جمہور اہل سنت سے اپنے کو وابستہ رکھئے

جمہور اہل سنت سے اپنے کو وابستہ رکھئے
چشم کشااورفکرآمیز خطاب
مفکر اسلام حضرت مولانا ابوالحسن علی ندوی صاحب نورالله مرقدہ

اللہ تعالیٰ کے ساتھ معاملہ درست رکھئے

سب سے پہلی چیز یہ ہے کہ اللہ تعالی کے ساتھ معاملہ درست ہو، کسی درجہ میں تقوی ، دیانتداری او تعلق مع اللہ ہو یا اس کی فکر ہو، یہ ایسی بنیادی بات ہے کہ جس کے بغیر نہ کسی کام میں برکت ہوتی ہے، نہ حرکت اور ایسا حقیقی نفع اسی وقت ہو گا جب خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ معاملہ درست ہو۔

میں یہ نہیں کہتا کہ آپ سب کے سب شب بیدار بن جائیں ،صوفی اور عارف ہوجائیں ، یہ ہرشخص کے لئے ضروری نہیں؛ لیکن جو ضروری حصہ ہے، وہ یہ ہے کہ ایک حد تک تقوی اور الله تعالی کے ساتھ معاملہ صحیح ہو اور اس کی فکر ہواور اپنی نمازوں کی فکر ہو ،دعا کا ذوق ہو اور انابت الی الله کسی نہ کسی درجہ میں ضرور ہو۔

بزرگان دین کی سیر اوران کی صحبت

یہ سب سے اہم اور بنیادی چیز ہے ،اسے کبھی نہیں بھولنا چاہئے اور اس کے حصول کے بہت سے ذرائع ہیں، ان میں سے ایک تو یہی ہے کہ کتاب وسنت اور فقہ کا مطالعہ کریں اور اس کے مطابق اپنی نمازوں کو بہتر بنانے کی کوشش کریں ،اس کے علاوہ سب سے مؤثر چیز یہ ہے کہ بزرگان دین کے حالات پڑھیں اور اگر الله تعالی نصیب کرے ،تو کسی بزرگ کی صحبت اختیار کریں۔

میں بے تکلف کہتا ہوں کہ اس سلسلے میں سب سے بہتر اور مفید حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کی کتا بیں خاص طور سے ان کے ملفوظات ومواعظ اچھا اثر رکھتے ہیں ،میں نے الحمدللہ ساری ندویت، اپنے تمام ادبی ذوق اور تاریخی ؛بلکہ انتقادی ذوق کے ساتھ ان سے فائدہ اٹھایا ہے اور آپ کو بھی مشورہ دیتا ہوں اس سے آپ کو اپنی جاه طلبی ، حب مال اور معاملات میں کوتاہی کا علم ہوگا اور خاص طور پر اخلاق کی اصلاح اجتمائی کاموں کی اہمیت پر ان کے یہاں بڑازوردیاجاتاہے ،الله تعالی نے خاص طور پر ان سے یہ کام لیا ہے، آپ اس کی طرف ضرور توجہ دیں، آپ کے اندر اس کی کوئی مقدار ضرور ہونی چاہئے۔جمہور اہل سنت سے اپنے کو وابستہ رکھئے

اصلاح وانقلاب حال اورزہد وایثارہم سفر

دوسری چیز یہ ہے کہ اسلام کی تاریخ میں خاص طور پر اس کی دعوت و عزیمت کی تاریخ اور اس کی اصلاحی تحریکوں کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ عہد نبوی سے لے کر آج تک علم اورنفعِ خلائق کا، اصلاح و انقلابِ حال کا اور زہد و ایثار کا ساتھ رہا ہے یہ دونوں بالکل ہم سفر ہیں۔

آپ اسلام کی پوری تاریخ کا جائزہ لیں گے ،تو معلوم ہوگا کہ ان دونوں کا کہیں ساتھ نہیں چھوٹا ہے، اللہ تعالی نے جن لوگوں کے ذریعہ امت کو نفع پہنچایا اور کسی بڑے فتنے سے محفوظ فرمایا، ان میں سب سے بڑا فہنو ردت کافتنہ تھا اور دوسرا خلق قرآن کا تھا، جیسا کہ بعض لوگوں نے کہا ہے:

نصراللہ ھذ ہ الامۃ بابی بکر یوم الردۃ

نصر الله هذه الامة -یا۔ اعان الله هذه الامة بأبي بكر الصديق يوم الردة و باحمد بن حنبل يوم الفتنة‘ اور اس کے بعد جو فلسفے کے حملے تھے جن کے مقابلہ کے لئے جو لوگ آئے ، امام غزالی ہوں ،یا امام ابوحسن اشعریؒ ہوں ،پھر اس کے بعد جو فتنے تھے ان کے مقابلہ کے لئے امام ابن تیمیہؒ وغیرہ آئے، پھر ہندوستان میں صوفیائے کرام جنہوں نے مادیت و غفلت اور سلطنت کے اثر سے جو جاہ پرستی، طاقت پرستی، دولت پرستی اور نفس پرستی پیدا ہورہی تھی اس کو روکا ، پھر اس کے بعد غیر مسلموں کے اثر سے اسلامی معاشرے میں جو بدعات مشرکانہ عقائد داخل ہو گئے تھے اور وحدة الوجود کا جو اثر فلاسفہ اور صوفیوں سے لے کر ادباء اور شعراءتک کے دماغوں میں سرایت کر گیا تھا، اس کے مقابلہ کے لئے حضرت مجد دالف ثانی ؒآئے۔

پھر اس کے بعد قرآن مجیدکے براہ راست مطالعہ اور حدیث سے اشتغال نہ ہونے کی وجہ سے جو ایک جاہلیت ہندیہ اور مقامی اثرات تھے اور اتباع سنت کا جو ذوق کم ہو گیا تھا اور عقیدہ میں رخنہ پڑ گیا تھا اس کے سد باب کے لئے حضرت شاہ ولی اللہؒ اور ان کے اخلاف وخلفا ءکو الله تعالی نے تیار کیا۔ غرض کہ پوری تاریخ بتاتی ہے کہ اصلاح کا کا م ، عزیمت کا کام اور سطح سے بلند ہوکرامت کے نفع کا کام اور زہد و ایثار دونوں میں اللہ تعالی نے کوئی فطری اور طبعی رشتہ قائم کردیا ہے جو اسلام کی پوری تاریخ میں ٹوٹنے نہیں پایا۔

اپنے آپ کو ارزاں فروشی سے بچائیں

اس لئے میں آپ سے صاف کہتا ہوں کہ اس کے لئے بھی آپ اپنے کو تیار کریں؛کیونکہ دوسری قوموں میں بھی کوئی کام زہد وایثار کے بغیر نہیں ہوا ہے، اگرچہ ان کا مزاج الگ، ان کے نتائج مختلف اور ان کے احکام بھی دوسرے ہیں ،اس لئے اپنے آپ کو ارزاں فروشی سے بچا ئیں ، صرف دولت دنیا کو اور عہدوں کو اپنا مطمح نظر نہ بنا ئیں جہاں سے کام آجائے، مانگ آجائے اور امید ہو جائے ،بس آپ آنکھ بند کر کے چلے نہ جائیں اور زہد وایثارسے کام لیں ، اسی زہد و ایثار کے وعدے سے قرآن مجید بھرا ہوا ہے، اس وقت نہ میں استيعاب کرسکتا ہوں اور نہ آپ کو ضرورت ہے۔

پوری تاریخ شاہد ہے کہ زہد و ایثارسے جوحقیقی آسودگی اور عزت حاصل ہوتی ہے وہ کہیں نہیں حاصل ہوتی ہے اور یہی اصل مقصد ہے جو لاکھوں کروڑوں روپے کے مالک کو بھی حاصل نہیں ہے، وہ ایک لقمہ کوحلق سے اتارنے کے لئے بعض اوقات ترستے ہیں۔

میرےعزیزو! میں تم سے صاف کہتا ہوں کہ ایسی مثالیں پھر زندہ ہونی چاہئیں ، اللہ کا فیصلہ ہے اور اس کی سنت ہے، سارے آسمانی صحیفے بتاتے ہیں، انبیا علیہم السلام کی سیرت سے معلوم ہوتا ہے اور اس کے ساتھ جو برکت ہوتی ہے وہ سب زہدوایثار پر موقوف ہےاور اب پھر وہ دور آ گیا ہے خاص طور سے ہندوستان کے حالات اس زہد وایثار کے طالب ہیں،یہ بہت بری روایت شروع ہوگئی ہے کہ جہاں زیادہ پیسے ہیں، جہاں زیادہ آسودگی حاصل ہو اور جہاں اپنے خاندان کی آسانی سے پرورش کر سکیں، وہیں جانا چاہئے، یہ بہت بڑی آزمائش ہے اس سے بچنے کی دعا مانگنی چاہئے۔

آپ کا دماغ کچھ بھی بتائے ،پر جمہور اہل سنت کے مسلک سےنہ ہٹیں

تیسری بات جو بہت تجربہ کی ہے وہ یہ ہے کہ میں نے بھی کتابیں پڑھی ہیں، اسلام کے مذاہب اربعہ اوران سے باہر نکل تقابلی مطالعہ کیاہے ،شاید کم ہی لوگوں نے اس طرح کا مطالعہ کیا ہو، ان تمام کے مطا لعہ کےنچوڑ میں ایک گر کی بات بتاتا ہوں کہ جمہور اہل سنت کے مسلک سے کبھی مت ہٹئے گا ، اس کو لکھ لیجئے، چاہے آپ کا دماغ کچھ بھی بتائے ،آپ کی ذہنیت آپ کو کہیں بھی لے جائے ،کیسی ہی قوی دلیل پائیں، جمہور کے مسلک سے نہ ہٹیں ۔

اللہ تعالی کی جو تائید اس (جمہور اہل سنت )کے ساتھ رہی ہے ،جس کے شواہد وقرائن ساری تاریخ میں موجود ہیں ؛ چونکہ اللہ تعالی کو اس دین کو باقی رکھنا تھااور باقی رہنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنی اصلی حالت پر قائم رہے ور نہ بدھ مذہب کیا باقی ہے؟ عیسائیت کیا باقی ہے؟ عیسائیت کے بارے میں قرآن کا “ولا الضالین‘ کہنا ایک معجزہ ہی ہے، یعنی وہ پٹری سے بالکل ہٹ چکی تھی ۔

اللہ تعالی نے چونکہ اس دین اسلام کے بارے میں فرمادیاہے: انا نحن نزلنا الذکروانالہ لحفظون اور اس کے ساتھ جو تائید ہے، جو قوی دلائل ہیں، جو سلامت ِفکر اور سلامت قلب ہے، اس (جمہور اہل سنت )کے ساتھ جوذہین ترین انسانوں کی محنتیں اور غور وخوض کے نتائج ہیں اور ان کا جواخلاص ہے اور ذہن سوزی ہے ،وہ کسی مذہب کو حاصل نہیں ہے۔

بعض لوگ چمک دمک والی تحریر پڑھ کر دھوکہ کھا جاتے ہیں

یہ وہ بات ہے ہمارے اور آپ کے استاذ مولانا سید سلیمان ندوی ؒ نے اپنے بعض شاگردوں سے کہی ہے جیسا کہ مولانا اویس صاحب نقل کرتے تھے اور سید صاحبؒ سے ان کے استاذ مولانا شبلی نعمانی ؒنے کہی تھی ، بعض لوگ چمک دمک والی تحریر پڑھ کر دھوکہ کھا جاتے ہیں ” ومن الناس من يعجبك قوله في الحيوة الدنیا ويشهد الله على ما في قلبه‘‘ اور شہیدوں کا مذاق اڑاتے ہیں اور کںیی علمائے سلف کا مذاق اڑاتے ہیں ، کہیں مفسرین ان کے تیر کا نشانہ بنتے ہیں۔

لہذا مسلک جمہور سے اپنے کو وابستہ رکھئے،اس کا بڑا فائدہ ہوگا، اللہ کی خاص عنایت ہوگی ،اس کی نصرت و برکت ہوگی اور حسن خاتمہ بھی ہوگا۔ماخوذ از ماہنامہ دعوۃ الحق،پرنامبٹ، ویلور،تامل ناڈو، انڈیا رجب المرجب ۱۴۳۹؁ھ

درس قرآن ،درس حدیث ، فقہ وفتاوی ، اصلاحی ،علمی وتحقیقی اورخالص دینی مضامین ومقالات کے لئے فیضان قاسمی ویب سائٹhttps://faizaneqasmi.com کی طرف رجوع کیجئے اوردوست واحباب کو بھی متوجہ کیجئے ۔ طالب دعا: عبداللطیف قاسمی ،جامعہ غیث الہدی بنگلور انڈیا