مسجداورنمازیوں کی ضروریات:اللہ تعالیٰ کا ارشادہے :اس شخص سے بڑا ظالم کون ہوگا جو اللہ کی مسجدوں میں اس کا نام لینے سے روکے اور اس کو ویران کرنے کی کوشش کرے ۔

ومن اظلم ممن منع مساجداللہ ان یذکرفیھا اسمہ، وسعی فی خرابھا۔ (البقرة:۱۱۴)

حضر ت مولانا مفتی محمدشفیع عثمانیؒ تحریر فرماتے ہیں :مسجد میں ذکرونماز سے روکنے کی جتنی صورتیں ہیں ،و ہ سب ناجائز وحرام ہیں ،ان میں سے ایک صورت ،تو یہ ہے کہ کسی کو مسجد میں جانے یا وہاں نماز وتلاوت سے صراحة ً روکا جائے ،دوسری صورت یہ ہے کہ مسجد میں شوروشغب کرکے یا اس کے قرب وجوا رمیں باجے گاجے بجاکر لوگوں کی نماز وذکر وغیرہ میں خلل ڈالے ،یہ بھی ذکر اللہ سے روکنے میں داخل ہے ۔

اسی طرح اوقاتِ نماز میں جب کہ لوگ اپنی نوافل یا تسبیح وتلاوت وغیرہ میں مشغول ہوں،مسجد میں کوئی بلند آواز سے تلاوت یا ذکر بالجہر کرنے لگے ،تو یہ بھی نمازیوں کی نماز وتسبیح میں خلل ڈالنے اور ایک حیثیت سے ذکراللہ سے روکنے کی صورت ہوگی ،اسی لئے حضرات ِفقہاءنے اس کو بھی ناجائز قرار دیا ہے ،ہاں جب مسجد عام نمازیوں سے خالی ہو ،اس وقت ذکریا تلاوت جہر اً مضائقہ نہیں،اسی سے معلوم ہوگیا کہ جس وقت لوگ نماز وتسبیح وغیرہ میں مشغول ہوں،مسجد میں اپنے لئے سوال کرنا یا کسی دینی کام کے لئے چندہ کرنا بھی ایسے وقت ممنوع ہے ۔(معارف القرآن ۲۹۰/۱)

نمازیوں کے لئے کن چیزوں کاانتظام ہوناچاہئے

الف:مسجد میں شوروشغب کرنا،نیزاوقات ِنماز میں جب کہ لوگ اپنی نوافل یا تسبیح وتلاوت وغیرہ میں مشغول ہوں،مسجد میں کوئی بلند آواز سے تلاوت یا ذکر بالجہر کرنا،یہ بھی نمازیوں کی نماز وتسبیح میں خلل ڈالنے اور ایک حیثیت سے ذکراللہ سے روکنے کی صورت ہوگی،لہذا س سے اجتناب کرے ۔

ب:نماز کے اوقات میں رات کے وقت روشنی اورگرمی کے ایام میں برقی پنکھے چلانے کا اہتمام ہونا چاہئے ،بعض مساجد میں جماعت کھڑی ہونے کے وقت چلایاجاتاہے ،جماعت کی نماز سے فارغ ہونے کے بعد فورًا بند کردیا جاتاہے، یہ مناسب نہیں ہے ،لوگ مسجد کا تعاون مسجد کی آبادی اورمصلیوں کی سہولت ہی کے لئے کرتے ہیں اور مسجد کی آبادی بھی مصلیوں کی آمد ہی سے ہوتی ہے ،اس لئے مصلیوں کی سہولت اور راحت کا پوراخیال رکھنا چاہئے ،لہذا وقت کی قید کے بغیر ضرورت کے بقدرروشنی اوربرقی پنکھے چلانے کا انتظام ہونا چاہئے ۔

ج:مساجدمیں مصاحف،پارے ،ان کے لئے رحل اورتپائیاں،تسبیحات، اذکارومسنون دعاﺅں کی کتابیں اورمعتبرعلمائے کرام کے مختصر کتب ِفضائل اور آسان فقہی رسائل مہیا ہونا چاہئے ؛تاکہ لوگ اس سے استفادہ کرسکیں،نیز نماز کے علاوہ دیگر عبادات کے اداکئے جانے کی بھی سہولت ہو ۔مسجداورنمازیوں کی ضروریات

اوقات الصلوة کا کیلنڈراوراوقاتِ اذان واقامت کا بورڈ

د:وقت کی پہچان کے لئے گھڑی ،اوقات الصلوة کا کیلنڈر،اوقاتِ اذان واقامت کا بورڈ مناسب جگہ آویزاں کیاجانا چاہئے؛ تاکہ نوواردومسافر کواذان واقامت کے وقت کا صحیح پتہ چل سکے ،کسی سے پوچھنے کی ضرورت پیش نہ آئے ۔

ہ:رات کے وقت مچھرپتی کاانتظام کیا جاناچاہئے ؛تاکہ لوگوں کو مچھروں کی تکلیف سے راحت میسرہواوریکسوئی کے ساتھ عبادات میں مشغول رہ سکیں،اس کے لئے AllOut بہترہے، اس میں بدبو نہیں ہوتی ہے ۔

و:پینے کے لئے میٹھا پانی،گرمی کے موسم میں ٹھنڈے پانی کی فراہمی ،سردی کے ایام میں وضو کے لئے گرم پانی کا نظم ہونا چاہئے ۔

ز:اگرمسجد کی جگہ وسیع ہو،تو سواریوں کی پارکنگ کا انتظام بھی ہونا چاہئے ؛تاکہ سواریوں کے ساتھ آنے والے مصلیوں کے لئے سہولت ہو اور سواری پارکنگ کھڑاکرنے کے بعد اطمینان سے اپنی عبادت میں مصروف رہ سکیں۔

ح:مسجد میں جاتے ہی موبائیل بندکردیناچاہئے ،موبائیل آن ہونے کی صورت میں کال یاپیغامات کی گھنٹیاں بجنے کی وجہ سے اپنی اوردیگر نمازیوں کی عبادات خراب ہوتی اوربہت زیادہ انتشاروخلل پیداہوتاہے ۔(مستفاد ازکتاب الفتاویٰ ۲۵۴/۴)

ط:شہروں کی مساجداوراوقاف کی زمینیں بھی وسیع ہوں اور سواریوں کے لیے پارکنگ کی سخت ضرورت ہو،توپارکنگ کا نظم کرنا چاہئے ۔

ی:اگرمسجدبڑی ہو،توسترہ کا نظم بھی ہونا چاہئے ؛تاکہ نماز سے جلدفارغ ہونے والے احباب باہرنکلنا چاہیں،تو مصلی کے سامنے سے گزرے بغیرنکل جائیں اورگناہ کا ارتکاب لازم نہ آئے۔

نوٹ:منتظمین ِمساجد کو ان تمام چیزوں کا انتظام کرنا چاہئے؛ تاکہ خدمت کرنے والوں کے لئے کسی چیز کی کمی کی شکایت نہ ہو۔

تاخیرسے آنے والوں کی سہولت کالحاظ

الف:مسجدکاسامان اگر محفوظ ہو، تو خادمینِ مسجد کو چاہئے کہ نمازکے اوقات کے علاوہ بھی مسجد کو مصلیوں کے لئے کھلی رکھیں تاکہ مسجد میں حاضرہوکرمختلف عبادتیں کرسکیں،نیز مسافر،راستہ چلنے والے ،نوافل اداکرنے والے ،یا جن لوگوں کی جماعت چھوٹ گئی ہو، وہ لوگ مسجدپہنچ کر نماز اداکرناچاہیں،تو آسانی سے نماز اداکرسکیں،بالخصوص راستہ کے کنارہ واقع مساجد میں اس کا اہتمام ہوناچاہئے ۔

ب:اگر مسجد کا سامان محفوظ نہ ہو،توباجماعت نماز سے فارغ ہونے کے بعد کچھ وقت مسجد کوکھلی رکھنے کاانتظام ہوناچاہئے؛ تاکہ دیر سے آنے والے او رجن لوگوں کی جماعت چھوٹ گئی ہو، وہ حضرات اپنی نماز اداکرسکیں،کچھ دیر بعد اندورنی مسجدکے دروازہ پر تالا لگادیا جائے؛ البتہ رات میں اپنے محلہ وبستی کے ماحول کے اعتبار سے جب تک لوگوں کے مسجد آنے کا امکان رہتاہو؛اس وقت تک کچھ پانی کے نل اور ایک دو بیت الخلاء،بقدرضرورت لائٹ جلاکر صحنِ مسجدکوکھلارکھنا چاہئے ۔مسجداورنمازیوں کی ضروریات

ج:سامانِ مسجدغیر محفوظ ہونے کی صورت میں مسجد کو تالا لگاسکتے ہیں ؛لیکن اگرکوئی نماز ،تلاوت ،ذکراور دعاءوغیرہ میں مشغول ہو،تو اس پر سختی کرنااور بداخلاقی سے پیش آنا بالکل مناسب نہیں ہے ،جیساکہ بعض نادان خادمینِ مسجد کرتے ہیں ؛بلکہ اس کی نماز مکمل ہونے کا انتظار کرے؛ تاکہ قرآن کریم کی مذکورہ آیت کی وعید میں شامل نہ ہو ۔

حرمین شریفین رات ودن کیوں کھلے رکھے جاتے ہیں

حضرت جبیربن مطعم ؓ روایت کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :رات ودن کسی بھی وقت میں کسی بھی شخص کو جو بیت اللہ کا طواف کرنا چاہے ،یا اس میں نماز پڑھنا چاہے ،اس کو منع مت کرو(یہی حکم دیگرمساجد کا بھی ہے)

حضرت فضل بن عباس ؓ فرماتے ہیں:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد بنوعبد مناف کو (جوخانہ ءکعبہ کے متولی تھے)مخاطب کرکے فرمایا۔(ابوداؤد :۱۸۹۴،۲۶۰/۱)اس لئے کہ مساجد اللہ تعالیٰ کی عبادات ہی کے لئے تعمیرکی جاتی ہیں،لہذا عبادت کرنے والوں کوکسی بھی موقع پرمنع نہیں کرنا چاہئے ،اسی وجہ سے حرمین شریفین رات ودن کھلے رکھے جاتے ہیں ۔

دنیوی تقاضوں کو پوراکرنے کے لئےمسجد آنا بہت ہی بری بات

نوٹ: مسجد میں مذکورہ تمام بشری ضروریات کی سہولت کا انتظام محض عبادت کی نسبت سے کیا جاتاہے ؛تاکہ عبادت کرنے والے پوری یکسوئی اور طمانیت سے عبادات کرسکیں،لہذا مسجد کو محض اپنی دنیاوی حاجتوں اور تقاضوں کو پوراکرنے کے لئے آنا بہت ہی بری بات ہے ،مسجد کو ان ضروریات کو پوری کرنے کے لئے نہیں بنایاجاتاہے ؛بلکہ اللہ کی عبادات کے لئے بنایا جاتاہے ۔

ایک حدیث میں آیاہے کہ فرشتے اس شخص پر تعجب کرتے ہیں جو مسجدمیں آئے(اپنی دنیوی ضرورت کی وجہ سے) اور نماز پڑھے بغیرگزرجائے ۔(صحیح ابن خزیمہ،کتاب الصلوة ۱۳۲۶، مشکل الاثار،مصنف عبدالرزاق)مسجداورنمازیوں کی ضروریات

درس قرآن،درس حدیث ،فقہ وفتاوی ، اصلاحی ،علمی اورتحقیقی مضامین ومقالات اور دیگردینی کتب کے لئے فیضان قاسمی ویب سائٹhttps://faizaneqasmi.com کا مطالعہ کیجئے،دوست واحباب کو مطلع کیجئے اورلنک کو شیئر بھی کیجئے ۔جزاکم اللہ خیرا

We will be happy to hear your thoughts

Leave a reply