مؤذنین حضرات کی صفات

مؤذنین حضرات کی صفات یعنی مؤذن کیساہونا چاہئے : مؤذن مردہو ۔عورت کی اذان بالاتقاق مکروہ ہے ،اس لئے کہ اگر عورت آواز بلند کرے ،تو معصیت کی مرتکب ہوگی ،اگر آواز پست کرے، تو اذان کا مقصد حاصل نہ ہوگا ۔

علامہ کاسانی ؒ فرماتے ہیں

منھا ان یکون رجلا ،فیکرہ اذان المرأة ،باتفاق الروایات لانھا ان رفعت صوتھا ،فقد ارتکبت معصیة، وان خفضت، فقد ترکت سنة الجھر ،ولان الاذان النساءلم یکن فی السلف،فکان من المحدثات (بدائع الصنائع ۳۷۲/۱)

عاقل ہو ۔پس مجنون وسکران کی اذان مکروہ اورقابل اعادہ ہے ،اذان اسلام کاشعار ہے اور قابل ِتعظیم ذکر ہے ،ان لوگوں کو اس کی ذمہ داری سونپنے میں شعاراسلام کی بے حرمتی ہے ۔

علامہ کاسانی ؒ فرماتے ہیں

منھا ان یکون عاقلا ،فیکرہ اذان المجنون ،والسکران ،الذی لایعقل لان الاذان ذکر معظم، وتاذینھما ترک لتعظیمہ(بدائع الصنائع ۳۷۲/۱)

البتہ صبی ممیز کی اذان ظاہر روایت کے مطابق بلاکراہت درست ہے ؛لیکن بالغ کی اذان افضل ہے۔

وکذا اذان الصبی العاقل ،وان کا ن جائزا حتی لایعاد ،ذکرہ فی ظاھر الروایة لحصول المقصود ،وھو الاعلام لکن اذان البالغ افضل لانہ فی مراعاة الحرمة ابلغ (بدائع الصنائع ۳۷۲/۱)

مؤذنین عالم باعمل ہوں ،سنت سے واقف ہوں ۔

مؤذن عالم باعمل ہو ،سنت سے واقفیت رکھتاہو ۔

رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا

اے بنو حطمہ !اپنی قوم میں سب سے بہترین شخص کو مؤذن بناﺅ ۔

اجعلوا مؤذنکم افضل فی انفسکم۔ (کنز العمال ۲۸۴/۷عن صفوان بن سلیم )

نیز رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :

تمہارے مؤذن بہتر لوگ ہوناچاہئے۔

لیؤذن لکم خیارکم (رواہ ابو داوؤد عن ابن عباس باب من احق با الامامة ۸۷/۱ )

سب سے بہترین لوگ علماءہیں ،فاسق اوربے عمل عالم خیار الناس میں نہیں ہے ،نیز اگر مؤذن غیر عالم ہوگا، تو اذان میں سنتو ں کی رعایت نہیں کرے گا ،(بدائع الصنائع ۳۷۳/۱)

نیز فضائلِ اذان سے جانکاری نہ ہوگی ،اوقاتِ صلوة سے واقف نہ ہوگا ،علماءنے لکھاہے کہ ایسا مو¿ذن مستحق اجر نہ ہوگا ۔(البحرالرائق ۴۴۳/۱)

مؤذن آزاد ہو ۔غلام کی اذان خلاف اولی ٰہے ،آزاد کا ہوناافضل ہے۔

مولانا عبد الحی لکھنوی ؒتحریر فرماتے ہیں

منھا ان یکون حرا بصیرا لااعرابیا ولا ولد الزنا ،ولایکرہ اذانھم۔ (السعایة ۳۸/۲)

اوقات صلوة سے واقف ہو، نماز کے ابتدائی وانتہائی ،مستحب ،مباح اورمکروہ اوقات کو جانتا ہو۔

نابینامؤذنین کی اذان کا حکم

مؤذن بینا ہو ۔(اگر نابینا مؤذن کی کوئی رہنمائی کرنے والاہو ،تو نابینا کے اذان دینے میں کوئی مضائقہ نہیں ،مؤذن رسول اللہ ﷺ حضرت عبد اللہابن مکتوم کی یہی صورت حال تھی۔

مولانا عبد الحی لکھنوی ؒتحریر فرماتے ہیں:

فان قیل قال فی المبسوط: البصیر احب الی ان یوذن من الاعمی ،فکیف جعل رسول اللہ ﷺ ابن ام مکتوم الاعمی مؤذنا ،وغیر ہ احب منہ ؟

قلنا انما یکون غیرہ اولی لان غیرہ اعلم بمواقیت الصلوة ،وکان مع ابن ام مکتوم من یحفظ اوقات الصلوة،ومتی کان مع الاعمی من یحفظ علیہ یکو ن تاذینہ وتاذنین البصیر سوائ، ذکرہ شیخ الاسلام (السعایة ۳۸/۲)

مؤذن اپنے عمل میں مخلص ہو ،اذان کے ذریعہ اللہ کی خوشنودی ورضامندی حاصل کرنا مقصود ہو۔

حضرت عثمان بن ابی العاص فرماتے ہیں :رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا :
ایسا مؤذن مقرر کرو جو اپنی اذا ن پر معاضہ واجرت طلب کرنے والا نہ ہو۔

واتخذ موذنا لایاخذ علی اذانہ اجرا(رواہ ابوداؤد ۷۹/۱)

لہذا مؤذنین حضرات کو چاہئے کہ وہ اللہ کی رضاکو مقصود بنائیں اور اجرت ومعاوضہ کو اپنی ضرورت سمجھیں ،ان شاءاللہ، اس طرح کی نیت ہو،تو اجر سے محروم نہ ہوں گے ۔ (السعایة ۴۰/۲)

مؤذن ایسے شخص کو مقرر کیا جائے جو صحیح وقت میں اہتمام وپابندی کے ساتھ اذان دینے والا ہو ،سست وکاہل اورلا پرواہ نہ ہو ۔(بدائع الصنائع ۳۷۳/۱)

مؤذنین امانت دارہوتے ہیں

مؤذن امانت دارہو ۔

رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا

المؤذن مؤتمن ،(رواہ الترمذی باب ماجا ءالامام ضامن والمؤذن مؤتمن عن ابی ھریرة ۵۱/۱)

ایک دوسری روایت میں فرمایا

المؤذنون امناءالمسلمین علی فطورھم وسحورھم (کنز العمال۷۷۲/۷،رواہ الطبرانی فی الکبیر عن ابی امامة )

مؤذنین حضرات مسلمانو ں کے امانت دار ہوتے ہیں ان کی سحر ی وافطاری کے مسئلہ میں ،اذان کی ذمہ داری خود ایک امانت ہے ،اذان کی ذمہ داری کو اس کے تمام حقوق وآداب کی رعایت کے ساتھ انجام دینا اس امانت کی وفاداری ہے۔

دوسری روایت میں ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے خاص طورسے افطار وسحری کے مسئلہ میں مؤذنین حضرات کو متوجہ کیا ہے ،اس لئے کہ اگر فجر کی اذان وقت سے پہلے ہوجاے ،تو روزہ رکھنے والوں (رمضان کے علاوہ بھی قضا ءروزہ ،نفل روزے ،نذر کے روزے وغیر ہوسکتے ہیں )کے لئے سحری میں دقت ہوگی اور نیز اس سلسلہ میں ان کے ساتھ خیانت ہوگی۔

علمائے کرام اورذمہ داران مسجدسے گزارش

اگر فجر کی اذان میں طلوع فجر کے بعد بھی اذان نہ دی جائے اور روزہ رکھنے والے سحری کا وقت باقی سمجھ کر سحری میں مصروف رہیں گے جس کی وجہ سے ان کا روز ہ نہیں ہوگا اورتہجدگذا ر احبا ب بھی وقت باقی سمجھ کر تہجد میں مصروف ہو ں گے ؛حالانکہ اللہ کے نبی علیہ السلام نے طلوع فجر کے بعد فجر کی نماز سنت کے علاوہ کوئی ددوسری نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے ۔

لاصلوة بعد طلوع الفجر الا سجدتین (رواہ الترمذی عن ابن عمر ؓ باب ماجاءلاصلوة بعد طلوع الفجر ۹۶/۱)

یہی بات اذان مغرب میں بھی پیش آئے گی ،اگر وقت شروع ہونے سے پہلے اذان دے دی اور روزہ دار نے افطار کرلیا، تو روزہ فاسد ،اگر اذان میں تاخیر کی، روزہ داروں پر خواہ مخواہ ظلم ہو گا، اس لئے کہ عام آدمی کی نظر مؤذ ن کی اذان پر ہو تی ہے ۔

لہذا ہمارے علاقے خاص طورسے جنوبی ہند میں حنفی حضرات کا جو عمل ہے غیر رمضان میں اذانِ فجر طلو ع فجر کے بہت دیر بعددینے کا رواج بنا ہوا ہے ؛حالانکہ اس میں مذکورہ خرابیاں پائی جاتی ہیں ،اس سلسلہ میں علماء،ائمہ اور ذمہ داران مساجد کو غور کرنا چاہے کہ کم از کم محلہ کی جامع مسجد یامرکزی مسجد میں طلوع فجر کے متصلًا اذان فجر ہوجائے، تو یہ مسائل پیش نہیں آئیں گے۔(اذان ومؤذنین رسول اللہ ﷺ: ۵۱)