مسجدمیں جماعت ثانیہ

مسجد میں جماعت ثانیہ جمہورعلماء کے نزدیک مکروہ تحریمی ہے ،اصحاب ِظواہراورغیرمقلدین مطلقاً جواز کے قائل ہیں ،اس بناپر غیرمقلدین حضرات ہرمسجدمیں جماعت فوت ہونے کی صورت میں جماعت ثانیہ پر اصرارکرتے ہیں، مساجد کی انتظامیہ سے الجھتے ہیں اورامت میں ایک قسم کا انتشارپیداکرتے ہیں ، دوسری طرف حنفی ،شافعی حضرات کاعمل یہ بتاتاہے کہ جماعت ثانیہ مطلقاناجائز ہے ،اس وجہ سے زیربحث مسئلہ افراط وتفریط کا شکارہوگیاہے ۔

غیرمقلدین حضرات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت وعادت ، حضرات صحابہ اورتابعین کے طریقہ کے خلاف ایک نئے طریقہ کو اختیارکرتے ہوئے ہرجگہ جماعت ثانیہ کرتے رہتے ہیں،دوسری طرف جن مقامات میں جن اشخاص کے لئے اورجن شرائط کے ساتھ جماعت ثانیہ کی رخصت و گنجائش ہے،عمومی طورپران کو نظرانداز کردیاجاتاہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ زیربحث مسئلہ کے تمام دلائل ،اس کی تمام صورتوں ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اورحضرات صحابہ کی سنت کو مدنظررکھ کر افراط وتفریط ،بے جااصرار اورغیرمناسب رویہ وسختی سے احتراز کر ہوئے راہ اعتدال اختیارکی جائے ،اللہ تعالیٰ ہمیں اتباع سنت کی توفیق نصیب فرمائے ۔آمین

اختلاف مذاہب

امام احمد ؒ اوراصحاب ظواہر (غیرمقلدین )کے نزدیک جب کسی مسجد میں ایک مرتبہ باجماعت نماز ہو گئی ہو ،پھر دوسری جماعت بنانامطلقا جائزہے ،ائمہ ثلاثہ اورجمہورعلماءکے نزدیک جس میں مسجد امام ومؤذن مقررہوں،اس مسجد میں ایک مرتبہ اہل محلہ نماز پڑھ چکے ہوں ،وہاں تکرارجماعت مکروہ تحریمی ہے؛البتہ امام ابویوسف ؒ کے نزدیک ایسی صورت میں ،ہیئت بدل کر جماعت ثانیہ کی جائے ،توکراہت تنزیہی کے ساتھ جائز ہے۔(اعلاءالسنن ۲۶۱/۴،درس ترمذی۴۸۳/۱)

لودخل جماعة المسجدبعدماصلی اھلہ فیہ ،فانھم یصلون وحدانا وھوظاھرالروایة ۔۔۔عن ابی حنیفة لوکانت الجماعة اکثرمن ثلاثة یکرہ التکرار،والافلا،وعن ابی یوسف :اذاتکن علی الھیئة الاولی لاتکرہ ،والاتکرہ وھوالصحیح ،وبالعدول عن المحراب تختلف الھیئة ۔(ردالمحتار،باب الاذان۶۴/۲ومثلہ فی باب الامامة :۲۸۸/۲)

امام احمدبن حنبل اورغیرمقلدین کے دلائل

عن ابی سعید قال جاءرجل وقدصلی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فقال:ایکم یتجر علی ھذا؟ فقام رجل فصلی معہ ۔ (ترمذی ابواب الصلوة ،باب ماجاءفی الجماعة فی مسجدقدصلی فیہ:۲۲۰،۵۳/۱،،سنن بیہقی :۵۵۰)

حضرت ابوسعیدخدریؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ نماز سے فارغ ہوکر اپنے اصحاب کے ساتھ مسجد نبوی میں تشریف فرماتھے کہ ایک صاحب داخل ہوئے ،جنھوں نے نماز نہیں پڑھی تھی ،جب انھوں نے نماز پڑھنے کا ارادہ کیا ،تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حاضرین سے فرمایا :تم میں سے کون ان کے ساتھ تجارت کرے گا (تجارت میں بائع اورمشتری دونوں کا نفع ہوتاہے ،یہاں آنے کا والے کا نفع یہ ہے کہ اس کو جماعت کا ثواب مل جائے گا اورجو اس کے ساتھ جماعت میں شامل ہوگا ،اس کا نفع یہ کہ اس کو نفل کاثواب ملے گا )حضرت ابوبکر ؓکھڑے ہوئے (سنن کبری للبیہقی :۵۵۰)اوردونوں نے باجماعت نماز پڑھی ۔

امام احمدؒ نے اس روایت سے مسجدمیں جماعت ثانیہ کے جواز پر استدلال کیاہے ۔

جاءانس بن مالک الی مسجد قدصلی فیہ ،فاذن واقام وصلی جماعة ۔ (رواہ البخاری فی باب فضل الجماعة تعلیقا۸۹/۱ )

حضرت انس ؓاپنے رفقاءکے ساتھ ایک ایسی مسجد میں پہنچے جہاں جماعت ہوچکی تھی ،انھوں نے اذان واقامت کہی ،پھرباجماعت نماز پڑھی ۔

عقلی دلیل یہ ہے کہ مساجد باجماعت نماز پڑھنے ہی کے لئے بنائی جاتی ہیں ،لہذا ان میں باربار جماعت کرنے کی گنجائش ہے۔(تحفة الالمعی۵۴۵/۱)

جمہورکے دلائل

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

والذی نفسی بیدہ لقدھممت ان آمر بحطب ،فیحطب ،ثم آمر بالصلوہ ،فیؤذن لھا ،ثم آمر رجلا ،فیؤم الناس ،ثم اخالف الی رجال ،فاحرق علیھم بیوتھم ۔ (رواہ البخاری عن ابی ھریرة ،باب وجوب صلاة الجماعة :۶۴۴،۸۹/۱)

قسم اس ذات کی جس کے قبضہ قدر ت میں میری جان ہے ،میں نے ارادہ کیا ہے تھا کہ میں خدام کو سوختہ (ایندھن )جمع کرنے کا حکم دوں، پھرمیں نماز کا حکم دوں ،پھرکسی شخص کو امامت کے لئے مقررکروں،پھر میں ان لوگوں کی طرف جاؤوں جونماز میں حاضرنہیں ہوئے اوران کوان کے گھروں میں جلادوں (پھرعورتوں اوربچوں کا خیال آیا،تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ارادہ کو عملی جامہ نہیں پہنایا۔(تحفة الالمعی۵۴۰/۱)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جماعت میں شرکت نہ کرنے والوں کو جلادینے کا ارادہ فرمایا ،اگرمکرر جماعت کی گنجائش ہوتی ،شرکت نہ کرنے والوں کے پاس معقول عذرہوتا کہ ہم دوسری، تیسری جماعت میں شریک ہوجائیں گے ،پس ان کو سزا دینے کا کوئی جواز نہیں ہے ، جلانے کی معقول وجہ اسی صورت میں درست ہے جبکہ جماعت ثانیہ کا جواز نہ ہو ۔

دوسری دلیل

حضرت ابوبکرة ؓکی روایت ہے

ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اقبل من نواحی المدینة یریدالصلوة ،فوجدالناس قدصلوا ،فمال الی منزلہ ،فجمع اھلہ ،فصلی بھم ۔قال الھیثمی: رواہ الطبرانی رجالہ ثقات۔باب فی من جاءالی المسجد فوجدالناس قدصلوا۔:۲۱۷۷)

ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں کسی جگہ سے نماز کے ارادہ سے تشریف لے آئے ،(آپ کو واپس آنے میں دیرہوگئی ،جب آپ واپس ہوئے ،تو)جماعت ہوچکی تھی ،گھرکی عورتوں کو جمع کیا اورباجماعت نماز پڑھی ۔

اگرجماعت ثانیہ مستحب یا جائز ہوتی ،تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجدنبوی کی فضیلت نہ چھوڑتے ،آپ کا گھر میں نماز پڑھنا جماعت ثانیہ کی کراہت کی واضح دلیل ہے ۔(تحفة الالمعی ۵۴۵/۱)

تیسری دلیل

مسجد نبوی میں جماعت ثانیہ کا کوئی واقعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری دس سالہ زندگی میں پیش نہیں آیا ؛حالانکہ اس عرصہ میں یقینا سیکڑوں مسلمان جماعت سے پیچھے رہے ہوں گے ،گویاجماعت ثانیہ کے نہ ہونے پر موظبت تامہ ہے اور مواظبت تامہ سے جس طرح جانب فعل میں وجوب ثابت ہوتاہے ،جانب ترک میں کراہت تحریمی ثابت ہوتی ہے ۔(تحفة الالمعی ۵۴۵/۱)

مذہب جمہورکی وجہ ترجیح

تکرارجماعت کی اجازت سے مسجد کی جماعت کا مطلوبہ وقار باقی نہیں رہتا،تجربہ ہے کہ جہاں تکرارجماعت کا رواج ہوتاہے ،وہاں لوگ پہلی جماعت میں شریک ہونے میں بہت سست ہوجاتے ہیں ؛کیونکہ مسجدمیں ہروقت جماعت ہوتی رہتی ہے ۔(درس ترمذی ۴۸۵/۱)

مولانا محمدیوسف صاحب ؒ بنوری ؒ تحریرفرماتے ہیں

مسجدطریق اورشاہ راہوں کی مساجد کے علاوہ دیگرمقامات میں جوحضرات تکرارجماعت کے قائل ہیں ،ان کا مذہب شریعت کے مصالح ،نظام ملت کے موافق ہے ،باجماعت نماز ملت کے درمیان الفت ومحبت کا ذریعہ اورمسلم معاشرہ کی اجتماعیت کی روح ہے۔

امام شافعیؒ فرماتے ہیں

ہمیں یادہے کہ چند لوگوں(صحابہ) کی جماعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چھوٹ گئی ،انھوں نے ا نفرادی طورپر نماز اداکی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا علم تھا نیزیہ حضرات چاہتے ،تو جماعت ثانیہ بھی بناسکتے تھے ۔( اعلاءالسنن ،باب الامامة نقلاعن کتابہ الام ۲۶۵/۴)

میراخیا ل ہے کہ جن لوگوں نے تکرارجماعت کو مکروہ قراردیا ہے ،ا ن کے پیش نظر یہ ہے کہ تکرارجماعت سے ملت کا شیرازہ بکھرے گا اورامت میں اختلاف پیداہوگا ،بعض لوگ ایک امام کے پیچھے کسی وجہ سے نماز پڑھنا نہیں چاہتے ،اس لئے وہ لوگ مسجدکی جماعت ہوجانے کے آئیں گے اوردوسری جماعت بنائیں گے ،اس طرح اختلافات جنم لیں گے ۔(انتھی کلام الشافعی)

باجماعت نماز کی مشروعیت کی خاص حکمتیں اورمصلحتیں

علامہ قسطلانی فرماتے ہیں:باجماعت نماز کی مشروعیت کی خاص حکمتیں اورمصلحتیں ہیں جن میں سے ایک مصلحت یہ ہے کہ محلہ اورمسجد سے متعلق افراد کے مابین الفت ومحبت ،یگانت اوریکجہتی پیداہو ،یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محلہ محلہ مساجد تعمیرکرنے کا حکم دیا ۔

حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ؒ تحریرفرماتے ہیں:اللہ تعالیٰ کی منشایہ ہے کہ یہ کلمہ (دین محمدی) سب سے بلندوبالاہو،روئے زمین پر اس سے کوئی دین فائق نہ ہو، یہ اسی وقت متصورہے جب کہ خواص ،عوام، شہری ،دیہاتی اور بچے اوربڑے سب باجماعت نماز میں شریک ہوں جو شعائراسلام میں سے ہے اوریکٹھے نماز اداکریں (اورتکرارجماعت کی اجازت سے یہ مصلحت فوت ہوجاتی ہے)

خلاصہ کلام یہ ہے کہ شریعت کے اسرارورموز سے واقف علماءوفقہاءنے باجماعت نماز کی جو حکمتیں بیان کیں ہے ،وہ مذہب جمہورکی تائید کرتی ہیں ۔(معارف السنن ۲۸۹/۲)

غیرمقلدین کی پہلی دلیل کا جواب

حضرت ابوسعید خدری ؒ کی حدیث میں جماعت کل دوآدمیوں پر مشتمل تھی اورتداعی کے بغیرتھی ،تداعی کے بغیر جمہورکے نزدیک بھی جائز ہے بشرط یہ کہ احیانا کی جائے ،فقہاءکے نزدیک تداعی یہ ہے کہ امام کے علاوہ چارآدمی ہوں۔(درس ترمذی ۴۸۵/۱)

مذکورہ روایت کا جماعت ثانیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے ؛کیونکہ عرف میں جماعت ثانیہ اس جماعت کو کہتے ہیں جس میں امام اورمقتدی سب فرض پڑھنے والے ہوں ،اس واقعہ میں مقتدی متنفل ہے ۔

جب اباحت اورکراہت میں تعارض ہوتاہے ،تو کراہت کو ترجیح ہوتی ہے ، لہذا ممانعت والی روایات پر عمل کیا جائے گا ، اگرحدیث ابوسعیدخدری ؒ عام ہوتی ،تو حضرات صحابہ کا عمل اس کے مطابق ہوتا؛حالانکہ کسی صحابی سے یہ ثابت نہیں کہ وہ جماعت ثانیہ کااہتمام کرتے ہوں۔(درس ترمذی۴۸۵/۱)

دوسری دلیل کاجواب

حضرت انس ؓ نے جس مسجد میں جماعت ثانیہ کی ہے ،ممکن ہے کہ وہ مسجدطریق ہو ،مسجدطریق میں تمام علماءکے نزدیک جماعت ثانیہ جائز ہے ،اس تخصیص کی پہلی دلیل یہ ہے کہ حضرت انس ؓ ہی سے مروی ہے کہ جب صحابہ ؓ کی جماعت فوت ہوجاتی ،تووہ تنہا نماز پڑھتے تھے۔

ان اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کانوااذافاتھم الجماعة ،صلوا فی المسجدفرادی ۔(معارف السنن ۲۸۸/۲بحولہ بدائع الصنائع،ردالمحتارباب الاذان۶۶/۲)

عن الحسن قال کان اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اذادخلوا المسجد وقدصلی فیہ صلوافرادی ۔(المصنف لابن شیبة کتاب الصلوة باب من قال یصلون فرادی :۷۱۱۱)

یہ قول جماعت ثانیہ کی نفی پرصریح دلیل ہے ۔

دوسری دلیل یہ ہے کہ آپ ؓنے اذان واقامت کے ساتھ باجماعت نماز پڑھی ہے جبکہ محلہ کی مسجد میں باربار اذان واقامت کا کوئی قائل نہیں ،پس وہ لامحالہ وہ مسجدطریق ہے ۔(تحفة الالمعی۵۴۶/۱)

ایک ضروری وضاحت

مندرجہ فقہائے کرام نے صراحت کی ہے کہ جماعت ثانیہ کی کراہیت صرف شرعی مسجدکے حدود میں ہے ،فقیہ الامت حضرت مولانامفتی محمود الحسن گنگوہی ؒ اپنی مسجدمیں جماعت فوت ہونے والوں کو مسجد کے صحن اور متصل کمروں میں بھی جماعت ثانیہ سے منع فرماتے تھے ،آپ بطوردلیل فرماتے کہ شرعی مسجد میں جماعت ثانیہ کی ممانعت کی علت تقلیل جماعت ہے ،یہ علت مسجد کے صحن اوراس سے متصل کمروں میں بھی پائی جاتی ہے ،اگر اس کی اجازت دی جائے، تو مسجد کی جماعت متاثرہوگی ۔ (مستفاد ازفتاوی قاسمیہ ۲۸۸/۶)

جماعت ثانیہ کن صورتوں میں جائز

الف:مسجدطریق یعنی ایسی مسجد جس میں کوئی امام یامؤذن مقررنہ ہو جیسے غیرآباد اورشاہ راہوں کی مساجد ،وہاں اذان واقامت کے ساتھ بھی جماعت مکررکی جاسکتی ہے ۔

علامہ شامی تحریرفرماتے ہیں

مالیس لہ امام ومؤذن راتب ،فلایکرہ التکرار فیہ باذان واقامة،بل ھوالافضل ۔(ردالمحتار،باب الاذان۶۶/۲)

جس مسجد میں امام مؤذن مقررنہ ہوں ،اس مسجد میں اذان واقامت کے ساتھ جماعت ثانیہ مکروہ نہیں ہے؛بلکہ افضل ہے ۔

ب:اگردوسری جماعت میں تین سے زیادہ افراد نہ ہوں، تب بھی مکروہ نہیں ہے ۔

لوکانت الجماعة الثانیة اکثر من ثلاثة ،یکرہ التکرار والا،فلا۔(ردالمحتار،باب الاذان۶۶/۲)

اگرجماعت ثانیہ میں تین سے زائد افراد شریک ہوں ،توجماعت ثانیہ مکروہ ہوگی، ورنہ نہیں ۔

ج:امام ابویوسف ؒ کے نزدیک اذان واقامت کے بغیرجماعت ثانیہ پہلی جماعت کی بنسبت ہیئت بدل کی جائے،تو کراہت تنزیہی کے ساتھ جائزہے ،ہیئت مختلف ہونے کے لئے امام کی جگہ بدل جائے کافی ہے۔(ردالمحتار۶۴/۲،مستفادازاحسن الفتاوی۳۲۲/۳،فتاوی قاسمیہ ۲۱۸/۶)

عن ابی یوسف :اذاتکن علی الھیئة الاولی لاتکرہ ،والاتکرہ وھوالصحیح ،وبالعدول عن المحراب تختلف الھیئة ۔(ردالمحتار،باب الاذان۶۴/۲)

د:اگرمحلہ کے بعض افراد نے چپکے سے اذان دے کر نماز اداکی ہے جس کی اطلاع محلہ کے دیگر افراد کو نہیں ہوسکی ہے، ان افراد کے لئے بھی جماعت ثانیہ جائز ہے ۔

ہ:اگرکسی مسجدمیں غیراہل محلہ نے آکر جماعت کرلی ہو ،تواہل محلہ کو دوبارہ جماعت کرنے کا حق ہے ۔

یکرہ تکرارالجماعة فی مسجد محلة باذان واقامة ،الااذا صلی بھما فیہ اولاغیراھلہ اواھل لکن بمخافتة الاذان ۔۔۔والمراد بمسجدالمحلة :مالہ امام وجماعة معلومون ۔(ردالمحتار،باب الامامة۲۸۸/۲،درس ترمذی ۴۸۳/۱)

مسافرکے لئے بھی جماعت ثانیہ جائز

نیزمسافرکے لئے بھی جماعت ثانیہ جائز ہے ،اس لئے کہ دوردراز اور غیرمقامی لوگوں کی جماعت کی وجہ سے مسجد کی اصل جماعت متاثر نہیں ہوتی ہے اورجماعت ثانیہ کی ممانعت کی علت اصل جماعت کا متاثرہوناہے ، اس لئے مقامی لوگوں کے لئے بہرحال مکروہ ہے ، غیرمقامی اورمسافر کے لئے جائز ہے ۔(مستفاداز: کفایة المفتی ۹۲/۳،فتاوی قاسمہ ۲۱۲/۶)

علامہ کاسانی ؒ تحریرفرماتے ہیں

تقلیل الجماعة مکروہ ،بخلاف المساجد التی علی قوارع الطرق، لانھا لیست لھااھل معروفون ،فاداءالجماعة فیھا مرة بعداخری لایؤدی الی تقلیل الجماعات ،وبخلاف مااذاصلی فیہ غیراھلہ لایؤدی الی تقلیل الجماعة ،لان اھل المسجد ینتظرون اذان المؤذن المعروف فیحضرون ۔(بدائع الصنائع ،کتاب الصلوة ،فصل فی بیان محل وجوب الاذان ۳۸۰/۱)

9986694990

جس شخص کی جماعت فوت ہوجائے ،وہ کیاکرے

جس شخص کی جماعت فوت ہوجائے ،وہ باجماعت نماز کے لئے دوسری مسجد جائے جہاں ابھی جماعت نہیں ہوئی ہے ،یااہل خانہ کے ساتھ جماعت بنائے یاانفرادی طور نماز پڑھے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک واقعہ میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ باجماعت نماز پڑھنا ثابت ہے (مجمع الزوائد : ۲۱۷۷)حضرت اسودؒ جماعت فوت ہوجاتی، تو ایسی مسجد کا رخ کرتے جہاں ابھی جماعت نہیں ہوئی ہے، اس مسجد میں جاکر جماعت میں شرکت فرماتے۔(رواہ لبخاری تعلیقافی باب فضل الجماعة ۸۹/۱)

تیسری صورت یہ ہے کہ انفرادی طورسے نماز پڑھ لے ، تینوں صورتیں جائز ہیں ؛البتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرات صحابہ کے عمل سے آخری صورت کا افضل ہونا معلوم ہوتاہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے صرف ایک واقعہ میں ثابت ہے ، حضرات صحابہ جماعت فوت ہوجانے کی صورت میں دوسری جماعت یااہل خانہ کے ساتھ جماعت نہیں بناتے تھے؛ بلکہ انفرادی طور پر نماز اداکرنے کا معمول تھا،گذشتہ سطورمیں امام شافعیؒ کا مدلل کلام گذرچکاہے ۔

ان اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کانوااذافاتھم الجماعة ،صلوا فی المسجدفرادی ۔(معارف السنن ۲۸۸/۲)

عن الحسن قال کان اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اذادخلوا المسجد وقدصلی فیہ صلوافرادی ۔(المصنف لابن شیبة کتاب الصلوة باب من قال یصلون فرادی :۷۱۱۱)

قال الحصکفی: لوفاتہ ندب طلبھا ،قال ابن عابدین: فلایجب علیہ الطلب فی المسجد بلاخلاف بین اصحابنا ؛بل ان اتی مسجدا للجماعة آخر فحسن ،وان صلی فی مسجد حیہ منفردا ،فحسن،وذکرالقدوری یجمع باھلہ ویصلی بھم یعنی وینال ثواب الجماعة کذافی الفتح ۔(ردالمحتار باب الامامة :٢٩١/۲)

گھرمیں باجماعت نماز

اگرکوئی شخص بیماری وغیرہ عذرکی وجہ سے گھرمیں اہل خانہ کے ساتھ جماعت کرے ،یا اتفاقا اس طرح جماعت کرلی جائے اورمحلہ کی مسجدمیں بھی باجماعت نمازہوجائے ،تو گھر میں باجماعت نمازکی گنجائش ہے ،اس کی عادت بنالینا مکروہ ہے ،علامہ حلوانی نے اسے بدعت قراردیاہے ۔
یکون بدعة ومکروہا بلاعذر۔(فتح القدیر۳۰۰/۱)

جماعت ثانیہ سے متعلق ایک ضروری گزارش

مندرجہ بالاسطور کا خلاصہ کلام یہ ہے کہ جمہورعلماءکا مذہب نہایت قوی، احوط ،اقرب الی السنة اور عمل صحابہ وتابعین کے موافق ہے، شریعت اسلامیہ میں محلہ کی باجماعت نماز کی خاص اہمیت ہے ،اس سے بے شماردینی مصلحتیں وابستہ ہیں ، جن حضرات نے جماعت ثانیہ کی اجازت دی ہے،انہوں نے مخصوص شرائط وقیود کے ساتھ اجازت دی ہے ۔

اس صورت حال میںذمہ داران مساجد اور علمائے کرام کو چاہئے کہ مقامی لوگوں کو محلہ کی مسجد اورمسجد سے متصل جگہوں میں جماعت ثانیہ کی بالکل اجازت نہ دیں،اس لئے کہ اس سے مقامی جماعت مثاترہوگی جو شریعت کی مصلحت کے سراسرخلاف ہے ، اگرغیراہل محلہ یا مسافرمسجد میں یا مسجدسے متصل صحن اور دیگرمقامات میں جماعت ثانیہ کرتے ہیں، ان کو بھی انفرادی طورپرنماز پڑھنے کی ترغیب دی جائے ،اگروہ قبول نہ کریں ،تو جماعت ثانیہ کے سلسلہ میں ان پرسختی اوران کے ساتھ نامناسب رویہ اختیار نہیں کرنا چاہئے ۔

نماز جمعہ میں جماعت ثانیہ

جس طرح عام فرائض میں اہل محلہ کے لئے مسجد میں جماعت ثانیہ مکروہ تحریمی ہے یاامام ابویوسف ؒ کے قول مطابق مکروہ تنزیہی ہے ،یہی حکم نماز جمعہ کا بھی ہوگا،خواہ ایک ہی وقت میں متعددجماعتیں ہوںیا مختلف اوقات میں؛البتہ شدیدعذرکی بناپرمندرجہ ذیل شرائط کے ساتھ ایک ہی مسجد میں اذان واقامت کے اعادہ بغیر پہلی جماعت سے ہیئت بدل کرنماز جمعہ کی جماعت ثانیہ کی گنجائش ہے ۔

الف:مصلی حضرات کی تعدادبہت زیادہ ہے کہ ایک ہی وقت ایک ہی مسجدمیں تمام لوگ باجماعت نماز جمعہ اداکرنہیں سکتے ۔

ب:قرب وجوارمیں کوئی مسجد یا اقامت جمعہ کی شرائط کے مطابق کوئی متبادل جگہ میسرنہ ہوجہاں پر وہ حضرات نماز جمعہ اداکرسکیں جن کی جماعت فوت ہوگئی،اس صورت حال میں جماعت ثانیہ کی اجازت نہ دی جائے، تو بے شمارلوگ نماز جمعہ کے فریضہ کی ادائیگی سے محروم ہوجائیں گے ۔

نماز جمعہ فرض ہے جس کے لئے مخصوص شرائط ہیں ، مثلاجماعت ، محل اقامت جمعہ میں اذن عام،خطبہ وغیرہ ایسی شرائط ہیں کہ ہرجگہ پائی نہیں جاتیں ،مندرجہ بالامسئلہ میں نمازیوں کی کثرت،جگہ کی قلت اورمتبادل جگہ کا نظم نہ ہونے کی وجہ سے جماعت ثانیہ کی اجازت ہوگی ،اس لئے کہ جماعت ثانیہ کی ممانعت وکراہت کی علت تقلیل جماعت ہے جومذکورہ بالامسئلہ میں مفقود ہے ،نیز اگرجماعت ثانیہ کی اجازت نہ دی جائے، تو بے شمار لوگوں کی نماز جمعہ فوت ہوجائے گی ،لہذاان شدید اعذارکی صورت میں مسجدمیں نماز جمعہ کے لئے جماعت کی گنجائش ہوگی ؛لیکن اہل محلہ وعلاقہ کے لئے ضروری ہے کہ اگرممکن ہو تو مسجد کی توسیع ،یا محلہ میں دوسری مسجد کی تعمیر یا اذن عام کی شرط کے موافق کوئی متبادل جگہ کا انتظام کریں ۔(مستفادازفتاوی قاسمیہ۲۴۱،۲۰۴/۲)

تروایح میں جماعت ثانیہ

جس طرح فرائض میں اہل محلہ کے لئے مسجد میں جماعت ثانیہ مکروہ تحریمی ہے یاامام ابویوسف ؒ کے قول مطابق مکروہ تنزیہی ہے ،یہی حکم نماز تراویح کا بھی ہوگا،خواہ ایک ہی وقت میں متعددجماعتیں ہوں یا مختلف اوقات میں ،ایک ہی منزل میں ہو یا مختلف منزلوں میں۔

نماز جمعہ کے لئے مخصوص شرائط کی بناپر جماعت ثانیہ کی گنجائش نکلتی ہے ؛چونکہ تراویح کے لئے وہ شرائط نہیں ہیں، اس وجہ سے مسجد میں تراویح کی جماعت ثانیہ کی بالکل گنجائش نہیں ہوگی۔

لوصلی التراویح مرتین فی مسجد واحد یکرہ۔ ( الہندیہ الباب التاسع فی النوافل،فصل فی التراویح۱۱۶/۱)

محتاج دعا: عبداللطیف قاسمی ،جامعہ غیث الہدی بنگلور ،۱۹/ربیع الثانی ۱۴۴۲؁ ۵/دسمبر۲۰۲۰؁ء

درس قرآن، درس حدیث ، فقہ وفتاوی ، آداب واحکام ، علمی وفقہی تحقیقات اور مرتب کی تالیفات کے مطالعہ کے لئے فیضان قاسمی ویب سائٹhttps://faizaneqasmi.com کی طرف رجوع فرمائیں، دوست واحباب کو مطلع کریں اور ویب سائٹ کی لنک کو شیئر کریں ۔جزاکم اللہ خیرا

9986694990

Share this post

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *