تلاوت سے متعلق مسائل وآداب

تلاوت سے متعلق مسائل وآداب

مندرجہ حالات میں تلاوت ِقرآن مکروہ ہے

جاننا چاہئے کہ علی الاطلاق قرآن شریف کی تلاوت جائز ہے ؛مگر چندمخصوص حالات جن میں شریعت میں ممانعت آئی ہے، ان حالات میں تلاوت مکروہ ہے ،میں ان میں سے بعض صورتوں کو مختصرا پیش کیاجارہاہے ۔

قیام کے علاوہ رکوع ،سجدہ ،تشہد وغیرہ میں تلاوت ،وقراءت ِقرآن مکروہ ہے۔

مقتدی کے لئے امام کی قراءت سننے کے وقت سورہ فاتحہ سے زیادہ پڑھنا ۔(حنفیہ کے نزدیک سورہ فاتحہ کی بھی اجازت نہیں ۔ردالمحتار۲۶۶۲ )

بیت الخلاءکے لئے بیٹھے ہوئے ہونے کی حالت میں ۔

اونگھ کی حالت میں۔

اونگھ کی وجہ سے یا اعراب نہ ہونے کی وجہ سے یا کسی اور وجہ سے تلاوت دشوار ہو،تو ایسی صورت میں تلاوت کرنا بھی مکروہ ہے۔

خطبہ سننے والے کے لئے تلاو ت کرنا،جسے خطبہ سنائی نہ دیتاہو، اس کے لئے مستحب ہے،یہی راجح مذہب ہے۔ (حنفیہ کے نزدیک خطبہ کے وقت تلاوت کرنا بھی جائزنہیں، اگر چہ آواز اس تک نہ پہنچتی ہو،منحة الخالق مع البحر۲۲۷۲ )

جہاں سے مضمو ن شروع ہو، وہاں سے تلاوت شروع کرے

قرآنِ پاک کی تلاوت کرنے والے کو چاہئے کہ جب درمیانی سورت سے تلاوت شروع کرے، توایسی جگہ سے تلاوت شروع کرے جہاں سے مضمون شروع ہوتاہو،یادرمیانی سورت میں تلاوت سے فارغ ہونے کا ارادہ کرے، تو ایسی جگہ پر تلاوت موقوف کرے جہاں ضمون پورا ہوجاتاہو۔

اعشار (کسی زمانہ میں ہردس آیتوں پر علامت لگائی جاتی تھی ،علوم القرآن )وپاروں کو نہ دیکھے ،اس لئے کہ اعشار وپارے بعض مقامات میں ایسی جگہ پر ہیں ،جہاں ابتدائی اعشار وپارے کو پچھلی آیات سے جوڑوتعلق ہے جس کی وجہ سے مضمون ادھورا ہوجاتاہے ۔

مثلًا :فماابرأنفسی۔یوسف:۵۳،ابتدائی پارہ کی مثال)،فماکان جواب قومہ،العنکبوت:۲۴،ابتدائی اعشار وصفحہ کی مثال ہوسکتی ہے) ،ومن یقنت منکن للہ ورسولہ۔الاحزاب:۳۱،ابتدائی پارہ کی مثال)،وماانزلنا علی قومہ من بعدہ من جند من السماء۔یٰس :۲۸،الیہ یر د علم الساعة(حم السجدة:۴۷)(ابتدائی پارہ کی مثال) ،وبدالھم سیئات(الزمر:۴۸) ،قال فما خطبکم ایھا المرسلون(الذریات:۳۱،ابتدائی پارہ کی مثال) ۔

اسی طرح احزاب(بعض بزرگوں کے نزیک روزانہ تلاوت کی مقدار طے تھی جس کو حزب کہاجاتاہے :علوم القرآن ) جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشادواذکرواللہ فی ایام معدودات (البقرة:۲۰۳)،قل ھل انبئکم بشرمن ذالک،(المائدة:۶۰)یہ سب وہ مقامات ہیں جہاں سے تلاوت شروع کرنا یا تلاوت موقوف کرنا مناسب نہیں ہے ،اس لئے کہ ان آیا ت کا ماقبل سے جوڑہے۔

غافل قراءکرام کے عمل سے دھوکہ نہیں کھانا چاہئے جو ان آداب کی رعایت نہیں کرتے اور ان معانی میں ُغور وفکر نہیں کرتے ۔

امام حاکم ابوعبد اللہؒ نے اپنی سند سے حضرت فضیل بن عیاض ؒ سے جو نصائح نقل فرمائے ہیں ان پر عمل کرنا چاہئے ۔

فضیل بن عیاض ؒ کا ارشاد

حضرت فضیل بن عیاض ؒ نے فرمایا :

لاتستوحش طرق الھدی لقلة اھلھا ،ولاتغترن بکثرة الھالکین ،ولایضرک قلة السالکین ۔

ہدایت کے راستوں پر چلنے والوں کی کمی کی وجہ سے وحشت محسوس نہ کرنا،ہلاک ہونے والوں کی کثرت سے دھوکہ نہ کھانا ، راہ چلنے والوں کی قلت تمہیں نقصان نہ پہنچائے،یعنی سیدہی راہ چلنے والوں کی کمی کی بناپر اس کو ترک نہ کرو۔

اسی وجہ سے علما ءنے فرمایاکہ ایک لمبی سورت میں سے ایک چھوٹی سورت کے بقدپڑھنے سے ایک مکمل چھوٹی سورت پڑھنا افضل ہے ،اس لئے کہ بسا اوقات کلام کا ربط بعض لوگوں کی سمجھ میں نہیں آتا۔

ابن ابی داؤدؒ نے اپنی سند سے عبداللہ بن ابو الھذیل مشہور تابعیؒ سے نقل کیاہے کہ حضرات صحابہؓ آیت کا بعض حصہ پڑھ کربعض حصہ کو چھوڑدینے کو پسند نہیں فرماتے تھے۔

تلاوت کی بعض بدعتیں

بعض جاہل ائمہ نمازِ تراویح میں ستائیسویں شب آخری رکعت میں سورہ انعام پڑھنے کو مستحب سمجھتے ہیں ،یہ بدعت منکرہ ہے اس میں کئی خرابیاں جمع ہیں (۱)اس ترتیب کو مستحب سمجھنا (۲)عوام کو اوہام وشبہات میں ڈالنا (۳)دوسری رکعت کو پہلی رکعت سے زیادہ طویل کرنا؛ حالانکہ پہلی رکعت کو طویل کرنا مسنون ہے (۴)مقتدیوں پر بارڈالنا (۵)قراءت بہت تیز تیز کرنا ۔

اس بدعت سے ملتی جلتی یہ بدعت بھی ہے کہ بعض جاہل امام جمعہ کے دن نماز فجر میں الم سجدہ کے علاوہ کسی اور سجدہ کی سورت کو پڑھتے ہیں؛ حالانکہ اس دن الم سجدہ اور ھل اتی علی الانسان پڑھنا مسنون ہے ۔تلاوت سے متعلق مسائل وآداب

تلاوت سے متعلق مسائل وآداب

تلاوت کے دوران جماہی آئے ،تو تلاوت موقو ف کردے جب جماہی مکمل طریقہ سے بند ہوجائے ،تو تلاوت دوبارہ شروع کرے ،امام مجاہد ؒنے فرمایا کہ یہ بہت اچھی بات ہے ۔

حضرت ابوسعید خدریؓ کی روایت جس کو آپ ؓنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا ہے اس پر دلالت کرتی ہے ۔

آپ علیہ الصلوة والسلام نے فرمایا

اذا تثاؤب احدکم فلیمسک بیدہ علی فمہ ،فان الشیطان یدخل۔رواہ مسلم

جب تم سے میں کسی کو جماہی آئے، تو چاہئے کہ اپنے ہاتھ سے روکے ،اس لئے کہ شیطان اس کے منہ میں داخل ہوتاہے

ان اللہ وملائکتہ یصلون علی النبی(الاحزاب:۵۶) پڑھے تو (آواز بدل کر) رسو ل اللہﷺ پردورد پڑھے ۔

ابن ابی داؤد نے حضرت شعبیؒ سے سند ضعیف کے ساتھ نقل فرمایاہے کہ حضرت شعبیؒ سے پوچھاگیا کہ جب ا س آیت کو پڑھیں تو رسو ل اللہﷺپر دورد پڑھنا مستحب ہے ؟آپؒ نے فرمایا : ہاں۔

سورہ ”والتین ،والزیتون “تلاوت کرے اور الیس اللہ باحکم الحاکمین پر پہنچے، تویو ں کہے :بلی وانا علی ذالک لمن الشاہدین ۔

اے جن وانس تم اللہ تعالیٰ کی کن کن نعمتو ں کی تکذیب کروگے

جب سورة القیامة کی آخری آیت الیس ذالک بقادر علی ان یحیی الموتی ٰ(کیا اللہ تعالیٰ مردوں کو زندہ کرنے پر قادرنہیں ہیں؟ تو بلیٰ؟ کہے (کیوںنہیں ؟)،جو شخص فبای آلا ءربکما تکذبان (اے جن وانس تم اللہ تعالیٰ کی کن کن نعمتو ں کی تکذیب کروگے ؟)یا فبای حدیث بعدہ یؤمنون(قرآن کے بعد کسی اور کتاب پر ایمان لے آؤگے ؟) تلاوت کرے تو یوں کہے :آمنت باللہ (میں اللہ پر ایمان لے آیا )

حضرت ابن عباس ؓ،ابن الزبیر ؓ،ابوموسیٰ اشعریؓ سے منقول ہے کہ جب یہ حضرات سورة سبح اسم ربک الاعلی پڑھتے، تو سبحان ربی الاعلیٰ کہتے ،حضرت عمر بن خطاب ؓ سے مروی ہے کہ آپ ؓ تین مرتبہ سبحان ربی الاعلیٰ کہتے ۔

حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ سے مروی ہے آپ ؓ نے نماز میں سورہ بنی اسرائیل کی آخری آیات تلاوت فرمائیں ،آپؓ نے ان آیات کے جواب میں فرمایا: الحمدللہ الذی لم یتخذ ولدًا(تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے کسی کو اپنی اولادنہیں بنایا )

ہمارے بعض اصحاب نے فرمایا کہ مذکورہ آداب کا نماز میں بھی خیال رکھناچاہئے ۔(حنفیہ کے نزدیک نوافل میں گنجائش ہے ،فرائض ا ورجماعت سے اداکی جانے والی نوافل مثلًا تراویح میں کراہت ہے، ردالمحتار۲۷۶۲)

حضرت ابوہریرة ؓ کی حدیث میں مذکورہ تین سورتوں میں ان دعاؤں کاپڑھنا ثابت ہے ،اسی طرح باقی آیات جو اس طرح کے معانی پر مشتمل ہوں مناسب الفاظ میں ان کا جواب دینا چاہئے۔

تلاوت سے متعلق مسائل وآداب،حاملین قرآن ترجمہ التبیان لآداب حملۃ القرآن : ۸۷)