قرآن کریم کے حقوق

قرآن کریم کے حقوق:صحیح مسلم میں حضرت تمیم داریؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا

الدین النصیحة ،قلنا لمن ؟قال : للہ ،ولکتابہ ،ولرسولہ ،ولائمة المسلمین ،وعامتھم۔

دین سراسر خیرخواہی کا نام ہے ،ہم نے عرض کیا کہ کس کے ساتھ خیر خواہی ؟ رسو ل اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ ،اس کی کتاب ،اس کے رسول ،مسلمانوں کے ذمہ داراور عام مسلمانوں کے ساتھ ۔

علماءنے فرمایا کہ کتاب اللہ کی خیر خواہی یہ ہے کہ اس سے متعلق یہ ایمان وعقیدہ رکھناکہ وہ اللہ کا کلام ہے ،اس کی طرف سے نازل کیاگیا ہے،اس کا کلام مخلوق کے کلام کے بالکل مشابہ نہیں ہے ،ساری مخلووق مل کر بھی اس جیساکلام پیش نہیں کرسکتی ۔

پھر اس کی تعظیم کرنا ،اس کاجیساحق ہے ،ویسے تلاوت کرنا ،عمدہ تلاوت کرنا اور خشوع وخضوع کے ساتھ تلاوت کرنا ،تلاوت کے وقت حروف کو صاف صاف اداکرنا ،تحریف کرنے والوں اور اعتراضات کرنے والوں کارد کرنا۔

جو امور قرآن مجید میں بیان کئے گئے ہیں،ان تمام کی تصدیق کرنا اور اس کے احکام پر عمل پیراہونا ،قرآن کے علوم کو سمجھنا،قرآن کے نصائح کا اہتمام کرنا ،اس کے عجائبات میں غوروفکر کرنا ،ا س کے محکمات پر عمل کرنا ،اس کے متشابہات پر ایمان لے آنا ،اس کے عموم وخصوص اوراس کے ناسخ ومنسوخ کو تلاش کرنا ،ا س کے علوم کو پھیلانا اور اس کی دعوت دینا وغیرہ یہ سب باتیں قرآن کریم کے حقوق اوراس کے ساتھ خیر خواہی میں داخل ہیں ۔

قرآن پاک کی عظمت

قرآن کریم کی تعظیم کرنا اوراس کی حفاظت کرناہر مسلمان پرضروری ہے، ا س پر تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے،نیز اس پر بھی اتفاق ہے کہ جس کا قرآن ہونا متفق علیہ ہے ،اس کے کسی بھی حرف کا انکار کرنا یا اس میں جان بوجھ کر کسی حرف کا اضافہ کرنابھی کفر ہے۔

امام حافظ ابوالفضل قاضی عیاض ؒ نے فرمایا: جان لیجئے !جو شخص قرآن کی یا اس کے کسی حصہ کی توہین کرے ،یا برا بھلاکہے ،یا ان میں سے کسی ایک حرف کا انکا ر کرے ،یا قرآن میں موجودحکم یاخبرکی تکذیب کرے یاجان بوجھ کر ،یا شک کے طورپر قرآن مجید نے جس کی نفی کی ہے، اس کو ثابت کرے یا جس کو ثابت کیاہے ،ا س کی نفی کرے، وہ باجماعِ مسلمین کافرہے ۔

اسی طریقہ سے جو تورات ،انجیل یا دیگر آسمانی کتابیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے نازل کیا ہے، ان کا انکاروکفرکرے ،یا ان کو برابھلاکہے ،یا ان کو ہلکا سمجھے، وہ بھی کافرہے۔

قاضی عیاضؒ نے مزید فرمایاکہ تمام مسلمان متفق ہیں کہ وہ قرآن پاک جس کی پورے عالم میں تلاوت کی جاتی ہے اور وہ قرآن جودوگتوں کے درمیان میں مصحف کی شکل میں مسلمانوں کے پاس موجودہے ، یعنی الحمد للہ رب العلمین سے قل اعوذ برب النا س کے آخر تک یہ اللہ کاکلام ہے اوروہ اس کی وحی ہے جس کو اللہ جل جلالہ نے اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ناز ل فرمایا ہے،جو کچھ اس میں ہے وہ برحق ہے ،جو شخص اس میں سے کسی حرف کو قصدًا کم کرے یا ایک حرف کو دوسرے حرف سے بدل دے ،یا کسی حرف کااضافہ کرے، اس کلام پر جس کے قرآن ہونے پر اجماع ہوچکاہے ،اگران کاموں کو جان بوجھ کر عمدًاکرتاہے ،تووہ کافرہے ۔

قرآن پاک کے ایک حرف کا انکار بھی کفر ہے

ابوعثمان بن حدادؒنے فرمایا کہ تمام اہل توحید اس بات پر متفق ہیں کہ قرآن پاک کے ایک حرف کا انکار بھی کفر ہے ۔

ابن شنبوذ جوکہ قراءسبعہ کے رواة میں سے ایک راوی ہیں جب ابن مجاہد نے ان سے پڑھا اورانھوں نے ان کو ایسے شاذ حرو ف سے پڑھایائے جو قرآن میں شامل نہیں تھے ،توتمام فقہاءبغداد ان سے توبہ کرانے کے فیصلہ پر متفق ہوگئے اور فقہاءنے شرط لگائی کہ ایک اشتہارچھاپاجائے جس میں وزیر ابوعلی بن مقلہ کے مجلس میں گواہوں کی موجودگی میں ان کی توبہ ،استغفار اور رجوع کرنے کا اعلان ہو ،یہ واقعہ ۳۲۳ھ میں پیش آیا ۔

ابومحمد بن ابوبکرؒنے فتوی دیا ہے کہ جو شخص کسی بچہ سے کہے لعن اللہ معلمک وماعلمک اور کہے میرا مقصدبچہ کی بے ادبی ہے، میرا مقصد قرآن پاک بے حرمتی نہیں ہے،تب بھی اس کی تادیب کی جائے(کوئی سزادی جائے گی ) اور فرمایا جو شخص مصحف پر لعنت کرے ،اس کو قتل کردجائے گا ،ان باتوں کو قاضی عیاض ؒ نے نقل فرمایا ہے ۔

تفسیر بالراے کی حرمت

علم کے بغیر تفسیر کرنا اور جو تفسیر کے لائق نہ ہو، اس کا قرآن کے معانی میں بحث کرنا حرام ہے ، اس سلسلہ میں بہت ساری احادیث ہیں اور اس پرعلماءکا اجماع ہے ۔

علماءکے لئے قرآن کریم کے معانی کی تفسیر کرنا جائز ہے اور اس پر علماءکا اتفاق ہے ،جو شخص تفسیر کی اہلیت رکھتاہو، ان علوم کا جامع ہو اور غالب گمان ہوکہ ان کے ذریعہ، وہ قرآن مجید کی مراد کو جان سکتاہے، توایساشخص تفسیر کرسکتا ہے ،جبکہ وہ تفسیر ان علوم میں سے ہوجنھیں اجتہادسے جانا جاسکتاہو جیسے معانی،احکام جلیہ وخفیہ ،عموم وخصوص اعراب وغیرہ ۔

اگر تفسیر ایسی باتو ں سے متعلق ہو جن کو اجتہاد سے جانا نہیں جاسکتا؛ بلکہ اس کے لئے نقل اور لغوی الفاظ کی وضاحت ضروری ہے، تو اس میں بحث کرنا قابل اعتبارعلماءکی نقل کے بغیر جائز نہیں ہے ۔

جو شخص تفسیری علوم سے ناواقف ہونے کے وجہ سے تفسیر کے لائق نہیں ہے، اس کے لئے تفسیرکرنا حرام ہے تاہم اس کے لئے قابل اعتبار علماءسے تفسیر نقل کرنے کی اجازت ہے ۔

تفسیربالرائے کرنے والوں کی قسمیں

جو لوگ صحیح دلیل کے بغیر اپنی رائے سے تفسیر کرتے ہیں ،ان کی چند قسمیں ہیں ،کچھ لوگ تو وہ ہیں جو اپنے مذہب کی تصحیح ،تقویت اور اپنے اطمینان قلب کے لئے استدلال کرتے ہیں باجودیہ کہ آیت سے یہی مرادہے ،اس پر انھیں ظن غالب حاصل نہیں رہتا اور وہ صرف فریق مخالف پر غلبہ حاصل کرناچاہتے ہیں ۔

کچھ لوگ وہ ہیں جو آیات سے استدلال کرتے ہیں بھلائی کی طرف بلانے کے لئے ؛لیکن آیت میں اس پر کوئی ظاہری دلیل نہیں ہوتی ہے۔

کچھ لو گ وہ ہوتے ہیں جو قرآن ِپاک کے الفاظ کی تفسیر کرتے ہیں، ان کے معانی سے واقفیت نہیں ہوتی؛ حالانکہ ان کے معانی کو صرف مفسرین اور اہل لغت ہی سے جانا جاسکتاہے ،جیسے لفظ کا معنی ،اعراب اورالفاظ میں حذف ،اختصار ،اضمار ،حقیقت ،مجاز ،عموم وخصوص،تقدیم وتاخیر،اور اجمال وبیان وغیرہ جو خلافِ ظاہر ہوتے ہیں ۔

اس میں صرف عربی زبان جان لینا کافی نہیں ہے؛ بلکہ اس میں مفسرین کی رائے کیاہے ؟اس کو بھی جاننا ضروری ہے ،اس لئے کہ بسااوقات تمام مفسیرین ظاہری معنی مراد نہ لینے پر متفق ہوتے ہیں ،یا خصوص یا اضمارمراد لینے پر متفق ہوتے ہیں جوکہ خلافِ ظاہر ہیں ۔

اسی طر ح لفظ کئی معانی میں مشترک ہوتاہے ،کسی مقام پر اس کا ایک معنی جان لیا اور جہاں جہاں بھی یہ لفظ آیا ،اسی معنی سے اس لفظ کی تفسیر کردی، یہ سب تفسیر بالرائے میں داخل ہے جو کہ حرام ہے ۔واللہ اعلم۔

قرآن ِپاک میں ناحق بحث ومباحثہ کرنے کی حرمت

قرآن ِپاک میں ناحق بحث ومباحثہ کرنا حرام ہے ،اسی قبیل سے یہ بات بھی ہے کہ کسی آیت کا مدلول ایسا ثابت کیاجائے جو مخالف کے مذہب کے خلاف ہو اور ضعیف احتمال کے ساتھ اپنے مذہب کے مطابق ہو ،تو ایسی آیت کو اپنے مذہب پر محمول کرے اور اس آیت کا ظاہر اس کے مذہب کے خلاف ہونے کے باوجوداس پر مناظرہ بحث ومباحثہ کرے ۔

رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث صحیح میں ثابت ہے کہ آپﷺ نے فرمای

المراءفی القرآن کفر ۔

قرآن پاک میں ناحق بحث ومباحثہ کرنا کفرہے ۔

علامہ خطابی ؒ نے فرمایا

مراءسے مراد شک ہے ، ایک قول یہ ہے کہ ایسی بحث مرادہے جو شک میں مبتلا کرنی والی ہو اور ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد وہ بحث ومباحثے ہیں جو اہل ہواونفس پرست لوگ آیتِ قد روغیر ہ میں کرتے ہیں ۔حاملین قرآن،: ۱۲۱تا۱۲۴)

تلاوت کے لئے افضل وقت

سب سے افضل تلاوت وہ ہے جو نماز میں کی جاتی ہے ،امام شافعیؒ وغیرہ حضرات فقہاءکا مذہب یہ ہے کہ نماز میں لمبی قراءت کے ذریعہ رکعت کو لمبی کرنا افضل ہے،نماز کے علاوہ اوقات میں سب سے افضل تلاوت رات کی تلاوت ہے ،رات کے نصف آخر کی تلاوت نصف اول کی تلاوت سے افضل ہے ،مغرب وعشا ءکے درمیان تلاوت پسندیدہ ہے ،دن میں سب سے افضل تلاوت فجر کے بعد ایسے وقت میں تلاوت کرناہے جو مکروہ وقت نہ ہو ۔

ایام کے اعتبار سے جمعہ ،پیر ،جمعرات کے دن اورعرفہ کے دن تلاوت کرنا افضل ہے ،عشروں کے اعتبار سے رمضان کا آخری عشرہ اور ذی الحجہ کے پہلے عشرہ میں تلاوت کرنا افضل ہے اور مہینوں کے اعتبار سے رمضان کااخیر عشرہ افضل ہے ۔

ابن ابی داؤد ؒ نے اپنے مشائخ کاقول نقل کیاہے کہ عصر کے بعد تلاوت کرنامکروہ ہے، اس لئے کہ یہ یہودکے پڑھنے کا وقت ہے ،یہ بات درست نہیں ،نیز اس کی کوئی اصل موجود نہیں ہے ۔(حاملین قرآن ترجمہ التبیان لآداب حملۃ القرآن للنووی،قرآن کریم کے حقوق: ۱۱۲)