مساجدکی اہمیت وفضیلت

مساجدکی اہمیت وفضیلت: تمام مخلوق میں سب سے باعزت مخلوق انسان ہے، انسان کی پیدائش کا اصل مقصد اللہ تعالیٰ کی عبادت اوربندگی ہے؛ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے روئے زمین پر سب سے پہلے اپنی عبادت وبندگی کے لیے قابل احترام گھر”کعبہ “کو مکہ مکرمہ میں فرشتوں کے ذریعہ تعمیرکروایااوریہ بات محتاج بیاں نہیں ہے کہ اسلامی عبادات میں نماز کو مرکزی حیثیت حاصل ہے ،اس سلسلہ میں بے شماراحادیث ورادہوئی ہیں۔

نماز دینِ اسلام کا بنیادی رکن ہے ،جس نے نماز کوقائم کیا ،گویااس نے پورے دین کو قائم کیا اورجس نے نماز کوڈھادیا،گویا اس نے پورے دین کوڈھادیا،نماز کے اصل مراکز مساجدہی ہیں۔

اسی لئے آپ علیہ السلام ایمان لانے والوں کواپنے علاقوں،قبیلوں اورمحلوں میں مساجدقائم کرنے کاحکم فرماتے اورآپ علیہ السلام بذات خودسفرِہجرت کے دوران قباءمیں چودہ دن کے مختصرقیام میں”مسجدقباء“تعمیرفرمائی۔

چنانچہ علامہ شبلی نعمانیؒرقم طرازہیں:

”یہاں(قباء) میں آپ کا پہلاکام مسجدکی تعمیرکراناتھا،حضرت ام کلثومؓ کی ایک افتادہ زمین تھی جس میں کھجورسکھائی جاتی تھی ،یہیں دست مبارک سے مسجدکی بنیادڈالی“(سیرة النبی۱۶۵/۱)

اللہ تعالیٰ کے نزدیک روئے زمین پر سب سے محبوب ومتبرک حصہ مساجدہی ہیں اوریہ اللہ تعالیٰ کے مقدس ومحترم گھرہیں،سراپاخیروبرکت کے باعث ،لوگوں کی بقاءواستحکام کا سبب اوررشدوہدایت کے مراکز ہیں۔

سب سے محبوب وپسنددیدہ جگہیں مساجدہیں

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا:
احب البلادالی اللہ مساجدھا،وابغض البلادالی اللہ اسواقھا۔(رواہ مسلم عن ابی ھریرةؓ ۲۳۵/۱،رقم ۲۸۸)
اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے محبوب وپسنددیدہ جگہیں مساجدہیں اورسب سے ناپسنداورمبغوض جگہیں بازارہیں۔

اسی طرح مساجد اسلام کی تبلیغ واشاعت کے مؤثرنقیب وترجمان ہیں،اذان کی صورت میں دن ورات میں پانچ مرتبہ مساجدسے اسلامی عقائد اور عباد ات کا اعلان ہوتاہے ،نیز مساجدعبادت وبندگی کا محور،ذکروتلاوت کا منبع اورمؤمنین کاملین کی دلی سکون کی جگہیں ہیں، مذکورہ روایات سے مساجدکی اہمیت وفضیلت خوب سمجھ میں آتی ہے ۔

فرمان رسول ہے :
جس شخص کو تم مسجدکو آتے جاتے دیکھو، اس کے مؤمن ہونے کی گواہی دو؛اس لئے کہ مسجدکووہی آبادکرتاہے جواللہ اوراس کے رسول علیہ السلام پر ایمان لے آتاہے ،نماز قائم کرتاہے اورزکوة دیتاہے ۔(ترمذی۹۰/۲)

مساجد اسلام کا شعار

جس شخص کو تم مسجدکو آتے جاتے دیکھو، اس کے مؤمن ہونے کی گواہی دو؛اس لئے کہ مسجدکووہی آبادکرتاہے جواللہ اوراس کے رسول علیہ السلام پر ایمان لے آتاہے ،نماز قائم کرتاہے اورزکوة دیتاہے ۔(ترمذی ۲۰۹)

امام الہند شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ رقم طراز ہیں : ”فضل بناءالمسجد، وملازمتہ، وانتظار الصلوة فیہ ترجع الی انہ من شعائر الاسلام، وھو قولہ ﷺ اذا رأیتم مسجدا ،او سمعتم مؤذنا، فلا تقتلوا احدا ،وانہ محل الصلوة، ومعتکف العابدین، ومطرح الرحمة، ویشبہ الکعبة من وجہ۔(حجة اللہ البالغة۱۹/۲)

مسجد بنانے ،اس میں حاضر ہونے اور وہاں بےٹھ کر نماز کا انتظار کرنے کی فضیلت کا سبب یہ ہے کہ مسجد اسلامی شعار ہے۔

چنانچہ آں حضرت ﷺکا ارشاد ہے کہ ”جب کسی آبادی میں مسجد دیکھو ،یاوہاں مؤذن کی اذان سنو ،تو کسی کو قتل نہ کرو “
اور مسجد نماز کی جگہ اور عبادت گزاروں کے اعتکاف کا مقام ہے، وہاں رحمت الہی کا نزول ہوتا ہے اور وہ ایک طرح سے کعبہ کے مشا بہ ہے ۔

تعمیرمساجدکی فضیلت

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
” انما یعمرمساجد اللہ من آمن باللہ، والیوم الآخر،واقام الصلوة ،وٰاتی الزکوة،ولم یخش الااللہ ،
فعسی اولئک ان یکونوامن المھتدین“ (التوبة :۱۸)

مساجد کی تعمیر صرف وہ لوگ کرتے ہیں جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں ،نمازقائم کرتے ہیں اور زکوة اداکرتے ہیں،اللہ کے علاوہ کسی سے ڈرتے نہیں ہیں،امیدکہ وہ ہدایت یافتہ لوگوں میں شامل ہوجائیں ۔
مذکوہ آیت سے معلوم ہوا کہ مساجد کی تعمیرمؤمن کی شان ،اس کی پہچان ہے اورمسجد کی تعمیر ہدایت کاسبب ہے۔

علماءنے فرمایا : مسجد کی تعمیرایک ظاہری ہوتی ہے ،اورایک معنو ی تعمیرہوتی ہے یعنی مسجد کے لئے زمین وقف کرنا ،تعمیر ی اشیاءفراہم کرنا اور اس کی تعمیرکرنا اور مسجد کی ضرریات کی تکمیل کرنا اورمسجد کی مرمت کرنا یہ ظاہری تعمیر ہے ۔(مستفاد از معارف القرآن۳۲۹/۴)

ہرایمان والے کے لیے ضروری ہے کہ وہ مسجدسے گہراربط وتعلق رکھے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا :
”تم جس شخص کو دیکھو وہ مسجدکے آنے جانے کا عادی ہے،تو اس کے مؤمن ہونے کی گواہی دو“۔(ترمذی۲۴۹)

ایک دوسری حدیث میں ہے کہ سات قسم کے لوگوں کوقیامت کے دن جس میں اللہ تعالیٰ کے سایہ کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا،اللہ تعالی ٰاپنی رحمت کے سایہ میں جگہ عنایت فرمائیں گے ۔

ان سات قسم کے لوگوں میں ایک شخص :رجل قلبہ معلق فی المساجد مسجدسے عبادات سے فار غ ہوکر جانے بعدبھی واپس آنے تک اس کادل مسجد ہی میں اٹکارہتاہے ۔( متفق علیہ بخاری۹۱/۱)

اللہ تعالیٰ کے گھروں کو آباد کرنے والے اللہ کے خاص لوگ ہیں

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
جب تم میں سے کوئی آدمی نماز پڑھنے کے لیے آئے اورجب تک اپنی نماز کی جگہ میں بیٹھارہے ،ملائکہ اس کے لیے رحمت کی دعاءکرتے ہوئے کہتے ہیں: اے اللہ اس کی مغفرت فرما ،اے اللہ ا س پر رحم فرما۔ (بخاری عن ابی ھریرةؓ۹۰/۱)

حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
”ان بیو ت اللہ تعالی فی الارض مساجد، وان حقا علی اللہ ان ےکرم من زارہ فیھا “۔(طبرانی:۱۰۳۲۴)

بے شک زمیں میں اللہ تعالیٰ کے گھر مساجد ہیں اور اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے کہ جو شخص ان میں اللہ تعالیٰ کے زیارت کو جائے اس کا اکرام فرمائیں۔

حضرت انس ؓ فرماتے ہیں:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا :
”ان عمار بیوت اللہ ھم اھل اللہ“۔ ( مسندابوداؤدطیالسی :۲۵۱۲وعبد بن حمید)

اللہ تعالیٰ کے گھروں کو آباد کرنے والے یقینا اللہ کے خاص لوگ ہیں۔
نیز جماعت سے نماز اداکرنا سنت مؤکدہ ہے اورباجماعت اداکی جانے والی نماز کا ثواب بغیرجماعت کے اداکی جانے والی نمازسے ستائیس درجہ زیادہ ہوتاہے ۔

مساجدکوایمان والوں کی نمازاورذکروتلاوت سے آبادکرنے کی ہرممکن کوشش کرے ،جو ایمان والے عبادات اوراحکام خداوندی سے دوراورآخرت سے غافل ہیں ا نہیں نماز اوردیگراسلامی اعمال کی دعوت دے اوراپنی مسجد کومسجدنبوی کا نمونہ بنائے، جس میں رات ودن دین کے سیکھنے ،سکھانے کا عمل چلتارہتاتھا اورآج بھی ہروقت عبادت کرنے والوں سے آبادرہتی ہے۔( مساجدکی اہمیت وفضیلت )