طلبہ نعمت اورامانت: شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی تقی عثمانی صاحب مدظلہ

حضرات علماءکرام !السلام علیکم و رحمة اللہ و برکاتہ
مجھ سے فرمائش کی گئی ہے کہ تدریب المعلمین سے متعلق کچھ کلمات کہوں، اس سلسلہ میں آپ حضرات سے عرض ہے کہ،میں خود تدریب کا محتاج ہوں، پھر کسی کی تدریب کے بارے میں کیا کہہ سکتا ہوں؛البتہ اپنے بزرگوں سے جو باتیں سنی ہیں، ان کے تکرار کر دینے میں کوئی مضائقہ نہیں۔

طلبہ نعمت ہیں

میرے والد ماجد حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب قدس اللہ سرہ ہم لوگوں سے بکثرت فرمایا کرتے تھے کہ جو طلبہ آپ کے پاس پڑھنے کے لئے آئے ہیں، وہ اللہ جل جلا لہ کی ایک بہت بڑی نعمت ہیں ؛کیوں کہ تعلیم بھی در حقیقت دعوت و تبلیغ کا ایک شعبہ ہے اور دعوت و تبلیغ کی اصل تو یہ ہے کہ آدمی اپنے گھر سے نکل کر کہیں جائے ،کسی کو دعوت دے ، حق کا کوئی کلمہ پہنچائے ،اس کے لئے بعض اوقات سفر بھی کرنا پڑتاہے ، اپنی جگہ کو بھی چھوڑنا پڑتا ہے ،محنت و مشقت بھی اٹھانی پڑتی ہے

لیکن مدرسین کے لئے اللہ تبارک وتعالی نے جن لوگوں کو دعوت دینی ہے یا تبلیغ کرنی ہے ،ان کے گھروں تک پہنچا دیا ہے ، ان کو دعوت و تبلیغ کرنے کے لئے سفر کر کے کہیں جانے کی ضرورت نہیں پڑی،اللہ تبارک وتعالی نے ان کے مستقرپرطلبہ کو جمع کر دیاہے،سب سے پہلی بات جو ہر مدرس اور ہر معلم کو ذہن میں رکھنی چاہئے ،وہ یہی ہے کہ طلبہ اللہ تبارک وتعالی کی ایک بہت بڑی نعمت ہیں۔

طلبہ طالب ہیں

کوئی آدمی دعوت وتبلیغ کے لئے جائے ،تو کسی آدمی میں بات سننے کی طلب ہوگی ،کسی میں نہیں ہوگی،کوئی دھیان سے سنے گا، کوئی نہیں سنے گا ،کوئی مانے گا ،کوئی نہیں مانے گا ؛لیکن جو طلبہ آپ کے پاس پڑھنے آئے ہیں،وہ در حقیقت آپ کی بات سننے اورماننے ہی کے لئے آئے ہیں ،آپ کی بات مانیں گے، تو غالب گمان یہی ہے کہ ان پر جو محنت کی جائے گی، وہ ا ن شاءاللہ ضرور بار آور ہوگی۔

اگر ہم کہیں کسی عام آدمی کو دعوت دینے جائیں،تبلیغ کرنے جائیں ،تو یہ بات یقینی نہیں ہے کہ وہ ضرور قبول کرے گا، رد بھی کرسکتا ہے؛لیکن مدارس میں طالب علم آئے ہیں ،طالب علم اسی کو کہتے جو طلب ِعلم رکھتا ہو ،علم کی طلب لے کر آیا ہو،نیز اطمینان بھی ہے کہ طلب علم کے ساتھ آیاہے ،چونکہ طالب علم غالباََ اسی لئے مدرس اور استاذکے پاس زانو ئے تلمذ طے کرتا ہے کہ اس سے کچھ سیکھے اور غالب گمان ہے کہ جو کچھ اس کوبتایا جائے گا ۔ان شاءاللہ۔ اس کو قبول بھی کرے گا۔

لہٰذا یہ دوسری عظیم نعمت ہے، ایک تو طالبِ علم کا آجانا نعمت اور طالبِ علم کے آجانے کے بعد اس بات کا اطمیان ہونا یہ بھی نعمت ، ہر معلم، ہر مدرس اور ہر استاذ کوسب سے پہلے اللہ جل جلالہ کا شکر ادا کرنا چاہئے کہ اس نے یہ نعمت ہمارے پاس بھیج دی ۔

طلبہ استاذ کے پاس امانت

دوسری بات یہ ہے کہ یہ نعمت استاذ کے پاس امانت ہے ، اس امانت کا حق یہ ہے کہ جس کام کے لئے وہ آئے ہیں اور جس کام کے لئے آپ اس کو پڑھانے بیٹھے ہیں، اس کا پورا پورا حق ادا کرنے کی کوشش کی جائے۔ ان اللہَ یامرکم ان تؤدواالامانات الی اھلھا۔

اگر بالفرض اس امانت میں کوتاہی ہوجائے ، تواس امانت کی خیانت ہوگی، اس طالبِ علم کے ساتھ ، اس کے والدین کے ساتھ ، اس کے سر پرستوں کے ساتھ ، مدرسہ کے ساتھ اور مدرسہ کو معاونین کے ساتھ بھی جو چندہ دیتے ہیں تاکہ مدارس میں دین کی صحیح تعلیم ہو ،صرف ایک آدمی کی خیانت نہیں ہے؛ بلکہ خود طا لب علم ،اس کے والدین ، سر پرست ،مدرسہ کے ذمہ دار اور مدرسہ کے معاونین سب کے ساتھ خیانت ہوگی ،اگر طالب علم کا حق ادا کرنے میں کوتاہی کی جائے، تو ان سب کے ساتھ خیانت ہوگی ،اس لئے سب سے اہم بات اپنی ذمہ داری کا احساس یعنی ان نعمتوں کی قدر ہے۔

ایک طالبِ علم بھی ہمارے ذریعہ کوئی بات سیکھ لیا، تو ہمارے لئے مستقل ایک صدقہ جاریہ

اس ذمہ داری کا نہایت خو ش گوار پہلو یہ ہے کہ اگر ایک طالبِ علم بھی ہمارے ذریعہ کوئی بات سیکھ لیا، تو ہمارے لئے مستقل ایک صدقہ جاریہ ہے،جب تک وہ اس بات پر عمل کرتا رہے گا ، دوسروں تک پہنچاتا رہے گا اور اس کی پہنچائی ہوئی باتوں پر دوسرے عمل کرتے رہیں گے ۔ان شاءاللہ تعالیٰ۔ اس کا اجر و ثواب ہماری طرف منتقل ہوتا رہے گا ،اللہ تبارک وتعالیٰ نے ثواب کمانے کا یہ اتنا عظیم راستہ رکھا ہے۔

اگر حق میں کوتاہی کی جائے، امانت میں خیانت کی جائے ،تو عذاب کابھی بہت بڑا خطرہ ہے؛کیونکہ اس میں اللہ ہی کا حق نہیں، حقوق العباد بھی پامال ہورہے ہیں، اس لئے ذمہ داری ادا نہ ہونے پر گناہ کا بھی بڑا شدید اندیشہ ہے،اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے فضل وکرم سے ہمیں اس وبا ل سے محفوظ رکھے اور امانت کو صحیح طریقہ سے ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے،سب سے اہم بات اس عظیم ذمہ داری کو آدمی سمجھے اور اگر اس ذمہ داری کو ادا کرے ،تو خیرکم من تعلم القرآن وعلمہ حدیث کے مصداق بننے کا اللہ تعالیٰ نے ایک موقع عطا فرمایا ہے۔

طلبہ کو علم کے ساتھ عمل کا پابندبنایاجائے

تعلیم کے دو معنی ہوتے ہیں ،ایک معنی تو یہ ہے کہ جو سبق ہمارے سپرد ہے، ،وہ سبق بڑھادیا جائے اور دوسرا معنی یہ ہے کہ جو ہمارے پاس پڑھ رہا ہے، اس کو اس علم پر عمل کرنے کے لئے تیار کیا جائے جو اس کو دیا جارہا ہے ، یہ بات کسی سے مخفی نہیں ہے کہ یہ دونوں کام ایک ساتھ ضرور ی ہیں ، العلم بلا عمل وبال، والعمل بغیر علم ضلال ،اگر علم نہ ہو اور عمل کرنا شروع کردے، ضلال و گمراہی ہے، اگر علم ہو اور العیاذ بااللہ اس پر عمل نہ ہو، تو یہ ایک مستقل وبال ہے۔اللہ تعالیٰ حفاظت فرمائے۔

محض کسی چیز کو جان لینا موجبِ فضیلت ہوتا ہے، تو ابلیس سب سے زیادہ افضل ہونا چاہئے تھا

میرے والد ماجد قدس اللہ تعالیٰ سرہ فرمایا کرتے تھے : اگر محض کسی چیز کو جان لینا اورکسی چیز کا علم حاصل کر لینا موجبِ فضیلت ہوتا ہے، تو ابلیس سب سے زیادہ افضل ہونا چاہئے تھا ، اس لئے کہ اس کے پاس جتنا علم تھا، وہ بہت سے بڑے بڑے محققین کے پاس نہیں ، امام رازیؒ کوبھی انتقال کے وقت ابلیس دلائل سے شکست دے گیا ؛لیکن وہ علم کس کام کا جو انسان کو اللہ تعالیٰ تک نہ پہنچا سکے ، اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر آمادہ نہ کر سکے ۔

مغربی دنیا میں مستشرقین کی ایک بہت بڑی جماعت ہے جو اسلامی فقہ ،حدیث اور تفسیر کی کتابیں کھنگالے ہو ئے ہے ،ان کے مقالے دیکھو ،ان کی کتابیں دیکھو ،ہر کتاب اور مقالے میں ہماری کتابوں کے اتنے حوالے نظر آئیں گے کہ بسا اوقات مسلم علماءکی کتابوں میں اتنے حوالے نہیں ہوتے، ایسی ایسی کتابوں کے حوالے نظر آئیں گے کہ جن کا بعض اوقات نام بھی نہیں سنا ہوگا، اتنی تحقیق تو بظاہر علم تو ہے؛ لیکن وہ علم کس کام کا جو انسان کو ایمان بھی عطا نہ کر سکے، اسی لئے العلم بلا عمل وبال ہے۔ العیاذ باللہ۔ العمل بغیر علم ضلال۔ لہٰذا دونوں چیزوں کو ساتھ لے کرچلنا ہے، تب مقصد حاصل ہوگا،اس کے بغیر مقصد پورا نہیں ہوگا ۔

مکمل تیاری کے ساتھ درس میں حاضرہو ناچاہئے

ہمارے بزرگوں نے فرمایا : ہر استاذ کا فریضہ ہے کہ سبق میں جانے سے پہلے اپنے سبق کی تیاری کرے،اس تیاری میں صرف اتنی بات کافی نہیں ہے کہ جو کچھ پڑھانے جارہا ہے، اس کا مطالعہ کرلیا، یہ تو بہت ضروری ہے کہ مطالعہ کرکے اچھی طرح اس کو اپنے ذہن میں بٹھائے اور جب تک کوئی مسئلہ واضح اور انشراح صدرکے ساتھ دل میں نہ آئے، اس وقت تک نہ پڑھائے ۔

ہمارے شیخ المشائخ حضرت مولانا رسول خان صاحب قدس اللہ تعالیٰ سرہ کئی مرتبہ دارالعلوم کراچی تشریف لائے، انہوں نے ایک نصیحت فرمائی : دیکھو بھائی جو پڑھانے جا رہے ہو ،اس پر جب تک مکمل شرح ِ صدر نہ ہو، نہ پڑھاؤ،اس دن چھٹی لے لو، اس لئے کہ بات واضح نہیں ہوئی ہے ،پورے شرح صدر کے ساتھ پڑھاؤ، جو بات میں کہنے جارہا ہوں ،واقعة وہی صحیح ہے، وہی میں پڑھاؤں گا۔

دروان مطالعہ ہی تسہیل درس کی فکر

مطالعہ اور تیاری میں یہ بھی ملحوظ رکھنا چاہئے کہ طلبہ کی ذہنی سطح کے مطابق سبق کس طرح آسان کرکے سمجھا سکتا ہوں یعنی سمجھانے کا طریقہ بھی مطالعہ کے دوران سوچنا چاہئے،بعض اوقات کوئی بحث مشکل ہے ،طلبہ کی ذہنی سطح سے بلند معلوم ہورہی ہے، مدرس اور استاذ کا فریضہ ہے کہ سوچ کر جائے کہ کس طرح اس کو آسان کرکے طلبہ کو سمجھاسکے۔

میرے شیخ حضرت مولانا سبحان محمود صاحب قدس اللہ تعالیٰ سرہ، سے ہم نے ابتدائی کتابیں:میزان ونحومیر سے لے کر چوتھے درجہ تک کی تقریباً ساری کتابیں ان ہی سے پڑھیں،وہ فرمایا کرتے تھے کہ میں اپنے مطالعہ میں بہت وقت صرف کرتا ہوں کہ جو مضمون پڑھانے جارہاہوں ،اس کو کس طرح آسان کرکے سمجھاؤں ،با قاعدہ اہتمام کرتا ہوں، اس کو سوچنے کے لئے پورا وقت دیتا ہوں ، بعض اوقات اس کا خاکہ لکھنے کی ضرورت ہوتی ہے، تو یہ سوچ کر جا تا ہوں کہ بورڈ پر کس طرح سمجھاؤں ،جب آدمی یہ سوچ کر جاتا ہے، تو پھر دقیق سے دقیق ، مشکل سے مشکل بحث طلبہ کے لئے آسان ہوجاتی ہے۔

حضرت حکیم الامت تھانوی قدس اللہ تعالیٰ سرہ” کان پور“ میں پڑھاتے تھے، فلسفہ کی کتاب” صدرا“ دارالعلوم دیوبند کے نصاب میں بھی داخل تھی ،اس کتاب میں ایک بہت مشہور بحث مثنّاة بالتکریر کی ہے ،بڑی دقیق اوربڑی مشکل بحث ہے،طلبہ کو اس کا بڑا ہوّا ہوتا تھا کہ جب یہ بحث آئے گی ،تو پتہ نہیں کیا ہوگا؟۔

افہام وتفہیم میں ذہنی سطح کی رعایت

حضرت علی ؓفرماتے ہیں :کلموا الناس علی قدر عقولھم :جس ذہنی سطح کا آدمی ہے، اسی کے حساب سے اس سے بات کرو ، آپ نے تقریر کردی اور طالب علم کے پلے کچھ نہیں پڑا، تودرس کا مقصد ہی فوت ہو گیا،لہذا تیاری کے دوران ہی سمجھانے کا طریقہ بھی سوچ کرلیاجائے ۔

بہرحال استاذ کا کام یہ ہے کہ ایسے آسان وصحیح طریقے سے علم دے کہ دل میں اترجائے اورذہن نشین ہوجائے۔

حضرتؒ فرماتے ہیں : میں نے ایک دن نام لئے بغیر مثنّاة بالتکریر کی بحث کا خلاصہ ایک عام وآسان انداز میں طلبہ کو بتادیا ،پھر ان سے پوچھا ،سمجھ گئے؟ سب نے کہا ،سمجھ گئے،سب سے پوچھا ، معلوم ہوا کہ طلبہ سمجھ گئے ہیں،پھرمیں نے کہا جو بحث میں نے آپ کو بتائی ہے، یہی مثنّاة بالتکریر کی بحث ہے ،طلبہ بڑے حیران ہوئے کہ ہم نے تو سوچھا تھا کہ یہ کوئی بڑی اور مشکل گھاٹی ہے جس کو عبور کرنا بڑا مشکل ہے، یہ بحث تو پانی ہوگئی ہے۔

طلبہ کی تربیت کا اہتمام

علم کا دوسرا شعبہ عمل ہے ،اس کی عملی تربیت طلبہ کودینے کا اہتمام ، طلبہ کی زندگی میں مدرس داخل ہو ،ان کے دکھ درد میں شریک ہو ،یہ دیکھے کہ اس علم کے اثرات ان کی زندگی کے اندر آرہے ہیں ،یا نہیں ؟

ہمارے اکابر علماءدیوبند جن کے ہم سب نام لیوا ہیں ،اس سلسلہ میں ان کا طریقہ کیا تھا ؟دارالعلوم دیوبند کے قیام کی تاریخ اس جملہ سے نکلتی ہے ”در مدرسہ خانقاہ دیدیم“ ہم نے مدرسہ ہی میں خانقاہ دیکھی ہے ، حقیقت یہ تھی کہ جو لوگ پڑھ رہے ہوتے ، وہ پڑھ بھی رہے ہیں اور ساتھ ساتھ دین وسنت کی اتباع ،ذکر و اذکار ،اللہ تعالی کی طرف رجوع اورتعلق مع اللہ کی تربیت بھی حاصل کر رہے ہیں۔

چنانچہ دیکھنے والوں کا بیان ہے کہ دن کے وقت وہ جگہ قال اللہ اورقال الرسول صلی اللہ علیہ وسلم سے گونجتی تھی ،رات کے وقت وہاں سے اللہ کے ذکر،لوگوں کے رونے اورگڑگڑاکی آوزیں آتی تھیں۔

صحابہ کرام کے حالات میں آتا ہے کہ ” رہبان باللیل، فرسان بالنھار“ رات کے وقت راہب ہوتے اور دن کے وقت بہترین شہسوار ،اللہ تعالی نے ا س کی جھلک ہمارے اکابر کی زندگیوں میں دکھلائی ، ان میں سے ایک ایک رھبان با للیل فرسان بالنھارکا نمونہ تھا ۔

طلبہ کی عملی تربیت اساتذہ ک عمل کی بنیادپرہوتی ہے

میرے دادا حضرت مولانا محمد یا سین صاحب قدس اللہ سرہ فرمایاکرتے تھے : ہم نے دارالعلوم دیوبند کا وہ زما نہ پایا ہے جس میں شیخ الحدیث سے لے کر چوکیدار تک ہر شخص صاحب نسبت ولی ہوتا تھا ،چوکیدار ،چوکیداری کر رہا ہے اور ذکر میں مشغول ہے ،اللہ تبارک و تعالی نے یہ دولت عطا فرمائی تھی۔

تحقیقی ادارے دنیا میں بہت ہیں ؛لیکن دارالعلوم دیو بند ، مظاہر العلوم اوران کے نہج پر چلنے والے مدارس کو اللہ تبار ک و تعالی نے جو امتیاز بخشا وہ در حقیقت اسی وجہ سے تھا کہ عمل کی تربیت تھی اور تربیت اسی وقت ہو سکتی ہے جب کہ اساتذہ خود عمل پیراہوں۔

دارالعلوم دیوبند کے اکابر حضرت نانوتوی ؒاور حضرت گنگوہی ؒ سے حضرت مدنی ،ؒ حضرت شبیراحمد عثمانیؒ حضرت والد ماجدؒاور حضرت مولانایوسف صاحب بنوری ؒ تک جتنے ہمارے اکابر ہیں، انہوں نے کام کیا اور ان کافیض پھیلا ،ان سب کا حال یہ تھا کہ وہ دورئہ حدیث سے فارغ ہونے کے بعد کسی نہ کسی ا للہ والے سے بیعت کر لیتے تھے،ان کی صحبت اختیار کرتے ، ان سے اصلاحی تعلق قائم کرتے ،ان کے آگے اپنے آپ کو پامال کرتے ،ان کی نقل و حرکت اور ان کی اداﺅں کو دیکھتے تھے، اس کہ نتیجہ میں اللہ تبا رک وتعالی عمل کی دولت ،رجوع الی اللہ اور تعلق مع اللہ عطا فرماتے تھے۔

مولانا رفیع الدین صاحبؒ مہتمم دارالعلوم دیوبند

حضرت مولانا رفیع الدین صاحبؒ مہتمم دارالعلوم دیوبند کواطلاع ملی کہ اساتذہ دیر سے آتے ہیں،حضرت نے اپنی چار پائی اٹھا کر دارالعلوم کے گیٹ پر ڈال دی اور صبح کووہاں بیٹھ کر تسبیح پڑھتے رہتے تھے،اب کوئی مدرس دیر سے آرہے ہیں ،انھیں دیکھ کر فرماتے،السلام علیکم !بس اور کچھ نہیں ،صرف سلام کر تے تھے ، نتیجہ یہ ہوا کہ کچھ دنوں بعد اساتذہ چوکس ہو گئے اور صحیح وقت پر آنے لگے ،سارے اساتذہ صحیح وقت پر آنے لگے ۔

حضرت مولانا محمدیعقوب صاحب نانوتوی ؒ جو صدر مدرس تھے،بڑے جامع الکمالات اور جامع العلوم آدمی تھے ،دنیا کا کوئی علم و فن انھوں نے نہیں چھوڑا تھا ،اللہ نے ہر علم و فن میں انھیں ماہر بنایا تھا، ان کے ساتھ لوگ جمع رہتے تھے ،کوئی تعو یذ مانگ رہا ہے ،کوئی مسئلہ پو چھ رہا ہے ، کوئی دعا کرارہا ہے،حضرت کو آتے آتے د یر ہو جاتی، دیگراسا تذہ وقت پر آنے لگے اور وہ وقت پر آنے سے رہ گئے ، حسب معمول دیر سے آتے تھے۔

خدمت ِخلق میں لگ کر ان طلبہ کا نقصان کرتے ہو

حضرت مولانا رفیع الدین صاحب نے حضرت گنگوہی ؒ کو خط لکھا ،حضرت ”گنگوہ“ میں مقیم تھے ، دارالعلوم کے سرپرست تھے ، حضرت !اساتذہ دیر سے آتے تھے ،اب میں اس طرح بیٹھ جاتاہوں، الحمدللہ اساتذہ صحیح وقت پر آنے لگے ہیں ؛البتہ مولانامحمد یعقوب صاحب ا بھی بہت دےر کرتے ہیں،حضرت گنگوہیؒ نے اولاً حضرت مولانا محمدیعقوب صاحب کے نام خط لکھا کہ مولوی صاحب !آپ یہ سمجھتے ہوں گے کہ ہم خدمت ِخلق میں مشغول ہیں اور بڑی خدمت کر رہے ہیں،یاد رکھو آپ خدمت ِخلق میں لگ کر ان طلبہ کا نقصان کرتے ہو ،اللہ تعالی کے یہا ں پکڑ ہو جائے گی کہ طا لب علموں کا نقصان کر رہے ہو ۔

ایک مرتبہ حضرت گنگوہی ؒ دیوبند آئے ، مولانا رفیع الدین صاحب مہتمم دارالعلوم کو بلایا اور فرمایا :میں نے ان سے کہہ تو دیا ہے ؛لیکن اب بھی وہ نہیں آئیں گے ،اس لئے کہ ان کے ساتھ مسائل بہت سارے ہیں،ان کا فیض جاری ہے، پتہ نہیں، کہاں کہاں جاری ہے۔

لہذا صحیح وقت پر آنا ان کے لئے مشکل ہے ،کوشش کریں گے؛ لیکن ایک بات بتا دیتا ہوں کہ اب تم ان کو بھول جاﺅ،اس لئے کہ یہ وہ شخص ہے کہ اگر پورے دن میں مدرسہ کا صرف ایک چکر لگا لے، تب بھی اس کی تنخواہ مہنگی نہیں ہے،کچھ بھی نہ پڑھائے ،صرف مدرسہ کا ایک چکر لگا لیا کرے، تو بھی مہنگا نہیں ،اللہ تعالی نے ان کے اندر اتنا اثر رکھا ہے ،ان کی روحانےت اتنی عظیم ہے ، اس روحانےت کی وجہ سے طلبہ کو فا ئدہ ہوگا ۔

رجو ع الی اللہ اور تعلق جس قدرمضبوط ہوگا،اتنا ہی طلبہ کو فائدہ ہوگا

میرے شیخ فرمایا کرتے تھے : جب تم سبق پڑھانے جاﺅ ،تو راستے میں دعا مانگتے ہوئے جاﺅ ،اے اللہ !پڑھانے جا رہا ہوں، شرح صدر کے ساتھ پڑھانے کی توفیق عطا فرما ئیے اور طلبہ کو اس سے فائدہ پہنچادیجئے ،جتنا اللہ کی طرف رجو ع ہو گا، اتنا ہی اس کے ساتھ تعلق مضبوط ہوگا،اتنا ہی طلبہ کو فائدہ ہوگا،
اللہ تعالیٰ عمل کی توفیق عطا فر ما دیں،تو۔ ان شاءاللہ، ثم ان شاءاللہ۔ ہماری تدریس نافع بھی ہو گی اور ہمارے لئے بہت اعلی درجہ کی ذخیرہ آخرت بھی ۔

اللہ تبارک و تعالی ہم سب کو عمل کی توفیق عطا فرمائے۔(ملخص : رموز تدریس وتدریب : ۱۰۳)

نوٹ: مذکورہ بالاتقریرحضرت مولانامفتی تقی عثمانی مدظلہ نے بروزبدھ ۲۱مئی ۲۰۱۰ھ تدریب الملمین کے ایک نشست میں فرمائی ہے ،احقرنے اس کی تلخیص اورچند ذیلی عناوین کے اضافہ کے ساتھ تحریر پیش کی ہے۔طالب دعا: ابوفیضان قاسمی

دیگراصلاحی ،فکری تحقیقی علمی اوردینی مضامین کے لئے فیضان قاسمی ویب سائٹ https://faizaneqasmi.comکی طرف رجوع کریں اوردوست واحباب کو شئیربھی کریں ۔