بیوی کے حقوق: اللہ تعالیٰ کا ارشادہے

ولھن مثل الذی علیھن بالمعروف۔ (البقرة: ۲۲۸)

عورتوں کاحق مردوں پرویسے ہی ہے جیسے دستورکے موافق مرودں کا حق عورتوں پرہے ۔

جس طرح شوہرکے حقوق بیوی پرہیں، اسی طرح اوراسی قدربیوی کے حقوق بھی شوہر کے ذمہ ہیں ۔

مہر

اسلام میں میاں بیوی کے رشتہ کو ایک مقدس اورقابلِ احترام رشتہ قراردیاگیاہے ،اسی لئے نکاح کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے ،نکاح کے ذریعہ زوجین کے لئے ایک دوسرے کی عصمت حلال ہوتی ہے،اس رشتہ کی اہمیت اورعصمتِ نسوانی کے احترام کے طور پر نکاح کے ساتھ مہرکورکھاگیاہے ۔

مہر عورت اور اس کی عصمت کی قیمت نہیں ہے؛ بلکہ شوہر کی طرف سے ایک تحفہءاحترام ہے جسے وہ اپنی رفیقہءحیات کے لئے پیش کرتاہے ۔

مہرکا وجوب قرآن ،حدیث اوراجماع ِامت سے ثابت ہے ۔

مہر:وہ مال ہے جوعقدنکاح کی وجہ سے عورت کے لئے مردپرواجب ہوتاہے ۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا

جوشخص کسی عورت سے زیادہ یاکم مہرکے عوض نکاح کرے؛ لیکن مہراداکرنے کی نیت نہیں تھی اوراس کو دھوکہ دےدیا ،تو قیامت کے دن اللہ سے زانی کی صورت میں ملاقات کرے گا“ ۔(مجمع الزوائد عن میمون الکردی عن ابیہ ،باب ماجاءفی الصداق: ۵۷۰۷)

اگرکسی شخص نے زندگی میں مہرادانہیں کیاہے، تو مرنے کے بعد اس کی میراث میں سے اداکیاجائے گا ۔

مہرِمعجل : جومہرنکاح کے وقت ہی اداکردیاجائے ،اس کو مہرمعجل کہتے ہیں ۔

مہرِمؤجل : جومہر نکاح کے وقت ادانہ کیاجائے یا کچھ حصہ ادانہ کیا جائے، اس کو مہرمؤجل (ادھار)کہتے ہیں ۔

مسنو ن طریقہ یہ ہے کہ مہرکی کچھ مقدار رخصتی کے موقع پراداکردی جائے ۔

مہرکی مقدار

حنفیہ کے نزدیک مہرکی کم ازکم مقداردس درہم ہے (618 -30 ،تیس گرام، چھ سواٹھارہ ملی گرام چاندی ہے) ۔

حضرت علی ؓسے مروی ہے ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

لایکون المھراقل من عشرة دراھم ۔(سنن دارقطنی،کتاب النکاح۳۶۰۳،١٧٣/۳ )

مہردس درہم سے کم نہیں ہوناچاہئے۔

مہرکی زیادہ مقدارمتعین نہیں ہے ؛البتہ مہرمیں اعتدال اورمیانہ روی بہترہے ،تقریبًاامہات المومنین اوربنات طاہرات کا مہر پانچ سودرہم تھا جس کا موجوہ وزن(۱،۵۳،۹۰۰) ایک کلوپانچ سوتین گرام ،نوسوملی گرام چاندی ہے۔ (جدیدفقہی مسائل ۲۹۴/۱)

شریعت کا طریقہ کاریہ ہے کہ مہر کی مقدار بہت کم بھی نہ ہوکہ عورت کی دل شکنی ہو او ربہت زیاد ہ بھی نہ ہوکہ تفاخرمقصود یا ادائیگی مشکل ہو ۔

حضرت عمرؓ فرماتے ہیں

الاتغالواصدقة النساء،فانھالوکانت مکرمة فی الدنیا ،اوتقوی عنداللہ، لکان اولاکم بھا نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔الخ۔(رواہ الترمذی عن ابی العجفاء،باب ماجاءفی مھورالنساء،۲۱۱/۱رقم:۱۱۱۴)

غورسے سنو!ضرورت سے زیادہ مہرمقررنہ کرو ،اگرمہرکی زیادتی عزت یا اللہ کے نزدیک تقوی کا ذریعہ ہوتی،توحضورصلی اللہ علیہ وسلم اس کے زیادہ مستحق تھے ۔(مستفاداز قاموس الفقہ ۱۴۶/۵)

نفقہ

بیوی کے حقوق میں سے نفقہ بھی ہے ،نفقہ سے مراد خوراک ،پوشاک اوررہائش کا انتظام ہے۔ (ردالمحتار۶۴۴/۲)
نفقہ کا مقصدبنیادی ضروریات کی تکمیل ہے ،جوہرزمانہ کے عرف ورواج اورزیرِکفالت شخص کے حالات کے لحاظ سے مختلف ہوسکتاہے ۔

اللہ تعالیٰ کا ارشادہے

وعلی المولودلہ رزقھن ،وکسوتھن بالمعروف ،لاتکلف نفس الاوسعھا ۔(البقرة: ۲۳۳)

بچوں کے ذمہ داروں پر عورتوں کا نفقہ اورپوشاک ہے دستورکے موافق ،نیز کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ مکلف بنایانہیں جائے گا ۔

اللہ تعالیٰ نے نفقہ میں معروف کی صراحت فرمائی ہے جوعرف ورواج اورزمانہ کے حالات کے موافق بیویوں کاجو خرچ ہوگا، وہ شوہروں کے ذمہ ہوگا ۔

حضرت ہندہ نے اپنے شوہر ابوسفیان ؓکی طرف سے ہونے والی تنگی کی شکایت کی تو آپ نے فرمایا

خذی مایکفیک، وولدک بالمعروف ۔(بخاری عن عائشة ،کتاب النفقات ،باب اذالم ینفق الرجل الخ۸۰۸/۲، رقم : ۵۳۶۴)

تم ان کے مال میں سے اتنالے سکتی ہو جو تمہارے اورتمہاری اولادکے لئے معروف(مروجہ) طریقہ کے مطابق کافی ہوجائے ۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا

ولھن علیکم رزقھن ،وکسوتھن بالمعروف ۔

تم پربیویوں کارزق اوران کا لباس معروف طریقہ پرواجب ہے ۔(مسلم عن جابرفی حدیث حجة النبی صلی اللہ علیہ وسلم ۳۹۷/۱)

بیوی کا نفقہ نکاح ِصحیح کی وجہ سے واجب ہوتاہے ،بیوی مسلمان ہویاکتابیہ ،بالغہ ہویاایسی نابالغہ جس سے صحبت کی جاسکتی ہو،یاوہ شہوت کی عمرکو پہنچ گئی ہو،مالدارہویاغریب ،شوہر اس سے صحبت کرچکاہویاکسی عذرکی وجہ سے نہیں کرپایاہو،سلیم العقل ہویافاترالعقل،شوہرمالدارہویانابالغ ؛ اگروہ شوہرکے گھرمیں ہو،کم سے کم خدمت اورموانست کے لائق ہو، توہرحال میں شوہرپربیوی کانفقہ لازم ہے، اگربیوی کسی جائز حق اورعذرکی وجہ سے یاشوہرکی اجازت سے شوہرکے گھرسے باہرہو،توبھی بیوی کا نفقہ لاز م ہے ۔

نفقہ میں شامل چیزیں

قرآن وحدیث اورشریعت کے مزاج ومذاق کو سامنے رکھنے سے معلوم ہوتاہے کہ بیوی کے نفقہ میں اس کی تمام بنیادی ضروریات شامل ہیں ،جوہرزمانہ کے عرف اورحالات سے متعلق ہیں اوراس سلسلہ میں قطعی تحدیدوتعیین نہیں کی جاسکتی ؛تاہم فقہاءنے سات چیزوں کا ذکرکیاہے ۔

(۱)کھانا(۲)سالن(۳)صفائی ستھرائی کا سامان (۴)لباس(۵)گھرکا ضروری سامان (۶)رہنے کے لئے مکان(۷)اگرعورت کا تعلق ایسے سماج سے ہو جس میں خدام سے خدمت لی جاتی ہو،تو خادم کا انتظام ۔

خوراک

خوراک مہیاکرنے کی دوصورتیں ہیں،کھانے کی چیزیں فراہم کرے ،پکاپکایا کھانا فراہم کرے، اگرعورت ایسے خاندان سے تعلق رکھتی ہو جس میں عورتیں خودکھانا بناتی ہیں، تو شوہر کے ذمہ پکاہواکھانافراہم کرنا ضروری نہیں ہے، اگرعورت ایسے گھرانے سے تعلق رکھتی ہے جس میں عورتیں کھانابنانے کی عادی نہیں ہیں ،توشوہرکی طرف سے خادم بھی فراہم کرنا ضروری ہے ۔

کھانے کی کوئی مقدارطے نہیں کی جاسکتی ،جتنا کافی ہوجائے اتنا دینا ضروری ہے ،نیزمختلف علاقوں اورمقامات میں غذاکی نوعیت کالحاظ کرتے ہوئے عرف ورواج کے مطابق خوراک کا انتظام کرے ۔

جس طرح غذاکی کوئی مقدارمتعین نہیں کی جاسکتی ،اسی طرح خوراک کے لئے کوئی رقم بھی متعین نہیں کی جاسکتی ؛کیونکہ اشیاءکی قیمتوں میں کمی وزیادتی ہوتی رہتی ہے ۔شوہرکے حقوق جاننے کے لئے ان رنگین حروف پر کلک کیجئے

لباس

بیوی کے لئے لباس کا انتظام کرنا بھی شوہرکے ذمہ ہے، لباس میں مقداراورنوعیت متعین نہیں ہے؛ بلکہ مختلف مقامات کے عرف کا لحاظ کرتے ہوئے لباس فراہم کرے ،معیاری لباس شوہرکی معاشی استطاعت اورعورت کے خاندان کے اعتبارسے واجب ہوگا ،سال میں کم سے کم دوجوڑے بناناضروری ہے ۔

بیوی کے حقوق میں مکا ن کی فراہمی ،عدل وانصاف اور میرات کا حق بھی شامل ہے ،ان کی تفصیلات ان شاء اگلی پوسٹ میں ملاحظہ فرمائیں ۔عبداللطیف قاسمی