حصول علم کے آداب

حصول علم کے آداب: طلبہ کو چاہئے ان تمام چیزوں سے احتراز کریں جو حصول ِعلم میں رکاوٹ بنتے ہوں،طلبہ کو چاہئے کہ اپنے دلو ں کو گندگیوں سے پاک صاف رکھیں تاکہ دل قرآن کو قبول کرنے اور اس کے یا دکرنے اور فوائد کو حاصل کرنے کے قابل بنیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

الا ان فی الجسد مضغة ،اذا صلحت ،صلح الجسد کلہ ،واذا فسدت، فسد الجسد کلہ ،الا وھی القلب۔

سنو ! جسم میں ایک گوشت کا لوتھڑا ہے ،جب وہ درست ہوجائے ،تو تمام جسم درست ہوجاتاہے، جب وہ خراب ہوجائے، تو تمام جسم خراب ہوجاتاہے ،سنو!وہ دل ہے ۔

کسی کہنے والے نے بڑی اچھی بات کہی ہے: یطیب القلب للعلم کما تطیب الارض للزراعة، علم کے لئے مناسب اورعمدہ دل چاہئے جیساکہ زراعت کے لئے عمدہ زمین چاہئے ۔ طلبہ کوچاہئے کہ اپنے اساتذہ کے ساتھ تواضع کامعاملہ کریں ،اگر چہ عمر میں اپنے سے چھوٹے ہی ہو ں،شہرت ،حسب ونسب کے اعتبار سے کم درجہ کے کیوں نہ ہوں،علم کا ادب واحترام کریں، اسی کے ذریعہ علم حاصل ہوتاہے –

اسی بات کو علماءنے نظم میں بیان کیاہے:العلم حرب للفتی المتعالی ٭ کالسیل حرب للمکان العالی متکبر نوجوان کے لئے علم تباہی کا ذریعہ ہے جیساکہ سیلاب اونچی جگہ کے لئے تباہی کا ذریعہ ہوتاہے ۔ طلبہ کو چاہئے کہ اپنے استاذ کے مطیع وفرمانبردارہوں، تمام امورمیں اپنے اساتذہ سے مشورہ کرتے رہیں اور ان کی باتوں پر عمل کریں ،جیسے عقلمند مریض خیرخواہ وماہرحکیم کی بات کو قبول کرتاہے ۔

قابل اور ذی استعداداعلماءسے علم حاصل کرناچاہئے

طالبِ علم کو چاہئے کہ وہ ایسے کامل وقابل استاذ سے علم حاصل کرے جس کی صلاحیت اچھی ہو ،دینداری ،معرفت اورتقوی میں مشہور ہو۔ حضرت امام ابن سیرین اور امام مالک ؒ نے فرمایا

ھذالعلم دین ،فانظروا عمن تاخذون دینکم۔

یہ علم دین کا ایک شعبہ ہے ،لہذا تم کن لوگوں سے دین کو حاصل کرتے ہو ،اس سلسلہ میں غوروفکر سے کام لو ۔ طالبِ علم کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے استاذ کو احترام کی نگاہ سے دیکھے اور اس کی قابلیت اور اس سلسلہ میں دیگر لوگوں سے افضل وبرتر ہونے کا اعتقاد رکھے ،اس لئے کہ یہ بات استاذ سے فائدہ اٹھانے میں معاون ہوتی ہے ۔

بعض اللہ والے جب اپنے استاذ کی خدمت میں جاتے ،تو کوئی چیز صدقہ کرکے جاتے اور یوں دعاکرکے جاتے-

اللھم استر عیب معلمی عنی ،ولاتذھب برکة علمہ منی

اے اللہ !مجھ پرمیرے استاذ کے عیوب و نقائص کو ظاہر نہ فرما اور میرے استاذ کے علم کی برکت سے مجھے محروم نہ فرما ، امام شافعیؒ کے شاگرد ربیع ؒ نے فرمایا: استاذ کے جلال وہیبت کی وجہ سے مجھے کبھی بھی میرے استاذ امام شافعی ؒ کے سامنے پانی پینے کی ہمت نہیں ہوئی۔

طالب علم کے لئے حضرت علی ؓ کی نصیحتیں

حضرت علی بن طالبؓ سے حصول علم کے آداب کے سلسلہ میں منقول ہے کہ آپ ؓ نے فرمایا : ٭ استاذ کے حقوق اورحصولِ علم کے آداب میں یہ چیزیں بھی داخل ہیں کہ تم عام لوگوں کو سلام کرو؛لیکن بطور خاص استاذ کو سلام کرو۔ ٭استاذ کے سامنے بیٹھو،استاذ کے سامنے ہرگز ہاتھ یا آنکھ سے اشارہ نہ کرواور استا ذکے سامنے یوں مت کہوکہ فلاں شخص جیساآپ کہتے ہیں،اس کے خلاف کہتاہے۔ ٭استاذ کے سامنے کسی کی غیبت نہ کرو ،جب استا ذکی مجلس میں حاضر ہوں،تو کسی کے ساتھ سرگوشی نہ کرو۔

٭جب استا ذکھڑے ہوں، تو ان کے کپڑوں کو مت پکڑو ،جب استاذ سست ہوجائیں ،توان سے کسی بات کے لئے اصرار نہ کرو ۔ استاذ کی صحبت سے اعراض وبے رخی مت کرو ۔ علامہ نوویؒ فرماتے ہیں : طالبِ علم کو چاہئے کہ حضرت علی کرم اللہ وجھہ کی مذکورہ بالانصائح پر عمل کرے ،اگر طالبِ علم کے سامنے استاذ کی کوئی غیبت کرے ،تو جہاں تک ہوسکے مدافعت کی کوشش کرے ،اگر مدافعت ممکن نہ ہو، تو اس مجلس سے چلاجائے ۔(حا ملین قرآن ۴۰تا۴۲ ترجمہ التبیان فی آداب حملۃ القرآن للنوویؒ)

Share this post