صفوں کی درستگی، فضیلت ،اہمیت اورمسائل

صفوں کی درستگی فضیلت ،اہمیت اورمتعلقہ مسائل

صف اول کی فضیلت

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگرلوگوں کو اذان دینے اورصف اول میں شرکت کی فضیلت کا علم ہوجائے ( کہ اس میں کیا خیروبرکت ہے؟ ) پھر لوگوں کو اذان دینے اورصف اول میں شرکت کا موقع نہ ملے اوران کے لئے قرعہ اندازی کی نوبت پیش آئے ، تولوگ اس کے لئے بھی تیارہوجائیں گے (اور اس فضیلت کوحاصل کرنے کی ضرور کوشش کریں گے )(رواہ مسلم عن ابی ھریرة :باب تسویة الصفوف: ۱۸۲/۱،۴۳۷ ترمذی۵۵/۱)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اگلی صف والوں پررحمت نازل فرماتے ہیں اور ملائکہ ان کے لئے رحمت کی دعائیں کرتے ہیں ۔( رواہ النسائی عن البراءبن عازب ،کتاب الامامة ،باب کیف یقوم الامام الصفوف:۱۱۸، ۹۳/۱)

حضرت عرباض بن ساریہ ؓ روایت کرتے ہیںکہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پہلی صف والوں کے لئے تین مرتبہ دعافرمائی اور بعد کی صف والوں کے لئے ایک مرتبہ دعافرمائی۔

پہلی صف والوں کے لئے تین مرتبہ دعافرمائی

حضرت عبداللہ بن مسعود ؓفرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

لیلنی اولوالاحلام والنھی ،ثم الذین یلونھم ،ثم الذین یلونھم الخ

باجماعت نماز میں دانش مند اورسمجھ دارقسم کے لوگوں کو چاہئے کہ مجھ سے قریب کھڑے ہوں،پھروہ لوگ کھڑے ہوںجوسمجھ داری اورعقل مندی میں ان سے قریب ہیں،پھروہ لوگ جو ان سے قریب ہیں الخ (رواہ الترمذی ۵۵/۱)

سمجھ داراورعقل مند حضرات امام کے پیچھے کھڑے ہوکرنمازسیکھیں اوریادرکھیں،اگرنماز کے دروان خلیفہ بنانے کی ضرورت پیش آئے ،تو مناسب آدمی مل سکے ، یا بھول چوک پیش آنے کی صورت میں صحیح لقمہ دے سکےں، اس لئے علماءوحفاظ اور دینی سمجھ رکھنے والوں کو امام سے قریب کھڑے ہونا چاہئے ۔

نوٹ: صف اول سے مراد کامل صف ہے جو ایک جانب سے دوسری جانب تک ہو، امام کے ساتھ یا بڑے محراب میں چند لوگ صف بنالیں ،تووہ پہلی صف کی مصداق نہیں ہے ۔(معارف السنن عن البحرالرائق وردالمحتار۲۹۴/۲)

لہذااللہ کی رحمت ،رسول اللہ کی مکر ردعااورملائکہ کی دعا کی برکت حاصل کرنے کے لئے صف اول میں شرکت کی بھرپورکوشش کرنی چاہئے ۔

نمازکی صفو ں کا اختلاف مسلمانوں کے اختلاف کا سبب

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

لتسون صفوفکم اولیخالفن اللہ بین وجوھکم ۔(رواہ البخاری عن النعمان بن بشیر:۱۷۱/۱،۱۰۰۱،و الترمذی ۲۲۲،۵۵/۱)

صفوں کو بالکل درست اورٹھیک رکھو ،ورنہ اللہ تعالیٰ تمہارے چہروں کے درمیان مخالفت پیدافرمادیں گے ۔

علمائے کرام نے اس حدیث کے دومطلب بیان فرمائے ہیں،پہلا مطلب :اگرباجماعت نماز وں میں صفوں کو درست نہیں رکھوگے ،تو اللہ تعالیٰ تمہارے چہروں کو مسخ (بگاڑ) کردیں گے ،اس مطلب کی تائید مسند احمد کی روایت سے ہوتی ہے جس میں لفظ طمس آیاہے جس کا معنی چہروں کو بگاڑدیناہے ،یعنی چہرے کی ہیئت ،شکل اورصورت بگاڑدی جائے گی ۔

دوسرا مطلب یہ ہے کہ صفوں کو درست رکھو،ورنہ اللہ تعالیٰ تمہارے چہروں کو مخالف بنادیں گے، یعنی تمہارے دلوں میں ایک دوسرے کے خلاف بغض وعداوت اور نفرت وکدوت پیدافرمادیں گے کہ ہرشخص دوسرے کو دیکھ کر منہ موڑکر دوسری طرف نکل جائے گا۔

شارح مسلم علامہ نووی ؒ فرماتے ہیں: حدیث کادوسرا مطلب مرادلینا ہی بہتر ہے ، مطلب یہ ہواکہ اگرنماز کی صفیں درست نہ ہوں، تو سماج ومعاشرہ میں بغض وعدوات ،نفرت وکدورت ،اختلاف اورانتشار پید اہوگا ،محبت وبھائی چارگی ،اتحاد واتفاق ختم ہوجائے گا ، باجماعت نماز میں مقتدیوں کاظاہر چونکہ مختلف اوریکساں نہیں ہے ، اس ظاہری اختلاف کی وجہ سے باطن اوراندرون بھی اختلاف وانتشار،فتنے اورفسادات شکارہو گا ۔ (مستفاد از:درس ترمذی ۴۸۶/۱)

حضرت ابومسعودؓ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے کندھوں پر ہاتھ رکھتے تھے اورفرمایا تے

استووا ولاتختلفوا ،فتختلف قلوبکم ،لیلینی منکمقال ابومسعود فانتم اشداختلافا ۔ رواہ مسلم باب تسویة الصفوف : ۲۳۴۱۸۲/۱)

صفوں کو درست رکھو،آگے پیچھے مت ہونا، ورنہ تمہارے دلوں میں اختلاف پیداہوجائے گا حضرت ابومسعود ؓ فرماتے ہیں : تم لوگوں میں(صفوں کے درست نہ ہونے کی وجہ سے) سب سے زیادہ اختلاف اورانتشارہے ۔

تعدیل صفوف کی اہمیت

صفوں کوسیدھی اور درست کرنا نماز کی سنتوں میںسب سے زیادہ مؤکد سنت ہے ،صفوں کی درستگی کمال ِنماز کا اہم حصہ ہے ،جمہورعلماءکے نزدیک صفوں کی درستگی اگرچہ شرائط ِنماز میں داخل نہیں ہے ، اس کے بغیر بھی نماز درست ہوجائے گی ؛لیکن نماز کامل ومکمل نہیں ہوگی ۔

تعدیل صفوف سیدھی کرنا امام کی ذمہ داری ہے ، اگرامام اس کا اہتمام نہ کرے اورصفیں سیدھی نہ ہوں ،تو قیامت میںامام ماخوذ ہوگا ،یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صفوں کو تیرکو طرح سیدھی کرنے کا اہتمام فرماتے تھے ،یہاں تک کہ آپ نے سمجھاکہ ہم (حضرات صحابہ )صفیں درست کرنا سیکھ چکے ہیں ،ایک دن دیکھا کہ ایک شخص کا سینہ صف سے باہرنکلا ہواہے ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:صفوں کو بالکل درست وٹھیک رکھو ،ورنہ اللہ تعالیٰ تمہارے چہروں کے درمیان مخالفت پیدافرمادیں گے۔(رواہ مسلم ،باب تسویة الصفوف: ۶۳۴،۱۸۲/۱و النسائی:۹۳/۱،۸۱۰)

صفوں درستگی کی ذمہ داری امام کی ہے

براءبن عازب ؓ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صفوںکے درمیان کندھوں اورسینوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے(صفوں کو ٹھیک کرتے ہوئے) ایک جانب سے دوسری جانب نکل جاتے تھے اورفرماتے کہ صفوں میں آگے پیچھے مت کھڑے ہونا کہ تمہارے دل آگے پیچھے ہوجائیں گے ۔(دلوں میں نفرتیں ، دشمنیاں اور اختلافات پیداہوجائیں گے ) ۔(نسائی : ۹۳/۱،۸۱۱)

متعددروایات میں واردہواہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم : باربارفرمایاکرتے تھے کہ استووا ،استووا ،اقیموا صفوفکم ، سیدھے کھڑے ہوجاؤ اور صفوں کو درست کرو۔

حضرت عمررضی اللہ عنہ نے چند حضرات کو ذمہ داری دی تھی کہ وہ صفوں کو سیدھی کیا کریں ، جب وہ حضرات صفوں کے درست ہونے کی اطلاع دیتے تھے ،تب حضرت عمرؓ تکبیر تحریمہ کہتے ۔ ( ترمذی ۵۵/۱)

حضرت علی رضی اللہ عنہ مقتدیوں کا نام لے لے کر ان کو آگے پیچھے ،دائیں اوربائیں جانب ہونے کا حکم فرماتے۔ (ترمذی ۵۵/۱)

معلوم ہواکہ صفوں کو درست اورسیدھی کرنے کی ذمہ داری امام کی ہے ،موجود زمانہ میں ائمہ حضرات صفوں کو درست کرنے کا اہتمام نہیں کرتے ، بعض حضرات صرف اعلان کرنے کے بعد تکبیرتحریمہ کہہ دیتے ہیں ،بعض ہندوستانی ائمہ عربی زبان میں اعلان کرتے ہیں ،یہ عجیب وغریب تماشوں سے صفیں درست نہیں ہوتیں ؛بلکہ اس کا اہتمام کرنے سے ہوتی ہیں،بطورخاص عارضی مقامات میں صفوں کی درستگی کا خوب اہتمام ہوناچاہئے۔

صفوں کودرست کرنے کا طریقہ

صفوں کو درست اورٹھیک کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اولًا اگلی صفیں بالترتیب مکمل کی جائیں اور درمیانی جگہوں کو پر کیا جائے ،جب اگلی صفیں بالترتیب مکمل ہوجائیں اوردرمیان میں جگہ خالی بھی نہ ہو،توپھر نئی صف بنائی جائے ،اسی ترتیب سے بقیہ صفیں بنائی جائیں۔

حضرت جابربن سمرة ؓفرماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے اورفرمایا

الاتصفون کماتصف الملائکة عندربھم ؟ قالوا :وکیف تصف الملائکة عندربھم ؟قال یتمون الصف الاول ،تم یتراصون فی الصف ۔(النسائی باب الامامة باب حث الامام علی رص الصفوف: ۶۱۸ ۹۳/۱)

کیا تم ایسی صف نہیں بناؤگے؟ جیسی صف ملائکہ اپنے رب کے پاس بناتے ہیں ،ہم نے عرض کیا : ملائکہ کس طرح صف بناتے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صف ِاول کو مکمل کرتے ہیں ،پھر ایک دوسرے سے لگ لگ کرکھڑے ہوتے ہیں ۔

حضرت عبداللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

اتموالصف الاول، ثم الذی یلیہ ،وان کان نقص،فلیکن فی الصف المؤخر۔(رواہ النسائی باب الامامة،الصف المؤخر : ۸۱۸ ،۱/۹۳)

صف اول کو مکمل کرو،پھر اس سے ملی ہوئی صف کو مکمل کرو،اگرصف ناقص ہو ،تووہ آخرصف ہونی چاہئے ۔(یعنی اگلی تمام صفیں مکمل ہونی چاہئے ،آخری صف مقتدیوں کی کمی کی وجہ سے ناقص رہ سکتی ہے)

ب: درمیانی خلاپرکرنا

حضرت انس ؓ فرماتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

راصوا صفوفکم ،وقاربوا صفوفکم بینھا ،وحاذوا بالاعناق ،فوالذی نفس محمد بیدہ انی لاری الشیاطین تدخل من خلل الصف کانھا الحذف۔(رواہ النسائی ،باب الامامة حث الامام علی رص الصفوف : ۵۱۸،۱/۳۹)

صفوں میں لگ لگ کرقریب قریب ہوکر کھڑے ہوجاو¿،کندھے کو کندھے کے برابررکھو،اس ذات کی قسم جس کے قبضہ ءقدرت میں محمد کی جان ہے ،میں شیاطین کو صفوں کے درمیان داخل ہوتے ہوئے دیکھتاہوں گویاکہ وہ بکری کا بچہ ہے(کہ تھوڑی جگہ میں بھی داخل ہوجاتاہے) ۔

لہذاصفوں میں خالی جگہ ہرگز نہیں چھوڑنا چاہئے ۔

صف کی تکمیل اورخالی جگہوں کو پرکرنے کی فضیلت

حضرت عبداللہ بن عمرؓفرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

من وصل صفا، وصلہ اللہ ،ومن قطع صفا، قطعہ اللہ عزوجل ۔(رواہ النسائی کتاب الامامة،من وصل صفا : ۹۱۸ ،۱/۹۳)

جوشخص صف کو جوڑے (صف میں خالی جگہ پرکرے ،یا اگلی صف کو مکمل کرے) تو اللہ تعالیٰ اس کو (اپنی رحمت سے) جوڑتے ہیں ، جوشخص صف کو کاٹے ( صف میں خالی جگہ کو پرنہ کرے،یا ادھوری صف کو مکمل نہ کرے) اس کو اللہ تعالیٰ(اپنی رحمت سے ) کاٹتے ہیں۔

ج:مقتدیوں کی ایڑیاں ایک سیدھ میں ہوں

سب مقتدیوں کی ایڑیاں اورٹخنے ایک سیدھ میں ہوں،پیرقدوقامت کے اعتبارسے چھوٹے بڑے ہوسکتے ہیں ، اس لئے ایڑیاں اورٹخنے ایک سیدھ میں ہوں ،توان شاءاللہ صف ایک ہی سیدھ میںہوجائے گی۔ (البحرالرائق باب الامامة ۱ /۶۱۷)

حضرت انس ؓ فرماتے ہیں ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

اقیمواصفوفکم ،فانی اراکم من وراءظھرای ،وکان احدنا یلزق منکبہ بمنکب صاحبہ وقدمہ بقدمہ ۔(رواہ البخاری باب الزاق المنکب بالمنکب:۷۱۷ ،۱۰۰/۱)

اپنی صفیں ٹھیک رکھو، اس لئے کہ میں اپنی پیچھے کی جانب سے بھی دیکھتاہوں ،حضرت انس ؓفرماتے ہیں: ہم لوگ کندھے سے کندھاملا کر اور قدم سے قدم ملاکر کھڑے ہوتے تھے ۔

حافظ ابن حجرؒ فرماتے ہیں: المرادبذالک المبالغة فی تعدیل الصف وسدخللہ ۔(فتح الباری ۲۶۲/۲)

مذکورہ عبارت سے صفوں کی تعدیل میں مبالغہ مراد ہے کہ حضرات صحابہ تعدیل صفوف کا نہایت اہتمام فرماتے تھے ، الفاظ کے ظاہرسے کندھے سے کندھا اورقدم سے قدم ملاکرنا کھڑاہونا سمجھ میں آتاہے ،یہ مطلب مرادنہیں ہے ، اس لئے کہ یہ طریقہ عملًا دشوار ہے؛ بلکہ مقصود صفوں کی درستگی ہے۔

مذکورہ حدیث کا ایک مطلب یہ بھی بیان کیا گیاہے کہ نماز شروع کرنے سے پہلے اس طرح کھڑے ہوکر صفوں کو ایک سمت اور ایک سیدھ پر کرنے کے لئے اس طرے کھڑے ہوتے تھے تاکہ صف بالکل سیدھی ہوجائے ، نمازکی ابتداءسے آخرتک اسی حالت میں کھڑے ہوتے تھے ،یہ مطلب ہرگز مرادنہیں ہے ، اس لئے کہ اس طریقہ میں تکلف بھی ہے اورتکلیف بھی ۔(اعلاءالسنن ۳۳۶/۴)

ایک غلط فہمی کا ازالہ

بعض حضرات (غیرمقلدین )بخاری شریف کی مذکورہ روایت کا سہارا لے کر صفوں میں انتشارپھیلانے کی کوشش کرتے ہیں ،صف میں اپنے پیر کودوسرے کے پیر سے ،اپنے کندھے کو دوسرے کے کندھے سے تکلف ،تکلیف اورنہایت غلط ہیئت کے ساتھ ملاکر کھڑے ہوتے ہیں ،ظاہرہے کہ حقیقة ً کندھے سے کندھاملانااورپیرسے پیرملانا ناممکن ہے ،اس لئے کہ مقتدی حضرات کا قدمختلف ہوتاہے ،پھریہ کیسے ممکن ہوگا؟ مقصد کندھے کے برابر کندھارکھنا ،پیرکے برابرپیررکھنا ہے تاکہ ایک سیدھ میں ہوجائیں ؛لیکن یہ حضرات ظاہری الفاظ ِحدیث کا سہارلے کرمسلمانوں کی صفوں میں اختلاف اورانتشاپیداکرتے ہیں ، غیرمقلد محدثین نے مذکورہ حدیث کی کیا تشریح کی ہے، ملاحظہ فرمائیں۔

مولانا شمس الحق عظیم آبادی شارح ابی داؤد حضرت ابن عمر ؓ کی روایت کی تشریح میں لکھتے ہیں

حاذاوبالمناکب ای اجعلوا بعضھا حذاءبعض بحیث یکون منکب کل واحد من المصلین موازیا لمنکب الاآخر ومسامتالہ،فتکون المناکب والاعناق والاقدام علی سمت واحد ۔ (عون المعبود ۲۵۸/۲)

کندھے کوکندھے کے برابرمیں رکھو، اس طور پر کہ ہرمصلی کاکندھا دوسرے مصلی کے کندھے کے برابرہو ،غرض یہ کہ تمام مقتدیوں کی گردن ،کندھے اورپیر سب ایک ہی سمت اورایک ہی لیول پر ہوں ۔

سعودیہ کے مفتی شیخ عثیمین کا فتوی

صفوں کی درستگی میں ٹخنوں کوٹخنوں کے برابررکھنا مرادہے ، ایک آدمی کی انگلیاں دوسرے آدمی کی انگلیاں کے برابررکھنے کا اعتبار نہیں ہے ،اس لئے کہ بدن ٹخنوں پرکھڑا ہوتاہے ،انگلیاں پیروں کے چھوٹے اوربڑے ہونے کے اعتبارسے آگے پیچھے ہوںگی ، لہذا صف انگلیاں کے اعتبارسے ٹھیک کرنا ممکن نہیں۔

اماالصاق الکعبین بعضھما ببعض ،فلاشک انہ وارد عن الصحابة ؓ فانھم کانوایسوون الصفوف بالصاق الکعبین بعضھما ببعض ،ان کل واحد منھم یصلق کعبہ بکعب جارہ لتحقق المخاذاة وتسویة الصف ،فھو لیس مقصود لذاتہ لکنہ مقصود لغیرة کما ذکرذالک اھل العلم ،ولذالک اذاتمت الصفوف وقام الناس ینبغی لکل واحد ان یلصق کعبہ بکعب صاحبہ لتحقق المساواة ،ولیس معنی ذالک ان یلازم ھذا الالصاق ویبقی ملازما لہ فی جمیع الصلوة ۔

ومن الغلو فی ھذہ المسئلة مایفعلہ بعض الناس من کونہ یلصق کعبہ بکعب صاحبہ ،ویفتح قدمیہ فیما بینھما حتی یکون بینہ وبین جارہ فی المناکب فرجة ،فیخالف السنة فی ذالک ،والمقصود ان المناکب والاکعب تتساوی ۔(مجموع فتاوی ابن عثیمین فتوی:۴۲۸)

خلاصہ جواب

خلاصہ جواب : حضرات صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین سے یقینا مروی ہے کہ وہ حضرات صف میں اپنا ٹخنہ دوسرے کے ٹخنہ سے ملاکرکھڑے ہوتے تھے ،اس کی وجہ یہ ہے کہ نماز شروع کرنے سے پہلے اس طرح کھڑے ہوکر صفوں کو ایک سمت اور ایک سیدھ پر کرنے کے لئے کھڑے ہوتے تھے تاکہ صف بالکل سیدھی ہوجائے ، نمازکی ابتداءسے آخرتک اسی حالت میںکھڑے ہوتے تھے ،یہ مطلب ہرگز مرادنہیں ہے ۔

بعض جاہل ونادان لو گ بہت زیاد ہ غلو سے کام لیتے ہوئے نماز میں پیروں کو پھیلاکر اپنے ٹخنوں کودوسرے کے ٹخنوں سے لگا کر رکھتے ہیں اوراپنے اور پڑوسی کے کندھوں کے درمیان خلا چھوڑتے ہیں؛ حالانکہ خالی جگہ چھوڑے بغیر کندھے سے کندھا ملاکر کھڑا ہونا سنت ہے ، صفوں کی یہ شکل خلاف سنت ہے ، مقصود صفوں کے درست کرنے میں یہ ہے کہ کندھے اور ٹخنے برابراورایک لیول پر ہوں۔

صفوں کی درستگی سے متعلق مسائل

مسئلہ : اگرایک مقتدی ہو،تو، بالاجماع وہ مقتدی امام کی داہنی جانب کھڑاہوگا ؛البتہ کھڑے ہونے کے طریقہ میں اختلاف ہے ، امام ابوحنیفہؒ اورامام ابویوسف ؒ کا مسلک یہ ہے کہ امام اورمقتدی دونوں برابر کھڑے ہوںگے ،کوئی آگے پیچھے نہیں ہوگا ۔

امام محمد ؒ کے نزدیک مقتدی اپنا پنجہ امام کی ایڑیوں کے برابر رکھے گا ،فقہائے حنفیہ نے فرمایا کہ اگرچہ دلیل کے اعتبار سے شیخین کا قول راجح ہے ؛لیکن تعامل امام محمد ؒ کے قول کے مطابق ہے اوریہ قول احوط بھی ہے ،اس لئے کہ برابرکھڑے ہونے میں غیرشعوری طورپر آگے بڑھ جانے کا اندیشہ ہے ،جب کہ امام محمدؒ کا قول اختیارکرنے کی صورت میں یہ خطرہ نہیں ہے ،اسی لئے فتوی بھی امام محمدؒ ہی کے قول پر ہے ۔(معارف السنن ۲۱۳/۲)

مسئلہ : اگرکوئی شخص صف میں تنہا ہو،کسی کے آنے کی امید ہو،تو رکوع تک انتظارکرے ، اگررکو ع میں جانے تک کوئی نہ آئے ،تو اگلی صف سے کسی شخص کو کھینچ کر اپنے ساتھ کھڑاکرلے ، اگرکسی کی ایذارسانی کا اندیشہ ہو، یالوگ مسئلہ سے ناواقف ہوں، یا کسی فتنہ وانتشار کا خوف ہو،توتنہاءصف میں کھڑے ہوکر نماز اداکرلے ،نماز ہوجائے گی ؛البتہ مذکورہ احکام کی رعایت نہ کرنے کی وجہ سے کراہت ہوگی ۔(معار ف السنن ۳۰۷/۲،درس ترمذی ۴۸۸/۲)

مسئلہ : اگردومقتد ی ہوں، توامام کے پیچھے مستقل صف بنائیں گے ۔(رواہ الترمذی عن سمرة بن جندب ۱/۵۵)ضرورت کے پیش نظر امام کی داہنی اوربائیں جانب بھی کھڑے ہوسکتے ہیں ۔(رواہ الترمذی عمل ابن مسعود ۱/۵۵)

مستورات کہاں کھڑی ہوں

مسئلہ : اگرمستورات امام کی اقتداءکریں، تو وہ مستقل صف بنائیں گی ،اگریک خاتون ہو،تو وہ بھی مستقل صف میں کھڑی ہوگی ۔(رواہ الترمذی عن انس ۱/۵۵)

مسئلہ : اگرکوئی شخص دیکھے کہ اگلی صف میں جگہ خالی ہے ،تووہ شخص اگلی صف کو پر کرنے کے لئے نمازیوں کے سامنے سے گزرسکتاہے ،نیز گرد ن پھاندکرجانے کی بھی گنجائش ہے ،ان صورتوں میں گناہ لاز م نہیں آئے گا ۔(معارف السنن نقلاعن البحروردالمحتار۳۰۰/۲)

مسئلہ : اگرصف کے درمیان ستون حائل ہوں ، اس صف میں باجماعت نمازپڑھنا مکروہ ہے ،ستونوںکے درمیان منفردشخص بلاکراہت نماز پڑھ سکتاہے ،نیزنماز پڑھنے کی جگہ تنگ ہواورمصلیوں کے لئے ناکافی ہے ،توبلاکراہت باجماعت نماز بھی ہوجائے گی ۔(معارف السنن ۳۰۶/۲) عبداللطیف قاسمی جامعہ غیث الہدی بنگلور ۱۵/ ربیع الاول ۱۴۴۲؁ موافق ۲/۱۱/۲۰۲۰

درس قرآن ، درس حدیث ، فقہ وفتاوی ،اصلاحی ،علمی وتحقیقی مضامین کے لئے فیضان قاسمی ویب سائٹ/faizaneqasmi.comکی طرف رجوع کیجئے اوردوست واحباب کو متوجہ کیجئے ۔

We will be happy to hear your thoughts

Leave a reply