ماہ رجب کے فضائل ،بدعات اور خرافات

محترم قارئین کرام ! ایک عرصہ ءدراز پہلے حضرت مولانا مفتی محمدجمال الدین صاحب قاسمی صدرالمدرسین وصدرمفتی دارالعلوم حیدراباد کو ایک پمفلٹ موصول ہوا،جو ماہ رجب کے فضائل ،بدعات وخرافات پر مشتمل تھا ،آپ نے احقر کو اس پمفلٹ کاجائزہ ،اس کے مشتملات کی تحقیق اور جواب تیارکرنے کا حکم فرمایا ۔

چنانچہ احقرنے حضرت والاکی نگرانی میں اس پمفلٹ میں درج ماہ رجب کے فضائل اوراعمال کا تحقیقی جائزہ لیااورجواب تیارکیا ،نیز اس جواب کے آخر میں حضرت اقدس مولانا مفتی محمداسلم صاحب رشادی مدظلہ کی تصحیح وتصویب بھی درج ہے ،علماءوعوام کے لئے نہایت مفید ہونے کی وجہ سے نظرقارئین کیاجارہاہے۔

پمفلٹ میں مندرج روایات

کیا فرماتے ہیں علماءدین مفتیان ِشرع متن ا س پمفلٹ میں مندرج روایات اور اعمال کے متعلق ؟ بیّنو توجر وا۔ فقط المستفتی

الجواب و ھو الموافق للصواب: پمفلٹ میں درج اکثر احادیث ضعیف منکر اور موضوع ہیں، ان میں ذکر کردہ فضیلت کا اعتقاد رکھنادرست نہیں ہے،اس پمفلٹ میں جن اعمال کاذکر کیا گیا ہے، وہ بدعت ومکروہ ہیں ،شریعت میں اس طرح کے اعمال ثابت نہیں ہیں ؛ البتہ پمفلٹ میں جن دعاؤں کا ذکر ہے، وہ احادیث شریفہ سے ثابت ہیں ؛لیکن ان مواقع میں وارد نہیں ہوئی ہیں جن میں ان کو بیان کیاگیا ہے ۔

لہذا بہی خواہانِ قوم، خطباءو واعظین حضرات کو چاہئے کہ ماہ رجب کے فضائل کے نام پراس طرح کی من گھڑت وضعیف روایات کو ممبر ومحراب اور مجالس میں ذکر کرنے سے احترا ز کریں ۔

رسول اللہﷺکا ارشاد مبارک ہے

من کذب علیّ متعمدا فلیتبواءمقعدہ من النار ۔(متفق علیہ)

جو شخص جان بوجھ کر کسی جھوٹی بات کومیری طرف منسوب کرے،اس کوچاہئے کہ وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے، لہذا اپنے آپ کو وعید مذکور سے بچائیں۔ ذیل میں ہر حدیث کا درجہ محدثین کے اقوال کی روشنی میں بیان کیا جارہا ہے ۔

حدیث(۱) رجب اللہ کا مہینہ

رجب اللہ کا مہینہ ہے :حافظ ابوبکر احمد بن حسین بن علی البیہقی المتوفی ۴۵۸ھ کی صراحت کے مطا بق درج بالاحدیث کے الفاظ اس طرح ہیں

عن انس بن مالک ؓ قال قا ل ر سول اللہ ﷺ ”خیرة اللہ من الشہور شھررجب ،ھو شھراللہ ، من عظم شھررجب ،فقد عظم امراللہ،ومن عظم امر اللہ ادخلہ جنا ت النعیم ، و اوجبہ رضوانہ الاکبر ،

وشعبان شھری، فمن عظم شعبان ،فقد عظم امری ، ومن عظم امری کنت لہ فرطا ،وذخرا یوم القیامة ، وشھر رمضان شھر امتی ،فمن عظم شھر رمضان ، وعظم حرمتہ ولم ینتہکہ وصام نہارہ وقام لیلہ ،وحفظ جوارحہ ،خرج من رمضان، ولیس علیہ ذنب یطلب اللہ۔ (شعب الایمان۳۷۵/۳ )

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالی ٰکے نزدیک سب سے بہتر مہینہ ماہ رجب ہے اور یہ اللہ تعالی کا مہینہ ہے ، جس شخص نے رجب کے مہینے کی تعظیم کی ،اس نے اللہ کی تعظیم کی اور جو شحص اللہ کی عظمت کو بجا لا ئے ،اللہ تعالیٰ اس کو جنت میں داخل فر ماتے ہیں اور اس کے لئے اپنی رضا مندی لازم قرار دیتے ہیں اور شعبان کا مہینہ میرا مہینہ ہے ،جس شخص نے شعبان کی تعطیم کی، گویا اس نے میری تعظیم کی اور جو شخص میری تعظیم کرے ،میں قیامت کے دن اس کے لئے فرط اور باعث ذخیرہ بنوں گا۔

رمضان میری امت کا مہینہ ہے،جو شخص ماہ رمضان کی تعظیم کرے ،اس کی حرمت کو بر قرار رکھے ،اس مہینہ میں نا مناسب اعمال سے اجتناب کرے ،دن میں روزہ رکھے ، رات میں قیام کر ے اور اپنے اعضاءکی حفاظت کرے ،تو رمضان کا مہینہ اس حال میں ختم ہوتا ہے ، کہ اس پر کوئی ایسا گناہ نہیں ہوگا جس کی وجہ سے اللہ تعالی ٰاس کی گرفت فرمائیں ۔

اس روایت کے متعلق امام احمد بن حنبل ؒکا قول

اس روایت کو نقل کرنے کے بعد امام بیہقیؒ نے امام احمد بن حنبل ؒکا قول یوں نقل کیا ہے

ھذااسناد منکر بمرة روی عن انس غیرھذا،ترکتہ ،فقلبی نافر عن روایة المناکیر التی ا توھمھا ،بل اعلمھا موضوعة، واللہ یغفرلنا برحمتہ ۔(شعب الایمان۳۷۵/۳)

اس روایت کی سند منکر ہے ، مرہ کی وجہ سے جوکہ اس روایت کا راوی ہے اور حضرت انس ؓ سے د یگر روایات بھی انھوں نے بیان کی ہیں ،میرا دل منکر روایتوں کو بیان کرنے سے متنفر ہے ؛بلکہ میں ان کو موضوع سمجھتا ہوں، اللہ تعالی ٰپنی رحمت سے مغفرت فرمائے ۔

حدیث(۲)ماہ رجب کےفضائل پر مشتمل حدیث

ماہ رجب کی فضیلت تمام مہینوں پر ایسی ہے ، جیسے قران مجید کی فضیلت تمام اذکا ر پر۔ علامہ ابو لحسن علی بن محمدالکنانیؒ ”صاحب تنزیہ الشریعہ “مذکورہ روایت کو موضوعات کے تحت ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں

وقد ورد فی صیام رجب ،والعبادة فیہ احادیث، منہا باطل ومنہا ماھو ضعیف ومنہاما ذکرہ ابو البرکات ھبة اللہ بن مبارک مرفوعا : فضل رجب علی الشھور کفضل القرآن علی سائرالاذکار ۔ (تنزیہ الشریعة۱۶۱/۲)

ماہ رجب کے روزے اور اس میں عبادت کے متعلق کچھ احادیث وارد ہوئی ہیں، جن میں سے بعض باطل اور بعض موضوع ہیں اوراسی قبیل سے وہ روایت ہے جس کو ابو البرکات ہبة اللہ بن مبارک نے مرفوعا ذکر کیا ہے :رجب کی فضیلت تمام مہینوں پر ایسی ہے ،جیسی قرآ ن مجید کی فضیلت تمام اذکار پر ۔

علامہ عبدالحق محدث دہلوی تحریرفرماتے ہیں :حافظ دیلمی ؒنے مذکور ہ روایت کو موضوع کہا ہے ۔ (مومن کے ماہ وسال :ما ثبت بالسنة:۱۷۳)

حدیث(۳) رجب بہشت میں ایک نہر کا نام

آںحضرت ﷺ نے فرمایا:
رجب بہشت میں ایک نہر کا نام ہے ،جس کا پانی شہد سے زیا دہ شیریں ،برف سے زیادہ ٹھنذا اور دودھ سے زیادہ سفید ہے،جو شخص اس مبارک مہینہ میں ایک ر وزہ بھی رکھے گا،اللہ تبارک وتعالی اس شخص کو اس نہر کے پانی سے سیراب فرمائے گا ۔

علامہ بیہقیؒ حضرت انس ؒ کی سند سے اس روایت کواس طرح نقل کیا ہے: قال رسول اللہﷺ: ان فی الجنة نہر ا،یقال لہ رجب اشد بیاضاً من اللبن ،واحلی من العسل،من صام من رجب یوماً ،سقاہ اللہ من ذلک النہر۔(شعب الایمان ۲۶۸/۳) رسو ل ا للہﷺ نے فرمایا: جنت میں ایک نہر ہے ،جس کو رجب کہا جاتا ہے،اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ شیریں ہے،جو شخص رجب کا ایک روزہ بھی رکھے گا،اللہ تعالیٰ اس شخص کو اس نہر سے سیراب فرمائیں گے ۔

ماہ رجب کے فضائل میں منکر روایتیں مروی ہیں

علامہ بیہقیؒ نے ماہ رجب کے فضائل اور مزید دیگر روایات بیان کرنے بعد ان پر درج ذیل الفاظ میں تبصرہ کیا ہے : ”وقدورد فی ھٰذالباب احادیث مناکیر، فی روایتھا قوم مجھولون و ضعفاء، وانا ابرءالی اللہ تعالیٰ من عھدتھا ، فھٰھنا قد تقدم بعضھا ، ومنھا ‘‘(شعب الایمان۳۶۹/۳)

ماہ رجب کے فضائل میں منکر روایتیں مروی ہیں ،جن کو غیرمعروف اور ضعیف حضرات نے بیان کیا ہے،میں اللہ تعالیٰ کے سامنے ان روایات کی ذمہ داری سے برا ءت کا اظہار کر تا ہوں ،جن میں بعض روایتیں گذر گئیں ،بعض آگے آئیں گی ۔

علا مہ محقق ابو عبداللہ شمس الدین محمد بن احمد بن عثمان الذھبی ؒ الدمشقی المتوفی ۸۴۸ھ اس حدیث کے متعلق تحریر فرماتے ہیں : ”ھٰذا باطل“ ۔(لسا ن المیزان ۴ ۹۸۱) نیز صاحب” المنہل المورود شرح سنن ابی داؤد “کی رائے بھی علامہ بیہقی ؒ کی طرح ہے ۔( المنھل۱۸۷/۰۱)

حدیث(۴) اللّہم بارک لنا فی رجب وشعبان

حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کے رسول اللہ ﷺجب ماہ رجب کا چاند ملاحظہ فرماتے،تو دونوں دست مبارک اٹھا کر ےہ دعا پڑھتے تھے اللہمّ بارک لنا فی رجب و شعبان، وبلّغنا شھر رمضان ۔

علامہ بیہقی ؒ کے الفاظ میں روایت بالا یوں ہے:
”اخبر نا ابو عبداللہ الحافظ القواریری نازیادالنمیری عن انس قال
قال کان النبیﷺ اذا دخل رجب :
قال اللّہم بارک لنا فی رجب وشعبان وبلّغنا رمضان“۔ ( شعب الایمان ۳۷۵/۳)
زائدہ بن ابی رقاد زیاد نمیری سے روایت کرتے ہیں ،وہ حضرات انس ؓسے اور انس ؓ فرماتے ہیں :
جب رجب کا مہینہ آجا تا تھا،تو آپ ﷺ یوں دعا فرماتے تھے :
اللہم بارک لنا فی رجب وشعبان وبلّغنا رمضان ۔

امام بیہقی ؒ اس روایت کو ذکر کرنے کے بعد اس پر یوں کلام فرماتے ہیں : ”تفرد بہ زیاد النمیری وعنہ زائدة ابن ابی رقاد ،قال البخاری :زائدة ا بن ابی رقاد عن زیاد النمیری ،منکر الحدیث ۔(شعب الایمان البیہقی ۳۷۵/۳ )

زیاد نمیری اس حدیث کی ر وایت نقل کرنے میں منفرد ہیں اور ان کے شاگرد زائدہ بن ابی رقاد جو اپنے استاد زیاد نمیری سے حدیث نقل کرتے ہیں ،ان کے بارے میں امیر المو منین فی الحدیث محمد بن اسما عیل بحاریؒ فرماتے ہیں : یہ منکر الحدیث ہے ۔

علامہ نو وی ؒ نے اسی روایت کو ”حلیة الاولیاء“اور ”عمل الیوم واللیلة“ لابن السنی “سے نقل کرنے کے بعد لکھا ہے :
” روینا ہ فی ”حلیة الاولیا ء“ با سناد فیہ ضعف عن زیا د النمیری عن انس ؓ الخ (کتا ب الاذکار :۱۷۱)
مذکورہ روایت کو ہم نے ”حلیة الاو لیا ء“ سے بیان کیا ہے،ایسی سندکے ساتھ جو ضعیف ہے ،یعنی زیا د نمیری ضعیف ہے۔

حدیث(۵) اے سلمان !نہیں کوئی بندئہ مومن اور مومنہ

حضرت سلمان فارسی ؓ سے روایت ہے کے مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے سلمان !نہیں کوئی بندئہ مومن اور مومنہ کہ پڑھے اس میں بیس رکعت نفل ،تو معاف کرے گا، اللہ تبارک وتعالی ٰتمام گناہ قیامت کے دن ،اٹھایا جائے گا شہیدوں کے ساتھ اور اس کا نام عابدوں یعنی عبا دت گزاروں میں لکھا جائے گا اور ثواب ایک سال کی عبا دت کا لکھا جائے گا اور حرام کرے گا اللہ تعالیٰ دوزخ کی آگ کو اور فرمایا آں حضرت ﷺنے مجھ کو خبر دی اس نماز کے ثواب کی جبرئیل نے۔

جب کی پہلی رات کو دس رکعت نفل ،پا نچ سلام

حضرت سلمان فارسی ؓروایت کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا ،یا رسو ل اللہ ﷺ اس نماز کو کس طرح پڑھوں ؟تو حضورﷺ نے فرمایا :پڑھ رجب کی پہلی رات کو دس رکعت نفل ،پا نچ سلام سے ، پندروھویں اور آخری رات کو بھی اور پڑھ ہر رکعت میں بعد الحمد کے سورئہ کا فرون اور سورئہ اخلاص ، تین بارہر سہ روز بعد نماز فراغت تین بار کلمہءتوحید پڑھ کر پہلی رات یہ دعا پڑھے :
اللٓھم لا مانع لما اعطیت ولا معطی لما منعت ولا ینفع ذالجدّ منک الجد
پندروھیں رات یہ پڑھے :
الٰہا واحدا احداً وصمداً ، وفرداً ووتراً ،لم یتّخذ صاحبة ولا ولداً ،
آخری رات یہ دعاپڑھے :
اللہم صلّ علی سیّدنا محمد وآلہ ا لطاہرین ولا حول ولا قوّة الّا باللہ العظیم۔

اس کے بعد مانگ تو اللہ تعالیٰ سے اپنی حاجتوں کو ،قبول فرمائے گا اللہ تعالیٰ دعاءتیری اور دن قیا مت کے تیرے اور دوزخ کے درمیان ستّر خندق کا فاصلہ ہوگا ،ہر خندق کی چوڑائی پانچ سو برس کی راہ ہوگی اور عطا کرے گا اللہ تعالیٰ ثواب ہر رکعت کے بدلے ہزار رکعت کا ،جب سنی ےہ حدیث حضرت سلما ن فارسی ؓ نے آں حضرت ﷺ سے ،تو اٹھے اور خدا کا شکر بجا لائے،اتنے بڑے انعام پر ،پھر کبھی سلمان فارسی ؓ نے اس نماز کو نہیں چھوڑا ۔

مذکورہ حدیث سے متعلق ابن جوزی کا قول

یہ حدیث الفاظ کے الفاظ تھوڑے فرق کے ساتھ ابو الحسن علی بن محمد الکنانیؒ نے ذکر کی ہے ؛مگر اس حدیث کوذکر کرنے کے بعد ابن جوزی کا قول بلا کسی تبصرہ سے یوں نقل کیا ہے : وفی سندہ مجاھیل ( تنزیہ الشریعة المرفوعة عن الاحادیث الشنیعة الموضوعة ۸۹/۲ ) اس کی سند میں مجہول اور غیر معروف راوی ہےں ، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ابن جوزیؒ کی بات صاحب تنزیہ الشریعة کے نزدیک بھی صحیح ہے ،اس لئے اس روایت پر بھی اعتماد نہیں کیا جاسکتا ۔

حدیث (۶)رجب کی پہلی،پندروھیں اورآخری تاریخ میں غسل کرے

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ےہ ارشاد فرمایا ہے: کوئی رجب کے مہینہ میں پہلی ، پندروھیں اور آخری تاریخ میں غسل کرے، تووہ ایسا خارج ہوگا گنا ہوں سے جیسا پیدا ہوا آج ہی اپنی ماں کے پیٹ سے ۔ فقہیہ الامت حضرت مفتی محمود الحسن صاحب ؒ سابق مفتی اعظم دار العلوم دیوبند سے جب اس حدیث اورماہ رجب کے فضائل کے تعلق سے پوچھا گیا، تو آپ نے فرمایا :ماہ رجب کی مخصوص تاریخوں میں غسل کرنے کی جو فضیلت سوال میں درج ہے، وہ اصول کے اعتبار سے موضوع اور باطل ہے ،ہرگز ےہ اعتقاد نہ رکھا جائے۔ ( فتاویٰ محمودیہ ۷۵/۱۵)

حدیث (۷) جو شخص رجب کی پہلی رات نماز مغرب ادا کرے

شبِ اول میں بعد نماز مغرب بیس رکعت نفل دس سلام سے ہر رکعت میں بعد الحمد کے سورئہ اخلاص ایک بارپڑھے ،فائدہ ہر دو جہاں کا ہے ،پمفلٹ میں اختصار سے کام لیا گیا ہے؛لیکن صاحبِ ”المنہل العذب المورود “ نے اسے تفصیل کے ساتھ ان الفاظ میں ذکر کیا ہے۔

عن انسٍؓ مرفوعاً قال قال رسول اللہ ﷺ :من صلّیٰ المغرب فی اوّل لیلة من رجب ،ثمّ صلّیٰ بعدھا عشرین رکعة یقرافی کلّ رکعة بفاتحة الکتاب، وقل ھو اللہ احدی عشرةً مرّة ویسلّم فیہنّ عشر تسلیماتٍ ،اتدرون ما ثوابہ ؟ فانّ الروح الامین جبرئیل علّمنی ذٰلک، قلت اللہ ورسولہ اعلم ، قال حفظہ اللہ فی نفسہ، واھلہ ،ومالہ ،وولدہ، واجرہ من عذاب القبر، وجاز علی الصراط کالبرق بغیر حساب ولاعقاب“۔( المنہل العذب ۱۸۶/۰۱ )

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :جو شخص رجب کی پہلی رات میں نماز مغرب ادا کرے ،پھر بیس رکعت نفل پڑھے ،ہر رکعت میں الحمد شریف کے بعد قل ھو اللہ احد گیارہ مرتبہ پڑھے اور بیس رکعت کو دس سلام کے ساتھ پڑھے ، تو ثواب کیا ہوگا جانتے ہو ؟ روح الامین حضرت جبرئیل ؑ نے مجھے اس نماز کو سکھلا یا ہے ،تو میں نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں ،تو آپ نے ارشاد فرمایا :اللہ تعالیٰ اس کی جان کی ،اس کے مال ،اہل وعیال اور اس کے پڑوسیوں کو عذابِ قبر سے حفا ظت فرمائیں گے اور پل صراط پر سے بغیر حساب و سزا کے بجلی کی طرح گزر جائے گا۔

: علامہ ابن الجوزی ؒفرماتے ہیں

علامہ ابو الفرج عبد الرحمٰن بن علی بن الجوزی ؒفرماتے ہیں : ھٰذا موضوع واکثر رواتہ مجاھیل۔ (الموضوعات ۱۲۱/۲) یہ حدیث موضوع اور من گھڑت ہے اور اس کے اکثر راوی غیر معروف ہیں ۔ علامہ سیو طی ؒ نے بھی اس حدیث کے متعلق ےہی حکم لگا یا ہے ،چنا نچہ وہ فرماتے ہیں : ھٰذا حدیث موضوع واکثر رواتہ مجاھیل ۔( اللالی المصنوعة فی الاحادیث الموضوعة ۴۷/۲)

حدیث(۸) لیلة الر غائب

لیلة الر غائب ، رجب سے پہلے پنجشنبہ جمعہ کی درمیانی رات ہے،اس رات میں بعد نماز مغرب بارہ رکعت نفل، چھ سلام سے ادا کرے ،ہر رکعت میں بعد الحمد کے انّا انزلنا ایک بار ،سورئہ اخلاص بارہ بار پڑھے ،بعد فراغتِ نماز کے ستَر بار درود شریف پڑھ کر سبّوح قدّوس ربّنا ورب ّالملا ئکة والرّوح ستّر بار پڑھے ،ربّ اغفر وارحم، وتجاوز عمّا تعلم، فا نّک انت العلیّ العظیم ستّر بار پڑھے ،پھر ستّر بار درود شریف پڑھ کر جو دعا مانگے قبول ہو۔

اس حدیث کو حضرت انسؓ کی سند سے حضرت علامہ سیوطی ؒنے یوں ذکر کیا ہے: قال رسول اللہ ﷺ:وما من احد یصوم یوم الخمیس اوّل خمیس فی رجب ثمّ یصلیّ فیما بین العشاءوالعتمة یعنی لیلة الجمعة اثنتیٰ عشرة رکعة یقرا فی کلّ رکعة فاتحة الکتاب مرّة ،وانّا انزلناہ فی لیلة القدر ثلٰث مرات، وقل ھو اللہ احداثنتیٰ عشرةمرّة یفصل بین کلّ رکعتین تسلیمة ،فاذا فرغ من صلوٰتہ، صلّیٰ سبعین مرّة ،ثمّ یقول اللہم صل علی سیّدنا محمّد النّبی الامیّ وعلیٰ اٰلہ ثمّ یسجد فیقول فی سجو دہ سبّو ح قدّوس ربّنا وربّ الملائکةِ والرّوح سبعین مرّة،ثم یرفع راسہ ثم یقول رب اغفروارحم وتجاوز عماتعلم انک انت العزیز الاعظم الخ( اللالی المصنوعة فی الاحادیث الموضوعة ۴۸/۲)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جوشخص رجب کی پہلی جمعرات کو روزہ رکھے اوربعدنمازِ مغرب اورعشاءسے پہلے بارہ رکعت ،چھ سلام کے ساتھ پڑھے ،ہررکعت میں ایک مرتبہ الحمدشریف اورتین مرتبہ اناانزلنا ہ فی لیلة القدر اورگیارہ مرتبہ سورئہ اخلاص پڑھے ،جب نماز سے فارغ ہوجائے ،توسترمرتبہ درود شریف پڑھے اوراس کے بعد اللہم علی محمد النبی الامی وعلی آلہ پڑھے ،پھرسجدہ میں پڑھے ،سبوح قدوس رب الملائکة والروح سترمرتبہ پڑھے اورپھر سراٹھائے ،پھرکہے : رب اغفروارحم وتجاوز عماتعلم ،انک انت العزیز الااعظم سترمرتبہ پڑھے ۔

ابن جوزی ؒ کا تبصرہ

علامہ جلال الدین سیوطی ؒ اس حدیث کو ذکرکرنے کے بعد ابن جوزی ؒ کا تبصرہ ان الفاظ میں نقل کیاہے:
موضوع اتھموا بابن جھیم ،قال المؤلف (السیوطیؒ) وسمعت شیخنا عبدالوھا ب یقول : رجالہ مجھولون وقد فتشت علیھم فی جمیع الکتب فماوجدتہم ۔ (اللالی المصنوعة فی الاحادیث الموضوعة ۴۸/۲ تنزیہ الشریعة ۹۵/۲)
حدیث بالاکو محدثین نے ابن جہیم کی وجہ سے متہم قراردیاہے ،علامہ سیوطیؒ فرماتے ہیں کہ میں اپنے شیخ عبدالوھاب کو یہ کہتے سنا ،اس روایت کے راوی مجہول ہیں، میں نے رجال کی تمام کتابوں کو تلاش کیا؛لیکن ان کے حالات کو نہیں پایا ۔

حدیث(۹) شب استفتاح

شب استفتاح ،ماہ رجب کی پندروہویں رات کا نام ہے ، اس رات میں بعدنمازِ عشاءبیس رکعت نفل نماز دس سلام سے اداکرے اورہررکعت میں بعد الحمد کے سورئہ اخلاص ایک بارپڑھے ،یہ نماز دنیا ومافیہا سے بہترہے ۔

علامہ سیوطیؒ کی تصریح کے مطابق یہ روایت اس طرح ہے :
عن انس مرفوعا :من صلی لیلة النصف من رجب اربع عشرة رکعة یقرا فی کل رکعة الحمدمرة ،وقل ھواللہ احد احدی عشرة مرة ، وقل اعوذبرب الفلق ثلث مرات ،وقل اعوذ برب الناس ثلث مرات ،فاذافرغ من صلوتہ صلی علیَّ عشرمرات ،ثم یسبح اللہ ویحمدہ ویکبرہ ویھللہ ثلثین مرة ،بعث اللہ تعالی الیہ الف ملک یکتبون لہ الحسنات ویغرسون الاشجار فی الفردوس ،ومحا عنہ کل ذنب اصابہ الی تلک اللیلة ولم تکتب علیہ خطیئة الی مثلھا من القابل۔(اللالی المصنوعة ۴۸/۲)

حضرت انس ؓ سے مرفوعا روایت ہے کہ جوشخص پندروھویں شب کو چودہ رکعت نفل پڑھے ،ہررکعت میں سورئہ فاتحہ کے بعد قل ھواللہ احدگیارہ مرتبہ ،قل اعوذ برب الفلق تین مرتبہ ،قل اعوذ برب الناس تین مرتبہ پڑھے ،جب نماز سے فارغ ہوجائے ،تومجھ پر دس مرتبہ درود پڑھے ،پھر ۳۳ مرتبہ سبحان اللہ ۳۳ مرتبہ الحمدللہ ۳۳ مرتبہ اللہ اکبر اور ۳۳ مرتبہ لاالہ الاللہ پڑھے ،تو اللہ تعالیٰ ایک ہزارفرشتوں کو اس کی طرف بھیجیں گے جو اس کی نیکیاں لکھیں گے اورجنت الفردوس میں اس کے لئے درخت بوئیں گے اوراس گناہ کو معاف فرمادیں گے دوسری اسی طرح کی رات تک اوردوسرے سال رجب کی پندروھویں شب تک کوئی گناہ نہیں لکھاجائے گا ۔

علامہ سیوطیؒ کااس حدیث پرکلام

اس کے بعد علامہ سیوطیؒ اس حدیث پرکلام کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
موضوع رواتہ مجاھیل ۔(اللالی المصنوعة ۴۹/۲)
مذکورہ بالارایت موضوع ومن گھڑت ہے اوراس کے روای مجہول ہیں۔

حدیث(۱۰) شب معراج

کتاب الاورادمیں منقول ہے کہ اس رات (شب معراج) کو بارہ رکعت نفل، چھ سلام سے اداکرے ،ہررکعت میں بعدالحمد کے سورئہ اخلاص پانچ بارپڑھے ،بعداختتامِ نماز کلمہ تمجید ،استغفاراوردرود شریف سوبارپڑھ کر جودعاءکرے ،قبول ہوگی ۔

امام بیہقیؒ کی صراحت کے مطابق اس روایت کے الفاظ اس طرح ہیں :
عن انس ؓ عن الرسول صلی اللہ علیہ وسلم انہ قال: فی رجب لیلة للعامل فیھا حسنات ماة سنة ،وذالک لثلث بقین من رجب ،فمن صلی فیھا اثنی عشرة رکعة، یقرا فی کل رکعة فاتحة الکتاب وسورة من القرآن، یتشھد فی کل رکعتین ،ویسلم فی آخرھن ،ثم یقول سبحان اللہ ،والحمدللہ ولاالہ الااللہ ،واللہ اکبر ماة مرة ،ویستغفراللہ ما ة مرة ،ویصلی علی النبی صلی اللہ علیہ وسلم ،ویدعولنفسہ ماشاءمن امردنیاہ وآخرتہ ،ویصبح صائما ،فان للہ یستجیب دعاءہ کلہ الاان یدعو فی المعصیة (شعب الایمان ۳۷۴/۳)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
ماہ رجب میں ایک رات ہے ،جس میں عبادت کرنے والے کے لئے سوسال کی نیکیاں لکھی جاتی ہیں اوریہ ماہ رجب کی ستائیسویں رات ہے ،جوشخص اس میں بارہ رکعت نماز پڑھے ،ہررکعت میں سورئے فاتحہ اورضم سورت پڑھے ،ہردورکعت پر قعدہ کرے اور خیرمیں سلام پھیرے ،پھر سبحان اللہ سو مرتبہ ،الحمدللہ سومرتبہ ،لاالہ الاللہ سومرتبہ ،واللہ اکبر سو مرتبہ اور استغفار سومرتبہ پڑھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھے اورپنی دنیا وآخرت سے متعلق جو چاہے دعاکرے اور دوسرے دن روزہ رکھے ،تو اللہ تعالی اس کی تمام دعاؤوں کو قبول فرماتے ہیں ،سوائے اس دعا کے جومعصیت کے سلسلہ میں ہو ۔

ؒ علامہ بن جوزی

علامہ ابوالفرج عبدالرحمن بن علی بن جوزی ؒ مذکورہ بالاروایت پر اس طرح کلام کیاہے : ھذا حدیث موضوع علی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ،وقداتھمو بان جھیم ونسبوہ الی الکذب ،وسمعت شیخنا عبدالوھا ب الحافظ یقول :رجالہ مجھولون وقدفتشت علیھم جمیع الکتب ،فماوجدتھم ۔(الموضوعات لابن الجوزی ۱۲۵/۲)

یہ حدیث من گھڑت ہے ،جس کور سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف گھڑاگیاہے ،محدثین نے اس روایت پر ابن جہیم کی وجہ سے کلام کیاہے ،نیز ابن جہیم کو متہم بالکذب قراردیاہے ،میں نے اپنے شیخ حافظ عبدالوھاب کو یہ کہتے ہوئے سناکہ اس روایت کے روای مجہو ل ہیں اور ان کے سلسلہ میں تمام کتابوں کی چھابین کی؛ لیکن مجھے ان کے حالات نہیں ملے ۔

حافظ ابن حجرؒ اس حدیث کے متعلق فرماتے ہیں :
اسنادہ مظلم ۔(تبیین العجب : ۲۷)
اس روایت کی سندتاریک ہے ،یعنی رواة کے مجہول ہونے کی وجہ سے سند نہایت تاریک ہے ،نیز صاحب ”المنہل العذب“ اس حدیث کو منکر اورضعیف احادیث کے ذیل میں ذکرکیاہے ۔(المنہل ۱۸۶/۱۰)

ماہ رجب کے فضائل بدعات وخرافات کے سلسلہ میں فقہائے کرام کا نظریہ

پمفلٹ میں شب اول ،روزہ ،لیلة الرغائب ،شب استفتاح وغیرہ راتوں میں خاص ترتیب کے ساتھ جن اعمال کا ذکرکیاگیاہے ،ان کے بدعت اورغیرمشروع ہونے کی فقہاءنے صراحت کی ہے ۔
علامہ ابن نجیم تحریرفرماتے ہیں :
”ومن ھنا یعلم کراھیة الاجتماع علی صلوة الرغائب التی تفعل فی رجب فی اول لیلة منھا ،وانھا بدعة“ ۔(البحرالرائق ۹۳/۲)

علامہ شیخ ابراہیم حلبیؒ

علامہ شیخ ابراہیم حلبی المتوفی ۹۵۶ھ احادیثِ رغائب پر علماءِ محققین کے کلام نقل کرنے کے بعد تحریرفرماتے ہیں : قال ابوالفرج ابن الجوزی وابوبکر الطرطوشی: صلوة الرغائب موضوعة علی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ،وکذب علیہ وقدذکروالکراھتھا وجوھا منھا تخصیص سورة الاخلاص والقدرولم یرد بہ الشرع ۔

ومنھا تخصیص لیلة الجمعة دون غیرھا ،وقدورد النھی عن تخصیص یوم الجمعة بصیام ولیلتہ بقیام ،ومنھا ان العامة یعتقدونھا سنة من سنن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ،فیکون فعلھا سببا لکذبھم علیہ صلی اللہ علیہ وسلم ،قلت: بل کثیر من العوام ببلاد الروم یعتقدونھا فرضا،وکثیرمنھم یترکون الفرائض ولایترکونھا ،وھو المصیبة العظمیومنھاالاشتغال بعدالسور وھویخل الخشوع والتدبروھومخالف للسنة

ومنھا ان الصحابة والتابعین ومن بعدھم من الائمة المجتھدین لم ینقل عنھم ھاتان الصلاتان ،فلوکانتا، لما فاتتاالسلف،وانماحدثتا بعدالاربع ماة ،قال ابومحمد عز الدین بن عبدالسلام المقدسی : لم یکن ببیت المقدس قط صلاة الرغائب فی رجبقال الشیخ محی الدین النووی : وھاتان الصلاتان بدعتان مذموتان منکرتان ،قبیحتان ،ولاتغتربذکرھما فی کتاب ”قوت القلوب“ و”الاحیاء“ولیس لاحد ان یستدل علی شرعیتھا بما روی عنہ علیہ السلام انہ قال : الصلوة خیرموضوع ،فان ذالک یختص بصلوة لاتخالف الشرع بوجہ من الوجوہ ۔(غنیة المصلی فی شرح منیة المصلی : ۴۳۳)

شیخ ابراہیم حلبی ؒ کے مفصل کلام کاحاصل

شیخ ابراہیم حلبی ؒ کے مفصل کلام کاحاصل یہ ہے کہ علماءمحققین ومحدثین وفقہاءنے صلاة الرغائب کو بدعت ومکروہ لکھاہے ،ان علماءمیں ابومحمد عز الدین بن عبدالسلام بھی ہیں ،جوکہتے ہیں کہ چارسوسال تک بیت المقدس میں صلاة الرغائب کبھی نہیں پڑھی گئی ،اس کے بعد ایک شخص نے شروع کی ،ناواقف لوگوں نے اس کی اقتداءواتباع کی ۔

علامہ نوویؒ فرماتے ہیں :
رجب اورپندرھویں شعبان کی نماز مذموم ،قبیح ،منکر اور بدعت میں داخل ہے،الصلوة خیرموضوع سے اس کے جواز پر استدلال کرنے کی گنجائش نہیں ہے ؛کیونکہ یہ حدیث ان نماز وں سے متعلق ہے ،جوکسی بھی اعتبارسے مزاج شریعت کے خلاف نہ ہوں ۔

ان نمازوں کے مکروہ ہونے کی وجوہ

علماءان نمازوں کے مکروہ ہونے کی کئی وجوہ ذکرکی ہیں ،جن کا خلاصہ ذیل میں ذکرکیاجارہاہے : (۱)نماز وں میں سور ہ اخلاص اورسورئہ قدر اور دیگرسورتوں کی تخصیص کے متعلق احادیث اورفقہاءکی تصریحات ملتی نہیں ہیں ۔ (۲)رجب کی پہلی جمعہ کی شب نماز کا اہتمام کیاجاتاہے جبکہ احادیث میں جمعہ کے دن ورات کو صیام وقیام کے ساتھ خاص کرنے کی ممانعت واردہوئی ہے ۔ (۳)ناواقف عوام ان نمازوں کو سنت سمجھتے ہیں اوریہ امر واقع کے خلاف ہے ۔

(۴)ان نمازوں کولوگوں نے فرائض سے زیادہ اہمیت دی ہے حتی کہ فرائض سے غفلت برتے ہوئے ان کااہتمام کرتے ہیں ۔ (۵)ان نمازوں میں مخصوص سورتوں کو خاص عدد کے ساتھ پڑھاجاتاہے ،جن کو نماز کی حالت میں شمارکرتے رہنے کی وجہ سے نماز کے خشوع وخضوع میں خلل پیداہوتاہے ۔ (۶)یہ نمازیں صحابہ ،تابعین ،تبع تابعین اورائمہ مجتہدین سے ثابت نہیں ہیں ،یہ تو چوتھی صدی کے بعد وجودمیں آئی ہیں ۔

ماہ رجب کے فضائل سے متعلق ائمہ محدثین کے ارشادات

پمفلٹ میں درج دیگرباتوں سے متعلق امام احمد بن حنبل ،امام بیہقی ابن الجوزی اورحافظ ابن حجررحمہم اللہ کے ارشادا ت ملحوظ رہنے چاہئیں۔
امام احمد بن حنبلؒ فرماتے ہیں:
”ھذااسناد منکر بمرة روی عن انس غیرھذا،ترکتہ ،فقلبی نافر عن روایة المناکیر التی ا توھمھا ،بل اعلمھا موضوعة، واللہ یغفرلنا برحمتہ“ ۔(شعب الایمان۳۷۵/۳)
اس روایت کی سند منکر ہے ، مرہ کی وجہ سے جوکہ اس روایت کا راوی ہے اور حضرت انس ؓ سے د یگر روایات بھی انھوں نے بیان کی
ہیں ،میرا دل منکر روایتوں کو بیان کرنے سے متنفر ہے ؛بلکہ میں ان کو موضوع سمجھتا ہوں، اللہ تعالی ٰپنی رحمت سے مغفرت فرمائے ۔

حافظ ابوبکر بیہقی ؒ تحریرفرماتے ہیں: ”وقدروی فی ھذاالباب احادیث مناکیر فی رواتھا قوم مجہولون وضعفاء،وانا ابرا الی اللہ تعالی من عہدتھا“ ۔(شعب الایمان للبیہقی ۳۷۶/۳) ماہ رجب کے فضائل کے سلسلہ میں منکرروایتیں مروی ہیں ،غیرمعروف ومجہول راویوں نے نقل کیاہے ،میں ان روایات سے بارگاہ ایزدی میں براءت کا اظہارکرتاہوں۔

حافظ ابن القیم الجوزیؒابن تیمیہ ؒ کے قول نقل کرتے ہوئے رقم طراز ہیں: ”ان ارادبہ ان تکون اللیلة التی اسری فیھا بالنبی صلی اللہ علیہ وسلم ونظائرھا من کل عام لامة محمدصلی اللہ علیہ وسلم من لیلة القدر بحیث یکون قیامھا والدعاءفیھا افضل منہ فی لیلة القدر،فھذاباطل ،لم یقلہ احدمن المسلمین ۔

وھومعلوم الفساد بالاطراد من دین الاسلام ،ھذااذاکانت لیلة الاسراءتعرف عینھا ،فکیف ؟ولم یقم دلیل معلوم لاعلی شھرھا ولاعلی عشرھا ولاعلی عینھا ؛بل النقول فی ذالک منقطعة لیس فیھا مایقطع بہ ولاشرع للمسلمین تخصیص اللیلة یظن انھالیلة الاسراءبقیام ولاغیرہ بخلاف لیلة القدر“ ۔(زادالمعا د ۵۷/۱)

ابن تیمیہ ؒ کے کلام کا خلاصہ

ابن تیمیہ ؒ کے کلام کا خلاصہ یہ ہے کہ شب معرا ج،لیلة الاسراءکب ہوئی؟کس سن میں ہوئی ؟ کس مہینہ میں ہوئی ؟کس عشرہ میں ہوئی ؟کس رات میں ہوئی ؟کوئی قطعی دلیل نہیں ہے ،اس کے متعلق جتنی روایتیں ہیں ،سب منقطع ہیں اورمتضادہیں جن پراعتماد ویقین نہیں کیاجاسکتا،نہ ہی مسلمانوں کے لئے کسی خاص رات میں شب معراج سمجھ کر عبادت اوردیگراعمال کی مشروعیت ثابت ہے ۔

حافظ ابن حجرؒ ”تبیین العجب بماورد فی فضل رجب “ میں تحریرفرماتے ہیں: لم یردفی فضلہ ولافی صیامہ ولافی صیام شیءمنہ معین ولافی قیام لیلة مخصوصة منہ حدیث صحیح یصلح للحجة ۔(المنھل لعذب المورودشرح ابی داود۱۸۷/۱۰) ماہ رجب کے فضائل اوراس کے روزوں کے متعلق اوررجب کے کسی خاص دن میں روزہ رکھنے کے سلسلہ میں اورکسی خاص رات میں عبادت کرنے کے تعلق سے کوئی حدیث صحیح جوقابل استدلال ہو ،واردنہیں ہے ۔

علامہ ابوالحسن علی بن محمد الکنانی رقم طراز ہیں:
”وقدورد فی صیام رجب والعبادة فیہ احادیث منھا ماھو باطل ،ومنھا ماھوضعیف“ ۔(تنزیہ الشریعة ۱۶۱/۲)
ماہ رجب کے روزو ں اور اس میں عبادت کے تعلق سے احادیث واردہوئی ہیں جومنکر اورضعیف ہیں ۔

خلاصہ بحث

پوری بحث کا خلاصہءکلام یہ ہے کہ اس باب میں منکر،ضعیف اورباطل روایات بکثرت آئی ہیں اورجن اعمال کا ذکرکیاگیاہے، وہ مزاجِ شریعت ومذاقِ شریعت سے میل نہیں کھاتے ہیں ،ان پرعمل کرنے سے بجائے ثواب کے گناہ لازم آئے گا ،لہذا امت مسلمہ جس کو قرآن کریم نے ”امت وسط“ کہا ہے ،اس طرح کی بدعات وخرافات سے پرہیز کرے ۔

خطیب وواعظین حضرات کو چاہئے کہ ان بدعات کو رواج دینے کے بجائے حتی الامکان ختم کرنے کی کوشش کریں ۔ عبداللطیف قاسمی قد اصاب من اجاب ۱۶/ شعبان المعظم ۱۴۲۵ (حضرت مولانا مفتی )محمداسلم رشادی غفرلہ اس مقالہ کا عنوان: ماہ رجب کے فضائل ،بدعات اورخرافات کا علمی وتحیقی جائزہ