توسل کا مسئلہ ذوجہتیں ہے،ایک طرف بدعتی حضرات وسیلہ میں غلوکرتے ہوئے ہرقسم کی بدعات وخرافات حتی کہ کفروشرک کا ارتکاب کرتے ہیں،دوسری طرف اصحابِ ظواہروغیرہ وسیلہ پرمطلقًاشرک کاحکم لگاتے ہوئے حدودشرعیہ سے تجاوز کرجاتے ہیں،مندرجہ ذیل سطورمیں توسل کی شرعی حیثیت کو پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔

وسیلہ وسل مصدر سے مشتق ہے جس کا معنی ملنااور جڑناہے،یہ لفظ سین اور صاد دونوں سے تقریبا ًایک ہی معنی میں آتا ہے؛البتہ وصل بالصاد مطلقاً ملنے اور جوڑنے کے معنی میں ہے اور وسل بالسین رغبت اورمحبت کے ساتھ ملانے کے لئے مستعمل ہے،اللہ کی طرف وسیلہ ہر وہ چیز ہے جو بندے کو رغبت و محبت کے ساتھ اپنے معبود کے قریب کردے،اس لئے سلف صالحین صحابہ وتابعین (عبد اللہ بن عباسؓ، مجاہد، ابو وائل، حسن بصری،قتادہ،عبدا للہ بن کثیر،سدی اور ابن زیدوغیرہ رحمة اللہ علیہم ) ائمہ مفسرین نے اس آیت میں وسیلہ کی تفسیرطاعت ، قربت اور ایمان و اعمال صالحہ سے کی ہے۔

لفظ وسیلہ اورتوسل کی لغوی تشریح اورصحابہ و تابعین کی تفسیر سے جب یہ بات معلوم ہوگئی کہ ہر وہ چیز جو اللہ کی رضاءو قربت کا ذریعہ بنے وہ انسان کے لئے اللہ تعالیٰ سے قریب ہونے کا وسیلہ ہے،اس میں جس طرح ایمان و اعمال صالحہ داخل ہیں، اسی طرح انبیاءو صالحین کی صحبت و محبت بھی داخل ہے کہ وہ بھی رضائے الہی کے اسباب میں سے ہے۔

وسیلہ کی پہلی صورت

حضورپاک صلی اللہ علیہ وسلم ،انبےاء،صحابہ کرام اور دیگر مقبولان الہی کے طفیل اوروسیلہ سے دعاءمانگنا جائز ہے جس کی صورت یہ ہے کہ اے اللہ اپنے نیک اور مقبول بندوں کے طفیل میری دعاءقبول فرما،فلاں ضرورت پوری فرما۔

نیز اپنے کسی نیک عمل کا حوالہ اوروسیلہ دے کر دعاءکرنا بھی جائز ہے،جیساکہ حدیث غارمیں صراحت ہے۔(بخاری۴۹۳/۱)اسی طرح کسی زندہ شخصیت کے وسیلے سے بھی دعاءکرنا جائز ہے،جیسا کہ حضرت عمرؓ صلوة الاستسقاءمیں حضرت عباس ؓ کے وسیلہ سے دعاکیا کرتے تھے۔(رواہ البخاری۱۳۷/۱)

عن انس بن مالک ؓان عمر بن الخطاب ؓ کان اذا قحطوا استسقی بالعباس بن عبد المطلب، فقال:اللھم نا کنا نتوسل الیک بنبینا ﷺ فتسقینا،وانا نتوسل بعم نبینا ﷺ، فاسقنا،قال :فیسقون۔(رواہ البخاری،ابواب الاستسقاء۱۳۷/۱)

نبی ﷺکےتوسل سے دعاءکرنے کی تلقین

آپﷺ نے ایک شخص کو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلہ سے دعاءکرنے کی تلقین فرمائی۔

عن عثمان بن حنیفؓ ان رجلا اتی النبی ﷺ فقال:ادع اللہ ان یعافینی، فقال: ان شئت ،اخرت ذالک، وھو خیرلک،ون شئت دعوت،قال :فادعہ،قال:فامرہ ان یتوضا،ویحسن وضوءہ، ویصلی رکعتین، ویدعو بھذا الدعاءفیقول: اللھم انی اسئلک ،واتوجہ الیک بنبیک محمد نبی الرحمة ،یا محمد! انی اتوجہ بک الی ربی فی حاجتی ھذہ ،فتقضی لی، اللھم شفعہ ،و شفعنی فیہ۔( اخرجہ الحاکم فی المستدرک ۴۵۸/۱رقم:۱۱۸۰،قال ھذا حدیث صحیح علی شرط الشیخین ،ولم یخرجاہ ،وقال الذھبی فی التلخیص علی شرطھما،واخرجہ الترمذی ۱۹۸/۲فی دعاءالمریض)

اس صورت کے جائز ہونے کی وجہ یہ ہے کہ توسل میں دعاءبزرگوں سے نہیں کی جاتی؛ بلکہ براہ راست اللہ تعالی ٰسے کی جاتی ہے،لہذا جب کسی ایسے مقبول بندے کے توسل سے دعاءکرنا جائز ہے جو اس دنیا میں موجود ہو،تو ان مقبولان الہی کے توسل سے دعاءکرنا بھی صحیح ہوگا جو اس دنیا سے رحلت فرماگئے۔

نیک عمل کے توسل سے دعاءکرنا جائز

نیز اپنے کسی نیک عمل کے توسل سے دعاءکرنا جائز ہے، تو کسی مقبول ِخدا کے توسل سے دعاءکرنا بھی صحیح ہے؛ کیوں کہ اس کی حقیقت دراصل یہ دعاءکرنا ہے کہ اے اللہ میرا تو کوئی عمل ایسا نہیں ہے جس کومیں آپ کے بارگاہ الہی میں پیش کرکے ا س کے وسیلے سے دعاءکروں؛البتہ فلاں بندہ آپ کے بارگاہ الہی میں مقبول ہے اور مجھے اس سے محبت اور عقیدت کا تعلق ہے۔

پس آپ اس تعلق کی لاج رکھتے ہوئے جو مجھے آپ کے نیک بندوں سے ہے،میری دعاءقبول فرما، بہر حال توسل کی مذکورہ بالا صورت صحیح ہے اور بزرگانِ دین سے منقول اور ان کا معمول رہا ہے؛مگر یہ عقیدہ نہ رکھا جائے کہ توسل کے بغیر جو دعاءکی جائے، وہ اللہ تعالی ٰکے دربار میں مقبول نہیں ہوگی،نہ یہ عقیدہ رکھا جائے کہ حضرات انبیاءو صلحاءکےتوسل سے جو دعاءکی جائے،اس کا مقبول ہونا لازم اور ضروری ہے؛بلکہ یہ سمجھنا چاہئے کہ ان مقبولانِ الہی کے وسیلہ سے جو دعاءکی جائے گی، اس کی مقبولیت کی زیادہ امید ہے۔

حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ حضور ﷺ کے وسیلے سے قبول ہوئی

حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ حضور ﷺ کے وسیلے سے قبول ہوئی،اس روایت کو امام حاکم،طبرانی ،بیہقی اور ابو نعیم وغیرہ محدثین رحمہم اللہ نے اپنی کتب ِحدیث میں تخریج کی ہے اورحاکم نے مستدرک علی الصحیحین میں شیخین کی شرط پر اس کو صحیح قرار دیا ہے؛ لیکن محدثین نے حاکم کے اس فیصلہ پراعتراض کیا ہے ،حافظ ذہبیؒ نے”التلخیص الحبیر“میں موضوع قراردیاہے،نیز ملا علی قاری ؒ نے بھی ”الموضوعات الکبری “ میں اس کو موضوع قرار دیا ہے؛البتہ اس کے معنی کی تصحیح کی ہے،لہذا یہ روایت جمہور محدثین کے نزدیک انتہائی ضعیف ہے؛البتہ تائید کے لئے پیش کی جاسکتی ہے ۔

عن عبد الرحمن بن زید بن اسلم،عن ابیہ عن جدہ عن عمر بن خطاب ؓ قال قال: رسول اللہ ﷺ:لما اقترف آدم الخطیئة قال: یا رب! اسئلک بحق محمد لما غفرت لی،فقال اللہ عز وجل: یا آدم کیف عرفت محمد ا ولم اخلقہ؟ قال :لانک یا رب لما خلقتنی بیدک، ونفخت فیَّ من روحک ،رفعت راسی ،فرایت علی قوائم العرش مکتوبا ”لاالہ الا اللہ، محمدرسول اللہ“فعلمت انک لم تضف الی اسمک الا احب الخلق الیک ،فقال اللہ عز وجل:صدقت یا آدم !انہ لاحب الخلق الی، واذا سالتنی بحقہ، فقد غفرت لک ،ولو لا محمدا ما خلقتک،ھذاحدیث صحیح الاسناد۔(المستدرک علی الصحیحین ،۶۷۲/۲رقم:۴۲۲۸،قال الذھبی فی التلخیص الحبیر بل موضوع،واخرجہ الطبرانی فی المعجم الاوسط،والمعجم الصغیر ،التعلیق علی المستدرک ۹۷۲/۲)وقال علی القاری فی” الموضوعات الکبری“ موضوع؛ لکن معناہ صحیح(تحقیق المقال فی تخریج احادیث فضائل اعمال :۶۲۰)۔

مرحوم اولیاء سے دعاکی درخواست کرنا

حضرت مولانا عبدالحی لکھنوی رحمہ اللہ تحریرفرماتے ہیں:سلف صالحین کا قرونِ ثلثہ میں ےہی دستور ہے کہ جو حضرات اپنے زمانے میں صلحاءاور اولیاءاللہ معلوم ہوئے، ان کو لوگ اپنی قبولیت دعاءکے واسطے تکلیف دیتے رہے اور ان سے دعاءکرنے کی خواست گاری کرتے رہے،بناءاً علیہ اگر اب بھی کوئی صالح اور ولی اللہ معلوم ہوں ،تو لوگ ان سے دعاءکرائیں ،یا ان سے اپنی قبولیت دعاءمیں وسیلہ ٹھرائیں،،بالاتفاق جائز ہوگا اور اس میں فقہائے حنفیہ کا اختلاف نہیں ہے،جیسا کہ حضرت عمر ؓ کے زمانے میں حضرت عباس ؓ کو لوگوں نے پیشوا کرکے اپنی حاجت طلب کی تھی۔

بعد ِوصال یعنی وفات کے بعدان سے دعاءکرانا یا اپنی حاجت روائی کے واسطے کسی طرح تکلیف دینے کادستور قرونِ ثلثہ مشہود لہا بالخیر(وہ تین زمانے جن کے سراپا خیر ہونے کی شہادت دی گئی ہے)اور زمانہ مجتہدین میں نہیں پایا گیا،بناءًا علیہ ہمارے فقہائے حنفیہ اس میں مختلف ہیں،اکثر عدم جواز کے قائل ہیں،واضح رہے کہ یہی مذہب اکثر فقہاءکا قابل فتوی ہمارے زمانہ کے لئے ہے ؛کیوں کہ اس میں احتیاط ہے ۔(مجموعة الفتاوی،مولانا عبد الحی فرنگی محلی بحوالہ شریعت یا جہالت:۴۵۹

شرک و کفر و بدعت کے جتنے بھی راستے کھلے ہیں وہ تقریبًا وسیلہ کے بہانے سے کھلے ہیں

حضرت مولانا پالن حقانی رحمة اللہ علیہ تحریرفرماتے ہیں:کسی مزار پر جاکر یا اپنے گھر ہی میں سے ان کے حق میں بعد فاتحہ، یادعائے مسنونہ،یا خانہ کعبہ ،یا مسجد ،یا دیگر مقامات مقدسہ ،یا تلاوت قران کی برکت سے،یا فلاں زندہ بزرگ کے اعمالِ صالحہ کی برکت سے دعاءکرے،اے باری تعالی! میرا فلاں کام پورا کردے، تو یہ جائز ہے؛کیوں کہ سوال میں خطاب خدا سے ہواوران سب کا ذکر برکت کے واسطے کیا گیا۔

وسیلہ توسل کا درجہ صرف اتنا ہے کہ اس طرح سے دعاءمانگی جائے،جو طریقہ اوپر بتایا گیا، تو اس میں کوئی حرج نہیں،یہ اتنا سا درجہ وہ رنگ لایا کہ دنیا میں شرک و کفر و بدعت کے جتنے بھی راستے کھلے ہیں وہ قریب قریب وسیلہ کے بہانے سے کھلے ہیں، ؛حالانکہ دعاءکے وقت کسی قسم کے واسطے یا وسیلہ کی ضرورت نہیں اور نہ ہی شرعِ شریف میں اس کاکوئی حکم ہے اور نہ خدکو اس کی ضرورت ہے؛کیوں کہ وہ ہر وقت بغیر وسیلہ سنتا اور دیکھتا ہے؛لیکن اگر ایسا کیا گیا ،تو حرج بھی نہیں ہے۔(شریعت یا جہالت:۴۷۱)

وسیلہ کی دوسری صورت

بعض لوگ وسیلہ اورتوسل کا مطلب یہ سمجھتے ہیں کہ: چونکہ ہماری رسائی خدائے تعالیٰ کے دربار تک نہیں ہوسکتی، اس لئے ہمیں جو درخواست کرنی ہو اس کے مقبول بندوں کے سامنے پیش کریں اور جو کچھ مانگنا ہو، ان سے مانگیں،چنانچہ یہ لوگ اپنی مرادیں اولیاءاللہ سے مانگتے ہیں اوران کاعقیدہ و خیال ہوتا ہے ک یہ اکابر با عطائے الہی ان کی مرادیں پوری کرنے پر قادر ہےں،یہ فعل خالصةً جہالت پر مبنی ہے(جیسا کہ کفار مکہ کہا کرتے تھے ”وما نعبدہم الالیقربوناالی اللہ زلفی۔(زمر:۳)

بعض بدعتی حضرات کا سورہ مائدہ کی آیت ’ ’وابتغو الیہ الوسیلہ“ سے مرادیں اور اپنی حاجتوں کی تکمیل میں اولیا ءاللہ سے استعانت اور مدد طلبی اور ان کے توسل کے ضروری ہونے پر استدلال کرناصحیح نہیں ہے ،جیسا کہ شروع میں وسیلہ کا لغوی و شرعی معنی جمہور مفسرین سے نقل کیا گیا ہے،ان میں سے کسی نے اس معنی پر استدلال نہیں کیا ہے،ان حضرات کی دوسری دلیل سورہ بنی اسرائیل کی آیت” اولئک الذین یدعون یبتغون الی ربھم الوسیلہ “(بنی اسرائیل:۵۷) ہے۔

اس آیت کو سمجھنے کے لئے پہلے یہ آیت ملاحظہ فرمائیں

قل ادعو الذین زعمتم من دونہ، فلا یملکون کشف الضر عنکم ولا تحویلا۔(بنی اسرائیل:۵۶) اولئک الذین یدعون یبتغون الی ربھم الوسیلة ایھم اقرب، ویرجون رحمتہ، ویخافون عذابہ۔(بنی اسرائیل:۵۷)۔

اس آیت کا سیاق اورخود نفسِ کلام گواہی دے رہا ہے کہ حضرات انبیاءعلیہم السلام ،اولیاءاللہ،فرشتے یا کسی کی بھی یہ طاقت نہیں ہے کہ وہ تمہاری مدد کرسکیں،تم حاجت روائی کے لئے ان کو وسیلہ بنا رہے ہو؛ حالانکہ وہ خود اللہ کی رحمت کے امیدوار ہیں اور اللہ تعالیٰ کا زیادہ سے زیادہ تقرب حاصل کرنے کے لئے وسیلہ( ایمان و عمل صالحہ) ڈھونڈرہے ہیں ،جن کا یہ حال ہو ،کیا وہ تمہاری حاجت روائی کرسکتے ہیں؟

خداکا دربار شاہی اور سیاسی دربارنہیں

یہ دراصل دو غلطیوں کامجموعہ ہے،الف:لوگوں نے خدائے تعالی کے دربار کو دنیا کے شاہی اور سیاسی دربار سمجھا ہے کہ ان تک رسائی ہر کس و نا کس کی ممکن نہیں ،نہ ان تک اپنی بات پہنچاناآسان ہے ،اسی طرح خدائی دربار ہے ؛حالانکہ اللہ تعالی ٰہر ایک کی بات سنتے ہیں ۔

اجیب دعوةالداعی اذادعان۔(البقرة:۱۸۶)

ب:جس طرح دنیا کے امراءکے یہاں عہدے اور منصب ہوتے ہیں ،اسی طرح اللہ تعالیٰ نے عہدے اور اختیارات اولیاءاللہ میں تقسیم فرمارکھے ہیں،یہ عقیدہ رکھنا اس طرح سے وسیلہ پکڑنا جائز نہیں ہے؛بلکہ سراسر بدعت، جہالت اور شرک ہے۔

حضرت مولانا پالن حقانی رحمة اللہ علیہ تحریرفرماتے ہیں:وہ مطلب جو جیب بھرو پیر اور پیٹ بھرو مولوی اور ان کے چیلے بیان کرتے پھرتے ہیں یعنی اولیاءاللہ رحمة اللہ علیہم سے مانگنا اور ہر کام میں ان سے استمداد کرنا اور مثال دیا کرتے ہیں کہ اگر بادشاہ سے کچھ لینا ہے تو پہلے اس کے مصاحبین اور حکام کے پاس جانا ہوگا، تب ہی کام بنے گا،اسی طرح خدا کا معاملہ بھی ہے،یہ بات انتہائی گمراہ کن اور شرع اسلامی کے بالکل خلاف ہے۔(شریعت یا جہالت:۴۶۱)

وسیلہ جنت میں ایک درجہ کا نام

وسیلہ کا ایک معنی تو وہی ہے ، جو آیت وسیلہ میں حضرت ابن عباس ؓاور قتادہ ؓ سے منقول ہے اور ایک وسیلہ وہ ہے جو اذان کے بعد پڑھی جانے والی دعاءمیں ہے،اس سے مراد جنت میں ایک اعلی درجہ ہے،جو آں حضرت ﷺ کے لئے مخصوص ہے۔

حضرت جابر بن عبد اللہ ؓ سے روایت ہے کہ جس نے اذان سننے کے بعد یہ دعاءمانگی

’اللھم رب ھذہ الدعوة التامة والصلوة القائمة اٰت محمد الوسیلة والفضیلة وابعثہ مقاما محمود الذی وعدتہ‘۔

اے اللہ !اس پکار اور قائم رہنے والی نماز کے مالک!محمدﷺ کو وسیلہ ، فضیلت عطا کر اور مقام محمود میں بھیج،جس کا تو نے وعدہ کیا،جس نے یہ دعاءمانگی، اس کے لئے میری شفاعت واجب ہوگئی۔(ترمذی )۔

اس حدیث میں اذان کی دعاءمیں جو وسیلہ کا لفظ ہے، اس سے بھی کسی نبی علیہ السلام،یا ولی کا توسل اوروسیلہ مراد نہیں ہے؛بلکہ اس وسیلہ سے مراد یا تو جنت کا وہ مقام ہے جو حضورﷺ ہی کے لئے خاص ہے،یا تو پھر اس جگہ کا نام ہے جہاں پر حضور ﷺ کھڑے ہوکر پوری امت کی شفاعت کریں گے۔

طبرانی کے حوالہ سے لکھا ہے کہ تم اللہ سے دعاءکروکہ خدا مجھے وسیلہ عطا فرمائے،جو شخص میرے لئے دنیا میں دعاءکرے گا، اس پر گواہ یا سفارشی قیامت کے دن بن جاؤں گا،نیز حدیث میں ہے،وسیلہ سے بڑا کوئی درجہ جنت میں نہیں ہے۔(تفسیر ابن کثیر)

آیت شریفہ کا صحیح مطلب

اللہ تعالی فرماتے ہیں:اے ایمان والو! اللہ سے ڈرتے رہو،یعنی گناہ کے کام نہ کیا کرواور وسیلہ ڈھونڈو اللہ کی طرف،یعنی پسندیدہ اور نیک اعمال سے اور معصیتوں کو ترک کرنے سے خدا کا قرب اور نزدیکی طلب کرو۔

اولاً فرمایا کہ اللہ سے ڈرتے رہو،پھر یہ بتایا جارہا ہے کہ اللہ سے ڈرنا ایسا نہیں جیسا سانپ ،بچھو،شیر،بھیڑیا سے ڈرکر دور بھاگتا ہے؛بلکہ خدا سے ڈرنا ایسا ہونا چاہئے کہ اس کی ناخوشی سے ڈر کراس کا قرب اور وصول حاصل کرنے کی کوشش ہو،خوف اور ڈر کی پہلی صورت نفرت کی وجہ سے ہوتی ہے اور دوسری صورت محبت کی وجہ سے ہوتی ہے،اسی لئے ڈرنے والی بات پہلے کہی گئی، توپھر اللہ تعالی سے قرب طلب کرنے کا حکم ہوااور اللہ تعالی کا قرب پسندیدہ عمل ہی سے ہوسکتا ہے۔

اس کے بعد اس آیت شریف میں تیسرا حکم ہے کہ اللہ کے راستے میں جہاد کرو،یعنی وہ قوتیں جو تمہیں خدا کے راستے سے ہٹا دینے والی ہوں ان کا ڈٹ کر مقابلہ کرو،وہ چاہے کفار اور مشرکین ہوں یا تمہارا اپنا نفس ہو،یا شیطان ہو۔

حضرت قتادہ رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں:خدا کی اطاعت اور اس کی مرضی کے اعمال سے اس سے قریب ہوتے جاؤ،ان ائمہ نے وسیلہ کا جومطلب اس آیت سے لیا ہے،اس پر سب مفسرین کا اتفاق ہے،اس میں کسی ایک کا بھی اختلاف نہیں ہے،امام ابن جریر ؒنے اس پر ایک عربی شعر بھی کہا ہے،جس میں وسیلہ کا مطلب قربت اور نزدیکی کو لیا ہے۔

درگاہوں پر نذورنیاز اورسجدے شرک ہیں

تفسیر ابن کثیر میں ہے جو سچے اور پکے ایمان والے ہیں ان سے اللہ کا سودا ہوچکا ہے،اللہ تعالی نے جنت کے بدلے مومنوں کی جانیں اور ان کے مال خرید لئے ہیں،یہی ہے صحیح وسیلہ۔

جہالت کی وجہ سے یا بے خبری سے یا بھولے سے یا رسمی طورپر جو لوگ درگاہوں پر ،یا خانقاہوں پر ،یا تعزیوں پر جاتے ہیں اور وہاں پر نیاز ونذر کرتے ہیں اور جاہل مجاور بعض جگہ پر تو سجدے کرواتے ہیں اور جاہل ،ان پڑھ اور بھولے لوگوں کو سمجھاتے ہیں کہ قیامت کے دن یہ تمہاری سفارش کریں گے،یا تمہاری نجات کے لئے وسیلہ بنیں گے،یا تمہیں اللہ کے قریب کریں گے،یہی عقیدہ مشرکان ِمکہ کاتھا۔

اسی عقیدہ نے لوگوں کوگمراہ کیااوراسی عقیدہ کی بناپربت پرستی پھیلتی چلی گئی اورآج اسی عقیدپر قبریں پوجی جارہی ہیں،اسی عقیدے پر چرچ اور گرجے بنا ئے جارہے ہیں ، اسی عقیدے پر دیو ،دیویاں پوجی جارہی ہےںاور اسی عقیدے پر مزاروں پر نیاز ونذر چڑھائی جارہی ہیں،اسی عقیدے نے اگلے لوگوں کو بھی تباہ و برباد کیا اور آج اسی عقیدے پر لوگ تباہ و برباد ہورہے ہیں۔(شریعت یا جہالت:۴۶۶)۔

یہ ہوسکتا ہے کہ براہ راست اولیاءاللہ سے اپنی حاجتیں طلب نہ کی جائیں؛البتہ ان سے یہ درخواست کی جائے کہ وہ اللہ تعالی کی دربار میں ہماری حاجت و مراد پوری ہونے کے لئے دعاءفرمائیں،اس صورت کا حکم یہ ہے کہ اگر زندوں سے یہ درخواست کی جائے، تو جائز ہے جیسا کہ حضرات صحابہؓ اللہ کے نبی ﷺ سے دنیاوی اور اخروی ضروریات کی تکمیل کے لئے درخواست کیا کرتے تھے اور خود جناب رسول اللہ ﷺ نے جب حضرت عمر ؓ عمرے کے لئے روانہ ہورہے تھے، تو ارشاد فرمایا:اشرکنا یا اخی فی دعائک ولا تنسانا‘(مشکوة،کتاب الدعوات:۱۹۵)نیز عہد نبوت سے آج تک یہ سلسلہ چلاآرہا ہے۔

وسیلہ کی تیسری صورت

یہ ہوسکتا ہے کہ براہ راست اولیاءاللہ سے اپنی حاجتیں طلب نہ کی جائیں؛البتہ ان سے یہ درخواست کی جائے کہ وہ اللہ تعالی کی دربار میں ہماری حاجت و مراد پوری ہونے کے لئے دعاءفرمائیں،اس صورت کا حکم یہ ہے کہ اگر زندوں سے یہ درخواست کی جائے، تو جائز ہے جیسا کہ حضرات صحابہؓ اللہ کے نبی ﷺ سے دنیاوی اور اخروی ضروریات کی تکمیل کے لئے درخواست کیا کرتے تھے اور خود جناب رسول اللہ ﷺ نے جب حضرت عمر ؓ عمرے کے لئے روانہ ہورہے تھے، تو ارشاد فرمایا:اشرکنا یا اخی فی دعائک ولا تنسانا‘(مشکوة،کتاب الدعوات:۵۹۱)نیز عہد نبوت سے آج تک یہ سلسلہ چلاآرہا ہے۔

حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا

ان خیرالتابعین رجل یقال لہ اویس ،ولہ والدة وکان بہ بیاض ،فمروہ فلیستغفرلکم ۔ (رواہ مسلم : ۲۵۴۲)

یمنی قافلوں کے ساتھ قبیلہ مراد کی شاخ قرن کا ایک شخص تمہارے پاس آئے گا ،وہ برص کا مریض تھا ،پھروہ شفایاب ہوگیاہے، ایک درہم کے بقد سفید نشان باقی رہ گیا ہے ، وہ اپنی والدہ کے وہ بہت خدمت گزارہیں ، اگروہ اللہ کے نام پرقسم کھالیں، تو اللہ تعالیٰ ان کی قسم کو پوری فرمادیتے ہیں،اگرتم ا ن سے اپنی مغفرت کی دعاکراسکتے ہو ،تو ضروردعاکراؤ۔

(حضرت عمر ؓ جستجو میں لگے رہے ،جب موسم حج میں حضرت اویس قرنیؒ سے ملاقات ہوئی تو) حضرت اویس قرنی ؒ سے امیرالمومنین نے فرمایا : میرے لئے دعائے مغفرت کرو،حضرت اویس قرنیؒ نے امیرالمومنین کے حق میں دعائے مغفرت کی ۔(رواہ مسلم عن عمر: ۲۵۴۲)

مرحوم اولیاء وصلحاء سے دعاکی درخواست جائزنہیں

اگر مردوں سے اولیاءو صلحاءکے قبروں پر یہ درخواست کی جائے، تو یہ صورت جائز نہیں ہے ؛بلکہ بدعت و شرک ہے۔(شریعت یا جہالت:۴۷۱)واللہ اعلم بالصواب کتبہ عبداللطیف قاسمی ،خادم تدریس جامعہ غیث الہدی بنگلور

مذکورہ بالامضمون توسل کی شرعی حیثیت سے متعلق ایک استفتاء کا جواب ہے ،اسی وجہ سے عربی عبارتوں کا ترجمہ نہیں کیا گیاہے ،نیز اسی وجہ سے توسل کے بعض پہلو باقی رہ گئے ہیں ،مزیدفقہی ،علمی، تحقیقی ،اصلاحی مضامین ومقالات کے لئے فیضان قاسمی ویب کا مطالعہ فرمائیں اوردوست واحباب کو شیئربھی کریں ،جزاکم اللہ احسن الجزاء