سسرالی رشتہ داروں کے ساتھ حسنِ سلوک

سسرالی رشتہ داروں کے ساتھ حسنِ سلوک: اللہ تعالیٰ نے انسان کے لئے دورشتہ داریاں بنائی ہیں :نسبی رشتہ ،سسرالی رشتہ ،ان دونوں رشتوں کے ذریعہ انسان کو ایک طرح کا خاندانی حصار،قوت اورتعاون حاصل ہوتاہے ،یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں ان دونوں رشتوں پراحسان جتلایاہے ۔(الفرقان : ۵۴)

نیز شریعت نے سسرالی رشتہ کے تقدس وعظمت کی وجہ سے بیوی کی ماںاورماں کی ماں اوپرتک اور بیوی کی بیٹی اور بیٹی کی بیٹی نیچے تک مرد کے لئے اورشوہرکے والد ،والدکے والد اوپرتک ،شوہرکا بیٹا اوربیٹے کا بیٹانیچے تک بیوی کے لئے حرام قراردیاہے ۔

ماں باپ اپنی لختِ جگر کو محبتوں سے پال پوس کردلہن بناکر داماد کی خدمت میں پیش کرتے ہیں

جس طرح نسبی رشتوں کا لحاظ کیاجاتاہے ،اسی طرح سسرالی رشتہ کا بھی خیال رکھناچاہئے ، بطورِخاص بیوی کے اہل ِخانہ خسر،خوش دامن صاحبہ اورنسبتی برادران ونسبتی بہنوں کے ساتھ اکرام اورحسن اخلاق کا مظاہرہ کرے ،خوش دامن اورخسر اپنی لختِ جگر،نورِنظر کو محبتوں وشفقتوں سے پال پوس کر بناسنوارکر دلہن کی شکل میں داماد کی خدمت میں پیش کرتے ہیں ۔

دامادکا اخلاقی فریضہ ہے کہ وہ بیوی کے والدین کی حسبِ استطاعت خدمت ،اکرام ،تعظیم اوران کے ساتھ حسنِ سلوک کابرتاؤ کرے ،نہایت بے مروتی اورناانصافی کی بات ہوگی کہ جووالدین اپنی لخت جگر کو دامادکے سپردکرتے ہوئے اس کے ساتھ احسان کا معاملہ کیاہے، ان کے ساتھ تذلیل ،تحقیر ، بے مروتی اوربداخلاقی کا معاملہ کرے۔

بیوی کے والدین کے ساتھ حسنِ سلوک درحقیقت بیوی کے ساتھ حسن ِسلوک ہے ، بیوی کے والدین کے ساتھ اچھابرتاؤ کرنے سے بیوی کے دل میں شوہرکی محبت اورعظمت پیداہوگی جوازدواجی زندگی کو خوش گواربنانے کے لئے نہایت مفید ومؤثرہوتی ہے ۔

اس کے برخلاف بیوی کے والدین اورقریبی رشتہ داروں کے ساتھ بے مروتی،طعنہ زنی اوربدسلوکی کا مظاہرہ کرنے سے بیوی کے دل میں شوہرسے متعلق کدورت ونفرت پیداہوتی ہے؛چونکہ عورت کو اپنے والدین اورخاندان کے ساتھ جذباتی تعلق ہوتاہے جس کی وجہ سے بیوی کادل دکھے گا اوروہ دل سے شوہر کی اطاعت وخدمت نہیں کرسکے گی او رشوہرکے ساتھ ہنسی خوشی زندگی گزارنہیں سکتی۔

شوہرکا اپنے خسرکے ساتھ حسن ِسلوک

حضرت مسورؓبن مخرمہ فرماتے ہیں:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضر ت ابوالعاص بن ربیع ؓ جو آپ کے دامادتھے ان کا تذکرہ فرماتے ہوئے خوب تعریف فرمائی اور ارشادفرمایا

حدثنی ،فصدقنی ،ووعدنی، فوفی لی۔(بخاری باب ماجاءفی ذکراصہارالنبی صلی اللہ علیہ وسلم ۵۲۸/۱،رقم:۳۷۲۹)

میں نے زینب کا نکاح ابوالعاص بن ربیع کے ساتھ کیا ،انہوں نے میرے ساتھ سچ کہااورجووعدہ کیا اس کو پوراکیا ۔

حضرت ابوالعاص غزوہ بدرمیں کفارِمکہ کے ساتھ شامل ہوکرگرفتارہوئے ،آپ کی لڑکی حضر ت زینب ؓنے اپنے قیدی کو چھڑانے کے لئے اپناہارجوان کو حضر ت خدیبجہ ؓ کی طرف سے ملا تھاروانہ کیا ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ہار کو پہچان لیا اورمسلمانوں کو راضی کرکے وہ ہارحضرت زینبؓ کوواپس کردیا اورحضرت ابوالعاص سے وعدہ لیا کہ مکہ جاکروہ حضرت زینب ؓ کو مدینہ روانہ کردیں گے، چنانچہ انھوں نے اس وعدہ کو پوراکیا۔

یہ بیوی کے والدین کے ساتھ حسن سلوک کی شاندارمثال ہے کہ ابوالعاصؓ نے ابھی اسلام قبول نہیں کیاہے؛ لیکن سسرسے کئے گئے وعدہ کو پوراکرتے ہوئے حسن ِسلوک کا مظاہرہ کیاہے ،جس پراللہ کے نبی علیہ الصلوةوالسلام نے ان کی خوب تعریف فرمائی ہے ۔

امیرالمؤمنین حضرت عثمان بن عفانؓ

حضرت عثمان بن عفان ؓ بھی آپ کے دامادتھے ،آپ علیہ السلام کی دوصاحبزایوں حضرت رقیہؓ اورحضرت ام کلثوم ؓسے یکے بعددیگر ے نکاح فرمایا ،اسی وجہ سے آپ کو ذو النورین کہتے ہیں ،آپ علیہ السلام نے متعدددفعہ حضر ت عثمان ؓ کا ذکرِخیرفرمایا ،جب حضر ت امِ کلثوم ؓکی وفات ہوگئی ،تو آپ علیہ السلام نے فرمایا : اگرکوئی دوسری بیٹی ہوتی، تو میں اس کو بھی حضرت عثمان کے نکاح میں دے دیتا ۔(مجمع الزوائدرقم:۱۴۵۱۱ابن عساکر)

مذکورہ باتوں سے حضرت عثمان ؓ کی اخلاق کی بلندی وپاکیزگی ،وفاداری اورگھروالوں کے ساتھ بہترین سلو ک کا پتہ چلتاہے،یہی وجہ ہے کہ آپ کے اخلاق وکرداراورحسن سلوک سے متاثرہوکر آپ علیہ السلام نے فرمایا اگرتیسری لڑکی ہوتی تو اس کو بھی تمہارے نکاح میں دے دیتا ۔

امیرالمؤمنین حضرت علی بن ابی طالبؓ

حضرت علی بن ابی طالبؓ آپ کے چچازادبھائی ،آپ علیہ السلام کے تربیت یافتہ اور آپ کے دامادہیں ،آپ علیہ السلام کی سب سے چہیتی صاحبزادی سے آپ کا نکاح ہوا ،غزوہ خیبرکے موقع پر آپ علیہ السلام نے ارشادفرمایا: کل میں جھنڈا اس شخص کے ہاتھ میں دوں گا جس سے اللہ اوراس کے رسول محبت کرتے ہیں ،دوسرے دن آپ علیہ السلام نے حضرت علی ؓکو جھنڈاعطافرمایا اور خیبرکی فتح آپ کے ہاتھ پرہوئی۔

جب حضرت فاطمہ ؓنے گھرکے کام کاج کی مشقت کی شکایت کی ،آپ علیہ السلام گھرتشریف لے آئے جبکہ حضرت علی ؓ وفاطمہؓ اپنے بسترپرلیٹ چکے تھے ،آپ نے ارشادفرمایا: اسی حال میں رہو ،چنانچہ آپ علیہ السلام دونوں کے درمیان بیٹھ گئے ،حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ آپ علیہ السلام کے قدموںکی ٹھنڈک میں نے محسوس کی ،اس طرح کے بے شمارواقعات کتب ِحدیث میں موجودہیں ۔

ان واقعات سے معلوم ہوتاہے کہ آپ علیہ السلام کوحضرت علیؓ سے کس قدر محبت واپنائیت تھی؟ اورحضرت علیؓ کی وفاداری ،آپ کے اخلاق وعادات پر آپ علیہ السلام کو کس قدر اعتماد واطمینان حاصل تھا ؟

خوش گوارازدواجی زندگی کے اصول انگریزی اوررومن انگریزی میں بھی پوسٹ کئےگئے ہیں ،مطالعہ کے لئے رجوع کیجئے https://faizaneqasmi.comفیضان قاسمی ویب سائٹ جو خالص دینی واصلاحی ویب سائٹ ہے ۔ ابوفیضان قاسمی جامعہ غیث الہدی بنگلور