مسنون اذان کا طریقہ: کلمات اذان سترہ ہیں ،فجر کی اذان میں ’’حی علی الفلاح ‘‘ کے بعد’’الصلوۃ خیرمن النوم ‘‘ کا اضافہ کیاجاتاہے۔

حضرت بلال ؓ فرماتے ہیں مجھ سے رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا :صرف اذان فجر میں تثویب کرو ۔(مشکوة :۶۳)

حضرت بلال ؓ نے ایک مرتبہ حضرت عمرؓ کو متوجہ کرنے کےلئے ’’الصلوۃ خیرمن النوم ‘‘کہا تو حضرت عمر ؓ نے فرمایا :اس کو اذان صبح میں شامل کرلو۔ (مؤطا مشکوة :۶۴)

اس سے معلو م ہوتا کہ’’الصلوۃ خیرمن النوم ‘‘کی ابتداءحضرت عمر ؓ کے زمانہ سے ہوئی؛لیکن علامہ طیبی ؒ فرماتے ہیں کہ یہ حضرت عمر ؓکی طرف سے کسی نئی چیز کی ایجاد نہیں ہے ؛بلکہ یہ سنت ہے جس کو رسول اللہﷺ سے سناتھا ،حضرت عمر ؓ کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ جو چیز شریعت میں جہاں ثابت ہو ،اسی جگہ اس کو استعمال کرناچاہئے۔(مرقاة ،طیبی )

کلمات اذان

ْاللَّهُ أَكْبَرْ، اللَّهُ أَكْبَرْ، اللَّهُ أَكْبَرْ، اللَّهُ أَكْبَر

أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهْ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا للہ

أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهْ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهْ

حَيَّ عَلَى الصَّلَاةْ،حَيَّ عَلَى الصَّلَاةْ

حَيَّ عَلَى الْفَلَاحْ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحْ

اللَّهُ أَكْبَرْ، اللَّهُ أَكْبَرْ

لَا إِلَهَ إِلَّا اللہْ

اذان میں تحسینِ صوت مطلوب ہے ،مقصود نہیں

لہذا تحسن صوت کے لئے غیر مد ہ حروف کو جہاں مد کی شرعًا اجازت نہ ہو ،مثلاً:’’اللہ اکبر ‘‘کی ”با“ ’’اشھد ‘‘کی ”دال“ انَّ کا”نون“مُحَمّد کی ”میم “اور ”دال“ رسول کی”را“وغیرہ کو حروف کی کمی وزیادتی ،حرکات وسکنات کی تبدیلی کے ساتھ کھینچنا لحن جلی ہے۔

فتاوی ھندیہ میں ہے:المد فی اول التکبیر کفر ،وفی آخرہ خطا فاحش۔ (۵۶/۱)

لفظ اللہ کے شروع (ہمزہ )میں مد کرنا کفر ہے ،(استفہام ہوجانے کی وجہ سے اور آخرمیں (اکبر کی باء) مدکرنا فحش غلطی ہے۔

تحسین صوت کے لئے غیرمدہ حروف کو حروف کی کمی وزیادتی کے ساتھ کھینچنا یہ موسیقی ونغمات کاطرز ہے ،اس طرح اذان دینا ناجائز وحرام ہے،اس طرح کے اذان کاجواب دینا ضروری نہیں ؛بلکہ اعادہ لازم ہے۔

علامہ ابن ھما م ؒ تحریر فرماتے ہیں

”فظھر من ھذا ان التلحین ھو اخراج الحرف عما یجوز لہ فی الاداء،وھو مصرح فی کلام الامام احمد فانہ سئل عنہ فی القراءة ،فمنعہ ،فقیل لم؟قال :مااسمک؟قال محمد ،قال لہ ،یعجبک ان یقال لک یاموحامد؟قالوا :واذا کان لم یحل فی الاذان، ففی القراءةاولی ،وحینئذ لا یحل سماعھا“ (فتح القدیر ۲۵۳/۱)

حضرت عمر بن عبد العزیز ؒنے اپنے مؤذن سے فرمایا

ان اذن اذانا سمحًا ولا اعتزلنا ۔( اخرجہ البخاری ،باب بدا الاذان۸۵/۱)

قال المحشی سمحا ای بلانغمة وتطریب کانہ یطرب فی صوتہ ،وینعم فامرہ ابن عبد العزیز بالسماحة ،وھی ان یمسح بترک التطریب ،ویمد صوتہ ۔

سیدھی سادی اذان دوورنہ ہم تم کو اس ذمہ داری سے معزول کردیں گے۔

ایک شخص حضرت ابن عمر ؓ کے پاس آیا اور کہا ،حضرت میں آپ سے اللہ کے لئے محبت کرتاہوں ،حضرت ابن عمرؓ نے فرمایا : میں تم سے اللہ کے لئے بغض رکھتاہو ں،اس نے عرض کیا ،کیوں ؟ فرمایا :مجھے معلوم ہواکہ تم اذان میں تغنی (موسیقی کا طرزاختیار)کرتے ہو ۔(بدائع ۳۷۱/۱)مسنون اذان

کن کلمات میں مدکی اجازت ہے

البتہ جن کلمات میں مد اصلی ہو مثلًا اللہ کا ”لام “یامد منفصل ہو مثلًا،اشھد ان لاالہ الاللہ یامد اصلی وقفی ہو ،مثلًا الَّا اللہْ ان میں شرعی مقدار کے مطابق مد کرنا اور مد تعظیمی کرنابھی جائز ہے ،جیساکہ بعض علماءنے اس کو الفاظِ ذکر میں جائزقرار دیاہے۔

ویجوز اجراءوجہ مد لا الہ الا اللہ عند من اجری للتعظیم کما قدمنا فی باب المد بل کان بعض من اخذ نا عنہ من شیوخنا المحققین یاخذون بالمد مطلقًامع کونھم لم یاخذوا بالمد للتعظیم فی القرآن وھو المد للتعظیم فی الذکر (النشر فی القراءات العشر ،حکم الاتیان بالتکبیر وسببہ ۴۳۹/۲،بحوالہ فتاوی محمودیہ ۴۱۴/۵،ادارہ صدیق )

اللّٰہ اکبر اللّٰہ اکبر دوکلمے ایک کلمہ کے حکم ہیں، اللہ اکبر کی راءکو ساکن پڑھنا سنت ہے ،مفتوح یا مضموم پڑھنا غلط ہے ،حی علی الصلوة اور حی علی الفلاح میں علامہ حلوانی نے مد کی اجازت دی ہے، ذکر نہ ہونے کی وجہ سے؛ لیکن یہ بھی خلاف اولیٰ ہے۔

علامہ کاسانی فرماتے ہیں

ان یکون جزما ،(بدائع۳۷/۱)معناہ ان التکبیر لا یمد ولایعرب بل یسکن آخرہ کما فی النھایة (ھامش البدائع )

علامہ شامی لکھتے ہیں :وقیل لاباس بہ فی الحیعلتین ای قال الحلوانی لاباس بادخال المد فی الحیعلتین لانھا غیر ذکر ،وتعبیر ہ بلا باس یدل علی ان الاولی عدم (ردالمحتار ۵۳/۲)

اذان ومؤذنین رسول اللہ ﷺ : ۴۵،مسنون اذان کا طریقہ