بیوی کے ساتھ حسن سلوک

بیوی کے ساتھ حسن سلوک:زندگی کے تما م گوشوں میں ایک دوسرے کے جذبات ،ضروریات اورمزاج ومذاق کی رعایت اورباہم عفوودرگزراورچشم پوشی سے کام لے ،ازدواجی زندگی کی خوش گواری کا اصل راز یہی ہے اورشوہروبیوی دونوں سے مطلوب ہے ؛لیکن عورت اپنی فطری نزاکت ،ذکاوت ِحس کی وجہ سے جذباتی ہوتی ہے، ا س لئے وہ عفوودرگزراورحسن سلوک کی زیادہ حق دارہے۔

اللہ تعالیٰ ارشادفرماتے ہیں

وعاشروھن بالمعروف ۔(النساء:۱۹)

بیویوں کے ساتھ اچھاسلوک کرو۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا

اکمل المؤمنین ایمانااحسنھم خلقا،وخیارکم خیارکم لنسائھم ۔(رواہ الترمذی عن ابی ھریرة، باب ماجاءفی حق المرآة علی الزوج۲۱۹/۱ رقم:۱۱۶۲)

کامل ایمان والاشخص وہ ہے جو اچھے اخلاق وکردارکا حامل ہو،تم میں بہترین شخص وہ ہے جو اپنے گھروالوں کےلئے بہترہو ۔

آدمی باہرکے لوگوں کے ساتھ حسن ِسلوک کرتاہے، اس لئے کہ اس کی نوبت کم پیش آتی ہے اور اس کے لئے آسان بھی ہوتاہے ؛لیکن گھروالوں کے ساتھ صبح وشام زندگی گزارتے ہوئے ان کی غلطیوں،نزاکتوں کوصرفِ نظراوربرداشت کرتے ہوئے حسن ِسلوک کرنا یہ کمال اورحسنِ اخلاق ہے ۔

عورتوں کے ساتھ بھلائی کی نصیحت قبول کرو

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کے ساتھ حسن ِسلوک اورحسنِ معاشرت کی تاکید کرتے ہوئے ان کے فطری مزاج کو ان الفاظ میں ارشادفرمایاہے

استوصوابالنساءخیرا،فنھن خلقن من ضلع ،وان اعوج شیءفی الضلع اعلاہ،فان ذھبت تقیمہ کسرتہ،وان ترکتہ لم یزل ااوج، فاستوصوابالنساءخیرا۔(بخاری کتاب النکاح ،باب الوصاة بالنساء۔۷۷۹/۲،رقم:۵۱۸۶)

عورتوں کے ساتھ بھلائی کی وصیت قبول کرو،عورتیں ٹیڑھی پسلی سے پیداکی گئی ہیں اورسب سے زیاد ہ ٹیڑھی پسلی اوپروالی ہے ،اگرتم اس کو ٹھیک کرناچاہو، تو اس کو توڑدوگے ،اگرتم چھوڑدوتووہ ٹیڑھی ہی رہےں گی ،لہذاعورتوں کے ساتھ بھلائی کی نصیحت قبول کرو ۔(مستفاداز قاموس الفقہ ۱۱۳/۴)

ازواج مطہرات کےساتھ رسول اللہﷺ کی معاشرت

آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھروالوں کے ساتھ بہت محبت وپیارکرتے تھے اورحضراتِ ازواج مطہرات سے دل لگی کی باتیں کرتے اورایک ساتھ اورایک برتن میں ان کے ساتھ کھانا تناول فرماتے ۔

حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں:میں ناپاکی کے زمانہ میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھاتی پیتی تھی ،میں پانی پیتی، تو آپ صلی اللہ وسلم برتن کے ٹھیک اس حصہ کی جانب سے پانی پیتے جہاں سے میں نے پیاہے اورمیں کوئی ہڈی چوستی، تو آپ علیہ السلام اسی ہڈی کو چوستے ۔(نسائی،باب مواکلة الحائض۴۳/۱)

ایک مرتبہ عیدکا دن تھا، حبشی نوجوان عیدکی خوشی میں مسجد(کے صحن )میں نیزے اورڈھال سے کھیل رہے تھے،آپ علیہ السلام نے حضرت عائشہ سے ؓ فرمایا: عائشہ یہ کھیل دیکھناچاہتی ہو؟میں نے عرض کیا : جی ہاں یارسول اللہ!پھرآپ علیہ السلام آگے کھڑہوگئے اورحضرت عائشہؓ چھپ کرپیچھے کھڑی ہوئیں اوراپنی تھوڑی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کندھوں پررکھ کرکھیل دیکھنے لگیں۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ ؓسے بارباردریافت فرماتے کہ عائشہ ابھی دل نہیں بھرا ؟ابھی دل نہیں بھرا میں کہتی : یارسول اللہ! اوردیکھنا چاہتی ہوں،آپ علیہ السلام اسی طرح کھڑے رہے یہاںتک میں خود بیزارہوگئی ،حضر ت عائشہ ؓ فرتی ہیں : میں مزیددیکھنے خواہش اس لئے کررہی تھی تاکہ اندازہ لگاﺅں کہ آپ کے دل میں میری کتنی محبت ہے؟۔ (بخاری کتاب النکاح، باب نظرالمرأة الی الحبشة ۷۸۸/۲رقم :۵۲۳۶ترمذی باب مناقب عمر :۲۱۰/۲رقم: ۳۶۹۱)بیوی کے ساتھ حسن سلوک

تم مجھ سے خوش رہتی ہو اورکب روٹھی رہتی ہو،میں پہچان لیتاہوں

نیز حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ارشادفرمایا: عائشہ کب تم مجھ سے خوش رہتی ہو اورکب روٹھی رہتی ہو،میں پہچان لیتاہوں ،میں نے عرض کیا : یارسو ل اللہ ! آپ کیسے پہچان لیتے ہیں ؟آپ علیہ السلام نے ارشادفرمایا: جب تم میں مجھ سے خوش رہتی ہو، توکہتی ہو : محمد کے رب کی قسم ،جب تم مجھ سے ناراض ہوتی ہو،توکہتی ہو،ابراہیم کے رب کی قسم ،میں نے عرض کیا ،بات صحیح ہے ؛لیکن میں صرف آپ کا نام نہیں لیتی ورنہ تو میرادل آپ کی محبت وعظمت سے بھرارہتاہے ۔(بخاری کتاب النکاح غیرة النساء۷۸۷/۲،رقم: ۵۲۲۸،مسلم فضل عائشةؓ۲۸۵/۲: ۲۴۳۹)

میراث کا حق

بیوی کے حقوق میں حق میراث ہے ،بیوی شوہر کے مال کی وارث ہوتی ہے شوہرنے بیوہ کے علاوہ اپنی اولا دچھوڑی ہے، تو بیوہ کو آٹھواں حصہ ملے گا۔اگرشوہرکی اولادنہیں ہے، تو بیوہ کو چوتھائی حصہ ملے گا ۔(مستفاداز قاموس الفقہ ۱۱۳/۴بیوی کے ساتھ حسن سلوک)

دینی ،علمی واصلاحی مضامین مطالعہ کرنے کے لئے فیضان قاسمی ویب سائٹ کا مطالعہ کریں۔ https://faizaneqasmi.com