ختم قرآن اور اس سے متعلقہ امور

ختم قرآن اور اس سے متعلقہ امور

پہلا مسئلہ(۱) قرآن ِپاک کے ختم کا وقت،اگر تنہاتلاوت کرنے والاختم کرنا چاہتاہے، تو اس کے لئے بہتر وقت نماز کی حالت ہے ۔

ایک قول یہ ہے کہ فجر کی سنت یا مغرب کی سنت میں ختم کرنا افضل ہے ،فجر کی سنت مغرب کی سنت سے افضل ہے ۔

نیز ایک دور شروع دن میں اور ایک دور شروع رات میں ختم کرنا مستحب ہے ،جو لوگ نماز سے باہر یا اجتماعی اعتبار سے ختم کرتے ہیں ،ان کے لئے بھی یہی مستحب ہے کہ شروع دن میں یا شروع رات میں ختم کرے اور بعض علماءکے نزدیک شروع دن افضل ہے۔

دوسرا مسئلہ(۲) جس دن قرآن پاک کا ختم ہو، اس دن روزہ رکھنا مستحب ہے الا یہ کہ وہ دن ان دنوں میں سے نہ ہو جس میں روزہ رکھنا شرعًا ممنوع ہو ۔

ابن ابی داؤد ؒ نے حضرت مطرف ،حبیب بن ابی ثابت اور مسیب بن رافع رحمھم اللہ سے نقل کیاہے کہ کوفی تابعین حضرات جس دن قرآن پاک ختم کرنے کا ارادہ کرتے، اس دن روزہ رکھاکرتے۔

ختم قرآن کی مجلس میں شرکت

تیسرا مسئلہ(۳) ختم قرآن کی مجلس میں حاضرہونا مستحب ہے ۔

صحیحین میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ علیہ الصلوة والسلام حائضہ عورتوں کو عید ین میں شرکت کا حکم دیتے تاکہ مسلمانوں کی نماز اور دعا میں شریک ہوسکیں ۔

(فتنوں کی وجہ سے متاخرین ِفقہاءنے عورتوں کو مسجداور عیدگاہ میں آنے سے منع فرمایاہے ،متعددصحابہ کرام ؓ کے آثاراس پر حجت ہیں،ازمترجم)

امام دارمی ؒاورابن ابی داؤدؒ نے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے نقل کیاہے کہ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ نے ایک شخص کو اس بات کی ذمہ داری دی تھی کہ وہ قرآن کی تلاوت کرنے والوں کی نگرانی کرے، جب قرآن مکمل ہوجائے ،تو حضرت ابن عباس ؓ کو بتائے تاکہ اس مجلس میں شرکت کرسکیں۔

ابن ابی داؤد نے دوصحیح سندوں سے حضرت انس ؓ کے تلمیذ خاص حضرت قتادہ ؒ سے نقل کیاہے کہ حضرت قتادہ ؒ فرماتے ہیں : جب حضرت انس ؓ قرآن پاک ختم فرماتے، تو اپنے گھروالوں کو جمع فرماتے اور دعاکرتے ۔

ابن ابی داؤد نے اپنی کئی صحیح سندوں سے حکم بن عتبہ جلیل القدر تابعیؒ سے نقل کیا ہے کہ آپؒ نے فرمایا : حضرت مجاہد ؒ اور عتبہ بن ابی لبابہؒ نے مجھے بلابھیجا اور ان حضرات نے فرمایا کہ ہم نے قرآن ختم کرنے کا ارداہ کیا ہے، اس لئے تمہیں بلا بھیجاہے اور ختم قرآن کے موقع پر دعا قبول ہوتی ہے۔

بعض صحیح روایات میں (ابن ابی داؤد کی )ہے کہ ختم قرآن کے موقع پر دعاقبول ہوتی ہے۔

اور حضرت مجاہد ؒ سے صحیح سند کے ساتھ نقل کیاہے کہ کانوا یجتمون عند ختم القرآن ،یقولون تنزل الرحمة،وہ حضرات (تابعین )ختم قرآن کے موقع پر جمع ہوتے تھے اور کہتے تھے، رحمت نازل ہوتی ہے ۔

ختم قرآ ن کے وقت دعا کرنا مستحب

چوتھامسئلہ(۴)ختم قرآ ن کے وقت دعا کرنا مستحب ہے ۔

امام دارمی نے حمید اعرج ؒ سے نقل کیاہے ،آپ ؒ نے فرمایا : جو آدمی ختم قرآن کے موقع پر دعاکرتاہے، اس کی دعاپر چارہزار فرشتے آمین کہتے ہیں ،لہذا چاہئے کہ دعامیں الحاح وزاری کرے ،اہم ضروریات کو طلب کرے ، ائمہ مسلمین اور تمام ذمہ داروں کی صلاح وفلاح کے لئے دعاکرے ۔

امام حاکم ابوعبداللہ نیساپور ی ؒ نے حضرت عبد اللہ بن مبارک ؒ سے روایت کیاہے کہ جب حضرت عبداللہ بن مبارک ؒ قرآن مجید ختم فرماتے، تو آپ کی اکثر دعاعام مسلمان مرد اور مسلمان عورتوں کے لئے ہوتی تھی ،اسی طرح دیگر اکابر سے بھی یہ بات منقول ہے ۔

تلاوت سے فارغ ہونے کے بعد جامع دعائیں مانگے جیسے

اللهم أصلح قلوبنا وأزل عيوبنا وتولنا بالحسنى وزينا بالتقوى واجمع لنا خير الآخرة والأولى وارزقنا طاعتك ما أبقيتنا

اے اللہ !ہمارے دلوں کی اصلاح فرما ،ہمارے عیوب کو دور فرما ،ہمارے لئے بھلائی کی ذمہ داری قبول فرما ،ہمیں تقوی سے آراستہ فرما ،ہمارے لئے دنیا وآخرت کی بھلائی کو جمع فرما اور جب تک ہمیں زندہ رکھے، اطاعت کی توفیق عطافرما۔

اللهم يسرنا لليسرى وجنبنا العسرى وأعذنا من شرور أنفسنا وسيئات أعمالنا وأعذنا من عذاب النار وعذاب القبر وفتنة المحيا والممات وفتنة المسيح الدجال۔

اے اللہ !ہمارے لئے جنت کو آسان فرما ،ہمارے سے جہنم کو دورفرما ،ہمیں اپنے نفس کی شرارتوں اور برے اعمال سے حفاظت نصیب فرما ،جہنم اور عذاب قبر سے پناہ نصیب فرما ،زندگی ،موت اور مسیح دجال کے فتنہ سے پناہ نصیب فرما ۔

اے اللہ! ہم آپ سے ہدایت ،تقوی، پاکدامنی اور وسعت کا سوال کرتے ہیں

اللهم إنا نسألك الهدى والتقوى والعفاف والغنى۔

اے اللہ! ہم آپ سے ہدایت ،تقوی، پاکدامنی اور وسعت کا سوال کرتے ہیں۔

اللهم إنا نستودعك أدياننا وأبداننا وخواتيم أعمالنا وأنفسنا وأهلينا وأحبابنا وسائر المسلمين وجميع ما انعمت علينا وعليهم من أمور الآخرة والدنيا۔

اے اللہ !ہم ہمارے دین ،ہمارے جسم ،ہمارے اعمال کے نتائج ،ہمارے نفوس ،ہمارے اہل ،ہمارے زندہ لوگ ،تمام مسلمان اور ہم پر اور تمام مسلمانوں پر جو نعمتیں آپ نے ہمیں دنیا وآخرت کی عطا فرمائی ہیں ،ان تمام کوہم آپ کے پا س امانت رکھتے ہیں۔

اللهم إنا نسألك العفو والعافية في الدين والدنيا والآخرة واجمع بيننا وبين احبابنا في دار كرامتك بفضلك ورحمتك۔

اے اللہ ! ہمیں دنیا وآخرت میں عفو اور عافیت نصیب فرم،اے اللہ ! ہمیں اور ہمارے احباب کو اپنے فضل اور رحمت سے اپنے عزت کے گھر میں جمع فرما۔

اللهم أصلح ولاة المسلمين ووفقهم للعدل في رعاياهم والاحسان إليهم والشفقة عليهم والرفق بهم والاعتناء بمصالحهم وحببهم إلى الرعية وحبب الرعية إليهم ووفقهم لصراطك الذي المستقيم والعمل بوظائف دينك القويم۔

اے اللہ !مسلمانوں کے ذمہ داروحکام کی اصلاح فرما،انھیں اپنی رعایا کے ساتھ انصاف ،احسان،ان کے ساتھ شفقت ونرمی کا معاملہ کرنے اور رعایا کی مصلحتوں کی طرف توجہ کرنے کی توفیق عطافرما،ذمہ داروں کی محبت رعایا کے دلوں میں اور رعایا کی محبت ذمہ داروں کے دلوں میں پیدا فرما ،انھیں اپنی سیدہ راہ چلنے اور آپ کے دینِ قویم کی ذمہ داریوں کو پوراکرنے کی توفیق عطافرما ۔

اے اللہ !اپنے بندے ہمارے ولی عہد کودنیا وآخرت کے تمام مصالح کی توفیق عطافرما

اللهم الطف بعبدك سلطاننا ووفقه لمصالح الدنيا والآخرة وحببة ألى رعيته وحبب الرعية إليه۔

اے اللہ !اپنے بندے ہمارے ولی عہد کے ساتھ نرمی کا معاملہ فرما ،دنیا وآخرت کے تمام مصالح کی توفیق عطافرما، ولی عہد کو رعایا کا محبوب بنا اوررعایاکو ولی عہد کا محبوب بنا ۔

اللهم ارحم نفسه وبلاده وصن أتباعه وأجناده وانصره على أعداء الدين وسائر المخالفين ووفقه لإزالة المنكرات وإظهار المحاسن وأنواع الخيرات وزد الاسلام بسببه ظهورا وأعزه ورعيته إعزازا باهرا۔

اے اللہ! اس پر رحم فرما ! اس کے بلاد پر رحم فرما اوراس کے متبعین اور فوج کی حفاظت فرما ،دین کے دشموں اور مخالفین کے خلاف اس کی مددفرمااور اس کو منکرات کے ازالہ کی اورخیر وبھلائی کو عام کرنے کی توفیق عطافرما،اس کے ذریعہ اسلام کے ظہور میں ترقی نصیب فرما ،ولی عہد کو اور اس کی رعایا کو بہترین اعزاز نصیب فرما ۔

اللهم أصلح أحوال المسلمين وأرخص أسعارهم وأمنهم في أوطانهم واقض ديونهم وعاف مرضاهم۔

اے اللہ! مسلمان کے حالات کو درست فرما ،قیمتوں کو ارزاں فرما ،مسلمانوں کے ملکوں میں امن نصیب فرما ،ان کے قرضوں کو ادافرما اوران کے بیماروں کو صحت نصیب فرما ۔

وانصر جيوشهم وسلم غيابهم وفك أسراهم وأشف صدورهم وأذهب غيظ قلوبهم وألف بينهم واجعل في قلوبهم الايمان والحكمة وثبتهم على ملة رسولك صلى الله عليه وسلم: وأوزعهم ن يوفوا بعهدك الذي عاهدتهم عليه۔

اے اللہ ! ان کے لشکروں کی مددفرما ،ان کے غائبین کو سلامتی عطافرما ،ان کے قیدیوں کو رہا فرما ،ان کے دلوں میں سکون نصیب فرما ،ان کے دلوں کے غصہ کو دور فرما ،مسلمانوں میں الفت پیدافرما ،ان کے دلوں میں ایمان وحکمت پیدافرما ،انھیں رسول اللہ ﷺ کی ملت پر استقامت نصیب فرما ،اے اللہ !انھیں اس عہد کو پورا کرنے کی توفیق عطافرماجس کا تونے ان سے عہد لیاہے ۔

وانصرهم على عدوك وعدوهم إله الحق واجعلنا منهم

اے اللہ ! ان کے دشمنوں اور تیر ے دشمنوں کے خلاف ان کی مددفرما،اے معبود برحق !ہمیں بھی ان میں شامل فرما۔

اللهم اجعلهم آمرين بالمعروف فاعلين به ناهين عن المنكر مجتنبين له محافظين على حدودك قائمين على طاعتك متناصفين متناصحين۔

اے اللہ! مسلمانوں کونیکی کرتے ہوئے نیکیوں کو کا حکم کرنے والا ،برائی سے بچتے ہوئے برائیوں سے روکنے والا بنا ،تیر ے حدود کی حفاظت کرنے والا ،تیر ی طاعت پر قائم رہنے والا، آپس میں انصاف اور خیر خواہی کرنے والا بنا ۔

اللهم صنهم لأن في أقوالهم وأفعالهم وبارك لهم في جميع أحوالهم۔

اے اللہ! مسلمانوں کی اقوال وافعال کے اعتبارسے حفاظت فرما اور ان کے تمام حالات میں ان کے لئے برکت عطافرما ۔

دعاکرنے والے کو چاہئے کہ اپنی دعاکی ابتداء اورختم ان کلمات پرکرے

الحمد لله رب العالمين حمدا يوافي نعمه ويكافئ مزيده

اللهم صل وسلم على سيدنا محمد وعلى آل محمد كما صليت على ابراهيم وعلى آل ابراهيم وبارك على محمد وعلى آل محمد كما باركت على إبراهيم وعلى آل إبراهيم في العالمين إنك حميد مجيد۔

پانچواں مسئلہ(۵) جب ایک قرآن مجید مکمل ہوجائے ،تو فورًا دوسرا شروع کردے ،اسلاف نے اس کو مستحب فرمایاہے ،اس سلسلہ میں حضرت انس ؓ کی حدیث سے استدلال کیاہے

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

خير الأعمال الحل والرحلة قيل وما هما قال افتتاح القرآن وختمه۔

سب سے بہترین عمل حل اور رحلہ( منزل پراترنا اورآگے کے لئے چلنا )ہے ،عرض کیا گیا کہ یہ دونوں چیزیں کیاہیں ؟آپ ﷺنے فرمایا: قرآن کا ختم کرنا اور دوسراشروع کرنا ۔

(حاملین قرآن ،ختم قرآن اور اس سے متعلقہ امور۱۱۴تا۱۲۰)