ختم نبوت اورہماری ذمہ داری 195

ختم نبوت اورہماری ذمہ داری

٭ ناموس رسالت کی پاسبانی اورختم نبوت کا تحفظ ہرمسلمان کا اولین فرض، دینی غیرت کا تقاضا اورعشق رسول کی پکارہے۔
٭ عقیدہ ختم نبو ت دین کے بنیادی اوربدیہی عقائدمیں سے ہے،اس کی حقیقت،حیثیت وحکم اوراس سے متعلقہ تفصیلات کا جاننا پہلی ذمہ داری ہے
اور عامۃ المسلمین کو اس اہم عقیدہ سے متعلق آگاہ کرناتاکہ امت اپنے بنیادی عقیدہ کوجانے اور کسی بھی جھوٹے مدعیئ نبوت کے دجل وفریب کا شکارنہ ہو۔
٭ ختمِ نبوت عقیدہ بھی اورعقیدت بھی،ختمِ نبوت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امتیازی شان اورآپ کے لئے خصوصی انعام ہے،اب کوئی نبوت کا دعوی کرے تو وہ آپ کا گستاخ اور اس کی تصدیق کرنے والے بھی گستاخ رسول ہیں،لہذاناموسِ رسالت کی حفاظت کے لئے اس طرح کے مدعیان نبوت کی خبرلینااور امت کے بھولے بھالے مسلمان جوان کا شکارہوگئے ہیں ان مکاروں کے چنگل سے نکالنا اور اس طرح کے کذابوں سے امت کی حفاظت کرنا۔
٭ علماء،خطباء،ائمہ حضرات کاختم نبوت پرمشتمل آیات واحادیث کی تشریح کے موقع پر اپنے خطبات،مواعظ ودروس میں بطور خاص روشنی ڈالنا،
نیز سیرۃ النبی کے عنوان پر منعقدہونے والا جلسوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس امتیازی شان کو ممتاز بناکربھی پیش کیا جاسکتاہے۔
٭ عام فہم اور آسان انداز میں عقیدۂ ختم نبوت سے متعلق اردو،مقامی اوردیگرعلاقائی زبانوں میں چھوٹے چھوٹے رسائل کی اشاعت اور انہیں عامۃ المسلمین تک پہنچانے کاانتظام و ا ہتمام کرنا۔
٭ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام گرامی لیاجائے تو”سیدالمرسلین وخاتم النبیین“کی تعبیراختیارکی جائے تاکہ آپ کی ختم نبوت کا باربارتذکرہ ہوتاکہ عوام وخواص کے ذھن میں راسخ ہوجائے۔
علامہ قسطلانی شارح بخاری تحریرفرماتے ہیں:
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ پر حاضری دینے والوں کے لئے صلوۃ وسلام کے بہترین تعبیر السلام علیک یا سیدالمرسلین وخاتم النبیین ہے
(المواھب اللدنیہ ۳/۶۹۵)
ناموس رسالت کی حفاظت اورجھوٹے مدعیان نبوت کے دجل وفریب سے امت کو بچانے کے لئے حضرت سیدابوبکر صدیقؓ،حضرت خالدبن ولیدؓاوردیگرصحابہ نے تحفظ رسالت اور امت کی حفاظت کے لئے جس طرح کی قربانیاں پیش کیں، محدث العصر علامہ سیدانورشاہ کشمیری ؒ اور آپ کے تلامذہ حضرت مولانا مفتی محمد شفیع عثمانی اورحضرت مولانا مرتضی حسن چاندپوری اور مولانا یوسف بنوری وغیرہ اکابردارلعلوم نے جس طرح غلام احمدقادیانی کا مقابلہ کیا، اس کے شروروفتن سے امت کا آگاہ کیا اور اس کے لئے جانی ومالی قربانیاں پیش کیں،اگر ہم مقدروبھرکوشش نہیں کریں گے توہم اللہ کے پاس کیاجواب دیں گے اور میدان محشرمیں حوض کوثر پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دربارمیں کیا منہ لے کرجائیں گے،علامہ انورشاہ کشمیری ؒ کا وہ تاریخ جملہ بھی ہمیں یادرکھنا چاہئے ”اگرہم تحفظ ختم نبوت نہ کرسکیں، تو گلی کا کتابھی ہم سے بہترہے“۔
بروز جمعہ ۶۲ /اگست ۲۳۹۱؁ء جامع مسجدالصادق بہارولپور میں علامہ سیدانورشاہ کشمیریؒ کو نماز جمعہ اداکرنی تھی،مسجد نمازیوں سے بھری ہوئی تھی، قرب وجوارکے گلی کوچے نمازیوں سے بھرے ہوئے تھے،نماز کے بعد علامہ انورشاہ کشمیری ؒ نے اپنی تقریرکا آغاز کرتے ہوئے ارشادفرمایا: میں خونی بواسیرکے مرض کے غلبہ سے نیم جان تھا،ڈابھیل کے لئے سفر کے لئے پابرکاب تھاکہ اچانکہ شیخ الجامعہ (بھاول پور)کامکتوب مجھے ملا،جس میں بہاول پہنچ کر مقدمہ کی شہادت (ختم نبوت اور قادیانی کے کافرہونے کی) دینے کے لئے لکھاگیا تھا،میں نے سوچاکہ میرے پاس کوئی زادراہ ہے نہیں؟شاید یہی چیز ذریعہ نجات بن جائے کہ میں حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے دین کا جانب دار بن کر یہاں آیاہوں،یہ جملہ سن کر مجمع بے قرارہوگیا،آپ کے ایک شاگر مولانا عبدالحنان ہزاری آہ وبکا کرتے ہوئے کھڑے ہوئے اورمجمع سے بولے کہ اگر حضرت کو بھی اپنی نجات کا یقین نہیں،پھراس دنیا میں کس کی مغفرت متوقع ہوگئی؟اس کے علاوہ مزید چندتوصیفی کلمات عرض کئے،جب وہ صاحب بیٹھ گئے تو حضرت شاہ صاحب نے مجمع سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ان صاحب نے ہماری تعریف میں مبالغہ کیاہے؛ حالانکہ ہم پر یہ بات کھل گئی کہ
”گلی کا کتا بھی ہم سے بہتر ہے، اگرہم تحفظ ختم نبوت نہ کرسکیں“
حضرت شاہ صاحب اس مقدمہ سے فارغ ہوکر ڈابھیل تشریف لے گئے؛ لیکن چند ہی دن میں اس مرض نے مزید شدت اختیارکرلی دوبارہ آپ دیوبند

تشریف لے آئے اور آخرت کے سفرپر روانہ ہوگئے۔(مستفاد: کمالات انوری،احتساب قادیانیت۳/۶۳)
عبداللطیف قاسمی خادم تدریس جامعہ غیث الہدی بنگلور
۶۲/ربیع الاول ۰۴۴۱؁ھ م مطابق ۵/دسمبر ۸۱۰۲؁ھ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں