مجلس درس میں حاضری کے آداب

مجلس در س میں حاضری کے آداب :طالبِ علم کو چاہئے کہ استا ذ کی خدمت اورمجلس درس میں تمام آداب کے ساتھ حاضرہو،باوضواورمسواک کے استعمال کے ساتھ جائے اور تمام چیزوں سے ذہن کو فارغ کرکے جائے،اگر استاذ کی مجلس میں جانے کے لئے اجازت کی ضرورت ہو،تو بلااجازت ہرگز نہ جائے ۔

جب مجلس درس میں حاضر ہو ،تو تمام حاضرین کواور بطورخاص استا ذکو سلام کرے ،جب مجلس سے باہر آئے، تب بھی استاذ اور تمام حاضرین کو سلام کرکے واپس آئے ،جیساکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : لیست ا لاولی احق من الثانیة واپسی کا سلام اور ابتدائی سلام دونوں برابر ہیں

لوگوں کی گردنیں پھاندتے ہوئے نہ جائے ؛بلکہ مجلس درس حاضری دے ،تو جہاں جگہ ملے ،وہاں بیٹھ جائے ؛البتہ استاذخوداپنے سامنے آنے کی اجازت دیں یا اہل مجلس اس شخص کا اکرام کرتے ہوئے آگے جگہ دیں ،تو آگے جاسکتاہے ،کسی آدمی کو اس کی جگہ سے نہ اٹھائے ،اگر کوئی شخص اپنی جگہ سے کھڑے ہوکراکرام کرے ،تو حضرت ابن عمر ؓ کی اتباع کرتے ہوئے قبول نہ کرے ؛البتہ اس میں حاضرین مجلس کا کوئی فائدہ ہو یا استاذ کاحکم ہو ،تو اس صورت میں اکرام کو قبول کرلے ،درمیانی مجلس میں نہ بیٹھے ،دو ساتھیوں کے درمیان نہ بیٹھے، اگر وہ دونوں ساتھی اس کی اجازت دیں،تو بیٹھ سکتاہے ۔

حاضرین مجلس کا احترام

طالبِ علم کو چاہئے کہ وہ ٭اپنے رفقا ء درس اور حاضرین مجلس کے ساتھ ادب واحترام سے پیش آئے، یہ بھی استاذ کے ٭ساتھ ادب واحترام ہے۔ ٭استاذ کے سامنے طالبِ علمانہ ہیئت وطریقے کے مطابق بیٹھے ۔ ٭بلاضرورت اپنی آوازبلندنہ کرے ،نہ ہی لمبی بات کرے ،نہ استاذ کے سامنے ہنسے ۔ ٭اپنے ہاتھ سے یاکسی او رچیزسے نہ کھیلے ۔

استاذ کا دل منتشرہونے کی حالت میں مثلاً اکتاہٹ،خوف ،خوشی ،پیاس،اونگھ،اور پریشانی کے حالات جن میں استاذ کو پڑھانے میں مشقت وپریشانی پیش آتی ہے ،یا چستی وحاضر دماغی نہ ہونے کی وجہ سے طبیعت آمادہ نہیں ہوتی، ایسے حالات میں سبق پڑھنے کے ذریعہ استاذ کو تکلیف نہ دے؛ بلکہ استاذ کی طبیعت کے نشاط کے اوقات کو غنیمت جانے اور اس وقت استفادہ کرے ۔

استاذ کی بے مروتی اور بداخلاقی کو برداشت کرے ؛لیکن اس بات سے طالبِ علم استاذ کی صحبت اور حسن اعتقاد سے دور نہیں ہوناچاہئے ؛بلکہ استاذ کے ان اقوال وافعال کا صحیح مطلب نکا لے جن کا ظاہر غلط محسوس ہورہاہے ،اگر استا ذسے کچھ غلطی بھی ہوجائے ،تو استاذ کے سامنے اپنا عذر پیش کرے، اپنے کو قصور وار ٹہرائے ،ان شاءاللہ یہ بات طالبِ علم کے لئے دنیا وآخرت میں سود مند ہوگی ،اسی کے متعلق حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کا ارشاد مشہور ہے : ذللت طالبا،فعززت مطلوبا۔ میں طالبِ علم ہونے کے زمانہ میں اپنے آپ کو ذلیل بنایا اور مطلوب یعنی استاذ ہونے کے زمانہ میں معززہوا۔

کسی شاعر نے کتنی اچھی بات کہی ہے

من لم یذق طعم المذلة ساعة ٭ قطع الزمان باسرہ مذلولا

جو شخص (علم حاصل کرنے کی زمانہ میں)تھوڑی دیر کی ذلت کو برداشت نہیں کرتا ،ساری زندگی وہ ذلیل ورسواہوکر بسرکرے گا ۔

علم کا شوق

طالبِ علم ،علم کا حریص ہو، تمام اوقات میں اسباق کا اہتمام کرنے والاہو،زیادہ علم حاصل کرنے پر قدرت ہونے کی صورت میں تھوڑے پر قناعت نہ کرے ،اپنے نفس پر طاقت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالے ،ممکن ہے کہ اس سے اکتاہٹ پیداہوجائے ،یا جوکچھ حاصل ہوا ،وہ ضائع ہوجائے اور یہ بات لوگوں کے حالات کے اعتبار سے مختلف ہوسکتی ہے۔

جب درسگاہ میں آئے ،استاذ موجود نہ ہوں، تو ان کاانتظارکرے ،روزانہ کے مقررہ سبق کی مقدارکا ناغہ نہ کرے ،ہاں اگر کوئی ایساوقت ہے جس میں استاذ کو پڑھانے سے ناگواری ہوتی ہو یا کسی کوبھی اس وقت پڑھانے کی عادت نہیں ہے، تو اس وقت انتظار نہ کرے ،جب استاذ آرام کررہے ہوں یا کسی اہم کام میں مصروف ہو ں،تو ایسے وقت استاذ کے پاس جانے کی اجازت طلب نہ کرے ،یاتو استاذ کے بیدارہونے اور اس اہم کا م سے فارغ ہونے کا انتظارکرے اور صبر کرے، یہی بہتر ہے جیساکہ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ وغیرہ حضرات کرتے تھے، یا واپس آجائے۔

طالبِ علم کو چاہئے کہ علم کے حاصل کرنے میں فرصت ،چستی ،قوتِ بدن ،بیدار مغزی کے زمانہ میں نیزمصروفیات کی کثرت، بیماریوں کے حملے اور مقام ومرتبہ کے بلندہونے سے پہلے پہلے خوب محنت کرلے ان چیزوں کے پیش آنے کے بعدموقع نہیں ملے گا۔

امیرالمومنینمربن خطابؓ کا ارشاد

امیرالمومنین حضرت عمربن خطابؓ نے ارشادفرمایاہے

تفقھوا قبل ان تسوّدوا۔

ذمہ داربننے سے پہلے علم ِدین حاصل کرو۔

علامہ نوویؒ فرماتے ہیں : اس کا مطلب یہ ہے کہ اپنی صلاحیت کو کامل بنانے میں خوب محنت کرو جس وقت تم دوسروں کے تابع ہو ، جب تم متبوع ومقتدا بن جاؤگے ،تو علم حاصل کرنے کا موقع ہاتھ سے چلاجائے گا ، اس لئے کہ تمہارامقام بلند ہوجائے گا اور تمہاری مصروفیات زیادہ ہوجائیں گی،علم کے لئے وقت فارغ نہیں کرسکوگے

یہی مطلب ہے امام شافعیؒ کے قول: تفقہ قبل ان ترأس،ف اذارأست ،فلاسبیل الی التفقہ علم حاصل کرو سرداربننے سے پہلے ،جب تم سردار بن جاؤگے، تو علم حاصل کرنے کا تمہارے لئے کوئی راستہ نہیں ہوگا۔

صبح کے بابرکت لمحات

رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا : اللھم بارک لامتی فی بکورھا ۔ اے اللہ !میری امت کے لئے صبح اور شروع دن میں برکت عطافرما ۔

طالبِ علم کو چاہئے کہ اپنے آموختہ کو یادرکھے ،اپنی باری کے وقت کسی کو موقع نہ دے؛ بلکہ خود استفادہ کرے ،اس لئے کہ عبادات میں دوسروں کو ترجیح دینا اچھی بات نہیں ہے ،برخلاف نفس کے تقاضوں کے یہاں پسندیدہ ہے ۔

اگر استاذکسی مصلحت کی بناءپربعض اوقات دوسرے کو ترجیح دیدے، تو استاذ کی بات کوقبول کرے، طالبِ علم کو خاص طور سے اس بات کا لحاظ رکھنا ضروری ہے کہ وہ ساتھی یاکسی اور شخص پر جس کو اللہ تعالیٰ نے کوئی نعمت عطاکی ہو، اس پر ہرگز حسد نہ کرے ۔

اگراللہ تعالیٰ نے اس کو خودکسی خاص نعمت سے نوازاہو، تو خود پسندی میں ہرگز مبتلا نہ ہو ،خود پسندی کاعلاج یہ ہے کہ یہ سوچے کہ جو نعمت اللہ تعالیٰ نے عطا کی ہے، وہ اس کی اپنی قوت وطاقت سے نہیں؛ بلکہ اللہ نے اپنے فضل سے عطافرمائی ہے ،اس کے اندر جو علم ہے ،اللہ تعالیٰ نے اس کے اندررکھاہے۔

حسد کو دور کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ وہ یہ سوچے کہ اللہ کی حکمت کا تقاضاہواکہ فلاں فضیلت فلاں شخص کو عطافرمائیں، لہذا اس فضیلت پر اعتراض نہیں کرنا چاہئے اور نہ ہی ناگواری محسوس کرناچاہئے،اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے وہ نعمت پسندفرمائی اور اس کو عطافرمایاہے ۔ (حاملین قرآن ۴۲تا۴۶ترجمہ التنبیان فی آداب حملۃ القرآن للنوویؒ ، مترجم عبداللطیف قاسمی )

دینی ،اصلاحی ،علمی مضامین اورفقہی تحقیقات کے لئے فیضان قاسمی کی طرف رجوع کریں۔https://faizaneqasmi.com