روک لیا ، تیرہ سال بعد اپنی مادرعلمی میں بحیثیت مدرس تشریف لے آئے اورتقریباً انیس سال بز م درس میں بے پناہ فیاضیوں کے مظاہرے پیش کئے، ۱۳۴۶؁ھ میں دارالعلوم دیوبند سےمستعفی ہوکرجامعہ اسلامیہ ڈابھیل تشریف لئے گئے۔

علمی مقام ومرتبہ

علامہ انورشاہ صاحب اپنی اعلیٰ تعلیم کے آخری مراحل دارالعلوم دیوبندمیں طے کئے تھے ،جہاں آپ کے ذہن وفکرپر آخری نقوش شیخ الہند حضرت مولانا محمودحسن ؒ کے فیضان علمی کے ثبت ہوئے تھے ،اللہ تعالیٰ نے حضرت انورشاہ صاحبؒ کو سراپاعلم وفضل بنایاتھا،علوم شرعیہ وعقلیہ میں کوئی علم ایسانہیں تھاجس میں آپ کو کمال اورمہارت تامہ حاصل نہ ہو ،ضبط واتقان ،وسعت مطالعہ ،دقت نظر،جدت ِفکر،کثرت معلومات ،ذکاوت وذہانت ،فہم وفراست ،تبحرعلمی اوراستحضارمیں بلامبالغہ اپنی نظیرآپ تھے ،علماءمتقدمین ومتاخرین میں ایسی جامع شخصیتیں شاذ ونادرہی پائی جاتی ہیں ۔(تصویرانور:۲۱۷)

حضرت مولانا قاری محمدطیب صاحب ؒ نے شاہ صاحب کا تعارف کچھ اس طرح پیش فرمایاہے

دیوبند کی ان آفتاب ومہتاب ہستیوں میں نہایت تیز اورشفاف روشنی کا ایک جلیل المرتبت ستارہ حضرت الاستاذعلامہءدہر،فریدِ عصر،حافظ الدنیا،محدث وقت مولانا السیدمحمدانورشاہ الکشمیری صدرالمدرسین دارالعلوم دیوبند کی مبارک ہستی بھی ہے ،جومجموعی حیثیت سے آیة من آیات اللہ اوراپنے غیرمعمولی علم وفضل کے لحاظ سے دین کا ایک روشن منارہ تھے ،آپ کی ذات بلامبالغہ عالم جلیل ،فاضل نبیل ،تقی ونقی ،محدث ،مفسرومتکلم ،ادیب وشاعر،صوفی اورفانی فی السنہ ذات تھی“۔ (تصویرانور:۳۶۷)

حضرت انور شاہ حقانیتِ اسلام کی زندہ حجت

حکیم الامت حضرت مولانامحمداشرف علی تھانوی ؒ فرمایاکرتے تھے

جب شیخ الہندؒ حجاز کے سفرپر جس سفرمیں مالٹاکی اسیری مقدرتھی روانہ ہورہے تھے،آپ نے حضرت انورشاہ ؒکو اپنا قائم مقام بنایا اور ”جامع ترمذی“ اور”صحیح بخاری“ کا درس آپ سے متعلق کیا ۔

حضرت انورشاہ حقانیتِ اسلام کی زندہ حجت ہیں،اسلام میں ان کا وجوددین ِاسلام کے حق ہونے کی دلیل ہے ۔(تصویرانور:۴۴۶)

قاری محمدطیب صاحب ؒ تحریرفرماتے ہیں

حضرت ممدوح علم کے بحرذخارہونے کی وجہ سے درسِ حدیث علوم حدیث ہی تک محدود نہ رہتاتھا ؛بلکہ اس میں استطرادًا لطیف نسبتوں کے ساتھ ہرعلم وفن کی بحث آتی تھی ،ہرفن کے متعلقہ مقصدپرایسی سیرحاصل اورمحققانہ بحث ہوتی کہ حدیث کی بحث کے علاوہ فنی مسئلہ ہی فی نفسہ اپنی پوری تحقیق کے ساتھ منقح ہوکرسامنے آجاتاتھا ،سال بھریکسانی کے ساتھ مسائل پرمحققانہ بحثیں جاری رہتیں؛البتہ امتحان ششماہی کے بعدامتحان سالانہ تک بعدنماز عصر پڑھاتے تھے جس کی وجہ سے آخرِرجب تک ”ترمذی“ و”بخاری“ یکساں شان ِتحقیق کے ساتھ ختم ہوجاتھیں۔

درس صرف عبارت فہمی پر منحصر نہیں ہوتاتھا؛ بلکہ تحقیق وتدقیق کاسیرحاصل خلاصہ پرمبنی ہوتا تھا

میں نے ان مختلف الانواع تحقیقات کودیکھ کر ایک املائی کاپی چوڑے اوراق والی تیارکی جس میں چھ سات کالم بنائے اورکالم کی ابتداءمیں سرخیاں قائم کیں،مباحث ِحدیث،مباحثِ تفسیر،مباحثِ عربیت (نحووصرف)مباحث ِفلسفہ ومنطق ،مباحث ادبیات ،مباحثِ تاریخ وغیرہ ،فنون عصریہ کے لئے ایک کالم اورکاپی کے کنارے ایک کالم جوقال الاستاذ کے نام سے تھا ،جس میں حضرت الاستاذ مسائل کی تدقیق وتنقیح کے بعد آخری نتیجہ ”میں کہتاہوں“ کہہ کر ارشادفرماتے تھے ۔(اختصارازتصویرانور:۳۷۵)

حضرت مولانامحمدمیاں دیوبندی ؒ تحریرفرماتے ہیں

حضر ت انورشاہ صاحبؒ کادرس عبارت فہمی پر منحصر نہیں ہوتاتھا؛ بلکہ تحقیق وتدقیق کاسیرحاصل خلاصہ پرمبنی ہوتا تھا ،آپ باحوالہ کلام پیش فرماتے ،آپ کے قریب کتابوں کا ایک انبار ہوتا تھا ،بوقت ضرورت کتاب کھول کر یا دوسری مجلس میں کتاب لاکرعبارت دکھایاکرتے تھے ،حضرت انورشاہ صاحب کے اس طریق نے تلامذہ میں تحقیق وتفتیش کا ذوق پیدا کیا(تصویرانور: ۴۳۶)

طلبہءعزیز کی تربیت کا انداز

مولاناعبداللہ جاویدصاحب تحریرفرماتے ہیں

استاذ یامربی کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ اپنے تلامذہ کے ساتھ حقیقی اولادکا سلوک کرے اوروہ ان کی تربیت یہ سمجھ کرے کہ وہ اپنے جگرپاروں کی تربیت کرہاہے ۔

سرکاردوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے ارشادفرمایا: انما انالکم بمنزلة الوالداعلمکم ۔

میں تمہارے والدکی طرح ہوں،تمہیں دین سکھاتاہوں۔

علامہ کشمیری اس قول نبوی کی صحیح تصویرتھے،اپنے تلامذہ کے ساتھ ان کا تعلق باپ اوربیٹے کے تعلق سے کہیں زیادہ مضبوط ومستحکم تھا،انہیں اپنے تلامذہ اورمتعلقین کی علمی تربیت اوران کے اعمال واخلاق کوشریعت وسنت کے سانچے میں ڈ ھالنے پرخاص توجہ تھی، سینکڑوں شاگردآپ کی تربیت اورعلمی رہنمائی سے مستفیدہوئے ،ذہین اورہونہارطلبہ پرنہ صرف درس کے دوران خاص طورسے متوجہ رہتے ؛بلکہ درس کے علاوہ اوقات میں بھی ان کی خبرگیری اورہمت افزائی فرماتے رہتے ۔(تصویرانور:۱۶۵)

طلبہ کو ان کے ذوق کے مطابق کام تفویض فرماتے

حضرت انورشاہ صاحب کی تربیت کا خاص انداز یہ تھا کہ اپنے شاگردوں کو ان کے ذوق کے مطابق کام تفویض فرماتے ،کسی کو تصنیف وتالیف سے دلچسپی ہوتی ،تواسے اس میدان میں لگاتے ،کسی کو تدریس کا ذوق ہوتا،تواس کے لئے تدریس کے مواقع مہیافرماتے ،کسی شاگردمیں خطابت سے مناسبت دیکھتے ،تو اس کی جولانی طبع کے لئے مہمیز ثابت ہوتے ۔

چنانچہ حضرت مولاناقاری محمدطیب ؒصاحب کو بیس بائیس سال کی عمرمیں اپنے ساتھ جلسوں میں لے جاتے اورقادیان کا سفربھی کرایا،نیز جلسوں میں تقریریں کرائیں ،حضرت مولانا محمدمیاںؒ میں تدریس کا ذوق دیکھا، تو ان کوبہار کے ایک مدرسہ میں ایک معیاری استاذ کی حیثیت سے روانہ فرمایا، مولانااعزاز علی صاحب (شیخ الہندکے شاگرد)سے حماسہ ،نفحة الیمن ،متنبی ،کنزالدقائق وغیرہ درسی کتابوں پر عربی میں حواشی لکھواکر حرف بحرف پڑھ کران کی اشاعت کا نظم فرمایا۔(تصویرانور:۱۶۷)

آپ کے فیضِ تربیت سے ایسے علماءتیارہوئے جو آسمان علم کے آفتاب وماہتاب بنے

علمی اعانت میں کبھی بخل نہ تھا ،اکثروبیشترمدرسین آپ کے پاس حاضرہوتے اورمشکل مقامات آپ سے پوچھ پوچھ کرحل کرتے ،نئے مدرسین خاص طورسے آپ کی مددکے محتاج رہتے ،حضرت مولانااعزاز علیؒ صاحب اپنی معین مدرسی کے زمانہ میں حاضرہوتے ،کبھی ایسا بھی ہوتاکہ رات کے آخری حصہ میں مطالعہ کے لئے بیٹھے اورالجھ گئے ،اتناصبرکہاں کہ صبح کا انتظارکریں،فورًااٹھے اورشاہ صاحب کے کمرے کے دروازہ پردستک دی ،شاہ صاحب نے دروازہ کھولا ،مسکراتے ہوئے استقبال کیا ،سوال کاجواب دیا اوردروازہ بندکرلیا ۔(تصویرانور:۱۶۹)

اپنے شاگردوں کو جدید علوم کے مطالعہ کی تلقین فرماتے ،ابتداءً ا اردوزبان کی وسعت وہمہ گیری کے قائل نہ تھے ؛مگرحضرت تھانویؒ کی تفسیر”بیان القرن“کے بعداندازہ ہوا کہ یہ زبان بھی بڑے بڑے علوم کی متحمل ہوسکتی ہے ،اس تبدیلی کے بعد اپنے تلامذہ کو مستقل تلقین فرماتے کہ اردومیں لکھنے پڑھنے کی عادت ڈالو،اکثرتلامذہ کو اردومیں لکھنے کے لئے عنوانات دئے اوران مضامین میں ضروری اصلاح کے بعداخبارات ورسائل میں اشاعت کے بجھواتے۔(تصویرانور:۱۷۱)

شاگردو ں سے استاذ کے تعلق اورشیفتگی کا یہ عالم ہو اورتربیت ورہنمائی کا یہ انداز ،توپھرکیسے ممکن ہے کہ ان میں لعل وجوہرپیدانہ ہوں،حضرت شاہ صاحب کی محنت اورتربیت اورآپ کی جدوجہدرائگاں نہیں گئی ،آپ کے فیضِ تربیت سے ایسے علماءتیارہوئے جو آسمان علم کے آفتاب وماہتاب بنے اورجنہوں نے علم دین کی بے پناہ خدمات انجام دیں“۔(تصویرانور: ۱۷۱)

تلامذہ

حضرت انورشاہ کے دارالعلوم میں قیام کی اٹھارہ سالہ مدت میں کم ازکم دوہزارطلبہ بلاواسطہ مستفیض ہوئے ،ان میں سے بہت بڑی تعداد ان حضرات کی ہے جو گوشہءگمنامی میں خاموش خدمات انجام دے کرچلے گئے ،کچھ وہ تلامذہ ہیں جن کی خدمات نے شہرت حاصل کی اورحضرت شاہ صاحب کے علوم وفیوض کو عام کیا، اپنی علمی ،فکر،اصلاحی اورتحقیقی خدمات کے ذریعہ امت مسلمہ پر عظیم احسان کیا ،ذیل میں چندممتاز تلامذہ کا نام پیش خدمت ہے ۔

مولانا فخرالدین صاحب امروہی ،شیخ الحدیث شاہی مرادباد ،دارالعلوم دیوبند۔

کتب حدیث حضرت شیخ الہندسے پڑھی ہیں ،نیز حضرت شاہ سے بھی استفادہ کیاہے،اس وجہ سے آپ کو انورشاہ صاحب کے تلامذہ میں شمارکیاجاتاہے۔

حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمدطیب صاحب قاسمی ؒ،مہتمم دارالعلوم دیوبند،وترجمان مسلک دیوبند

مولانا محمدادریس صاحب کاندھلوی،صاحب التعلیق الصبیح، سیرۃ المصطفی ،معارف القرآن ادریسی اوردیگرکتب کثیرہ کے مصنف

مفتی شفیع عثمانی ؒ ،مفتی دارالعلوم دیوبند،مفتی اعظم پاکستان وبانی دارالعلوم کراچی،خلیفہ حضرت حکیم الامت تھانوی ؒ

شاہ صاحب کے دیگر نامور تلامذہ

حضرت مولانا محمداصغرمیاں صاحب دیوبندی،استاذ حدیث شاہی مراداباد ،وشیخ الحدیث مدرسہ امینہ ،دہلی ،ناظم جمیعہ علماءہند،مصنف مشکوة الآثار،علماءہندکا شاندارماضی ،ودیگرمختلف کتب کے مصنف۔

مولانا بدرعالم میرٹھی صاحب ترجمان السنۃ ،آپ نے حضرت شاہ کی درس بخاری کی تقاریرکو قلم بند کیا ہے ۔

مولانا محمدیوسف بنوری ؒ،بانی جامعہ اسلامیہ بنوری ٹاؤن ،کراچی،صاحب معارف السنن ،العرف الشذی کی ترتیب وتہذیب کا کام شروع فرمایا تھالیکن اس میں مولانا بنوری حضرت شاہ کے علوم کو شامل کردیا جس کی وجہ سے وہ ایک مستقل شرح ہوگئی ۔

حضرت مولانا محمدمنظورنعمانی ؒ مدیرالفرقان لکھنو،رکن شوری دارالعلوم دیوبند ورکن رابطہ عالم اسلامی جدہ ،صاحب معارف الحدیث ،اورکتب کثیرہ کےمصنف

مولاناچراغ محمد ؒصاحب،جنہوں حضرت شاہ کی جامع ترمذی کی درسی تقاریرکو ’’ العرف الشذی ‘‘ کے نام سے قلم بند کیا ۔

مولانامناظراحسن گیلانیؒ،سابق صدر شعبہءدینیات عثمانیہ یونیورسٹی ،حیدراباد۔

شیخ طریقت مولانا عبدالقادر رائے پوری ؒ۔

حضرت مولانا محمدوصی اللہ صاحب الہ بادی ؒ

تصنیفات

حضرت شاہ صاحب کثرت معلومات ،وسعت مطالعہ ،حیرت ناک استحضار اورقوت حافظہ باجود تصنیف وتالیف کا ارادہ نہیں فرمایا ؛البتہ حالات کے پیش نظر چند رسائل ضرور تصنیف فرمائے ہیں ،نیز آپ کے تلامذہ کے ذریعہ آپ کے علمی کمالات وتحقیقات کا ذخیرہ امت کے سامنے پیش کیا گیاہے ۔

عقیدة الاسلام فی حیاة عیسی علیہ السلام:اس کتاب میں عقیدہ حدوث عالم ، عقید ہ ختم نبوت ،ذوالقرنین ،یاجوج ماجوج کی تحقیق ،سدذوالقرنین کی تعیین وغیرہ مضامین پر مشتمل ہے ۔

تحیة الاسلام فی حیاة عیسی علیہ السلام

التصریح بماتواتر فی نزول المسیح
اس کتاب میں نزول مسیح حضرت عیسی کے نزول سے متعلق تقریبا سو احادیث کو جمع کیا گیاہے ۔

اکفارالملحدین فی ضروریات الدین
کفروایمان اصل حقیقت ،کن اعمال کی بنیاد پر کفرلاز م آتاہے ، ان مضامین پر بالتفصیل روشنی ڈالی گئی ہے ۔

فصل الخطاب فی مسئلة ام الکتاب
مقتدی کے لئے سورئہ فاتحہ کے حکم سے متعلق ہے ، حضرت مولانامحمدیوسف صاحب بنوریؒ نے اس کی تسہیل کے ساتھ معارف السنن کا جزءبنادیاہے ۔

نیل الفرقدین فی مسئلة رفع الیدین
رفع ید ین کے سلسلہ میں محققانہ ومنصفانہ طرز میں یہ ثابت کی گیاہے کہ یہ اختلاف عہد صحابہ سے چلاآرہاہے ، اس اختلاف کی نوعیت اولی اور غیراولی کی ہے ۔

کشف السترعن صلوة الوتر
نماز وترمیں پندرہ سے زاید مباحث ہیں ، ا ن کی تفصیلات ، نیز آمین بالجہر ،نماز میں ہاتھ کہاں رکھنا چاہئے وغیرہ مسائل پر تشفی بخش تحقیقات کے ساتھ مرتب کیا گیا ہے ۔
ان کتب ورسائل کے علاوہ مزید سات مطبوعہ وغیرہ مطبوع کتب آپ نے بذات خو تحریرفرمائے ہیں ۔

درسی تقاریر وافادات

مشکلات القرآن
قرآن مجید میں کلامی ،تاریخی ،سائنسی ،علوم عربیت وبلاغت وغیرہ کے اعتبار سے جو اشکالات ہوتے ہیں یا ہوسکتے ہیں ان پربحث کی گئی ہے ، یہ مختلف اوراق ومسودات میں میں بطوریادداشت محفوظ تھیں ،جن کو ”مجلس علمی“ ڈابھیل نے مولانامحمدیوسف بنوریؒ کے وقیع مقدمہ کے ساتھ سب سے پہلے شائع کیا ۔

خزینۃ الاسرار:اس رسالہ میں کچھ اوراد، اوظائف اورمجربات واذکارکو جمع کیا گیاہے ، اورحضرت شاہ کی طرف سے اضافے کئے گئے ہیں ،شاہ کے جوقدیم مسودات کشمیر میں تھے ،ان میں دستیاب ہوا ہے ۔

فیض الباری :حضرت مولانا بدرعالم میرٹھی مہاجرمدنی نے حضر ت شاہ صاحب کی درس بخاری کی تقاریراور افادات کو فصیح وبلیغ عربی زبان میں قلم فرمایا ہے ،اس کتاب میں عموماوہ مشکل مباحث ہیں جو دیگر شروح بخاری وکتب حدیث میں دستیاب نہیں ،شروع کتاب میں مولانا بدرعالم صاحب میرٹھی اورمولانامحمدیوسف بنوری ؒ کے وقیع مقدمات ہیں ۔

العرف الشذی:حضرت مولاناچراغ محمد ؒصاحب ساکن گجرات نے بوقت درس ترمذی کی تقریرں نوٹ کیں ہیں ،جو ہندستانی نسخوں میں شائع کی جاتی ہے ۔

معارف السنن شرح ترمذیجناب محمدبن موسی میا ں صاحب افریقی حضرت انورشاہ کشمیری ؒ کے عاشق زاراور آپ کے علوم وفنون کو عام کرنے کے بے حدمشتاق تھے،انہوں نے مولانابنوری ؒ کے سامنے” العرف الشذی“ کی تصحیح ،مراجع ومصادرسے آراستہ کرنے،اس میں موجودنقص کو دورکرکے عمدہ اسلوب وتعبیرمیں پیش کرنی کی خواہش کا اظہارکیا ،مولانابنوریؒ نے اس کی تصحیح وتہذیب شروع کی؛ لیکن خود وہ مستقل ضخیم شرح ہوگئی اوریہ شرح کتاب الحج ہی تک ہوئی ہے ۔

وفات

حضرت علامہ انورشاہ کشمیریؒ وفات سے چندماہ قبل مختلف امراض کی بناپر جامعہ اسلامیہ ڈابھیل سے دیوبندتشریف لے آئے ، ۳/ صفرالمظفر۱۳۵۲؁ھ مطابق ۱۹۳۳؁کو تقریبًا ۶۰ سال کی عمر میں وفات پائی ، دیوبند میں عیدگاہ کے قریب اپنے خاندانی مقبرہ میں مدفون ہیں ۔

اس مقالہ کا مقصد یہ بتانا ہے کہ استاذ کی محنت سے طلبہ کا مستقبل روشن ہوتاہے ، خوش نصیب طلبہ کے ذریعہ استاذ کانام زنددہ وتابندہ رہتاہے ،اس کالم کے تمام مضامین کا لب لباب یہی ہے ، دعافرمائیں اللہ تعالیٰ طلبہ پر خوب محنت کرنے کی توفیق نصیب فرمائے ،اوراپنے اساتذہ کے لئے ہمیں ذخیرہ آخرت بنائے ،آمین ۔ طالب دعاعبداللطیف قاسمی،خادم تدریس جامعہ غیث الہدی بنگلور