ذرائع ابلاغ کی اہمیت اورضرورت

ذرائع ابلاغ کی اہمیت اورضرورت
حضرت مولانا عبدالخالق صاحب مدراسی مدظلہ العالی
قائم مقام مہتمم واستاذ حدیث دارالعلوم دیوبند

ایک زمانہ وہ تھا، جب ہر چیز پر اسلامی چھاپ تھی، ہرفن کے رگ وریشہ میں اسلام سرایت کر گیا تھا، سیاست، معیشت، تجارت، طب وصحت، تاریخ و سیاحت، ادب و فلسفہ کیمیا اور منطق کے قلب و جگر میں علوم اسلامی نے اپنا نشیمن بنالیا تھا، ہرعلم و فن پرمسلم اسکالروں اورمحققوں کی بالادستی قائم تھی، پوری دنیا اسلامی تعلیمات ہی کی روشنی میں سوچتی اور اس کی زبان میں لکھتی پڑھتی، بولتی اور تصنیف و تالیف کرتی تھی۔

ہمارا ماضی اگر روشن اور تابناک ہے، تو اس کی وجہ یہ ہے کہ علما نے زمانہ کے تقاضوں کو نظر انداز نہیں کیا، زمانہ کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر بات کی ، اسلام کا دفاع عصری تقاضوں سے ہم آہنگ اسلامی اسلوب میں کیا، اسلام دشمن عناصر جس ہتھیارسے مسلح ہو کر اسلام پر حملہ آور ہوئے، علما نے اس کا دفاع اسی انداز سے کیا، جب فلسفہ سے اسلام پر یلغار ہوئی ،تو علمائے نے یہ کہہ کر خاموش نہیں بیٹھ گئے کہ فلسفہ باطل ہے، یہ دہریت اور لادینیت پر مشتمل ہے؛ بلکہ اسلام کا دفاع کیا اور فلسفہ کا جواب فلسفہ سے دیا ،صرف جواب ہی نہیں دیا،؛بلکہ منطق اور فلسفہ کو مسلمان بھی بنا دیا۔

اس وقت اسلام پر جو نظم طریقہ پر یورش ہورہی ہے، اس میں سب سے اہم کردار میڈیا کا ہے، تمام ذرائع ابلاغ پر یہودیوں کا قبضہ ہے، وہ جس خبر کو جس طرح چاہتے ہیں پیش کرتے ہیں اور دل و دماغ پر بٹھا دیتے ہیں ۔

ذرائع ابلاغ کا کمال

یہ ذرائع ابلاغ ہی کا کمال ہے کہ آج اسلام کو ایک دہشت پسند مذہب کی شکل میں پیش کیا جارہا ہے، جس سے اور تو اور مسلمانوں کا ایک طبقہ متاثر ہورہا ہے، مجھ سے میرے ایک قاسمی دوست نے بتایا:ایک دن میرا بیٹا جو انگلش میڈیم اسکول میں پڑھ رہا ہے کہنے لگا: ابو! اسلام تو غیرٹیرورزم ہے اور داڑھی والے ٹیرورسٹ ہیں، میں نے پوچھا :بیٹے تمہیں کیسے معلوم ہوا؟ تو اس نے کہا کہ اخباروں میں پڑھتا ہوں۔

صحافت کو پاک صاف کرنے کی ضرورت ہے

ہمیں یہ کہنے سے دنیاوی مشکلات سے نجات مل سکتی ہے، نہ صحافتی مہم اور حملہ کو روکا جاسکتا ہے اور نہ ہی آخرت میں باز پرس سے بچا جاسکتا ہے، کہ ذرائع ابلاغ اور صحافت پرگندگی کا دبیز پردہ پڑا ہوا ہے، جرائد ورسائل اور اخبارات میں حوا کی بیٹیوں کی عریاں اور نیم عریاں تصویر میں ہوتی ہیں، آج کی صحافت بے حیائی کو فروغ دے رہی ہے؛ اس لیے یہ نا جائز اور حرام ہے ،محض نفرت اور کنار کشی اس کا علاج نہیں ہے؛ بلکہ عملیت پسندی سے کام لیتے ہوئے صحافت کو پاک صاف کرنے کی ضرورت ہے۔

اس کے ذریعہ جہاں اسلامی تعلیمات کی نشر و اشاعت کی جاسکتی ہے، وہیں اسلام پر ہونے والے حملوں کا دفاع بھی کیا جاسکتا ہے اپنی نجی مجلسوں اور کمروں میں بیٹھ کر اظہار افسوس اور تبصروں سے اسلام پر ہونے والے اعتراضات کا جواب نہیں دیا جاسکتا، ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان عصر حاضر کے تقاضوں کو سمجھیں، اپنے فنی و مادی وسائل کو بروئے کار لا کر ذرائع ابلاغ پر اپنا تسلط جما ئیں، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کی طاقت اپنے حق میں استعمال کرنے کی جدوجہد کریں۔

اس میدان میں اہم پیش رفت کیے بغیر مدارس اسلامیہ بھی اپنی ذمہ داریوں سے سبک دوش نہیں ہو سکتے ہیں، کم ازکم پرنٹ میڈیا میں تو ہم سرگرم رول ادا کر ہی سکتے ہیں۔ماخوز از :من شاہ جہانم ،مؤلف : مفتی اعجاز ارشد قاسمی

اصلاحی ،فکری ،دینی ،علمی وتحقیقی مضامین ومقالات کے لئے فیضان قاسمی ویب سائhttps://faizaneqasmi.comٹ کی طرف رجوع کیجئے اور دوست واحباب کو بھی متوجہ کیجئے ۔جزاکم اللہ خیرا

Share this post