حامیلن قرآن کی صفات

حامیلن قرآن کی صفات: حاملین قرآن عمدہ عادات وشمائل سے متصف ہو ں،اپنے آپ کو ہر اس ممنوع وناجائز چیز سے بچائیں جس سے قرآنِ پاک نے منع کیاہے ،قرآن ِ پاک کی عظمت کرتے ہوئے ،خسیس پیشوں سے دوررہیں ،شریف النفس ہو ں،ظالم، سخت دل ،دنیادارآدمی پر بلند ہوں ،،نیک ،اچھے لوگ اور مساکین کے ساتھ متواضع ،عاجز اورباوقارہو ں۔

حضرت عمربن خطاب ؓ سے منقول ہے کہ آپ ؓ نے فرمایا :

یامعشرالقراء!ارفعوا روسکم ،فقد وضح لکم الطریق ،فاستبقوا الخیرات ،ولاتکونواعیالا علی الناس۔

اے حاملین قرآن !اپنے سروں کو بلند رکھو ،تمہارے لئے راستہ واضح ہے ،لہذا بھلائیوں کی طرف آگے بڑھو،لوگوں کے محتاج نہ بنو ۔

حضرت عبد اللہ بن مسعو دؓ سے منقول ہے کہ آپؓنے فرمایا :

ینبغی لحامل القرآن ان یعرف بلیلہ اذالناس نائمون،وبنھارہ اذا الناس مفطرون ،وبحزبہ اذا لناس یفرحون ،وببکاءہ اذا الناس یضحکون ،وبصمتہ اذا الناس یخوضون ،وبخشوعہ اذا الناس یختالون ۔

حامیلن قرآن کی صفات

حامل ِ قرآن کو اس کی رات سے پہچاناجانا چاہئے ، جب لوگ سورہے ہوں،اس کو اس کے دن سے پہچاناجانا چاہئے، جب لوگ کھاپی رہے ہوں،اس کو اس کے ورد سے پہچاناجانا چاہئے، جب لوگ خوش ہورہے ہوں،اس کو اس کے رونے سے پہچاناجانا چاہئے ،جب لوگ ہنس رہے ہوں،اس کو اس کی خاموشی (کائنات میں غوروفکرمیں مشغولی )سے پہچاناجانا چاہئے، جب لوگ بے کار باتوں میں منہمک ہوں اورحامل ِ قرآن کو اس کے تواضع وانکساری سے پہچاناجانا چاہئے ، جب لوگ تکبر کررہے ہوں ۔

حضرت حسن بن علی ؓسے مروی ہے کہ آپ نے ؓفرمایا: ان من کان قبلکم راو القرآن رسائل من ربھم ،فکانوا یتدبرونھا باللیل، وینفذونھا فی النھار۔ تم سے پہلی امتوں نے قرآن ِ پاک(آسمانی کتاب) کو رسائل کی صورت میں دیکھا ،چنانچہ وہ لوگ رات میں ان میں غوروفکر کرتے اور دن میں اس کے احکامات کو نافذ کرتے ۔

فضیل بن عیاض ؒ سے منقول ہے کہ آپ ؒ نے فرمایا : حاملین قرآن کو چاہئے کہ ان کی کوئی ضرورت خلفاء،امراء،یا ان کے ماتحت افراد سے متعلق نہ ہو ۔ نیزآپؒ سے منقول ہے : حاملِ قرآن اسلام کی پہچان ہے، لہذا ا س کوقرآن ِ پاک کی عظمت کے پیش ِ نظر لہو ولعب میں مشغول لوگوں کے ساتھ نہیں رہنا چاہئے ۔

قرآنِ پاک کوذریعہ ءمعاش نہ بنائیں

سب سے اہم بات جس سےحاملین قرآن کو اجتناب کرنا چاہئے وہ یہ ہے کہ قرآنِ پاک کو معاش کا ذریعہ نہ بنائیں۔ حضرت عبدالرحمن بن شبیل ؓرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا :

اقرؤاالقرآن ،ولاتاکلوابہ،ولاتجفوا عنہ ،ولاتغلوا فیہ۔

قرآن ِ پاک کو پڑھو ،اس کو اپنے معاش کا ذریعہ نہ بناؤ ،اس سے اعراض نہ کرواو رنہ اس میں غلو کرو ۔ حضرت جابر ؓرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا :

اقرؤ القرآن من قبل ان یاتی قوم یقیمونہ قامة القدح یتعجلونہ ،ولایتاجلونہ(رواہ ابوداؤد بمعناہ من روایة سھل بن سعد)

قرآن ِ پاک کو پڑھو اس سے پہلے کہ ایک ایسی جماعت آئے جو قرآن کو تیر کو درست کرنے کی طرح درست کرے گی، اس کے اجر کو دنیا ہی میں (معاوضہ ،شہرت وغیرہ )طلب کرے گی اور آخرت کے لئے باقی نہیں رکھے گی ۔

حضرت فضیل بن عمرؒوسے روایت ہے : دو صحابی ایک مسجد میں داخل ہوئے ،جب امام صاحب نے نماز سے سلام پھیرا، تو ایک آدمی کھڑا ہوا اور قرآن مجید کی چند آیا ت تلاوت کی،اس کے بعد لوگوں سے بھیک مانگنے لگا ،

ان دو صحابہ میں سے ایک صحابی نے فرمایا ،انا للہ وانا الیہ راجعون میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ آپ ﷺنے فرمایا :

سیجیءقوم یسألون بالقرآن ،فمن سأل بالقرآن، فلاتعطوہ (ھذا الاسناد منقطع فان الفضل بن عمرولم یسمع الصحابة )

ایک قوم آئے گی جو قرآن مجید کوذریعہ بناکر لوگوں سے بھیک مانگے گی ،لہذا جو قرآن پاک کو ذریعہ بناکر مانگے ،اس کو مت دو ۔ (حاملین قرآن :۷۴)