تین طلاق/ طلاقِ مغلظ

تین طلاق/ طلاقِ مغلظ:صاف لفظوں میں کہے کہ ”میں نے تجھے تین طلاق دی“ یا تین بارالگ الگ وقت میں لفظ طلاق کہے یا تین مرتبہ طلاق،طلاق ،طلاق کہے اورتین کی نیت کرے،اس کو طلاقِ مغلظ کہتے ہیں،تین طلاق دینا سخت گناہ ہے اورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ناراضگی کا سبب اورشریعت کا مذاق ہے ۔

حضرت محمودبن لبید ؓسے مروی ہے :رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک آدمی کے متعلق خبردی گئی جس نے اپنی بیوی کو ایک ساتھ تین طلاقیں دی تھیں،آپ غصہ میں کھڑے ہوگئے اورفرمایا: کیامیرے ہوتے ہوئے اللہ کی کتاب کے ساتھ کھلواڑکیاجائے گا ؟اتنے میں ایک آدمی کھڑاہوااورعرض کیا ،اے اللہ کے رسول !کیامیں اس شخص کو قتل نہ کردوں؟۔(سنن نسائی کتاب الطلاق ،باب ماجاءفی التغلیظ فیہ ۹۸/۲،رقم: ۳۴۰۱)

حضرت انس ؓفرماتے ہیں :حضرت عمرؓ کی خدمت میں جب ایسے شخص کو لایاجاتا جس نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دی ہوں، تو حضرت عمرؓاس کی پیٹ پرکوڑے لگاتے ۔(اعلاءالسنن بحوالہ سنن سعیدوفتح الباری ۱۶۹/۱۱)تین طلاق دینا شریعت میں نہایت ناپسندیدہ عمل ہے ؛لیکن جب تین طلاقیں دی جائیں،تو واقع ہوجاتی ہیں، اس کی تفصیل یہ ہے

اگرتین مجلسوں میں الگ الگ طلاق دے، توبہرحال تین طلاقیں واقع ہوجائیں گی،اگرتین کے عددکے ساتھ”میں نے تجھے تین طلاقیں دی “تب بھی تین طلاقیں واقع ہوجائیں گی ۔

ایک ہی مجلس کی تین طلاق

اگرکسی نے ایک ہی مجلس میں لفظ ”طلاق “کا استعمال تین بارکیا جیسے یوں کہے : ”میں نے طلا ق دی “”میں نے طلاق دی“ ”میں نے طلاق دی “یا” طلاق،طلاق ،طلاق کہا “اگرشوہرنے تین طلاق کی نیت کی ،تو تین طلا ق واقع ہوجائیں گی ،اگروہ کہے ، میری نیت ایک بارطلاق دینے کی تھی، تین بارمیں نے تاکید کے لئے کہا، تو ایک طلاق ِرجعی ہوگی اوررجعت کرنا جائزہوگا ؛لیکن شوہر جھوٹ بول کرایسا کرتاہے ،توسخت گنہگارہوگا اورمستقل گناہ کی زندگی گزارنے والاہوگا، اگرمعاملہ قاضی کے پاس چلاجائے ،توقاضی تین ہی طلاق کا فیصلہ کرے گا (یعنی قضاءًا اس کے قول کا اعتبارنہیں کیاجائے گا)۔

طلاق کی زیادہ سے زیادہ تعدادتین ہے ،اگرکوئی اس سے زیادہ بھی دے دے، توتین ہی واقع ہوں گی ،بقیہ طلاقیں معصیت وظلم کی موجب ہوں گی،نیز ایک مجلس میں تین طلاق دے ،تووہ تین طلاقیں واقع ہوجاتی ہیں،یہ بات قرآن وحدیث میں صراحةً ثابت ہے ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اظہارِغضب کے باوجودتینوں طلاق کونافذفرمایاہے ،جس کے بہت سے واقعات کتب ِحدیث میں موجودہیں۔

تین طلاق تین ہی ہیں: جمہور امت

جمہورِامت کا یہی مذہب ہے ،اکثرصحابہ،ائمہ اربعہ اورجمہورِتابعین کا یہی مسلک ہے ،چنانچہ سعودی حکومت نے بھی اس مسئلہ پرغوروفکرکرنے کے لئے حرمین شریفین اورسعودی علماءکی ایک کمیٹی بنائی جس کے صدرشیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن بازؒ تھے،اس کمیٹی نے یہی فیصلہ کیاکہ ایک مجلس کی تین طلاقیں واقع ہوجاتی ہیں۔(تفصیل کے لئے مراجعت کریں قاموس الفقہ۳۴۷/۴)

جمہورِامت کے راستہ کو چھوڑکرکوئی دوسرا راستہ اختیارکرناضلالت وگمراہی ہے ۔

اللہ تعالیٰ کا ارشادہے

و یتبع غیرسبیل المؤمنین نولہ ماتولی، ونصلہ جھنم،وساءت مصیرا ۔(النساء: ۱۱۵)

جوشخص مسلمانوں کے راستہ کوچھوڑکر کوئی دوسرراستہ اختیارکرتاہے ،توہم اس کو اسی کے حوالہ کردیں گے جس پر وہ چلاہے اور اس کو جہنم میں دکھیل دیں گے اورجہنم بہت براٹھکانہ ہے ۔

اللہ تعالی کا ارشاد ہے

فان طلقھا، فلا تحل لہ من بعد حتی تنکح زوجا غیرہ۔(البقرہ:۲۳۰)

پھریعنی تیسری بار اگر عورت کو طلاق دے دی ، تو وہ عورت اس کے لئے حلال نہیں ہوگی یہاں تک کہ کسی دوسرے خاوند سے نکاح نہ کرلے (اوراس خاوندکی وفات ہوجائے یادوسراخاوند صحبت کے بعدطلاق دے )۔

اگر تین طلاقیں دے دی، تواگر وہ خاتون عدت گزر جانے کے بعد دوسرے مرد سے نکاح کرلے اور ان دونوں کے مابین ازدواجی رشتہ قائم ہوجائے،بعد ازاں خدانخواستہ کسی وجہ سے اس دوسرے شوہر سے بھی علاحدگی ہوجائے اور پھر یہ دوسری عدت بھی گزر جائے ،بعد ازاں اگر یہ خاتون اور پہلا مرد دوبارہ نکاح کرنا چاہیں تو کرسکتے ہیں۔

غلط فہمی کاازالہ

یہ سمجھنا کہ جب تک تین طلاقیں نہیں دیں گے، پوری طرح رشتہءنکاح ختم ہی نہیں ہوگا ،محض ناواقفیت اور جہالت کی بات ہے اور اس طرح طلاق دینا شریعت میں انتہائی نا پسندیدہ اور سخت گناہ ہے،وکلاء،قضاة اور پنچ حضرات کو بھی اس سلسلہ میں احتیاط کرنی چاہئے اور تین طلاقیں نہیں دلوانی چاہئے،اگر لفظ ”طلاق‘ ‘کے ذریعہ ایک یا دو بار طلاق دی گئی اور عدت میں نہیں لوٹایا گیا، تو رشتہءنکا ح خود بخود ختم ہوجائے گااورطلاق: بائن ہوجائے گی،نیز تین طلاق میں ندامت کی تلافی کی بھی کوئی صورت باقی نہیں رہے گی ،چنانچہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے

الطلاق مرتان، فامساک بمعروف او تسریح باحسان ۔(البقرہ:۲۲۹)

یعنی اگر ایک یا دو بار طلاق دی گئی، تو مردکو حق ہوگا کہ وہ بہتر طریقہ پر عورت کو اپنے نکاح میں واپس لوٹا لے،یا پھر اس کی عدت گزرنے دے اور اس کے تمام حقوق ادا کرکے علاحدگی اختیار کر لے۔

شریعت نے طلاق کے تین درجے تین طلاقوں کی صور ت میں رکھے ہیں

شریعت نے طلاق کے تین درجے تین طلاقوں کی صور ت میں رکھے ہیں،شریعت کا منشاءیہ ہے کہ طلاق دینا ہی ناپسندیدہ فعل ہے ،اگرمجبوری کی صورت میں اس کی ضرورت پیش آئے، تو طلاق کے ایک درجہ یعنی ایک طلاق پراکتفاءکرے اورعدت گزرنے دی جائے جیساکہ پچھلے صفحات میں بالتفصیل عرض کیاگیا۔

اگرکسی شخص نے دورانِ عدت مزیدایک طلاق دے دی ،تو اس نے رشتہءنکاح سے جداہونے کے دودرجے طے کرلیا جس کی ضرورت نہیں تھی اورایساکرنا شرعًاناپسندیدہ بھی تھا؛مگران دودرجوں کے مکمل ہونے کے بعدبھی دورانِ عدت رجعت کا حق اورعدت پوری ہونے کے بعدآپسی رضامندی سے نکاح کی گنجائش باقی رہے گی،اگرکسی نے تیسری طلاق بھی دیدی، تو اس نے شریعت کی دی ہوئی آسانیوں کو بلاوجہ اوربلاضرورت ختم کردیا ،تواب اس کی سزایہ ہے کہ نہ رجعت ہوسکے گی اورنہ بیوی کی دوسری شادی کے بغیر نکاح ہوسکتاہے ۔(مستفاد:ازمعارف القرآن۵۶۰/۱)

رہنما اصو ل برائے خوش گوارازدواجی زندگی ،اردو،انگریزی اور رومن انگریزی ،نیز دیگر اصلاحی ،علمی اورتحقیقی مضامین ومقالات کے لئے فیضان قاسمی ویب سائٹhttps://faizaneqasmi.com رجوع کریں ۔