تلاوت ادب واحترام سے کرنا چاہئے

تلاوت ادب واحترام سے کرنا چاہئے: سب سے اہم چیز جس کا خاص اہتمام کرنا چاہئے ،وہ قرآنِ پاک کا ادب واحترام ہے ،بعض جاہل وناواقف قراءحضرات اس بارے میں غفلت ولاپرواہی برتتے ہیں ۔

دوران ِتلاوت ہنسی،شور وشغف اور بات چیت سے پر ہیز کرنا چاہئے ،اگر کوئی ضرروری بات ہو، تو تلاو ت موقوف کرے اور بات چیت کرلے ۔

اللہ تعالیٰ کے ارشاد ہے

واذا قری القرآن ،فاستمعوالہ وانصتوا لعلکم ترحمون۔(الاعراف:۲۰۴) پر عمل کرے

جب قرآن ِپا ک کی تلاوت کی جائے، تو غور سے سنو اورخاموشی اختیار کرو،شاید تم پررحم کیاجائے ۔

رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشادپرعمل کرے جس کوامام ابوداؤدنے حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ کی سند سے ذکر کیاہے۔

انہ کان اذا قرأ القرآن لایتکلم حتی یفرغ منہ

اللہ کے نبی علیہ لصلوة والسلام جب قرآن کی تلاوت شروع فرماتے ،تو فارغ ہونے سے پہلے بات چیت نہ کرتے ،اس کو ابن عمر ؓنے نسائکم حرث لکم کی تفسیر میں بیان فرمایا ہے ۔

نیز ہاتھ یاکسی اور چیز سے کھیلنے سے احتراز کرے ،اس لئے کہ تلاوت کرنے والا اللہ تعالیٰ سے مناجات وسرگوشی کرنے ولا ہے ،لہذا اس کے سامنے اس طرح نہ کھیلے۔ نیز ہر اس چیز کی طرف دیکھنے سے احتراز کرے جو تلاوت کرنے والے کو غافل کردے یا اس کے ذہن کو منتشر کردے۔

آیات ِرحمت پردعا اور آیات ِعذاب پرپناہ طلب کرنا

جب آیت ِ رحمت کو پڑھے، تو اللہ تعالیٰ کے فضل کو طلب کرے اور جب کسی آیت ِعذاب پرسے گذرے ،تو عذاب سے پناہ طلب کرے، یہ مستحب ہے ،یوں کہے

اللہم انی اسئلک العافیة واسئلک المعافاةمن کل مکروہ۔

اے اللہ میں عافیت طلب کرتاہوں،اے اللہ میں ہرتکلیف سے عافیت مانگتاہوں ۔

جب کسی آیت ِتنزیہ (جس میں اللہ کی پاکی بیان کی گئی ہو )پر سے گذرے، تو اللہ کی پاکی بیا ن کرے، یوں کہے: سبحانہ وتعالیٰ، یا تبارک وتعالیٰ یا جلت عظمةربنا ۔

آپ علیہ الصلوة والسلام ٹہرٹہر کر پڑھتے

حضرت حذیفہ بن الیمان ؓ سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا میں نے رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداءمیں ایک رات نمازپڑھی ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورہ بقرہ شروع فرمائی ،میں نے دل میں سوچاکہ شاید سو آیتوں پر رکوع فرمائیں گے ،سوآیتیں پوری ہوگئیں لیکن آگے بڑھ گئے۔

میں نے دل میں سوچا کہ شاید سورہ بقرہ کے ختم پر رکوع فرمائیں گے ،اللہ کے نبی علیہ الصلوة والسلام نے رکوع نہیں فرمایا؛ بلکہ سورہ نساءشروع فرما دی ،پھر سورہ آل عمران شروع کردی اور اس کو پڑھا ۔

آپ علیہ الصلوة والسلام ٹہرٹہر کر پڑھتے ، جب کسی ایسی آیت پر پہنچتے جس میں تسبیح ہے ،تو سبجان اللہ کہتے ،جب کسی ایسی آیت پر پہنچتے جس میں دعاہے، تو دعافرماتے اور جب کسی ایسی آیت پر پہنچتے جس میں پناہ طلب کی گئی ہے، تو آپ علیہ الصلوة والسلام پناہ طلب فرماتے ۔رواہ مسلم فی صحیحہ

علامہ نووی ؒ فرماتے ہیں: اس وقت سورہ نساءآل عمران سے مقدم تھی ۔

ہمارے اصحا ب فرماتے ہیں

اس طرح دعاکرنا ،پناہ طلب کرنا اور تسبیح بیان کرنا ہر قاری کے لئے مستحب ہے ،خو اہ نماز میں ہو یا نماز کے باہر ،اس لئے کہ یہ چیزیں دعائیں ہیں ،لہذا جیسے سورئہ فاتحہ کے بعد آمین کہنا مستحب ہے ،اسی طرح دعا ،استعاذہ بھی مستحب ہوگا ۔ (حنفیہ کے نزدیک نوافل میں گنجائش ہے ،فرائض ا ورجماعت سے اداکی جانے والی نوافل مثلًا تراویح میں کراہت ہے، ردالمحتار۲۶۷/۲)۔

قرآنِ پاک ٹہرٹہر کر اورصاف صاف پڑھنا چاہئے

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: ورتل القرآن ترتیل(المزمل:۴) قرآنِ پاک کو ٹہرٹہر کر پڑھو کہ ایک ایک حرف صاف سمجھ میں آجائے۔ (فوائد عثمانی)

حضرت ام سلمة ؓ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قراءت نقل فرماتی ہیں کہ آپ ﷺایک ایک حرف صاف صاف پڑھتے تھے۔رواہ ابوداؤدوالنسائی ،والترمذی ،قال الترمذی حدیث حسن صحیح

حضرت معاویہ بن قرةؒ حضرت عبداللہ بن مغفلؓ سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے فرمایا

رأیت رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یوم فتح مکة علی ناقة یقرأ سورة الفتح،فرجَّع فی قراءتہ ،رواہ ا لبخاری ،ومسلم

میں نے رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھاکہ آپﷺفتح ِمکة کے دن اونٹی پرسوارہوکر سورئہ فتح کی تلاوت فرمارہے تھے اور آواز کو کھینچ کر(ترتیل کے ساتھ) پڑھ رہے تھے ۔

حضر ت عبد اللہ بن عباس ؓفرماتے ہیں

لان اقرأسورة ارتلھا احب الی من ان اقرأ القرآن کلہ

پورے قرآن کو ترتیل کے بغیر پڑھنے سے ایک سورت ترتیل کے ساتھ پڑھوں، یہ مجھے زیادہ پسند ہے۔

حضرت مجاہدؒ سے پوچھاگیاکہ ایک شخص سورہ بقرہ او رسورہ آل عمران پڑھتاہے ،دوسرا شخص صرف سورئہ بقرہ پڑھتاہے ؛لیکن دونوں کا وقت ،نماز میں ،رکوع وسجدہ کی مقدارمیں برابر ہوتا ہے ،کیایہ دونوں برابرہیں؟ حضرت مجاہدؒنے فرمایا :نہیں،جس شخص نے صرف سورہ بقرہ پڑھی ،وہی افضل ہے ،اس لئے کہ زیادہ تیز پڑھنا ممنوع ہے۔

لوگ قرآن پڑھتے ہیں؛لیکن قرآن ان کے حلق کے نیچے بھی نہیں اترتا

ایک آدمی نے حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ سے عرض کیا کہ میں ایک رکعت میں مفصل(سورہ حجرات تاآخرقرآن) پڑھتاہوں۔

حضرت عبداللہ بن مسعود ؓنے فرمایا: شعر کو تیز پڑھنے کی طرح تم نے تیز پڑھا ،اس کے بعد فرمایا : کچھ لوگ قرآن ِپاک کو پڑھتے ہیں؛لیکن قرآن ان کے حلق کے نیچے بھی نہیں اترتا ،جب قرآن پاک پڑھے اور دل میں اترجائے ،تو فائدہ ہوگا ۔بخاری ومسلم

علماءنے فرمایا کہ ترتیل مستحب ہے تاکہ غوروفکر اور تدبر حاصل ہو ،نیز علما ءنے فرمایا کہ ایساشخص جو قرآن کو سمجھ نہیں سکتا ،اس کے لئے ترتیل مستحب ہے ،ا س لئے کہ یہ طریقہ ادب ،احترام اور دل میں تاثیر پیداکرنے کے لئے زیادہ مناسب ہے ۔

مصحف کی ترتیب کے موافق تلاوت کرے

علماءنے فرمایا : مستحب یہ ہے کہ مصحف کی ترتیب کے مطابق تلاوت کرے ،سب سے پہلے سورئہ فاتحہ،پھر سورہ بقرہ ،پھر سورہ آل عمران اسی ترتیب کے مطابق تلاوت کرے ،خواہ نماز میں تلاوت کرے یا نماز کے باہر۔

بعض علماءنے یہاں تک فرمایا: اگر کوئی پہلی رکعت میں قل اعوذ برب الناس پڑھے، تو وہ دوسری رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعدسورہ بقر ہ پڑھے ،جب مصلی نمازمیں ایک سورت پڑھے ،تودوسری رکعت میں اس کے بعد والی سورت پڑھے ۔

اس کی دلیل یہ ہے کہ مصحف کی ترتیب کسی حکمت کی بنا پر اسی طرح رکھی گئی ہے، لہذااس کالحاظ رکھنا چاہئے؛ البتہ شریعت میں جس کا استثناءآیاہے ،تو وہاں اس کے خلاف پڑھنے کی بھی گنجائش ہے ،جیسے جمعہ کے دن فجر کی نماز میں سورہ الم السجدة پہلی رکعت میں ،دوسری رکعت میں سورہ دہر ۔

عیدین میں پہلی رکعت میں سورءة قاف ،دوسری رکعت میں اقتربت الساعة ،فجر کی سنت میں پہلی رکعت میں قل یاایھاالکفرون دوسری رکعت میں قل ھواللہ احد ،وتر کی پہلی رکعت میں سبح اسم ربک الاعلی،دوسری رکعت میں قل یاایھاالکفرون ،تیسری رکعت میںقل ھو اللہ احد،یاتیسر ی رکعت میں قل ھو اللہ احد اور معوذتین پڑھنا سنت ہے ۔

اگر کسی نے بالترتیب نہیں پڑھا ،پہلی رکعت میں جو سورت پڑھی تھی، دوسری رکعت میں اس سے متصل سورت پڑھنے کے بجائے کوئی دوسری سورت پڑھ دی ،اب پہلی رکعت میں جو سورت پڑھی ہے ،اس سے پہلے کی سورت پڑھنابھی جائز ہے، اس سلسلہ میں صحابہ کرامؓ کے بہت سے آثار مروی ہیں،حضرت عمرؓنے پہلی رکعت میں سورئہ کہف پڑھی اوردوسری رکعت میں سورہ یوسف پڑھی۔

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ

علماءکی ایک جماعت نے مصحف کی ترتیب کے خلاف پڑھنے کو مکروہ قراردیاہے ،ابن ابی داؤدنے حضرت حسن سے روایت کی ہے آپ کے نزدیک مصحف کی ترتیب کے خلاف پڑھنا مکروہ ہے۔

ابن ابی داؤد کی صحیح سند کے ساتھ حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ آپؓ سے کہاگیا۔

ان فلانا یقرأ القرآن منکوسا ،فقال ذالک منکوس القلب

ایک شخص قرآن ِپاک کو الٹا (مصحف کی ترتیب کے خلاف )پڑھتاہے ،تو آپ ؓ نے ارشاد فرمایا کہ اس شخص کا دل الٹاہے۔

کسی سورت کے آخرسے شروع کی طرف تلاوت کرتے ہوئے آنایہ بالکل درست نہیں ہے ،اس لئے کہ اس طریقہ سے اعجاز کی بعض صورتیں ختم ہوسکتی ہیں نیز آیات کی ترتیب کی حکمت فوت ہوجاتی ہے۔

ابن ابی داؤدنے ؒجلیل القد ر تابعی حضرت ابراہیم نخعی اور امام مالک ؒ سے اس کی کراہت نقل کی ہے ،امام مالک ؒ نے اس کو عیب قراردیتے ہوئے اس طریقہ پر پڑھنے کو عظیم گناہ قرار دیاہے ۔

چھوٹے بچوں کو آخرِ مصحف (پارہ عم)سے حفظ کرانا یہ اچھی بات ہے ،یہ شکل ممنوع صورتوں میں داخل نہیں ہے ،اس لئے کہ اس کو متعدد اوقات وایام میں پڑھا جاتاہے ،نیز اس میں بچوں کے لئے آسانی ہے ۔(حاملین قرآن ترجمہ التبیان للامام النووی)

اصلاحی ،علمی اورتحقیقی مضامین ومقالات کے فیضان قاسمی ویب سائٹhttps://faizaneqasmi.com کا مطالعہ کیجئے دوست واحباب کو شئیرکیجئے ۔