روز ہ کو فاسد کرنے والی چیزیں: جدید مسائل

روز ہ کو فاسد کرنے والی چیزیں

ناک یا کان میں دوایا تیل ڈالنا

ناک یاکان میں تیل یادوا ڈالنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے؛مگر کفارہ واجب نہیں ہوگا۔

ومن احتقن ،اواستعط، او اقطر فی اذنہ دھنا، افطر،ولا کفارة علیہ۔(کتاب المسائل۸۷/۲)

روزہ کی حالت میں عورت حائضہ ہوجائے

اگرکسی عورت نے روزہ رکھا ،پھراس کو حیض شروع ہوجائے ،تو روزہ فاسدہوجائے گا ،اگریہ روزہ نفل ہے ،تواس کی قضاءلاز م ہوگی۔

اذاحاضت المرأة اونفست افطرت ۔(الھندیة۲۰۷/۲)اذاحاضت الصائمة المتطوعةیجب القضاءفی اصح الروایتین۔(ھندیہ۲۱۵/۲)

سخت بیماری کے وقت روزہ افطار کرلینا

کسی مریض نے روزہ رکھ لیا؛لیکن روزہ کو مکمل کرنا سخت دشوار ہوگیا ،یاکوئی روزہ دارروزہ کی حالت میں سخت بیمارہوگیا، تجربہ کی بناپریادیندارمسلم ماہرڈاکٹرکے مشورہ سے روزہ توڑدے ،توایسی صورت میں صرف قضالازم ہوگی ،کفارہ لازم نہیں ہوگا ۔

او مریض خاف زیادۃ المرض،بغلبة الظن بامارة ،او تجربة، او باخبار طبیب حاذق مسلم مستور،وقضوا لزوما ما قدروا۔(ردالمحتار۴۰۳/۳)

نوٹ: جن صورتوں میں روزہ فاسدہوجاتاہے، ان صورتوں میں اگربھول کرکوئی مفسدِصوم عمل کرلے، تو روزہ فاسدنہیں ہوگا ۔فتاوی عالمگیری میں ہے

ھذاتنبیہ حسن یجب ان یحففظ لان الصوم انمایفسدفی جمیع الفصول اذاکان ذاکراللصوم ،والا،فلا۔(الہندیة ۲۰۶)

روزہ کی حالت میں ”انیما“ لینا

پیٹ کی صفا ئی کے لئے پیچھے کے راستے میں جو دواءچڑھائی جاتی ہے(جس کو انیما کہا جاتا ہے) اس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔

نیزبواسیرکے اندرونی مسوں اورزخم پرمرحم لگانے سے روزہ ٹوٹ جائے گا؛البتہ جومسے اورزخم باہرہوں،ان پرمرحم لگانےسے روزہ نہیں ٹوٹے گا۔

اذا احتقن یفسد صومہ۔(ردالمحتار۳۷۶/۳)

پیشاب کی نالی میں دوائی پہنچانا

مرد کی پیشاب کی نالی میں اگر کوئی دوائی پہنچائی جائے اور وہ مثانہ تک پہنچ جائے، تو روزہ ٹوٹ جائے گا ، اگر مثانہ تک نہ پہنچے، توو روزہ نہیں ٹوٹے گا،اگرعورت کی شرم گاہ میں دوائی ڈالی جائے ،توروزہ بغیرتفصیل کے ٹوٹ جائے گا۔

اذا اقطر فی احلیلہ لا یفسد صومہ عند ابی حنفیة ومحمد رحمھا اللہ،وھذا الاختلاف فیما اذا وصل المثانة واما اذا لم یصل بان کان فی قصبةالذکربعد لا یفطر بالاجماع،وفی الاقطارفی اقبال النساءیفسدبلاخلاف۔(الھندیة۲۰۶/۱)

ڈاکٹرنی کا شرمگاہ میں انگلی داخل کرنا

مرض کی تشخیص کے لئے لیڈی ڈاکٹر کسی عورت کے شرمگاہ میں ہاتھ ڈالے،یاعورت خوداپنی شرم گاہ میں پاکی صفائی وغیرہ کے لئے انگلی داخل کرے ، تو اس کی دو صورتیں ہیں پہلی صورت اگر وہ خشک ہاتھ ڈالے جس پر پانی یادواءکا کچھ اثر نہ ہو، تو روزہ نہیں ٹوٹے گا۔دوسری صورت اگرگیلا ہاتھ ڈالے یا دوائی وغیرہ لگا کر ہاتھ ڈالے، تو روزہ ٹوٹ جائے گا۔

لو ادخل اصبعہ فی استہ او المرأة فی فرجھا لا یفسد ،وھو المختار الا اذا کانت مبتلة بالماءاوالدھن فحینئذیفسد لوصول الماءاوالدھن۔(الھندیة۲۰۴/۱)

اپنی اندام نہانی میں روئی رکھنا

اگر روزہ کی حالت میں(عورت کے اندرونی حصہ میں)دوائی رکھی جائے، تب تو روزہ ٹوٹ جائے گا،فقہاء نے اس کی صراحت کی ہے، اگر صبح صادق سے پہلے دوائی رکھ لی جائے اور روزہ کی حالت میں باقی رہے،تو اس سے روزہ نہیں ٹوٹے گا،یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص رات کے وقت غذا یا دوا کھائے اور روزہ شروع ہونے کے بعد بھی وہ معدے میں موجود ہے۔

وفی الاقطارفی اقبال النساءیفسدبلاخلاف۔(الھندیة۲۰۴/۱،مستفاد:ازکتاب الفتاوی ۳۸۳/۳)

روزہ میں انہیلر استعال کرنا

انہیلرکے ذریعہ دواءکے اجزاءحلق کے نیچے پہنچتے ہیں،یایہ کہ گیس میں تبدیل ہوکر حلق کے نیچے جاتے ہیں،اس سلسلہ میں مجھے کما حقہ تحقیق نہیں ہےاور بعض ڈاکٹروں سے گفتگو پر بھی یہ بات واضح نہیں ہوسکی۔

اس لئے راقم الحروف یہ رائے دیا کرتا ہے کہ انہیلر لیتے ہوئے روزہ رکھ لیا جائے کہ اپنی طاقت وصلاحیت کے مطابق حکم خداوندی کی اطاعت ہوجائے اور جو لوگ صاحبِ استطاعت ہوں ،وہ فدیہ بھی اد ا کردیں۔

اگر روزہ کافی نہ ہو تو فدیہ سے اس کمی کی تلافی ہوجائے،جیسے منھ کے راستے سے کسی چیز کا حلق سے نیچے پہنچاناروزہ کو توڑدیتا ہے،اسی طرح ناک کے ذریعہ بھی کسی چیز کا پہنچانا روزہ کے لئے مفسد ہے،اس لئے انہیلر کی دونوں صورتوں کا حکم ایک ہی ہے۔واللہ اعلم(کتاب الفتاوی۳۹۴/۳،روز ہ کو فاسد کرنے والی چیزیں)

روزہ کی حالت میں بھپا رہ کا استعمال

دوا یا پانی کا بھاپ یابھپارہ لینے سے روزہ فاسد ہوجائے گا،یہی حکم دمہ میں تسکین کے آلہ ”انہیلر“ کا ہے۔

لو ادخل حلقہ الدخان ای بای صورة کان الادخال، افطرلامکانہ التحرز منہ۔(کتاب المسائل۸۵/۲)

رمضان کوپانے کے لئے مانع حیض ادویہ کا استعمال

خواتین کوماہواری کاآنا قانونِ فطرت کے مطابق ہے اوراسے مصنوعی طریقہ پرروکنا غیرفطری امرہے اورجوچیز یں فطرت کے عام اصول کے خلاف کی جاتی ہیں،وہ عام طورپرصحت کے لئے نقصان دہ ہوتی ہیں،اس لئے اس سے احترازکرناچاہئے اوربعدمیں روزہ کی قضاءکرلینی چاہئے۔

عورتیں چونکہ اس معاملہ میں معذورہیں،اس لئے امیدہے کہ رمضان کے بعدروزہ رکھنے کا اسی قدرثواب ہوگا،جورمضان میں رکھنے کا ہوتاہے ؛بلکہ ممکن ہے کہ وہ زیادہ اجرکی مستحق ہوں؛کیونکہ رمضان المبارک کے ماحول میں سبھوں کے ساتھ مل کرروزہ رکھنا آسان ہوتاہے اورعام دنوں میں تنہاروزہ رکھنانسبةً دشواراورجوکام اللہ کے حکم سے اداکیاجائے اوراس میں زیادہ مشقت ہو،اس میں زیادہ اجروثواب کی توقع ہے ۔

تاہم اگرکوئی عورت ماہواری شروع ہونے سے پہلے ہی سے دواءکا استعمال شروع کردے اورخون جاری ہی نہ ہو،تواس نے جن دنوں روزوں کو رکھاہے، وہ درست ہوجائیں گے ۔

اگرخون شروع ہوگیااورپھراس نے دواءکھاکرخون کوروک لیا ،تومیراخیال ہے کہ اس دن سے اس کے معمول کے ایام تک اور کسی کی عادت مقررنہ ہو،تین دنوں تک جوحیض کی کم سے کم مدت ہے ،وہ حائضہ ہی تصورکی جائے گی اوران دنوں کا روزہ درست نہیں ہوگا،نیزاس کی قضا واجب ہوگی ۔

والحائض اذاحبست الدم عن الوردلاتخرج من ان تکون حائضابخلاف صاحب الجرح۔(کتاب الفتاوی۲۰۵/۳بحوالہ خلاصة الفتاوی)

حالت حیض میں روزہ داروں کی مشابہت

حالت حیض ونفاس میں روزہ داروں کی مشابہت اختیارکرتے ہوئے بھوکے پیاسے رہنا درست نہیں ؛کیونکہ حالتِ حیض ونفاس میں روزہ رکھناحرام ہے، توکھانے پینے سے رکے رہنا گویا ایک فعل حرام کی مشابہت اختیارکرناہے؛ البتہ رمضان المبارک کے احترام کی رعایت کرتے ہوئے برسرعام کھانے پینے سے گریز کرنا چاہئے ۔

علامہ طحطاویؒ تحریرفرماتے ہیں

وامافی حالة تحقق الحیض، والنفاس فیحرم الامساک لان الصوم منھماحرام ،والتشبہ بالحرام حرام ۔(طحطاوی علی مراق الفلاح :۳۷۰)

البتہ دن کا کچھ حصہ گزرنے کے بعد پاک ہوگئیں،اب بقیہ دن کے حصہ میں کھانے پینے سے رکے رہنا مستحب ہے ۔(مستفادازکتاب الفتاوی۴۰۶/۳،روز ہ کو فاسد کرنے والی چیزیں)

حالت حیض کے روزوں کی قضاءلاز م

حیض ونفاس کی وجہ سے جو روزے چھوٹ جائیں،ان کی قضا ضروری ہے ،حیض ونفاس کی حالت میں جو نمازیں چھوٹ جائیں ،ان کی قضاءنہیں ہے ۔

حضرت عائشةؓ فرماتی ہیں

کان یصینا ذالک فنومربقضاءالصوم ،ولانومربقضاءالصلوة ۔(مسلم ،کتاب الحیض ،باب وجوب قضاءالصوم علی الحائض دون الصلوة:۱۵۳۱،رقم:۵۳۳،ترمذی کتاب الطہارة ۶۳/۱ رقم :۱۳۰قال ابوعیسی :وھوقول عامة الفقہاءلااختلاف بینھم فی ان الحائض تقضی الصوم، ولاتقضی الصلوة ،کتاب الصوم ۶۳/۱)

وہ اعذارجن کی وجہ سے روزہ نہ رکھنا درست

یریداللہ بکم الیسرولایریدبکم العسر۔(البقرة :۱۸۵)

اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ نرمی وسہولت کا معاملہ کرنا چاہتے ہیں، تنگی وپریشانی میں مبتلاکرنانہیں چاہتے ،یہی وجہ ہے کہ شریعت میں انسانی حرج وضرورت کی رعایت کی گئی ہے ۔

فمن شھدمنکم الشھرفلیصمہ،(البقرة : ۱۸۵) کی وجہ سے جوشخص بھی رمضان المبارک میں موجودہو،اس پر روزہ فرض ہے؛لیکن بعض لوگ وہ ہیں جنہیں روزہ رکھنے میں ناقابل برداشت تکلیف ہوتی ہے یا ہوسکتی ہے ،ان لوگوں کے لئے شریعت نے اجازت دی ہے کہ وہ لوگ فی الحال روزہ نہ رکھیں بعدمیں قضاءکرلیں یافدیہ دیدیں۔

مریض

ومن کامریضا اوعلی سفرفعدة من ایام اخر۔(البقرة : ۱۸۵)الاعذارالتی تبیح الافطار:منھاالسفرومنھاالمرض(ھندیہ۲۰۶/۱)

مرض کی کئی صورتیں ہیں

نمبر(۱)پہلے سے کوئی شخص مریض ہواورروزہ رکھنے وجہ سے ہلاک ہوجانے یاکسی عضوکے ضائع ہوجانے کااندیشہ ہو۔

نمبر(۲)پہلے سے مریض ہو،روزہ رکھنے کی وجہ سے مرض میں اضافہ کا اندیشہ ہو۔

نمبر(۳)پہلے سے مریض ہو،روزہ رکھنے کی وجہ سے مرض میں اضافہ کا اندیشہ نہ ہو؛لیکن خطرہ ہوکہ صحت میں تاخیراوربیماری میں طول کا باعث ہوگا ۔

(۴)فی الحال بیمارنہ ہو؛لیکن معتبرودیانت دارمسلمان ماہرمعالج کی رائے ہوکہ روزہ رکھنے کی صورت میں وہ مریض ہوجائے گا۔

مذکورہ بالاصورتوں میں رمضان المبارک کا روزہ نہ رکھنے اوربعدمیں قضاءکرلینی کی گنجائش ہے ۔(بدائع ،مستفاداز کتاب الفتاوی ۴۰۸/۳،روز ہ کو فاسد کرنے والی چیزیں)

حاملہ عورت اوردودھ پلانے والی عورت

حاملہ عورت اوردودھ پلانے والی عورت کوروزہ رکھنے کی وجہ سے اپنی جان یابچہ کی جان کی نقصان کا قوی گمان ہو،تو اس صورت میں ان کے لئے اجازت ہے کہ رمضان میں روزہ نہ رکھیں بعدمیں قضاءکرلیں ۔

ومنھاحبل المرأة ،وارضاعھماالحامل و،المرضع اذاخافتاعلی انفسھما اوعلی ولدھما، افطرتاوقضتا(ھندیہ۲۰۶/۱)

نہایت بوڑھا آدمی

جب شخص اتنابوڑھاہوچکاہوکہ روزہ رکھنے کی بالکل ہمت وطاقت نہیں ہے ،اس کے لئے شریعت کاحکم یہ ہے ہرروزہ کے بدلہ ایک فدیہ (صدقة الفطر کے بقد ر)اداکرے ۔

منھاکبرالسن کالشیخ الفانی الذی لایقدرعلی الصیام ،یفطر،ویطعلم لکل یوم مسکینا۔(ھندیہ۲۰۶/۱)

دائم المرض

جوشخص ہروقت بیماررہتاہو،صحت کی امیدختم ہوچکی ہو،روز بروز زوال کی طرف مائل ہو، ایساشخص شیخ فانی (نہایت بوڑھاجس کو روزہ کی طاقت نہ ہو)کے حکم ہے ،شیخ فانی کی طرح ہرروزہ کے بدلہ میں صدقة الفطر اداکرے ۔

المریض اذاتحقق الیاس من الصحة ،فعلیہ الفدیة لکل یوم من المرض۔(ردالمحتاربحوالہ احسن الفتاوی۴۳۰/۴)

نوٹ: کوئی شخص اتنازیادہ غریب ہے کہ وہ روزوں کافدیہ ادانہیں کرسکتا،تووہ استغفارکرتارہے اوریہ نیت کرے کہ اگرزندگی میں مالی استطاعت درست ہوجائے ،تو فدیہ ادا کرے گا۔

علامہ ابن ھمام فرماتے ہیں

فان لم یقدرعلی الاطعام لعسرتہ یستغفراللہ ویستقیلہ۔(فتح القدیرفصل فی العوارض۳۴۲/۲مراقی الفلاح:۴۸۸،احسن الفتاوی ۵۴۹/۴)

روزہ کن چیزوں سے فاسدہوجاتاہے ،ان کو جاننے کے لئے ان سطروں پرکلک کیجئے