بیوی کا سسرالی رشتہ داروں کے ساتھ اچھابرتاؤ

بیوی کا سسرالی رشتہ داروں کے ساتھ اچھابرتاؤ:لڑکی کو چاہئے کہ وہ اپنے سسرالی رشتہ دارروں کے ساتھ خدمت ،اکرام اورحسنِ سلوک کامعاملہ کرے ،بطورِخاص شوہرکے والدین اور شوہرکے بھائی بہنوں کے ساتھ اچھابرتاؤ کرے ،شوہرکے رشتہ داروں کے ساتھ حسنِ سلوک شوہرہی کے ساتھ حسن سلوک ہے ،شوہرکے رشتہ داروں کے ساتھ حسنِ سلوک سسرالی رشتہ داروں کے دلوں میں عورت کی عزت ،قدرومنزلت اورشوہرکے دل میں محبت کا سبب بنتاہے ،بطورِخاص خسروخوش دامن صاحبہ کی خدمت ،تعظیم اوراکرام کا معاملہ کرے کہ انہوں نے ہی اس کو اپنی بہوبنایاہے ،وہ عمر،تجربات اورمرتبہ میں بڑے ہونے کی وجہ سے قابلِ تعظیم ہوتے ہیں ۔

شوہرکے ذمہ والدین کی خدمت ہے ؛لیکن شوہر باہرکی مشغولی کی وجہ سے والدین کی خاطر خواہ خدمت نہیں کرسکتا،اگربیوی شوہرکے والدین کی خدمت کرتی ہے ،تو وہ شوہرکا تعاون کرنے والی ہے جس کی وجہ سے شوہرکے دل میں بیوی کی عظمت ومحبت پیداہوتی ہے اورگھریلوماحول سازگاراورپرامن ہوگا، جس کی وجہ سے تمام گھرکے افرادخوش رہیں گے ،نیز شوہراپنے والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرے ،تو بیوی کو ہرگز تنگ دل نہیں ہوناچاہئے، شوہراپنے والدین یا دیگرسسرالی رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی ،ہمدردی ،خیرخواہی ،خدمت واکرام کرے ، توبیوی ا س کے لئے ہرگز رکاوٹ نہ بنے۔

نندوں کے ساتھ اچھابرتاؤ

حضرت جابرؓ فرماتے ہیں:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ مجھ سے دریافت فرمایا:جابر!تمہاری شادی ہوگئی؟،میں نے عرض کیا،جی ہاں یارسول اللہ !آپ نے فرمایا: انبیاہی سے شادی کی یا(ثیبہ )بیاہی سے؟ میں نے عرض کیا ،بیاہی سے ،آپ نے فرمایا:انبیاہی سے شادی کیوں نہیں کی کہ تم ان سے کھیلتے، وہ تم سے کھیلتی،میں نے عرض کیا ،میرے والدعبداللہ غزوہ احدمیں شہیدہوگئے اورمیری چھوٹی چھوٹی نوبہنیں ہیں،میں نے چاہاکہ ایسی عورت سے شادی کروںجوانہیں سنبھال سکے ،ان کے سرمیں کنگھاکرے،ان کی دیگرضروریات کو پوراکرے اورانہیں سلیقہ و آداب سکھائے اوران کی تربیت کرے،آپ نے ارشادفرمایا : بہت اچھاکیا ،اللہ تعالیٰ تمہیں برکت نصیب فرمائے۔(اخرجہ البخاری فی مواضع شتی ،باب عون المرأة زوجھافی ولدہ ۸۰۸/۲رقم:۵۳۶۷)

شارحِ بخاری حافظ ابن حجرؓ فرماتے ہیں:اس حدیث سے معلوم ہواکہ عورت اپنے شوہر اور شوہرکے متعلقین والدین،بھائی بہن سوتیلی اولادکی خدمت کرے ،اگرچہ ان کی خدمت اس پرشرعًافرض نہیں ہے ؛لیکن زمانہ ءنبوت میں عورتیں اپنے شوہراورسسرالی رشتہ داروں کی خدمت کیاکرتی تھیں اوریہ نیک وصالح عورتوں کی عادت ہے ،یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جابرؓسے فرمایا: تم نے بہت اچھا کیااورآپ ؓ کے لئے دعادی ۔(فتح الباری باب تزویج الثیبات )

سوتیلی اولاد کے ساتھ حسنِ سلوک

امہات المؤمنین حضر ت عائشہ اورحضرت ام سلمہ ؓفرماتی ہیں :جب حضرت فاطمہ ؓ کی شادی ہوئی،توآپ علیہ الصلوة والسلام نے ہمیں تیاری کا حکم دیا ،چنانچہ ہم نے مکان لیپا،بسترلگایا،اپنے ہاتھوں سے کجھور کی چھال دھن کرتکیے بنائے ،چھوہارے اورمنقے سے کھاناتیارکرکے دعوت میں پیش کیا ،ایک لکڑی مکان کے کنارے نصب کیا تاکہ اس پر کپڑے اورپانی کا مشکیزہ وغیرہ لٹکاسکیں، فاطمہ کی شادی سے شاندارشادی ہم نے کسی کی نہیں دیکھی“۔(ابن ماجہ باب الولیمہ :۱۳۷رقم:۱۹۱۱)

رسول االلہ صلی اللہ علیہ وسلم کی چچی حضرت اسماءبنت عمیسؓ فرماتی ہیں:حضرت فاطمہؓ کی رخصتی کے وقت رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھرمیں موجودتھے ،آپ نے گھرمیں پرچھائی دیکھی اورفرمایا : کون ؟میں نے عرض کیا ،اسماء، آپ نے پوچھا :اسماءبنت عمیس ؟میں نے عرض کیا، جی یارسول اللہ! آپ کی خدمت کے لئے حاضرہوئی ہوں،آپ علیہ الصلوة والسلام فرمایا : ہاں جب لڑکی کی رخصتی ہوتو(کسی عمردراز)عورت کو گھرمیں رہناچاہئے تاکہ اس کو کوئی ضرورت پیش آئے ،تو وہ اس کی ضرورت پوری کردیاکرے ،پھرآپ علیہ الصلوة والسلام نے مجھے دعا دی اورآپ علیہ الصلوة والسلام کے نزدیک میرایہ عمل نہایت محبوب ثابت ہوا۔(مجمع الزوائد باب فی تزویج فاطمہ بعلی: ۱۵۲۱۶)

حضرت فاطمۃؓ کی وفات

حضرت فاطمہ ؓ مرض الوفات میں مبتلاہوئیں،میں خودآپ کی تیمارداری کررہی تھی ،ایک دن طبیعت میں افاقہ ہوا،حضر ت علیؓ کسی ضرورت سے باہرچلے گئے ،فاطمہ ؓ نے کہا : امی میرے لئے نہانے کے لئے پانی نکالو،میں نے نہانے کے لئے پانی کا انتظام کیا،پھر فاطمہ ؓنے بہت اچھے طریقہ سے غسل کیاجیسے زندگی میں وہ کیاکرتی تھیں ،پھرکہا،امی میرے نئے کپڑے دیدو،میں نے دے دئے اورفاطمہ نے پہن لیا ،پھرکہا ،امی میرابستردرمیانی گھرمیں لگادو،میں نے لگادیا،پھرفاطمہؓ قبلہ رخ ہوکرلیٹ گئیں اوراپنے ہاتھوں کو رخسارکے نیچے رکھا ،پھرکہا ،امی اب میری روح قبض ہوجائے گی ،میں نے غسل کرلیا ہے اورکپڑے پہن لئے ہیں ،اب کوئی بھی شخص میرے کپڑے نہ نکالے ،پھرفاطمہ ؓکی روح قبض ہوگئی،جب حضرت علی ؓ آئے ،تو میں نے آپؓ کو اطلاع دی ۔(مجمع الزوائد باب فی تزویجھا بعلی : ۱۵۲۲۰)

شوہرکے متعلقین کے ساتھ حسن ِسلوک

ام المؤمنین حضر ت عائشہ ؓ فرماتی ہیں:ایک مرتبہ اسامہ بن زیدؓ کی ناک میں رطوبت آگئی ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صاف کرنے کا ارادہ کیا،میں نے عرض کیا، یارسول اللہ ! چھوڑدیجئے اسامہ کی ناک میں صا ف کرون گی ، (چنانچہ حضرت عائشہ ؓ نے حضرت اسامہؓ کی ناک کی صفائی کی) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: اے عائشہ اسامہؓ سے محبت کرو ؛کیونکہ میں بھی ان سے محبت کرتاہوں۔(ترمذی کتاب المناقب۲۲۲/۲، :۳۸۱۸)

حضرت اسامہ حضر ت زیدبن حارثہؓ کے لڑکے ہیں جو آپ کے پوتے کے درجہ میں تھے ،آپ علیہ الصلوة والسلام ان سے حسنینؓ کے برابر محبت کرتے تھے ”حِبّ رسول اللہ “ ۔رسول اللہ کے چہیتے ۔کے لقب سے مشہورتھے ،حضرت عائشہ ؓنے گویالے پالک پوتے کی ناک صاف کرتے ہوئے امت کی بیٹیوں کوبتایاکہ شوہرکے متعلقین کے چھوٹے بچوں کی بھی صفائی وستھرائی کی ضرورت پیش آئے ،توخندہ پیشانی سے ضرور کرنا چاہئے ،یہ شوہرہی کی خدمت ہے اورشوہرکے دل میں قدرومنزلت پیداکرنے کا سبب وذریعہ ہے ۔

سسرالی رشتہ داروں کی تعظیم

ام المؤمنین حضرت عائشہؓ بہت سخی وفیاض تھیں ،جوکچھ مال آپ کی خدمت میں آتاتھا ،فورًا اس کو صدقہ وخیرات کردیتی تھیں ،اس صورتِ حال کو دیکھ کرآپ کے بھانجے حضرت عبداللہ بن زبیرؓ نے فرمایا

”ینبغی ان یوخذ علی یدیھا“خرچ کرنے کے سلسلہ میں خالہ پرپابندی لگانی چاہئے ،حضرت عائشہ ؓ کو جب یہ خبرپہنچی، تو آپ سخت ناراض ہوگئیں اورفرمایا:ایُوخَذ علی یَدیَّ کیامجھ پرخرچ کرنے کے سلسلہ میں پابندی لگائی جائے گی

آپ نے حضرت عبداللہ بن زبیرؓ سے گفتگونہ کرنے کی قسم کھالی ،حضرت عبداللہ بن زبیرؓ کو خالہ کی ناراضگی اور قسم کی خبرملی ،توانھوں نے خالہ کو منانے کی بہت کوشش کی؛ لیکن حضرت عائشہ ؓ نے بالکل معاف نہیں کیا اور حضرت عبداللہ بن زبیرؓسے بات چیت کرنا بندکردیا، بالآخرحضر ت عبداللہ بن زبیرؓنے چندقریشی احباب اور آپ علیہ الصلوةوالسلام کے ننہالی رشتہ داروں سے سفاررش کرائی ،تب جاکر حضرت عائشہ ؓ نے حضرت عبداللہ بن زبیر ؓسے بات چیت شروع فرمائی۔

وکانت ارق شیءعلیھم لقرابتھم من رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

حضرت عائشہ ؓ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ننہالی رشتہ داروں پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رشتہ داری کی وجہ سے بہت مہربان تھیں اور حضرت عائشہ ؓ نے قسم توڑنے کی وجہ سے چالیس غلاموں کو آزادکیا ۔(بخاری کتاب المناقب۴۹۷/۱رقم: ۳۵۰۳)بیوی کا سسرالی رشتہ داروں کے ساتھ اچھابرتاؤ

دیگرمختلف علمی ،تحقیقی اور اصلاحی مضامین ومقالات کے فیضان قاسمی ویب سائٹ https://faizaneqasmi.comکا مطالعہ کریں اوردوست احباب کو شئیرکریں ۔