طلبہ کی ترقی میں اساتذہ کاکردار

طلبہ کی ترقی میں اساتذہ کاکرداران کی خدمات میں اساتذہ کے علوم وفیوض کا اظہار

الحمدللہ رب العالمین ،الذی ارسل الینا نبی الامیین ،وانزل علیہ الکتاب المبین ،الذی یرفع بہ اقواما ،ویضع بہ آخرین ،والصلوة والسلام علی من بعث معلما ،واوتی علم الاولین والآخرین محمدبن عبداللہ الامین ،وعلی آلہ واصحابہ ھداة الحق والیقین،وعلی من تبعھم باحسان الی یوم الدین، امابعد: فاعوذ باللہ من الشیطن الرجیم ،بسم اللہ الرحمن الرحیم :یرفع اللہ الذین آمنوامنکم، والذین اوتوالعلم درجات ۔(المجادلة:۱۱ )وقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : انمابعثت معلما۔(دارمی:۳۶۱)

حضرات علماءکرام ،مدارس دینیہ کے ذمہ داران عالی مقام !

ہم سب جانتے ہیں کہ تعلیم وتربیت فریضہءخداوندی ا ورسنت نبوی ہے ،ہماری سعادت مندی وخوش نصیبی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں دینی تعلیم وتعلم کے لئے قبول فرماکر فرمان نبوی ”خیرکم من تعلم القرآن وعلمہ “(بخاری:۵۰۲۷)کی مبارک جماعت میں شامل فرمایاہے ۔

نیز ارشادنبوی صلی اللہ علیہ وسلم : ”انمابعثت معلما “کے ساتھ ملحق فرمایاہے ،اللہ رب العزت سے دعافرمائیں کہ روزقیامت میں بھی اسی بابرکت ومقدس جماعت کے ساتھ حشرفرمائے ۔آمین

اللہ تعالیٰ کی اس عظیم نعمت پرہم جس قدربھی شکراداکریں کم ہے کہ اس نے ہمیں امت مسلمہ کے نونہال وکم سن بچوں کے لئے دینی تعلیم کا نظم کرنے ،قرآنی تعلیم اوردین کی دیگر مختلف خدمات کرنے کی توفیق بخشی ہے۔

یہی بچے مستقبل میں حافظ قرآن ،عالم دین ،مفتی شریعت ،داعی دین اورمجاہداسلام بن کر فرمان نبوی

اذامات الانسان انقطع عملہ عنہ الامن ثلث الامن صدقة جاریة ،اوعلم ینتفع بہ اوولدصالح یدعولہ “(مسلم :۱۳۶۱)

کے مطابق۔ان شاءاللہ۔ مذکورہ حدیث کی تینوں صورتوں کے اعتبارسے ہمارے لئے ذخیرہ آخرت بنیں گے ۔

کوئی بھی نظام تعلیم محنتی و مخلص اساتذہ کے بغیرکامیاب نہیں ہوسکتا

علماء ذی وقار!تعلیم ایک عبادت ،لازوال نعمت ،عرفان ِحق اورخدارسی کا ایک زینہ ،دنیا وآخرت کی کامیابیوں اورکامرانیوں کا وسیلہ ہے ،معاشرے کے اجتماعی شعوراورانفرادی تشخص کے ارتقاءکا زیادہ ترانحصاراساتذہ کے کردارپرہوتاہے،نظام تعلیم میں اساتذہ کو ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے ،کوئی بھی نظام تعلیم محنتی و مخلص اساتذہ کے بغیرکامیاب نہیں ہوسکتا،ہردورمیں اساتذہ کوبڑی اہمیت حاصل رہی ہے ،اساتذہ ہی نوعِ انسانیت کی تعمیرکرتے ہیں اورتعلیم کے معیار کو بلند وپست کرنے ،طلبہ کی خوابیدہ صلاحیتوں کوبیدارکرنے ،اخلاق وکردارکو سنوارنے اوران کی دنیا وآخرت بنانے میں اہم کرداراداکرتے ہیں ،طلبہ کی ترقی میں اساتذہ کاکردار۔

والدین اوراساتذہ کے مابین کلیدی فرق وامتیاز یہی ہے کہ ماں باپ بچوں کی مادی ،ظاہری اورجسمانی ضروریات کو پوراکرتے ہیں ،جبکہ مشفق ومہربان اساتذہ اپنے طلبہءعزیز کی باطنی ،قلبی اورروحانی تربیت کرتے ہیں ،باصلاحیت معلم اورجوہرشناس استاذ کی نظرہمہ وقت اپنی روحانی اولاد کی سیرت وکردارسازی پررہتی ہے ۔

ہرطالب علم استاذ کے پاس ایک قیمتی امانت ہے

ہرطالب علم استاذ کے پاس ایک قیمتی امانت ہے ،اس امانت کی صحیح حفاظت استاذ کے لئے دنیوی اوراخروی کامیابی کی ضامن ہے ،والدین اورذمہ داران مدرسہ؛ بلکہ خودطالب علم استاذکو اپنا مربی ،مصلح اورمعلم سمجھ کر اپنے آپ کو سپرد کردیتاہے۔

لہذااستاذ کو چاہئے کہ طالب علم کی شخصیت کومثالی اوراس کی زندگی کو قیمتی بنانے کے لئے اپنی تمام ترصلاحیتوں کو صرف کرے ،اس لئے کہ یہی طلبہءعزیزدنیا میں اپنے استاذ کے نام کو روشن اوراس کے علوم و فیوض کو عام کرتے ہیں ،نیزاستاذ کے لئے صدقہ جاریہ اور ذخیرہ آخرت بنتے ہیں ۔

یہی وجہ ہے کہ اسلاف اپنے لائق وفائق تلامذہ کے لئے درس وتدریس ،تفہیم وتشریح ،تعلیم وتربیت کے بے پناہ قربانیاں دیتے ہیں،نیز طلبہ کی دینی اورعلمی پیا س بجھانے کے لئے ہرطرح کی قربانیاں پیش کرتے تھے،ہرمحدث جلیل،مفسرعظیم،فقیہ زماں،شیخ طریقت اورماہرِفن کے کمال کے پس پردہ ضروربالضروراستاذ کی صالحیت،صلاحیت ،محنت ،شفقت ومحبت اورتوجہات کو بڑادخل رہاہے ۔

ہم ذیل میں اسلامی تاریخ کے چند ممتاز محدثین ونامور فقہاءاوراصحاب علم پر ایک اجمالی نظرڈالتے ہیں تاکہ طلبہ عزیز کے ساتھ ان کی شفقتوں،محبتوں اورمحنتوں کا پہلوواضح ہو،نیز ان کے تلامذہ کا روشن وتابناک مستقبل ،اساتذہ کی عظمت ،ان کے علوم کی حفاظت اورفیوض کی اشاعت کا پہلو بھی نمایاں ہوسکے۔طلبہ کی ترقی میں اساتذہ کاکردار،ان کی خدمات میں اساتذہ کے علوم وفیوض کا اظہار اس تمہید بات کی تفصیل اساتذہ کا کردار کا کالم ہے ،اس میں ان تمام اساتذہ کے طلبہ کی تعلیمی اور تربیتی پہلوکو واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے،جنہوں نے اپنے طلبہ کے لئے محنت کی اورانہیں آسمان علم کا روشن ستارہ بنانے کی کوشش کی ہے،مثلًا:حضرت عائشہؓ، امام بخاری ، حضرت نانوتویؒ،حضرت شیخ الہندؒ،علامہ انورشاہ کشمیرؒ وغیرہم ۔ عبداللطیف قاسمی جامعہ غیث الہدی بنگلور

faizaneqasmi.com

© 2018-2021, by Faizaneqasmi, Mufti Abdul Lateef Qasmi +91-9986694990