حضرت مولانا محمدیوسف بنوری ؒ

حضرت مولانا محمدیوسف بنوری ؒ:آپ کانام سیدمحمدیوسف بن محمدزکریا ہے ،آپ کاسلسلہءنسب حضرت علی زین العابدین کے واسطہ سے حضرت علی بن ابی طالبؓ سے جاملتاہے ۔

آپ کی ولادت ۶ربیع الثانی ۱۳۶۲؁ھ مطابق۱۹۰۸؁ء کوپاکستان میں ہوئی ،آپ کے جدامجد سیدآدم ہندوستان کے مشہورشہر ”انبالہ“کے ایک قریہ ”بنور“میں سکونت اختیارکی تھی ،جس کی وجہ سے آپ کے خاندان کو ”بنوری“ کہاجاتاہے ۔

تحصیل علم

آپ کاخاندان دیانت داری ،تقوی وپرہیزگاری سے متصف تھا ،آپ کے والدمحترم متقی وزاہد اورعالم دین تھے ،آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے والدمحترم سیدمحمدزکریا اور ماموشیخ فضل حمدانی اورشیخ عبداللہ سے حاصل کی ،علامہ بنوری ؒ کی دادی کا تعلق کابل کے شاہی خانوادہ سے تھا ،اس مناسبت سے علامہ یوسف ؒ کے والدمحترم کابل ہی میں مقیم تھے ،چنانچہ علامہ یوسف بنوری ؒ کواپنی ابتدائی تعلیم اورکتب متوسطہ کی تعلیم کے سلسلہ میں کابل وپشاور کے نامورعلماءسے خوب استفادہ کا موقع ملا ۔

اعلی تعلیم کے لئے ۱۳۴۵؁ھ میں ازہرہند”دارالعلوم دیوبند“ میں داخلہ لے کر دوسال حدیث ،اصول حدیث ،نیز تفسیراوراصول تفسیرکی امہات کتب پڑھیں،آپ کے مشہوراساتذہ میں امام العصرمحدث کبیرعلامہ سیدمحمدانورشاہ کشمیری ؒ اورعلامہ شبیراحمدعثمانی ؒ ہیں ،یہ دونوں اکابر جب ”جامعہ اسلامیہ تعلیم الدین“ ڈابھیل تدریس کے لئے تشریف لے گئے ،توعلامہ بنوری بھی اپنے اساتذہ کی معیت میں ڈابھیل چلے گئے اورحضرت شاہ صاحب سے ڈابھیل ہی میں”صحیح بخاری “اورجامع ترمذی “ پڑھی ہے اورآپ شاہ صاحب کے سفروحضرکے خادم اورآپ کے خاص معتمد بن گئے ۔

علمی شان

اللہ تعالیٰ نے آپ کو بیدارمغز ،اخاذذہن ،بصیرت تامہ اورحدیث وتفسیر؛ بلکہ ہرفن میں آپ کومہارت تامہ حاصل تھی ،آپ کو تدریس ،تصنیف ،وعظ وارشادپر یکساںقدرت حاصل تھی۔

تدریسی خدمات

الف:فراغت کے بعد ”پشاور “ میں چال سال تدریسی خدمات انجام دیں ۔
ب:آپ حضرت شاہ صاحب کے علوم کے امین اور شارح تھے، اس وجہ سے حضرت شاہ کی وفات کے بعد ”جامعہ اسلامیہ “ڈابھیل کے ذمہ داروںنے ڈابھیل میں صدرمدرس اور شیخ الحدیث بنادیا ،آپ نے اس جامعہ میں طویل عرصہ تدریسی ،تصنیفی اورعالمی نمائندگی کی مختلف خدمات انجام دیں،ڈابھیل کے تدریسی زمانہ میں حضرت مولاناسیدحسین احمدمدنی صدرالمدرسین دارالعلوم دیوبند اورقاری محمدطیب صاحب ؒمہتمم دارالعلوم دیوبند نے آپ کو ”دارالعلوم“ میں درجہ علیا کے استاذ کی حیثیت سے مدعوکیا ،آپ نے اپنے شیخ کی جانشینی کو ترجیح دی ،۱۹۵۱؁ءمیں علامہ شبیراحمدعثمانی ؒ اور مولانا بدرعالم میرٹھی ؒ کے اصرارپر ”پاکستان “ ہجرت فرمائی ۔

ج:پاکستان ہجرت کرنے کے بعد ”سندھ“ کے علاقہ میں دارالعلوم الاسلامیہ “میں بحیثیت شیخ التفسیر تین سال خدمت انجام دی ۔

د:نیوٹاؤن ،کراچی ،پاکستان میں ”دارالعلوم عربیہ اسلامیہ“ کی بنیادرکھی ،اصلاً اس مدرسہ کو علامہ بنوری ؒ نے فارغ التحصیل علماءکے لئے تخصصات کی غرض سے قائم فرمایا تھا اورآپ نے اپنی زندگی میں ”تخصص فی الحدیث“”تخصص فی الفقہ الاسلامی “ اور”تخصص فی الدعوة والارشاد“کو شروع فرمادیاتھا،طلبہ کے رجوع اور لوگوں کے اصرارکی وجہ سے ثانوی تعلیم شروع فرمائی ،اس جامعہ سے پچیس سے زائد ملکوں کے طلبہ نے استفادہ کیاہے ۔

ہ:آپ نے دینِ اسلام کی اشاعت وحفاظت کے لئے ماہنامہ ”بینات“ کاسلسلہ شروع فرمایا جس میں ”بصائروعبر“ کے عنوان سے اداریہ تحریرفرماتے تھے ،اسلام پرہونے والے حملوں کا پوری قوت سے مدافعت فرماتے،یہ ماہنامہ اسم بامسمی تھا ۔

و:آپ جمیة العلماءگجرات کے صدر،جامعہ ڈابھیل کے شیخ الحدیث ،دارالعلوم اسلامیہ تندو،الہ یار،کے شیخ التفسیر،المجمع العلمی العربی دمشق کے رکن ،اورمجمع البحوث الاسلامیہ کے رکن ،تحفظ ختمِ نبوت اوروفاق المدارس پاکستان کے صدر اور جامعہ العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی کے بانی تھے۔

فرقِ ضالہ کی تردید

عنایت اللہ مشرقی کی خاکسارجماعت ،غلام احمدپرویزکاانکارِحدیث کا فتنہ ،مودودیت کا فتنہ اوربطورخاص فتنہءقادیانیت کے لئے آپ نے پورے پاکستان کی خاک چھان کر امت کو اس کی ضلالت وگمراہی اورا ن کے دجل وتلبیسات سے متنبہ کیا ،امت مسلمہ کی متعلق یہ بے قراری وبے چینی بھی علامہ یوسف بنوری ؒ کو اپنے استاذ محترم سے وراثت میں ملی تھی ۔

آپ فرماتے ہیں کہ حضرت شاہ صاحب ؒنے فرمایا: جب قادنیت کا فتنہ شروع ہوا، تو مجھے چھ ماہ نیندنہیں آئی ،اس خوف سے کہ کہیں یہ فتنہ امت مسلمہ کو فنانہ کردے؛ لیکن اللہ نے شرح صدرفرمایاکہ یہ فتنہ اپنے آپ مرے گا،اسلام اورمسلمانوں کا کوئی نقصان نہیں ہوگا ،اس فتنہ کے دعاوی کے ابطال کے لئے آپ نے” التصریح بماتواترفی نزول المسیح“ تصنیف فرمائی اورحضرت مفتی شفیع عثمانی ؒ سے ”ختم نبوت “کی تصنیف کروائی ۔

تصانیف

الف:نفحة العنبرفی حیاة امام العصرالشیخ انور اپنے استاذ محترم کی سوانح(عربی)
ب:تمیة البیان فی شئی من علوم القرآن علامہ انورشاہ کشمیری کی کتاب مشکلات القرآن کے لئے وقیع مقدمہ،ج:معارف السنن شرح جامع ترمذی

تلامذہ

آپ سے مختلف مقامات میں استفادہ کرنے والے طلبہ کی تعدادبے شمارہے ،جن میں سرفہرست مشہورعربی محدثین شیخ عبدالفتاح ابوغدہ شامی،حسن مشاط مالکی، استاذمدرسہ صولیتہ ،مکہ المکرمہ بھی شامل ہیں ۔ (ملخص از مقدمہ معارف السنن)ابوفیضان قاسمی جامعہ غیث الہدی بنگلور

درس قرآن،درس حدیث ، فقہ وفتاوی، تعارف ،سیرت وسوانح ،اصلاحی علمی اورتحقیقی مضامین کے لئے فیضان قاسمی ویب سائٹhttps://faizaneqasmi.com کی طرف رجوع فرمائیں،دوست واحباب کو مطلع کریں ۔