تدبر کے ساتھ تلاوت قرآن

جب تلاوت شروع کرے، تو خشوع وخضوع اور تدبر کے ساتھ تلاوت قرآن کرے ، اس سلسلہ میں بے شمار ومشہور دلائل ہیں جنہیں ذکرکرنے کی ضرورت نہیں ،تلاوت قرآن میں میں یہ چیز بہت اہم اور ضروری ہے ،تدبر سےشرح صدر حاصل ہوتاہے اور دل منور ہوتے ہیں ۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : افلایتدبرون القرآن(النساء:۸۲) کیا یہ لوگ قرآن ِ پاک میں غور وفکر نہیں کرتے ؟ ایک دوسری جگہ ارشاد فرماتے ہیں : کتاب انزلناہ الیک مبارک لیدبروا آیاتہ(ص:۲۹) ہم نے آپ کی جانب ایک مبارک کتاب اتاری ہے تاکہ وہ لوگ اس میں غور وفکر کریں ۔

اکابر اور بزرگورں کی ایک جماعت ساری رات صبح تک ایک ایک آیت میں تدبر کرتے ہوئے گذاردیتی تھی ،اس کو باربارپڑھتے اور اس میں غوروفکر کرتے تھے،اللہ والوں کی ایک جماعت تلاوت کے وقت بے ہوش ہوجاتی تھی اور بہت سارے اللہ والے، تو تلاوت کرتے وقت اپنی جان جانِ آفریں کے سپردکردی ہے۔

تلاوت کے وقت روح پرواز

بہز بن حکیم سے منقول ہے : زرارة بن اوفی جلیل القدر تابعی ؒ ان کے امام تھے ،ایک دن فجرکی نمازمیں امامت کرتے ہوئے قرآن ِپاک کی آیت: فاذا نقر فی الناقور ،فذالک یومئذیوم عسیر (المدثر:۹،۱۰)تلاوت کی ،اس کے بعد زمین پر گرگئے، روح پرواز کرگئی ، بہز بن حکیم ؒ کہتے ہیں: میں بھی ان لوگوں میں شامل تھا ،جو انھیں اٹھاکر گھر لئے گئے ۔

دل کی دواپانچ چیزیں

عظیم المرتبت صاحب ِمعرفت وفضل ابراہیم خواص رحمةاللہ علیہ نے فرمایا

دواءالقلب خمسة اشیاء،:قراءة القرآن بالتدبر ،وخلاءالبطن ،وقیام اللیل،والتضرع عند السحر ،ومجالسة الصالحین۔

دل کی دواپانچ چیزیں ہیں :(۱) تدبر کے ساتھ تلاوت قرآن (۲)پیٹ کو خالی رکھنا (۳)قیام اللیل تہجد کا اہتمام کرنا(۴)رات کے آخری حصہ میں آہ وزاری کرنا (۵)اللہ والوں کی صحبت اختیار کرنا ۔

تدبر کے لئے ایک آیت کو باربار دہرانا

حضرت ابوذرؓنے فرمایا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلّم نے ایک ہی آیت باربار دہراتے ہوئے صبح کردی ،وہ آیت یہ ہے: ان تعذبھم فانھم عبادک(المائدة:۱۱۸) اے اللہ !اگر آپ ان کو عذاب دیں،تو وہ آپ کے بندے ہیں(آپ کو حق ہے )اگرانھیں معاف کردیں، تو آپ بڑے زبردست اور حکمت والے ہیں ۔(نسائی،ابن ماجہ)

حضرت تمیم داری ؓ سے مروی ہے کہ آپ ؓ نے یہ آیت

ام حسب الذین اجترحوا السیئات ان نجعلھم کالذین آمنوا ،وعملوا الصلحٰت(الکھف:۱۰۲)

کیا یہ لوگ خیال کرتے ہیں جنہوں نے گناہ کیاہے کہ ہم ان کو ان لوگوں کے برابر کردیں گے جو ایمان لے آئے اور اچھے اعمال کئے؟ دہراتے دہراتے صبح کردی۔

عبادبن حمزہ ؒسے منقول ہے کہ انھوں نے فرمایا : میں حضرت اسماءؓکی خدمت میں حاضر ہوا، آپ ؓ یہ مندرجہ ذیل آیت تلاوت کررہی تھیں: فمن اللہ علینا ،ووقانا عذاب السموم۔ (الطور:۲۷) اس آیت پر رک گئیں اور اس کو دہرارہی تھیں اور دعائیں مانگ رہی تھیں،بہت دیر تک یہی صورت حال تھی، تو میں بازار چلاگیا اور اپنی ضرورت پوری کی جب دوبارہ حاضرِ خدمت ہوا،تب بھی یہی آیت زبان پرجاری تھی۔

عبداللہ بن مسعود ؓ رب زدنی علما

حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ ”رب زدنی علما “(طہ:۱۱۴) اے اللہ میرے علم میں اضافہ وزیادتی فرما،اسی ایک آیت میں رات مکمل کردی ۔

حضرت سعیدبن جبیرؒنے ”واتقوایوم ترجعون فیہ الی اللہ۔(البقر:۲۸۱) اس دن سے ڈروجس دن تمہیں اس کی طرف لوٹایاجائے گا۔ ”فسوف یعلمون اذ الاغلال فی ااعناقھم “(المومن:۷۰،۷۱) عنقریب جان لیں گے یہ لوگ ،جب ان کی گردنوں میں طوق پڑے ہوئے ہوں گے ۔ ”ماغرک بربک الکریم “(الانفطار:۶) اے انسان تجھ کو کس نے اپنے رب کریم سے دھوکہ میں ڈال رکھاہے ؟ ان آیات کو پڑھتے پڑھتے را ت پورکردی ہے۔

ضحاک ؒ جب لھم من فوقھم ظلل من النار ،ومن تحتھم ظلل(الزمر:۱۶) جہنمیوں کے اوپرآگ کے سائبان ہوں گے اور نیچے بھی سائبان ہوں گے پڑھتے ،تو فجرتک اس کو دہراتے رہتے ۔

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں :ویخرون للاذقان یبکون ،ویزیدھم خشوعا۔(بنی اسرائیل۱۰۹) روتے ہوئے ٹھوڑیوں کے بل گرتے ہیں اور ان کی عاجزی وخشوع میں اضافہ ہوجاتاہے ۔

اللہ کے نبی علیہ الصلوة والسلام نے فرمایا: اقرؤالقرآ ن،وابکوا،فان لم تبکوافتباکو ا ۔ قرآن ِ پاک کی تلاوت کرو اور رؤو،اگر رونا نہ آئے ،تو رونے کی صورت اختیار کرو۔ حضرت عمرؓنے فجر کی نماز پڑھائی اور اس میں سورئہ یوسف کی تلاوت کی،رونا آگیا ،اتنا روئے کہ آنسوں سینہ کے قریب تک پہنچ گئے ،ایک روایت میں آیا ہے کہ نمازعشاءمیں یہ صورت پیش آئی، اس سے معلوم ہوتاہے کہ یہ کیفیت باربار حضرت عمر ؓ کو پیش آتی تھی ،نیز ایک روایت میں ہے کہ آپ ؓ کی رونے کی آواز کئی صفوں تک سنائی دیتی تھی۔

حضرت ابن عباس ؓ کی آنکھوں کے نیچے نالیاں

ابورجاءکہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس ؓکو دیکھاکہ زیادہ رونے کی وجہ سے آپؓ کے آنکھوں کے نیچے نالیاں بن گئیں ہیں، ابوصالحؒ سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں: یمن سے کچھ لوگ حضرت ابو بکر صدیق ؓ کی خدمت میں آئے،وہ لوگ قرآن پڑھتے جاتے تھے اور روتے جاتے تھے ، حضرت ابو بکر صدیق ؓنے فرمایا: ہم بھی اسی طرح تھے ۔

حضر ت ہشام ؒ سے مروی ہے کہ وہ فرماتے ہیں: میں نے ۱بن سیرین ؒ کو راتو ں میں نمازمیں کئی بار روتے ہوئے دیکھاہے۔ اس بارے میں بے شمار واقعات ہیں جن کی طرف ہم نے اشارہ کیا ،وہ کافی ہیں۔ واللہ اعلم ۔

امام ابوحامد غزالی ؒفرماتے ہیں: تلاوت قرآن کے وقت رونا مستحب ہے ،اس کو حاصل کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ دل میں غم ودرد پیداکرے، اس کے لئے قرآن ِپاک میں جو سخت وعیدیں ،عہد وپیمان ذکر کئے گئے ہیں، انہیں یا دکرے ،پھر اپنی کوتاہیوں و دیکھے ،اگر اس پر بھی غم ودرد پید انہ ہوجیساکہ خواص میں پیداہوتاہے ،تو اس کے حاصل نہ ہونے پر روئے،اس لئے کہ اپنی کوتاہیوں پربھی رونانہ آئے، تو یہ سب سے بڑی مصیبت ہے ۔ (حاملین قرآن :۶۵تا۶۹)http://faizaneqasmi.com