مسجدکی صفائی کی اہمیت وفضیلت (۲)

مسجدکی صفائی میں وضوخانہ ،غسل خانہ اور بیت الخلاءکی صفائی کی بہت اہمیت ہے:الف وضوخانہ سے مسجدتک لمبی میٹ بچھائی جائے ؛اس لئے کہ وضوسے فارغ ہوکرآنے والاآدمی جب مسجد کی طرف آئے گا ، تو پیر گیلے ہونے کی وجہ سے راستے کا گردوغبار اور بعض اوقات کوئی نجاست وگندگی جوراستے میں گری پڑی ہوتی ہے، پیروں میں لگ جاتی ہے اور اسی گردوغبار اور نجاست کے ساتھ جب آدمی مسجد کے اندورنی حصے میں داخل ہوگا، تو فرش ناپا ک ہوسکتاہے ،یا کم از کم گیلے پیروں سے اندرآنے کی وجہ سے قالین اور حصیر میلے کچیلے ہوجائیں گے اور اس میٹ کو گردوغبارسے صاف رکھنا کا اہتمام ہونا چاہئے ،تاکہ مسجدکی پاکی وصفائی میں خلل نہ ہو۔

ب:شرعی مسجد میں تھوکنے کی بالکل گنجائش نہیں ہے ، صحن مسجدمیں بھی اگرچہ زمین کچی ہو بلغم ،پان کی پیک وغیرہ تھوکنا ،ناک کی رطوبت وغیرہ زمین پر گراناادب کے خلاف ہے ،اگر تھوکنے کی ضرورت پیش آئے، تو مسجد کے باہر تھوکے یا وضوخانے کی نالی میں تھوک کر پانی بہادے ،اگر جلدی میں صحن مسجدمیں کوئی گندی گرجائے، تواس پرفورًا مٹی ڈالدے ،اگر فرش پختہ ہے ،بھول چوک سے پان کی پیک یاناک کی رطوبت وغیرہ گرجائے ،توفورًا اس کو صاف کرے ۔

مسجد کے وضوخانہ کی صفائی نہایت ضروری ہے

ج:مسجد کے وضوخانے کی صفائی نہایت ضروری ہے ،پانی کے استعمال میں اسراف نہ کرے ،بے موقع مسواک نہ رکھے ،وضو کرنے کےلئے جو سیٹیں بنائی جاتی ہیں نہ ان پر پیررکھے نہ ان کو گیلا کرے ،وضوکے دوان بلغم یا پان کی پیک وغیرہ نالی میں تھوک کر پانی بہائے تاکہ کسی کو اس کی وجہ سے گھن یا تھوکنے والے سے نفرت پیدانہ ہو ،اگر کسی نے غفلت یا نادانی کی وجہ سے پانی نہ بہایا ہو،تو دیکھنے والاپانی بہاکر اجر حاصل کرے ،نیز پانی کی نالی میں بعض اوقات کاغذات ،کوڑاکرکٹ تنکے وغیرہ گرنے کی وجہ سے پانی جمع ہوجاتا ہے، لہذا نالیوں کی صفائی کرتے رہنا چاہئے اور وقتًافوقتًاصفائی کے بعد (Phenael)کااستعمال بھی کرناچاہئے ۔

د:جوشخص مسجد کے استنجاءخانوں اورغسل خانوں کا استعمال کرے، ان کی صفائی کا خیا ل کرے ،لہذااستنجاءسے فارغ ہونے کے بعد اچھی طرح پانی بہائے،اگراس کی وجہ سے اس کا فرش گندہ ہوگیاہو، تو اس کو بھی صاف کرکے جائے ، استنجاءخانہ میں سگریٹ نوشی نہ کرے،پان اورپان پراگ نہ تھوکے ؛اس سے استنجاءخانوں کی بدبومیں مزیداضافہ ہوتاہے اور مسجدمیں آنے والے نمازیوں کو تکلیف بھی ہوتی ہے ،نیز اگر ستنجاءکے لئے ڈھیلا یا ٹشو کا غذ استعمال کرے ،تواس میں رکھے ہوئے کوڑادان میں ڈالدے یا باہرپھینک دے ،اگراستنجاءخانے میں کوڑادان نہ ہو،تووہاں نہ ڈالے ،مسجد کے غسل خانوں میں صابون کے کا غذات ،بال ،بلیڈ وغیرہ نہ ڈالے۔

مسجدکی صفائی لئے ان باتوں کا لحاظ رکھنا نہایت ضروری

مسجدکے ذمہ دارحضرات جس شخص کو وضوخانہ غسل خانوں اور استنجاءخانوں کی پاکی صفائی لئے مقررکیاہو، اس شخص لئے ان تمام باتوں کا لحاظ رکھنا نہایت ضروری ہے ، وقتًا فوقتًا آسیڈ کا بھی استعمال کرے اورصفائی کے بعد فنائل کا بھی استعمال کرے ۔

ہ:جوتے او رچپل کے لئے جو جگہ متعین کی گئی ہے، اسی جگہ جوتے اور چپل اتاردے ،اس لئے کہ بعض اوقات صحن مسجد میں چپل پہننے کی ممانعت ہوتی ،عموماً لوگ اس جگہ چپل نہیں پہنتے ، اگر کوئی اس جگہ اس کا لحاظ کئے بغیر چلاجائے ،تو چپل کی نجاست وگندگی صحن مسجد میں گرے گی اور صحن مسجدمیں خالی پیر چلنے والے مصلی کے پیرپرلگنے اور مسجد کے فرش وغیرہ کے خراب ہونے کا ذریعہ بنے گا۔ مسجدکی پاکی وصفائی کی اہمیت وفضیلت کی پہلی قسط مطالعہ کرنے کےلئے اس رنگین جملہ پرکلک کریں۔ نیز اصلاحی ،فکری،علمی اورتحقیقی مضامین کے لئے فیضان قاسمی ویب سائٹhttps://faizaneqasmi.com کی طرف رجوع فرمائیں،دوست واحباب کوبتائیں اورشئیربھی کریں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں