خادمین مسجد کی فضیلت

خادمین مسجد کی فضیلت: اللہ تبارک وتعالیٰ نے روئے زمین پر انسانوں کی آبادی اور انسانوں کے لئے گھروں کی تعمیرسے پہلے اپنی عبادت کے لئے مکہ مکرمہ میں اپنا گھرکعبہ و بیت اللہ کو فرشتوں یاحضرت آدم علیہ السلام کے ہاتھوں تعمیرکروایا ۔

طوفانِ نوح میں اس کے نشانات وغیرہ مٹ چکے تھے اور اس گھر کوتاقیامِ قیامت عبادت کرنے والوں کے ذریعہ آبادکرنے کا اردہ فرمایا، تواللہ تعالیٰ نے ابوالانبیاءسیدنا حضرت ابراہیم علیہ السلام اور سیدنا حضرت اسماعیل علیہ السلام کو ہدایت دی اور ان حضرات نے ”کعبة اللہ “کواپنے ہاتھوں سے تعمیرفرمایا ،مٹی گارا ملانا ،مٹی اورپتھر لانے کا کام حضرت اسماعیل علیہ السلام انجام دیتے تھے او رحضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے دست مبارک سے پتھر کو گارے سے جوڑ کر تعمیر مکمل کرتے تھے ۔

حضرت سلیمان علیہ االسلام نے اپنی زندگی کاایک بڑا حصہ” مسجد اقصی“ کی تعمیرمیں صرف فرمایا ،اس کی تعمیرمیں انسانی وجناتی قوتوں کا خوب استعمال فرمایا ۔

مسجد کی تعمیرمیں رسول اللہ ﷺ کی بنفس نفیس شرکت

اسلام سے پہلے آپ علیہ السلام کے بچپن میں قریشِ مکہ نے کعبة اللہ کی ازسرنوتعمیرکی ،آپ علیہ السلام اس تعمیر میں شریک تھے ،لوگ پتھراٹھاکرلاتے تھے ،آپ علیہ السلام بھی لوگوں کے ساتھ بالخصوص حضرت عباسؓکے ساتھ کعبة اللہ کی تعمیر کے لئے پتھر اٹھاکرلایاکرتے تھے ۔(المستدرک للحاکم :۷۳۵۷،قال الذھبی صحیح )

اس تعمیرکے موقع پرقریشِ مکہ کے درمیان ایک گھمسان کی لڑائی کا امکان پیداہوگیا تھا،اس لئے کہ کعبة اللہ کی تعمیر مکمل چل رہی ہے اورحجراسود کو اس کی جگہ پر نصب کرنے کا وقت آگیاہے ،مکہ کا ہرخاندان وقبیلہ کی خواہش ہے کہ حجراسودکو اس کی جگہ میں رکھنے کی سعادت حاصل کرے۔

لوگ اس کے لئے خون کے پیالوں میں ہاتھ ڈال کرقسمیں بھی کھا چکے تھے، ایسے موقع پر ابوامیہ بن مغیرہ (جو قریش میں سب سے زیادہ معمرتھا )رائے دی کہ” کل صبح سب سے پہلے جو شخص کعبة اللہ میں داخل ہو، اس شخص کو فیصلہ کی سعادت حاصل ہو،سب نے اس رائے کو قبول کرلیا ۔(سیرة النبی ۱۱۶/۱)

کرشمہءربانی کہ صبح سویرے سب سے پہلے لوگوں کی نظریں جس ہستی پرپڑیں،وہ جمالِ جہاں تاب ،آپ علیہ السلام کانورانی چہرہ تھا،آپ علیہ السلام باب بنی شیبہ سے داخل ہورہے تھے ؛لیکن رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سعادت کو تنہا حاصل کرنا پسندنہیں فرمایا ؛بلکہ تمام قبائل جو اس کے دعویدارتھے، ان میں سے ہرایک خاندان سے ایک ایک سردارکومنتخب فرمایا اور ایک چادرمیں حجراسود رکھا ۔

پھرآپ علیہ السلام نے ان سرداروں سے فرمایا : اس چادرکو پکڑکراٹھاﺅ، جب چادرحجراسود نصب کرنے کی جگہ کے قریب ہوگئی، توآپ علیہ السلام نے حجراسود کو اپنے دست مبارک سے اٹھاکراس کی جگہ میں نصب فرما دیا ۔(المستدرک۱۶۸۴،مسند طیالسی :۱۱۵)اس طرح آپ علیہ السلام کی حکمت بالغہ وتدبیر کاملہ سے قریش کو ایک بھیانک جنگ سے نجات ملی ۔

خادمین مسجدحضرات صحابہ

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ سے ہجرت فرماکر مدینہ منورہ تشریف لے آئے ،تو آپ علیہ الصلوة والسلام نے سب سے پہلے تعمیرِمسجدکی فکر فرمائی ،قباءکی بستی میں مسجد قباکی بنیادرکھی اورمدینہ منورہ میں دو یتیم بچوں کی زمین خریدی اور اس زمین پر مسجد نبوی کی تعمیرفرمائی او رمسجد کی تعمیر حضرات صحابہ ؓاور آپ علیہ الصلوة السلام ہی نے اپنے ہاتھوں سے فرمائی۔

حضرات صحابہ پتھراٹھااٹھاکرلاتے تھے اوریہ رشعر: اللھم لاخیرالاخیرالآخرة ٭ فانصرالانصار،والمھاجرة اے اللہ !کامیابی صرف آخرت کی کامیابی ہے ، اے اللہ! انصارومہاجرین کی مددفرما ۔ ایک روایت میں ہے، انصارومہاجرین کی مغفرت فرما۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کی آواز کے ساتھ اپنی آواز ملاتے تھے۔ (مسلم باب بناءالمسجد ۲۰۰/۱)

حضرت ابوسعیدخدری ؓفرماتے ہیں : ہم لوگ مسجد نبوی کی تعمیرکے موقع پرایک ایک پتھرلے آرہے تھے ،حضرت عمار ؓ دودوپتھرلارہے تھے ، معمر بن راشدکی روایت میں ہے کہ ایک اپنی طرف سے دوسرارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ،جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمارؓکو اس حالت میں دیکھاکہ ان کا سرغبارآلودہے ،آپ علیہ االسلام ان کے سر کو صاف فرماتے ہوئے ارشادفرمایا : عمار!تمہارا بھلا ہو ،تمہیں باغی جماعت شہید کرے گی ۔(بخاری۳۹۴/۱کتاب الجہاد)

مستدرک اوربیہقی کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا : اے عمار! تم اپنے ساتھیوں کی طرح ایک ایک پتھر کیوں نہیں لاتے ؟عرض کیا ،یارسول اللہ ! زیادہ اجروثواب حاصل کرنے کے لئے کررہاہوں۔(مستدرک:۲۸۵۳)

خادمین مسجد کی حوصلہ افزائی

مذکورہ دونوں حدیثوں سے معلوم ہواکہ آپ علیہ السلام خادمین مسجد کے ساتھ شریک ہیں اوران کی ہمت افزائی، محبت کا اظہار،اکرام کا معاملہ اوران کودنیا وآخرت کی دعاﺅں سے نوازرہے ہیں ۔

لہذا ہم کو بھی چاہئے کہ ہم مسجد کی خدمت میں براہ راست اپنی طاقت بھر چھوٹی بڑی جانی ،مالی ،قولی و فعلی خدمت میں حصہ لے کردارین کی سعادت حاصل کریں اور مساجدکی خدمت کرنے والوں کے ساتھ محبت،اکرام اور حسن سلوک کے ساتھ پیش آئیں۔

اس لئے کہ اللہ کے گھروں کی خدمت حضرات انبیاء،ہمارے جدامجدابوالانبیاءسیدناابراہیم ،ہمارے آقا جنا ب محمد رسول اللہ علیہ وسلم اور حضرات انبیاءکے بعدروئے زمین پر سب سے برگزیدہ جماعت جماعتِ صحابہ نے بنفس نفیس کی ہے ۔

امام بخاریؒ نے اپنی کتاب” الجامع الصحیح “میں ایک باب قائم فرمایا ”باب الخدم فی المسجد“اس کے تحت” انی نذرت لک مابطنی محررا “کی تفسیر میں حضرت ابن عباسؓ کا قول نقل فرمایاہے کہ ”اے اللہ میں نے اپنے پیٹ میں جو بچہ ہے اس کو تیرے گھرکے لئے آزادیعنی خادم بنانے کی نذرکی ہے ۔(بخاری۶۵/۱)

علامہ عینی ؒشارح بخاری فرماتے ہیں : حضرت مریم کی والدہ حضرت حنہ نے یہ نذرمانی، اگر مسجد کی خدمت انتہائی عظمت ،احترام اورعبادت کی چیز نہ ہوتی، تو یہ نذرصحیح نہ ہوتی،اس سے معلو م ہواکہ مسجد کی خدمت نہایت عظیم عبادت ہے، نیز سابقہ امتوں میں مسجد کی خدمت کے لئے نذرماننا بھی صحیح تھا ،یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ا س کو مقام مدح میں بیان فرمایا ہے ۔(عمدة القاری ۵۰۹/۳)

امیرالمؤمنین حضرت عمرؓ اورمسجدکی صفائی

حضرت عمرؓ ایک مرتبہ مسجد قباءتشریف لائے اور دورکعت نماز پڑھی اور فرمایا :اے اوفی !کھجورکی چھڑی لے آﺅ، جب اوفی کھجورکی چھڑی لے آئے ،تواس میں اپنے کپڑے کو لپیٹا اورجھاڑوکی طرح بناکر مسجد کی صفائی فرمائی۔ (فتح الباری لابن رجب باب کنس المسجد ۳۵۰/۳ )

اس حدیث سے ہم اندازلگاسکتے ہیں کہ آپ علیہ السلام خادمین مسجد سے کس قدرمحبت فرماتے او ر خادمین مسجد کی خبرگیری فرماتے تھے او رعلماءنے فرمایا کہ مسجد کی خدمت ہی کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی قبر پرنماز جنازہ ادافرمائی او راس کے لئے مغفرت کی دعا فرمائی ۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک حبشی عورت ام محجن ؓمسجد کی خدمت کیاکرتی تھیں ،مسجد کا کوڑا کرکٹ تنکے وغیرہ صاف کیا کرتی تھیں ،چنددن وہ نظرنہ آئیں، آپ علیہ السلام نے دریافت فرمایا: وہ عورت کہاں ہے ؟حضرت ابوبکر ؓ نے عرض کیا: یارسول اللہ ! اس عورت کا انتقال ہوگیا اور ہم نے اس عورت کو دفن بھی کردیا ۔

آپ علیہ السلام نے فرمایا : تم لوگوں نے مجھے اس کی موت کی خبرکیوں نہیں دی ،حضرات صحابہ ؓ نے عر ض کیا، یارسول اللہ !رات کا وقت تھا ،اس وجہ سے ہم نے آپ کو تکلیف دینا پسندنہیں کیا ،آپ علیہ االسلام نے فرمایا : مجھے اس عورت کی قبر بتاﺅ ،جب حضرات صحابہ ؓ نے اس خادمہءمسجد کی قبربتائی، تو آپ علیہ السلام نے اس عورت کی قبر پر نماز جناز ہ ادافرمائی ۔(بخاری:۶۵/۱رقم:۴۵۸ )

درس قرآن ،درس حدیث، فقہ وفتاوی ،سیرت وسوانح ، علمی واصلاحی دینی مضامین کے لئے فیضان قاسمیhttps://faizaneqasmi.com رجوع کیجئے اورکو متوجہ کیجئے ۔