تلاوت قرآن کے آداب

تلاوت قرآن کے آداب: سب سے پہلی چیز جو قاری کے لئے ضروری ہے وہ اخلاص اور قرآن ِ پاک کے ساتھ ادب واحترام ہے، قاری کو چاہئے کہ وہ اس بات کا استحضار رکھے کہ وہ اللہ تعالی ٰ کے ساتھ مناجات کررہاہے اور اس شخص کی طرح پڑھے جو اللہ تعالیٰ کو دیکھ رہاہے ،اگر یہ کیفیت حاصل نہ ہو ،تو اس کیفیت کے ساتھ تلاوت کرے کہ اللہ تعالیٰ اس کو دیکھ رہے ہیں ۔

جب تلاوت کرنے کا ارادہ کرے، تو اپنے منہ کو مسواک سے صاف کرے ،ہر لکڑی سے مسواک کرنا جائز ہے ،نیز ہراس چیز سے جو دانت اور منہ کو صاف کرنے والی چیز ہو،جیسے کھردرا کپڑا، وغیرہ سے مسواک درست ہے ؛لیکن پیلو کی لکڑی سے مسواک کرنا افضل ہے،اگرمسواک کے لئے کوئی لکڑی نہ ہو، تو انگلی سے مسواک کرلے ،مسواک عرض (چوڑائی )میں کرے ،دائیں جانب سے شروع کرے اور سنت کی نیت سے کرے۔

بعض علماءنے فرمایا : مسواک کرنے کے وقت یہ دعاءپڑھے : اللہم بارک لی فیہ یاارحم الرحمین۔ امام شافعی ؒ کے اصحاب میں سے ماروری ؒ نے فرمایا کہ مستحب یہ ہے کہ دانتوں کے ظاہری حصہ، اندرونی حصہ ،دانتوں کے کنارے ،ڈاڑھوں پر مسواک کرے، تالو کی طر ف اوپر والے حصہ میں نرمی سے مسواک کرے۔

علماءنے فرمایا کہ درمیانی مسواک سے مسواک کرے نہ زیادہ سوکھی ہو نہ زیادہ تازہ ہو ،اگر زیادہ سوکھی ہو تو پانی میں بھگوکرترکرلے ، اجازت سے دوسروں کی مسواک استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں ،جب تلاوت کرنے والے کا منہ خون یا کسی گندی چیز کی وجہ سے ناپاک ہو،تو ایسے وقت میں منہ کو صاف کئے بغیر قرآن ِ پاک کی تلاوت کرنا مکروہ ہے۔

بے وضو تلاوت کرنا

مستحب یہ ہے کہ وضوکے ساتھ قرآنِ پاک کی تلاوت کرے ،اگربلاوضو تلاوت کرتاہے، تو بالاتفاق جائزہے اور اس سلسلہ میں مشہو راحادیث ہیں ،امام الحرمین نے فرمایا کہ بلاوضو تلاوت کرنے والے کو مکروہ کا ارتکاب کرنے والانہ سمجھاجائے ؛بلکہ اس کوافضل واولیٰ کوترک کرنے والا سمجھنا چاہئے ،اگر پانی میسرنہ ہو، تو تیمم کرلے ۔

جنبی اور حائضہ عورت کے لئے قرآنِ پاک کی تلاو ت حرام ہے ،خواہ ایک آیت ہو یا اس سے زیادہ ؛البتہ آیات کا تلفظ کئے بغیرذہن میں دہرانا اور قرآنِ پاک کو دیکھنا جائز ہے ،نیزسبحان اللہ ،لاالہ الااللہ ،الحمد اللہ ،اللہ اکبرکہنا او ررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھنا اور دیگر اذکار جائز ہیں۔

جنبی اور حائضہ کے لئے تلاوت قرآن

علامہ نوویؒ فرماتے ہیں : اگر جنبی اور حائضہ کسی انسان سے کہیں خذالکتاب بقوة (کتاب کو مضبوطی سے پکڑو )اس جیسے اقوال سے تلاوت مقصو دنہ ہو ،توجائز ہے اور نیز مصبیت کے وقت ان حضرات کے لئے انا للہ ،واناالیہ راجعون پڑھنا جائز ہے بشرط یہ کہ تلاوت کی نیت نہ ہو ۔(حنفیہ کے نزدیک بھی یہی حکم ہے ،ردالمحتار۴۸۸/۱ باب الحیض)

سواری پر سوار ہونے کے وقت: سبحان الذی سخرلنا ھذا وماکنا لہ مقرنین۔ دعاءکے وقت: ربنا آتنا فی الدنیا حسنة ،وفی الآخرة حسنة وقنا عذاب النار پڑھنا جائز ہے جب کہ ان آیات سے تلاوت مقصود نہ ہو ۔

امام الحرمین نے فرمایا : جب جنبی کہے ”بسم اللہ یا الحمد للہ ،اگر ان الفاظ سے تلاوت مقصود ہو،تو گناہ گار ہوگا ،اگر تلاوت کی نیت نہیں یاکچھ بھی نیت نہیں تو گنا گار نہیں ہوگا ،حائضہ اور جنبی کے لئے ان آیات کی تلاوت جائز ہے جومنسوخ ہوگئیں ہیں جیسے : الشیخ والشیخة اذا زنیا فارجموھما البتہ وغیرہ۔ (احناف کے نزدیک جیسے محکم آیات کی تلاوت حائضہ کے لئے درست نہیں ہے، اسی طرح منسوخ التلاوة آیات کی تلاوت بھی درست نہںہے ۔(ردالمحتار۳۴۱/۱،سنن الغسل)

پاک صاف جگہ تلاوت قرآن

مستحب یہ ہے کہ پاک صاف اور عمدہ جگہ تلاوت قرآن کی جائے ،اسی وجہ سے علماءکی ایک جماعت نے مسجد میں تلاوت کرنے کو مستحب لکھاہے ،اس لئے کہ مسجد پاک صاف ہوتی ہے ،فضیلت والی جگہ ہے، نیز اس میں اعتکاف کی فضیلت بھی حاصل کی جاسکتی ہے ،اس لئے کہ مسجد میں رہنے والے کے لئے اعتکاف کی نیت کرنی چاہئے ،خواہ تھوڑا وقت گذارے یا زیادہ وقت ؛بلکہ جیسے ہی مسجد میں داخل ہو اعتکاف کی نیت کرلے ،اس عمل کا اہتمام کرناچاہئے اوراس کو عام کرنا چاہئے، نیزبچوں اور عوام کو سکھا ناچاہئے ،اس لئے کہ اس سے غفلت کی جاتی ہے ۔

تلاوت قرآن کے لئے بیٹھنے کا طریقہ

قاری کے لئے نماز کے باہر بھی قبلہ رخ ہوکر تلاوت قرآن مستحب ہے ،حدیث میں آیاہے خیر المجالس مااستقبل بہ القبلة ،بہترین مجلس وہ ہے ،جو قبلہ رخ ہو ،تلاوت کرنے والے کے لئے چاہئے کہ متواضع ،سکون اور وقار کے ساتھ سرجھکائے بیٹھے ،قاری کی بیٹھک پرُادب اور متواضع ہو، جیسے استاذ کے سامنے بیٹھتاہے ،یہی افضل طریقہ ہے ،اگر کھڑے ہوکر یالیٹ کریابستر پر یاکسی اور طریقہ پر تلاوت کرے ،تو جائز ہے ،اجر ملے گا ؛لیکن پہلادرجہ افضل ہے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِأُولِي الْأَلْبَابِ ، الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَى جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلًا سُبْحَانَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ ۔(آل عمران:۱۹۰۔۱۹۱)

بے شک زمین وآسمان کے بنانے اور دن ورات کے آنے جانے میں عقلمندوں کے لئے نشانیاں ہیں جو اللہ کو یاد کرتے ہیں کھڑے ،بیٹھے اور کروٹ پرلیٹے،اور زمین اور آسمان کی پیدائش میں غوروفکر کرتے رہتے ہیں۔

حدیث صحیح میں آیاہے کہ حضرت عائشة ؓ فرماتی ہیں

کان رسول اللہ ﷺ یتکی فی حجری ،وانا حائض ،ویقرا القرآن (رواہ البخاری ومسلم )وفی روایة یقرا القرآن ،وراسہ فی حجری

رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے گو دکا سہارالے کر بیٹھتے دراں حالیکہ میں حائضہ ہوتی اور آپ ﷺ قرآن کی تلاوت فرماتے ،ایک دوسری روایت میں ہے کہ آپﷺقرآن ِپاک پڑھتے؛ جبکہ آپ کا سرِمبارک میرے گود میں ہوتا۔

اوراد وظائف چارپائی پرلیٹ کر پڑھنا

حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا : انی اقرا القرآن فی صلاتی ،واقرا علی فراشی میں قرآنِ پاک اپنی نماز میں بھی پڑھتاہوں اور اپنے بسترپر بھی پڑھتاہوں حضرت عائشة ؓ فرماتی ہیں: انی لااقرأ حزبی ،وانا مضطجعة علی السریر میں اپنے اوراد وظائف چارپائی پرلیٹ کر پڑھتی ہوں ۔ (حاملین قرآن : ۵۶تا۶۳)

اصلاحی ،علمی اورتحقیقی مضامین ومقالات کےفیضان قاسمی ویب سائٹhttp://faizaneqasmi.com رجوع فرمائیں۔