خوش گوارازداوجی زندگی کے اصول

خوش گوارازداوجی زندگی کے اصول: نکاح کامقصد میاں بیوی کا پرسکون عزت وعفت کی زندگی گزارنا ہے ،پرسکون زندگی گزارنے کے لئے ایک دوسرے کے حقوق کی ادائیگی اور ایک دوسرے کے ساتھ اخلاقی فرائض کا مظاہرہ بھی ضروری ہے۔

بعض خاونداکثروبیشترنامناسب رویہ اورنامناسب حرکتیں اختیارکرتے ہیں جن کی وجہ سے عورتیں شوہروں سے بیزار،مایوس اور پریشان رہتی ہیں اور میاں بیوی دونوں کا سکون بربادہوجاتاہے ۔

مشائخ نے اخلاقی فرائض کو بیان کیاہے جن میں سے بعض اہم اخلاقی فرائض یاشوہروں کی بعض خطرناک غلطیاں جن کا خیال نہ کرنے سے گھراجڑ تے ہیں انہیں ذیل میں ذکرکیاجارہاہے۔

بیوی کو نظرانداز کرنا

شوہرکی ہراعتبارسے بیوی خدمت کرتی ہے اور شوہرکو خوش کرنے کی کوشش کرتی ہے ،بیوی کی خواہش ہوتی ہے کہ شوہرمیری تعریف کرے ،اگرشوہربیوی کی تعریف اور اس کی حوصلہ افزائی کرے ،تو بیوی خوش ہوگی او رشوہرکو خوش رکھے گی ،اس لئے بیوی کی اچھائیوں پر اس کی حوصلہ افزائی اورتعریفی کلمات کہنے چاہئیں۔

بعض مردحضرات دیگررشتہ دار،دوست واحباب سے خوشی ومحبت سے بات کرتے ہیں ،ان کی باتوں کی طرف توجہ دیتے ہیں ؛لیکن گھرمیں بیوی کے ساتھ پیارومحبت اورخوشی کی بات نہیں کرتے یا بیوی کی باتوں کی طرف توجہ نہیں دیتے ،توایسی صورت میں بیوی کو سکون کیسے حاصل ہوگا؟

طلاق کی دھمکی

کچھ مرد چھوٹی چھوٹی بات پر بیوی کوطلاق کی دھمکی دیتے ہیں ،جس عورت کے سرپرہروقت طلاق کی تلوارلٹک رہی ہو، اس کو کبھی بھی شوہرسے اطمینان نہیں رہتا،پتہ نہیں یہ کس وقت مجھے طلاق دے دے اور الگ کردے ،اگراس کی نوبت آئی، تو میں کیاکروں؟ا س طرح کی الجھنوں سے دوچارہوگی اورفسادات، لڑائی جھگڑوں کی نوبت آتی رہتی ہے ۔

خاوند ہروقت بیوی سے کہتاہے، تم خوبصورت نہیں ہو ،خدمت گزارنہیں ہووغیرہ ،لہذا کسی دوسری عورت سے نکاح کروں گا ،شریعت نے مرد کو ایک سے زائد بیوی رکھنے کی اجازت دی ہے، جب بیوی شوہرکے تمام تقاضے پورے کررہی ہے، تو دوسری شادی کی دھمکی دے کر بیوی کو پریشان کرنے اور خود پریشان ہونے کی کیا ضرورت ہے ؟

بے عزت کرنا

شوہرکی خاطربیوی گھربارچھوڑکرآئی ہے، اب جہاں آئی ہے، وہاں اس کو اپنی جان ،عزت اورایمان کا تحفظ چاہئے ،اگرشوہربیوی کو ایسی جگہ رکھے جہاں وہ عدم تحفظ کا شکا رہواوراس کی عزتِ نفس محفوظ نہ ہو،تو گھرکبھی آبادنہیں ہوگا ۔

گھروالی سے غلطی ہوجائے،تو تنہائی میں اس کو نصیحت کرنا چاہئے ،بیوی اس کو برانہیں سمجھے گی؛ لیکن لوگوں کے سامنے اس کی تنبیہ کی جائے ،برابھلاکہاجائے ،تواس کی عزتِ نفس مجروح اوراس کی بے عزتی ہوتی ہے،جس کی وجہ سے اس کا دل زخمی ہوتاہے اور اس کے دل میں شوہر کا وقاراورعظمت کم ہوجاتی ہے کہ میرے شوہرلوگوں کے سامنے بالکل میرا لحاظ نہیں کرتے ،تومیں دیگرامورمیں ان کالحاظ کیوں کرو ں؟

بیوی کے لئے وقت نہ نکالنا اوربے توجہی کرنا

بیوی شوہرکی توجہ چاہتی ہے ،بیوی چاہتی ہے کہ شوہربیوی کے لئے وقت فارغ کرے ،اس کی ضروریات اورحالات معلوم کرے اوراس کے جذبات اوراحساسات کا خیال رکھے ۔

مردحضرات دن بھرمختلف کاموں میں مصروف ہوتے ہیں ،بیوی چاہتی ہے کہ جب شوہرگھرآئے ،تو وہ بیوی کے ساتھ وقت گزارے ،اگرشوہر دن بھرباہرکے کاموں میں مشغول رہے اورگھرپہنچ کر آرام یاکسی دوسرے کام میں مصروف ہوجائے ،توگھرمیں نہ عورت کو خوشی ہوگی نہ شوہر خو ش رہ سکتاہے ۔

بیوی کا شرعی حق ہے کہ اس کے لئے وقت فارغ کیاجائے ،بعض لوگ دوستوں کی محفل سجاتے ہیں،فرصت کے اوقات دوستوں کے ساتھ گزارتے ہیں ،گھرآئیں،تو والدین اوربھائی بہنوں کے ساتھ گفتگومیں لگ جاتے ہیں ؛حالانکہ بیوی شوہرکی فرصت کے انتظارمیں رہتی ہے اور وہ اس کے لئے وقت فارغ نہیں کرتا ،اس کی خوشی وغم اور دیگر حالات دریافت نہیں کرتا ،جس کی وجہ سے بیوی تنگ دل ہوجاتی ہے،وہ بھی بے رخی کا اظہارشروع کردیتی ہے ،اس طرح میاں بیوی کا سکون بربادہونا شروع ہوجاتاہے ۔(خوش گوارازداوجی زندگی کے اصول)

بیوی کے لئے پابندی اور اپنے لئے آزادی

گھرمیں جب کوئی اصول بنائے ،تو اس پر شوہراوربیوی دونوں کوعمل کرنا چاہئے ،شوہراپنے لئے لباس،خوراک ،راحت وآرام جیسے پسندکرتاہے،ویسے ہی اپنی بیوی کے لئے بھی پسند کرے اورفراہم کرنے کی کوشش کرے ، یہ توہرمسلمان بھائی کا حق ہے ،بیوی تو رفیقہءحیات ہے ،وہ اس کی زیادہ مستحق ہے ۔

بعض مرد عورتوں کو پابندکرتے ہیں اور خودآزادی چاہتے ہیں ،بیوی کو نصیحت کہ تم نیک بنو ،نمازی بنواور خودنماز کے لئے جاتے نہیں ،عورت کے لئے غیرمحرم رشتہ دارسے بات کرنے کی ممانعت؛ لیکن خود اپنی غیرمحرم عورتوں سے بات چیت کرتے ہیں ،ا س بے اصولی سے گھرمیں لڑائی جھگڑے ہوں گے، اصول دونوں کے لئے یکساں ہونے چاہئیں۔

بیوی کے رشتہ داروں سے بے اعتنائی

ہرعورت کو اپنے والدین ،بھائی بہن اوردیگررشتہ داروں سے خاندانی اورجذباتی تعلق ہوتاہے، ان سے متعلق کوئی کڑوی کسیلی بات سننا گوارانہیں کرتی،جب شوہربیوی کے والدین ،رشتہ داروں سے متعلق نفرت کی باتیں کرتاہے، ان کی نکتہ چینی کرتاہے ،ان کو برابھلاکہتاہے،طعنہ دیتاہے ،توبیوی اپنی مجبوری سے خاموش ہوجاتی ہے؛ لیکن اس کی وجہ سے بیوی کی دل شکنی ہوتی ہے اور شوہرکی نفرت دل میں پیداہوتی ہے، پھریہ نفرت تناآوردرخت کی شکل اختیارکرلیتی ہے ۔(خوش گوارازداوجی زندگی کے اصول )

علمی ،اصلاحی دینی اورتحقیقی مضامین کے لئے فیضان قاسمی ویب سائٹ کا مطالعہ فرمائیں ۔https://faizaneqasmi.com