صلوة الحاجہ کی فضیلت ،اہمیت اورضرورت

صلوة الحاجہ کی فضیلت ،اہمیت اورضرورت: جب کسی شخص کو کوئی ضروت پیش آئے، یاکوئی کام کرنا چاہتاہے ؛لیکن وہ کا م ہوتاہوانظرنہیں آرہاہے،یا اس کام کے ہونے میں رکاوٹیں اوردشواریاں پیش آرہی ہیں ،یا کوئی پریشانی ،مصائب اورآفات لاحق ہوجائیں، تو دورکعت نفل نماز پڑھے، پھرجودعا حدیث میں آئی ہے ،اس کے معنی کو سمجھ کر پڑھے اور اپنی زبان میں بھی خوب گڑگڑاکر دعاکرے ۔ان شاءاللہ۔ اس کی ضرورتیں پوری ہوں گی ،رکاوٹیں دورہوں گی ،دشواریاں آسان ہوں گی اور پریشانیاں رفع ہوں گی ۔

ولقدنعلم انک یضیق صدرک بمایقولون ، فسبح بحمدک ربک وکن من السجدین ،واعبدربک حتی یاتیک الیقین ۔(الحجر: ۹۷تا۹۹)اے نبی !ہمیں معلوم ہے کہ ان کی باتوں سے آپ کا دل تنگ ہوجاتاہے ،آپ اپنے پروردگار کی تسبیح وتحمید کرتے رہئے ،سجدہ کرنے والوں میں سے رہئے اوراپنے پروردگا رکی عبادت کرتے رہئے یہاں تک کہ آپ کو موت آجائے ۔

معلوم ہواکہ اگرلوگوں کی طرف سے کوئی ناگواربات پیش آئے ،انسان کا دل رنجیدہ ہوجائے ،تو اس کا علاج ومداوی یہ کہ اللہ کا ذکرکیاجائے ،تسبیح وتحمید کی جائے اورعبادت میں مشغول ہوجائیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول مبارک تھا کہ جب کوئی اہم معاملہ، ناگواربات یاکوئی پریشان پیش آتی ،توفورًآپ نماز کی طرف لپکتے ۔”التفسیرالمیسر“ میں مذکورہ آیت سے صلوة الحاجہ پر استدلال کیا ہے ،استدلال قابل استحسان ہے ۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو یہی تعلیم دی اورصحابہ کی تربیت فرمائی کے جب کوئی ضرورت ،پریشانی اوردشواریاں پیش آئیں،توخداکی طرف رجوع کرو اور صلوة الحاجہ پڑھویا کم ازکم اس سلسلہ کی دعاؤوں کا اہتمام کرو ۔

صلوة الحاجہ کا مقصد

انسان کو کوئی ضرورت پیش آتی ہے،تو وہ ظاہری اسباب اختیارکرتا ہے ،ظاہری اسباب اختیارکرنااورمقدوربھرکوشش کرناجائز ہے ؛لیکن ایک مسلمان کی شان یہ ہے کہ وہ صرف ظاہری اسباب ہی کو سب کچھ نہ سمجھ لے؛ بلکہ وہ ظاہری اسباب کو اختیارکرے اوران اسباب میں تاثیر اورکامیابی کے سلسلہ میں اللہ سے مددطلب کرے اوراسی کوکارساز سمجھے،بے ایمان کی طرح نہ ہو کہ صرف ظاہری اسبا ب ہی پر کامیابی کومنحصرسمجھتاہے اورخداکی طرف جوکہ مسبب الاسباب ،قادرمطق اورکارسازہے بالکل متوجہ نہیں ہوتاہے۔

حضورصلی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایاکہ ظاہری اسبا ب ضروراختیارکرو ؛لیکن تمہارایقین اوربھروسہ اللہ جل شانہ کی ذات پرہوناچاہئے ،اسباب اختیارکرنے کے بعد دعاکروکہ اے اللہ میرے اختیاراوربس میں جو تھا اس کو کرلیا ،آپ ہی اسباب میں تاثیرپیداکرنے والے اوران تدبیروں کو کامیاب بنانے والے ہیں ،لہذامیری تدبیروں کو کامیاب فرمادیجئے۔

اسی کی تعلیم دی ہے،حدیث شریف اللہم ھذاالجھد وعلیک التکلان ۔اے اللہ میری طاقت میں جو کچھ(تدبیریں اوراسباب ) تھا،میں نے اختیارکیا ،آپ ہی پربھروسہ ہے ،آپ ہی اپنی رحمت سے اس مقصد میں کامیابی عطافرمائیے۔

اللہ تعالیٰ نے اسباب اورتدابیراختیارکرنے کی اجازت؛ بلکہ حکم دیا ہے؛ لیکن اسباب کی تاثیر اورتدابیرکی کامیابی اللہ کے قبضہ قدرت میں ہے،لہذا انسان کی نگاہ صرف اسباب تک محدود نہ رہے؛ بلکہ اسباب کے پیداکرنے والی ذات پرہونی چاہئے،ان اسباب میں تاثیراورتدابیرمیں کامیابی کی دعاکرے ۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرات صحابہ کرام کی تربیت اسی طرح فرمائی تھی ،یہی وجہ ہے کہ ان کی نگاہ ہمیشہ مسبب الاساب پر رہتی تھی،اس سلسلہ میں حضرات صحابہ کرام کے بے شمارواقعات کتب سیرت میں مذکورہیں ۔

صلوة الحاجہ کی دعااورطریقہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جس کوشخص کوئی حاجت پیش آئے، خواہ اللہ سے یاکسی انسان سے یعنی وہ کسی اہم معاملہ میں براہ راست اللہ تعالیٰ سے دعاکرنا چاہتاہے ،یا کسی بندے سے کوئی چیز طلب کرناچاہتاہے،مثلاً قرض لینا چاہتاہے،خیال ہے کہ اللہ جانے وہ دے گا یانہیں،توخوب اچھی طرح وضوکرے،پھردورکعت نفل نماز پڑھے ،پھراللہ کی حمد وثناکرے اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجے ،پھریہ دعا پڑھے :

لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الحَلِيمُ الكَرِيمُ، سُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ العَرْشِ العَظِيمِ، الحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ العَالَمِينَ، أَسْأَلُكَ مُوجِبَاتِ رَحْمَتِكَ، وَعَزَائِمَ مَغْفِرَتِكَ، وَالغَنِيمَةَ مِنْ كُلِّ بِرٍّ، وَالسَّلَامَةَ مِنْ كُلِّ إِثْمٍ، لَا تَدَعْ لِي ذَنْبًا إِلَّا غَفَرْتَهُ، وَلَا هَمًّا إِلَّا فَرَّجْتَهُ، وَلَا حَاجَةً هِيَ لَكَ رِضًا إِلَّا قَضَيْتَهَا يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ(رواہ الترمذی عن عبداللہ بن ابی اوفی ۱۸۰/۱،۴۷۹)۔

کوئی معبودنہیں ہے سوائے اللہ کے جوبردبارہے ،پاک ہے وہ اللہ جوعرش عظیم کاپروردگارہے اورتمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جو سارے جہانوں کا پالنہارہے ۔

اے اللہ! میں تجھ سے تیری مہربانی کو واجب کرنے والے ،تیری بخشش کو مؤکدکرنے والے اعمال کی توفیق اورہرنیکی سے بلامشقت کی کمائی اورہرگناہ سے سلامتی مانگتاہوں۔

اے اللہ میرے ہرگناہ کو بخش دے ، اے نہایت رحم ومہربانی فرمانے والے ! میری ہرفکر وٹینشن کو دررکرے اورمیری ہرضرورت وحاجت کو جو تیرے نزدیک پسندیدہ ہو پوری فرمادے ۔

یہ دعا اللہ کی وحدانیت، پاکی وتقدیس ،عظمت،قدرت اور ربوبیت پر مشتمل

یہ دعا اللہ کی وحدانیت، پاکی وتقدیس ،عظمت اورقدرت، ربوبیت ،گناہ پر فوری گرفت نہ کرنااوربغیراستحقاق کے نواز نا اوراحسان نہ جتلانے والے اسمائے حسنی پر مشتمل ہے،لہذاان اسماءکی برکت سے ضرورتیں پوری ہوں گی ،رکاوٹیں دورہوں گی ،دشواریاں آسان ہوں گی اورپریشانیاں زائل ہوں ۔

مذکورہ طریقہ پرنمازپڑھ کر اپنی ضرورت خوب گڑگڑاکر اللہ تعالیٰ سے مانگے اوریہ عمل برابرکرتارہے ،یہاں تک کہ ضرورت پوری ہوجائے،یا دل مولی مرضی اور قناعت پر راضی ہوجائے ،یہ سب سے بڑی دولت ہے ۔

بندہ کی دعاہرحال میں قبول ہوتی ہے ،یا اسی کے مثل کوئی دوسری چیزدے دی جاتی ہے یا عبادت بناکر نامہ میں لکھ دیاجاتاہے اور بندہ کے دل کو مطلوبہ چیز کے نہ ملنے پر مطمئن کردیاجاتاہے ۔

اگرحاجت وضرورت کسی بندے سے متعلق ہو،توبھی مذکورہ عمل کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ سے خوب عاجزی کے ساتھ دعاکرے ،اے اللہ ! اس بندے کے دل کو میری ضرورت پوری کرنے پرآمادہ فرمادے ۔

کیونکہ تمام بندوں کے دل اللہ تعالیٰ کے دوانگلیوں کے درمیان ہیں ،وہ جدھرچاہتے ہیں ،پھیردیتے ہیں،پھردعاسے فارغ ہوکر اس بندہ کے پاس جائے اور اپنی ضرورت پیش کرے ،اگرضرورت پوری ہوجائے ،تواس بندہ کابھی شکراداکرے اوراللہ کابھی شکر اداکرے،اگرضرورت پوری نہ ہو،تو سمجھے کہ اللہ کی مرضی نہیں ہے ،اللہ تعالیٰ حاجت روائی کا کوئی دوسراانتظام فرمائیں گے۔

صلوة الحاجہ کی حکمت ومصلحت

اللہ تعالیٰ سے دعامانگنے سے پہلے نماز پڑھنے سے اللہ کا قرب حاصل ہوتاہے ،نمازاورخداکی حمدوثنا کے بعد دعاکرے گا ،توضرورکامیابی ملے گی اورضرورت پوری ہوگی۔

اگرحاجت وضرورت کسی بندہ سے متعلق ہو،تو ، نماز اوردعاکے بعد اس کے پاس جانے کی دو حکمتیں ہیں :
پہلی حکمت: کسی بندہ سے ضرورت پوری کرنے کی درخواست کرنا غیراللہ سے مدداوراستعانت ہے ،مدداوراستعانت صرف اللہ سے طلب کرنا چاہئے ،جب بندہ کسی بندہ کے سامنے اپنی ضرورت پیش کرے گا ،توگویا وہ غیراللہ سے مددطلب کررہاہے۔

اس لئے شریعت صلوة الحاجہ اوراس کی دعاکی تعلیم دی تاکہ بندہ کے عقیدہ کی حفاظت ہوسکے ،اس لئے کہ اگراس بندہ نے اس کی ضرور ت پوری کردی، تو یہ سمجھے گا کہ اسی نے میری ضرورت پوری کی ہے ؛حالانکہ اللہ تعالیٰ ہی ضرورتوںک و پوراکرنے والے ہیں ، اللہ تعالیٰ ہی نے اس بندہ کے دل کو اس کی طرف متوجہ کیا اوراس کی حاجت روائی پر آمادہ کیاہے،یہ یقین کی کمی اور فسادعقیدہ ہے۔

اگربندہ نمازودعاکے بعد کسی بندے کے پاس جائے گا اوروہ اس کی ضرورت کو پورابھی کردے ،تو ذہن نماز،دعا اوراللہ کی توفیق اوراس کی آسانی کی طرف متوجہ ہو گا ،کہ اللہ نے اپنے فضل ومہربانی ،نماز ودعاکی برکت سے میری ضرورت پوری فرمادی اور اس کے دل کو نرم اورمیری طرف متوجہ کیاہے ۔

اگروہ بندہ اس کی ضرورت پوری نہ کرے ،تویہ سمجھے گا شایدضرورت پوری نہ ہونے میں میری کوئی مصلحت ہے ،یہ یقین اورعقیدہ کی حفاظت ہے ۔

دوسری حکمت: کسی ضرورت کا پیش آنا اورکسی کے پاس جانا یہ دنیوی معاملہ ہے ، شریعت چاہتی ہے کہ دنیوی معاملہ بھی عبادت بن جائے ،اس لئے صلوة الحاجہ کومشروع کیاہے ۔(ملخص تحفة الالالمعی۳۳۳/۲)نوٹ: ائمہ اربعہ کے نزدیک صلوة الحاجہ مستحب ہے ۔

ہرضرورت کے لئے صلوة الحاجہ پڑھی جائے

ہرضرورت اورپریشانی کے وقت صلوة الحاجہ پڑھنا اوراللہ سے مددطلب کرنایہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔

کان النبی صلی اللہ علیہ وسلم اذاحزبہ امر صلی ۔(سنن ابی داؤدباب قیام النبی من اللیل۱۸۷/۱)

جب بھی حضوراقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی تشویش کا معاملہ پیش آتا،کوئی پریشانی لاحق ہوتی،توآپ سب سے پہلے نماز کی طرف دوڑتے ۔

یہی صلوة الحاجہ ہے پھردعاکرے : اے اللہ یہ مشکل آگئی ہے ،آپ اس کو دورفرمادیجئے ،لہذاایمان والوں کوچاہئے کہ وہ اپنے مقاصدمیں کامیابی اوراسباب کے بجائے مسبب الاسباب پریقین وایمان کی زیادتی کے لئے صلوة الحاجہ کاخوب اہتمام کریں۔

اگرنماز کاموقع یا وقت نہ ہو،تو دعاکرے اورحدیث میں مذکوردعابھی پرھے ،اپنی ہرضرورت کواللہ کے بارگاہ میں پیش کرے ،وہ ضرورت چھوٹی ہویابڑی ۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تمہاری ہرضرورت کو اللہ سے مانگو، یہاں تک کہ نمک کی ضرورت پیش آئے،تووہ بھی اللہ سے مانگو ، اگرتمہارے جوتے کاتسمہ ٹوٹ جائے ،تو بھی اللہ تعالیٰ سے مانگو ۔(ترمذی ابواب الدعوات۲۰۱/۱)

چھوٹی ضرورت، بڑی ضرورت ہے بندوں کے نزدیک ہے ،اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب برابرہیں،اللہ کے نزدیک ہرکام چھوٹا اوراس کے لئے ہرکام آسان ہے ۔

پریشانیوں کے موقع پر ہماراطریقہ

حضرت مولانامفتی محمدتقی عثمانیؒ مدظلہ العالی تحریرفرماتے ہیں:آج ہم میں سے ہرشخص پریشان ہے ،ہرگھرمیں پریشانی ہے، کوئی اندیشوں کا شکارہے ، کسی کی جان،مال اور آبرو محفوظ نہیں،زمینی آسمانی مصائب وشدائد کا ابتلاءہے ۔

ہماراحال یہ ہے کہ صبح سے شام تک جہاں دوچارآدمی جمع ہوئے ،تبصرے شروع کردئے ،فلاں نے اس طرح کیا،فلاں سے کوتاہی ہوئی ،حکومت نے یہ غلطی کی ، ان تدابیرمیں کمی ہوگئی ،ذرائع ابلاغ ،واتساب اوریوٹیوب پرنگاہ جمائے رہتے ہیں؟ خداکی طرف بالکل متوجہ نہیں ہوتے اور غفلت میں وقت گزاراکرتے ہیں ، تبصروں میں کتنوں کی غیبت ہوتی ہے ،کتنوں پربہتان لگایاجاتاہے ۔

کاش ہم پریشانیوں کے وقت خداکی طرف رجوع کرتے

تبصروں سے وقت کے ضائع ہونے کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہوتا،تبصروں سے ہماری مجلسیں آبادرہتی ہیں، اللہ کی طرف رجوع اور گڑگڑانے کا سلسلہ ختم ہوگیا،کا ش ہم دودورکعت صلوة الحاجہ پڑھ کر امت کے لئے ،انسانیت کے لئے تڑپ کر مصائب وشدائد اورپریشانیوں کے رفع وازالہ کی دعائیں کرتے اور جومناسب تدبیریں ہوں؟ان کو اختیارکرتے اورجن تدبیروں کو اختیارکیاجائے؟ ان کی کامیابی کی دعاکرتے ۔

ہم میں سے کتنے لوگ ہیں جن کو ضرورتو ں اورپریشانیوں کے موقع پر خداکی طرف رجوع کرنے اور تضرع وعاجزی کرنے کی توفیق ملتی ہے اوردعاکرتے ہیں کہ اے اللہ! اپنی رحمت سے ہماری ضرورتوں کوپوراکردیجے، اے اللہ! مصیبتیں ہم پرمسلط ہیں، ہمارے گناہوں کاوبال ہےں ، اے اللہ اپنی رحمت سے دورفر مادیجئے ۔(مستفاد اسلام اورہماری زندگی۱۸۶/۲)

پریشانیوں کے ازالہ کاایک نبوی وظیفہ

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو عِنْدَ الكَرْبِ يَقُولُ:

لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ العَظِيمُ الحَلِيمُ، لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ، وَرَبُّ العَرْشِ العَظِيمِ۔(رواہ البخاری کتاب ال الدعوات باب الدعاء عندالکرب:۳۹۳/۲،رقم :۶۳۴۵)

حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غم، ٹینشن اورپریشانیوں کے موقع پریہ دعاپڑھتے تھے ۔

لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ العَظِيمُ الحَلِيمُ، لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ، وَرَبُّ العَرْشِ العَظِيمِ۔

نسائی شریف کی روایت میں مذکورہے کہ حضرت علیؓ نے فرمایا:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے علی! جب تم پرکوئی مصیبت یا پریشانی آئے، تومذکورہ دعاپڑھو۔علامہ طبری ؒ فرماتے ہیں: اکابراس دعاکو ”دعاالکرب“ کے نام سے یادکرتے ہیں۔

شارحین بخاری حافظ ابن حجر اورعلامہ عینی نے مندرجہ بالاحدیث کی تشریح کرتے ہوئے ایک عجیب واقعہ نقل فرمایا ہے۔

امام ابوبکر رازی ؒ فرماتے ہیں:میں اصہبان شہرمیں محدث ابونعیم کی خدمت میں قیام پذیرتھا ، اس شہر میں ابوبکر بن علی نامی ایک بزرگ تھے جو فقہ وفتاوی میں مرجع خلائق تھے ، کسی نے باشاہ وقت کے پاس ان کی شکایت کردی ،بادشاہ نے بزرگ کو قیدکردیا،بزرگ پریشان ہوگئے ۔

خواب میں مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت نصیب ہوئی ،حضرت جبرئیل علیہ السلام رسول اللہ صلی اللہ وسلم کی دائیں جانب بیٹھے تسبیح میں مشغول ہیں ،آپ کے ہونٹ حرکت کررہے ہیں ۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ارشادفرمایا :ابوبکربن علی سے کہوکہ وہ رہائی حاصل ہونے تک اس دعاکا اہتمام کریں جو بخاری میں مذکورہے ۔

امام رازی فرماتے ہیں:میں بیدارہوا اورابوبکر بن علی کو اس کی اطلاع دی ،انھوں نے دعاکا اہتمام کیا ،تھوڑے ہی عرصہ میں، ان کو رہائی نصیب ہوگئی۔(فتح الباری۱۶۸/۱۱عمدة القاری)علاومہ نووی شارح مسلم فرماتے ہیں:پریشانیوں اورمصیبتوں کے اوقات میں اس دعاکا خاص اہتمام کرنا چاہئے ،یہ نہایت مجرب دعاہے ۔( فتح الباری۱۶۸/۱۱)

قارئین کرام سے گزارش

ہم جس زمانہ میں جی رہے ہیں ،اس میں ہرآن انفرادی ،اجتماعی ،قومی ،ملی ،ملکی اورعالمی پریشانیاں اورمصیبتوں کے سایہ تلے جی رہے ہیں، ہرآنے والے دن میں ایک نئی پریشانی آتی ہے ، ہماری حالت زاروہی ہے جس کا شکوہ حضرت اقدس مفتی محمدتقی عثمانی صاحب نے فرمایاہے ،بطورخاص ان سطورکوقیدتحریرمیں لانے کے وقت :سمجھ میں نہ آنے والی ،عجبب وغریب ،ایک عالمی وتاریخی آزمائشی پریشانی وسمائی آفت”کرونا وائرس“ چل رہی ہے ،جس سے لوگوں کا ذہنی جالی اورمالی بے پناہ نقصان ہورہاہے ۔

ا ن حالات میں ہمیں چاہئے کہ بارباردودورکعت سورتوں کی تعیین کے بغیرصلوة الحاجہ پڑھیں ، پوری انسانیت بطورخاص امت مسلمہ کے لئے گڑاگڑکردعائیں کریں اورچلتے پھرتے دعاءکرب کا خوب اہتمام کریں ،اللہ تعالیٰ ہم سب کو ،ساری انسانیت کو بطورخاص امت مسلمہ کوتمام دنیوی دینی پریشانیو ں اورآفتوں سے عافیت وسلامتی نصیب فرمائے ۔

آپ سے گزارش ہے کہ قارئین کرام بندہ ناچیز ،والدین ،اولاد ،اساتذہ اوردیگراقرباءومتعلقین کی عافیت ،سلامتی ،قبولیت ،خاتمہ بالخیراور مغفرت کی دعاءکریں ۔ جزاکم اللہ احسن الجزاء ۔دعاؤوں کا طالب : عبداللطیف قاسمی جامعہ غیث الہدی بنگلور۷شعبان المعظم ۱۴۴۱؁۲ ھ اپریل۲۰۲۰؁ء