روزہ کو فاسدنہ کرنے والی چیزیں:جدیدمسائل

روزہ کو فاسدنہ کرنے والی چیزیں

حالت روزہ میں قے کرنا

روزہ کی حالت میں تھوڑی سی قے ہوئی اور خودبخود اندرچلی گئی، تو اس سے روزہ فاسدنہیں ہوگا ؛البتہ رروزہ دارنے اندرداخل کرلی،توروزہ ٹوٹ جائے گا۔

اذاقاءاواستقاءملا الفم،اودونہ عادبنفسہ، اواعاد،اوخرج ،فلافطر،علی الاصح الافی الاعادة ۔(ھندیہ۲۰۴/۱)

اگرروزہ کی حالت میں منہ میں انگلی ڈال کرمنہ بھرکرقی کی، تو روزہ ٹوٹ جائے گا ؛البتہ منہ بھرکرنہ ہو،تو روزہ ٹوٹنے میں اختلاف ہے ،لہذا روزہ کی حالت میں اس طرح کی حرکت سے احتراز کرنا چاہئے ۔

وان استقاءای طلب القیءعامدا ای متذکرا لصومہ ان کان ملأالفم، فسدبالاجماع مطلقا ،وان کان اقل لاعندالثانی، وھو الصحیح لکن ظاھرالروایة کقول محمدانہ یفسد کما فی الفتح عن الکافی ۔(درالمختارمع ردالمحتار۳۹۳/۳)

دانت سے خون نکلنا

روزہ کی حالت میں دانت سے خون نکلا؛ لیکن حلق کے نیچے نہیں اترا،حلق سے نیچے اترنے سے پہلے ہی تھوک دیا ،تواس سے روزہ فاسدنہیں ہوگا۔

اگرخون حلق سے نیچے چلاگیااورتھوک کی مقدارزیادہ اورخون کی مقدارکم تھی ،توبھی روزہ نہیں ٹوٹے گا ؛البتہ حلق سے نیچے اترنے والاخون زیادہ اورتھوک کم ہو،یادونوں برابرہوں،توروزہ ٹوٹ جائے گا ۔

اوخرج الدم من بین اسنانہ ودخل حلقہ یعنی ولم یصل الی جوفہ ،امااذاوصل ،فان غلب الدم اوتساویا،فسد،والا،لا،الااذاوجدطعمہ ،بزازیة،واستحسنہ المصنف،وماھوعلیہ الاکثر۔(الدرالمختارمع ردالمحتار۳۶۷/۳)

روزہ کی حالت میں سفیدپانی کانکلنا

عورتووں کی پیشاب کی راہ سے جوسفیدپانی( white discharge)نکلتاہے وہ ناپاک ہے اورنجاست غلیظہ ہے اورناقض ِوضوہے ،بدن وکپڑے پر لگ جائے، تو بدن اورکپڑاناپاک ہوجائے گا؛(فتاوی رحمیہ ۴۷۶۲)لیکن روزہ فاسدنہیں ہوگا۔

الاستحاضة کالرعاف الدائم لایمنع الصوم والصلوة ۔(ھندیہ۹۳/۱)

روزہ کی حالت میں آنکھ میں دوا ڈالنا

روزہ کی حالت میں ضرورت کے وقت آنکھ میں دوا ڈالنا جائز ہے،اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا،اگر چہ دوا کا ذائقہ حلق میں محسوس ہو۔

ولو اقطر شیئا من الدواءفی عینہ لا یفطرصومہ عندنا،وان وجد طعمہ فی حلقہ۔(ہندیہ۲۰۴/۱)

روزہ کی حالت میں زنڈوبام یاجسم کے ظاہری حصہ پرکوئی مرحم لگانا

پیشانی یا گلے وغیرہ پرزنڈوبام ،وکس یااور کوئی بھی دوا جسم کے ظاہرحصہ پرلگائی جائے ،تو روزہ فاسدنہیں ہوگا،اس لئے کہ روزہ کسی چیز کے بعینہ فطری منفذ(سوراخ) کے ذریعہ پیٹ یادماغ تک پہنچنے سے فاسدہوتاہے۔

اگر کوئی چیزمسامات ِبدن کے ذریعہ جسم میں داخل ہو،تو اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔(مستفاد:ازکتاب الفتاوی۳۹۶/۳)

روزہ کی حالت میں خون ٹسٹ کرانااورمریض کے لئے خون دینا

روزہ کسی چیز کے جسم میں داخل ہونے سے ٹوٹتاہے،جسم سے کسی چیز کے خارج ہونے سے نہیں ٹوٹتاہے،اس لئے خون دینے سے روزہ نہیں ٹوٹے گا ۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روزہ کی حالت میں پچھنا لگواناثابت ہے ،پچھنالگانے سے جسم کا فاسد خون باہر نکالاجاتا تھا،اس لئے خو ن دینے میں کچھ حرج نہیں،خواہ ٹسٹ کے لئے ہو یا کسی مریض کی ضرورت کے لئے؛البتہ اگرخون دینے سے ضعف وکمزوری پیداہونے کا اندیشہ ہو جس کی وجہ سے روزہ مکمل نہیں کرپائے گا اور اضطراری اور مجبوری کی حالت بھی نہ ہو،توخون دینا مکروہ ہے۔

اسی احتیاط کے پیش نظررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ کی حالت میں پچھنا لگوانے کو پسند نہیں فرمایا،اس لئے کہ ہرشخص میں اس کی قوت ِبرداشت نہیں ہوتی اور خطرہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے روزہ کو باقی رکھ نہیں سکے گا۔۔(مستفاد:ازکتاب الفتاوی۴۰۰/۳)

روزہ میں انجکشن اور گلوکوز لگانا

اصل میں قران و حدیث میں جس چیز سے روزہ کی حالت میں منع کیا گیاہے ،وہ کھانا اور پینا ہے،جب انسان کوئی چیز کھاتا ،پیتاہے ، تو حلق کے فطری راستے سے وہ چیز انسان کے معدے تک پہنچتی ہے۔

فقہاءنے بطور احتیاط کھانے اور پینے پر ایسی تمام صورتوں کو قیاس کیاہے ،جس میں کوئی چیز انسان کے پیٹ یادماغ تک براہ راست پہنچائی جائے،اسی لئے ایسے زخم جو پیٹ اور سر میں ہوں اور معدہ اور دماغ تک زخم کے ذریعہ راستہ بن گیا ہو،ان میں دوا ڈالنے کو روزہ ٹوٹ جانے کا باعث قرار دیا گیا؛کیوں کہ اس طرح دوا ءبراہ راست دماغ اور معدہ تک پہنچ جاتی ہے،ایسے زخم کو ”آمة“اور” جائفہ“ کہتے ہیں۔

اب غور کیجئے تو انجکشن اور گلوکوز کے ذریعہ معدے تک کوئی چیز براہ راست نہیں پہنچتی؛بلکہ دوائیں رگوں میں پہنچتی ہیں اور رگوں کے ذریعہ پورے جسم میں پھیل جاتی ہیں،اسی لئے انجکشن ےا گلوکوز کو دوا کھانا یا پینانہیں کہا جاتا،اس لئے انجکشن اور گلوکوز کی وجہ سے روزہ نہیں ٹوٹے گا،لہذا انجکشن روزہ کو فاسدنہ کرنے والی چیزوں سے نہیں ہے ۔

روزہ اصل چیز کے پہنچنے سے ٹوٹتا ہے،نہ کہ کسی شئی کا اثر پہنچنے کی وجہ سے

روزہ اصل چیز کے پہنچنے سے ٹوٹتا ہے،نہ کہ کسی شئی کا اثر پہنچنے کی وجہ سے،غور کیجئے پانی پینے سے روزہ ٹوٹ جائے گا؛لیکن روزہ کی حالت میں ٹھنڈک حاصل کرنے کے لئے غسل کیاجائے، یا حلق خشک ہورہا ہو،تھوک تک نہ آرہا ہواور تراوٹ پیدا کرنے کے لئے کلی کی جائے، تو اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا؛کیوں کہ حلق میں پانی نہیں پہنچتاہے،؛بلکہ پانی کا اثر پہنچتا ہے۔

البتہ میرا (مولانا خالدسیف اللہ رحمانی مدظلہ)خیال ہے کہ جس شخص کو بیماری کی وجہ سے گلوکوز چڑھانا ضروری نہ ہو ،محض تقویت کے لئے ہو،تو روزہ کی حالت میں گلوکوز چڑھانا ایک درجہ کی کراہت سے خالی نہیں ہوگا؛کیوں کہ روزہ کارکن اپنے آپ کو غذا سے محروم رکھنا ہے اور گلوکوز چونکہ غذا ئی ضرورت کو پوری کرتا ہے،اس لئے گلوکوز چڑھانا گویا جسم کی غذائی ضرورت کو پوری کردیتا ہے،اس لئے محض تقویت کے لئے روزہ کی حالت میں گلوکوز چڑھانے سے بچنا چاہئے۔(کتاب الفتاوی۳۹۱/روزہ کو فاسدنہ کرنے والی چیزیں۳،)

دل کے مریض کا زبان کےنیچے گولی رکھنے کا حکم

امراضِ قلب میں جو گولی زبان کے نےچے رکھی جاتی ہے اور وہیں جذب ہوکر تحلیل ہوجاتی ہے،اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا؛لیکن اگر دواءکے اجزاءلعاب کے ساتھ مل کر حلق کے راستے سے اندر چلے جائیں، تو روزہ ٹوٹ جائے گا۔

قولہ کطعم ادویةای لو دق دواءا، فوجد طعمہ فی حلقہ،وفی القھستانی:طعم الادویة وریح العطر اذا وجدفی حلقہ لم یفطر۔(کتاب المسائل۷۷/۲)

روزہ میں ڈائلیسس(گردے کی دھلائی) کرانا

روزہ کی حالت میں ڈائلیسس(گردے کی دھلائی) کے عمل سے روزہ نہیں ٹوٹے گا؛کیوںکہ اس عمل کا تعلق صرف خون سے ہے اور براہ راست جوف معدہ میں اس کی وجہ سے کوئی چیز داخل نہیں ہوتی۔

واکثر المشائخ اعتبروا الوصول فی الجائفة، والآمة،ان عرف ان الیابس وصل الی الجوف یفسد صومہ بالاتفاق، وان لم یعرف ان الرطب لا یصل الی الجوف لا یفسد۔(ردالمحتار۳۷۶/۳)

روزہ کی حالت میں(Endoscope) کرانا

آج کل معدہ کے بعض امراض کی تحقیق کے لئے معدہ تک نلکی(endoscope)پہنچائی جاتی ہے ایسی صورت میں اس شخص کا روزہ نہیں ٹوٹے گا۔

اصل میں روزہ کے ٹوٹنے اورنہ ٹوٹنے کامداراس بات پرہے کہ وہ نلکی معدہ میں داخل ہونے والی چیز اندرٹہرگئی ہے ،یاواپس آگئی ہے ؟اگرٹہرگئی ہے توروزہ ٹوٹ جائے گا ورنہ نہیں۔

علامہ ابن نجیم مصری لکھتے ہیں

ولوشدالطعام بخیط وراسہ فی حلقہ ،وطرف الخیط فی یدہ لایفسدالصوم ۔(البحرالرائق ۲۷۹/۲)

اگرکھانا دھاگہ سے باندھے اوراس کو اپنے حلق میں چھوڑدے ،دھاگہ کا ایک کنارہ خوداس کے ہاتھ میں ہوتو روزہ نہیں ٹوٹے گا۔

علامہ کاسانی ؒ نے اس سلسلہ میں ایک اصولی بات بات فرمائی ہے۔

وھذالذی یدل علی ان استقرالداخل فی الجوف شرط لفسادالصوم ۔(بدائع الصنائع ۹۳/۲)

یہ اس بات کی دلیل ہے کہ داخل ہونے والی چیزکا معدہ میں ٹہرناروزہ فاسدہونے کے لئے شرط ہے ۔(جدیدفقہی مسائل۱۸۷/۱)

روزہ کو فاسدنہ کرنے والی چیزیں،روز ہ کن چیزوں سے فاسد ہوجاتاہے ،ان کوجاننے کے لئے اس سطرپر کلک کریں ۔ عبداللطیف قاسمی