149

مسیلمہ کذاب اور اسود عنسی

حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے آخری ایام ہی میں دوجھوٹے نبی پیداہوگئے،جن میں ایک اسود عنسی ہے جس کا نام عبلہ بن کعب تھا،عنسی لقب تھا،صنعاء یمن میں تقریبًا تین ماہ نبوت کا دعو ی کیا، اس علاقہ کے چندلوگوں نے اس کی اتباع بھی کرلی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے تین دن قبل حضرت فیروز دیلمی رضی اللہ عنہ نے اس کوجہنم رسید کیا،آپ علیہ السلام نے حضرات صحابہ کو اس کی خوش خبری سنائی۔
دوسرا شخص مسیلمہ بن ثمامہ بن حبیب ہے جوقبیلہ بنوحنیفہ کا آدمی تھا، مسیلمہ کذاب کے نام سے مشہور ہوا ۹ ؁ ھ میں قبیلہ بنوحنیفہ کے ساتھ مدینہ منورہ حاضرہوا،تقریباً تیرہ افراد کا قافلہ تھاجن میں یمن کے مشہور صحابیئ رسول طلق بن علی ؓ تھے،رملہ بنت حارث کے مہان بنائے گئے، صبح شام گوشت،روٹی،گوشت دودھ اورگوشت گھی سے ان کی میزبانی کی گئی، دوسرے دن یہ حضرات مسجد نبوی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی اور اسلام قبول کرلیا؛ لیکن مسیلمہ کذاب خیمہ میں ٹہرا رہا،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ اوقیہ چاندی ان حضرات کو بطورہدیہ عطایا فرمائی،مسیلمہ کا حصہ بھی دیا اورفرمایا: مسیلمہ تم سے کم درجہ کا آدمی نہیں ہے (چونکہ وہ تمہارے سامان کی حفاظت کررہاہے اس لئے تمہارے برابروہ بھی ہدیہ کا مستحق ہے)یہ حضرات اپنے خیمہ میں پہنچ کر رسول اللہ صلی اللہ وسلم کی بات اورہدیہ کا تذکرہ کیا،تواس نے کہا انھوں نے یہ بات اس لئے کہی ہے کہ ان کے بعد مجھے منصب ملنے والا ہے،پھریمامہ جاکر نبوت کا دعوی کردیا، مسیلمہ کذاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرنہیں ہوا، اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ثابت بن قیس بن شماس کے ساتھ بنوحنیفہ کے وفد کی خاطرداری اور مسلیمہ کی اسلام کی امیدیا اتمام حجت کے لئے خود اس کے پاس تشریف لئے گئے، تو کہنے لگا،اگرمحمد امر(سلطنت وغیرہ)کا میرے لئے فیصلہ کردیں،تو میں ان کی اتباع کروں گا،آپ کے ہاتھ میں کھجورکی ایک چھڑی تھی،آپ اس کے پاس کھڑے ہوئے اورارشادفرمایا: اگریہ شخص مجھ سے یہ چھڑی مانگے، تو وہ بھی میں اس کو نہیں دونگا،اورفرمایا: تو اللہ کے امر (عذاب) سے بچ نہیں سکتا،پھرفرمایا: اگرتویہاں سے (صحیح سالم)چلابھی گیا،تو اللہ تجھ کو ہلاک وبربا دکردیگا اور مجھے خواب میں تیرے متعلق (تفصیلات) بتایاگیا ہے اورحضرت ثابت بن قیس کی طرف اشارہ فرماکر کہا یہ تجھ کو بتائیں گے۔(بخاری ۱/۱۱۵،باب علامات النبوۃ۰۲۶۳عمدۃ القاری۱۱/۵۵۳)
حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں مجھے حضرت ابوھریرۃ ؓنے بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دکھایاگیا کہ آپ کے ہاتھ میں سونے کے دوکنگن ہیں،ان کی وجہ سے مجھے بہت پریشانی (شدید فکر لاحق)ہوئی،تومیرے پاس وحی آئی کہ ان پرپھونک مارو،چنانچہ میں نے پھونک ماری،تو وہ اڑگئے، میں اس خواب کی تعبیر دوجھوٹے شخصوں سے لی جومیری نبوت کے بعد نبوت کا دعوی کریں گے،ایک اسودعنسی ہے اور دسرا شخص صاحب یمامہ مسیلمہ کذاب ہے۔
(بخاری،باب علامات النبوۃ: ۱۲۶۳،عمدۃ القاری ۱۱/۶۵۳)

عقیدۂ ختم نبوت پر حضرات صحابہ کا اجماع
حضرات صحابہ کرام جوخاتم النبیین وسیدالمرسلین صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کے سب سے پہلے مخاطب تھے انھوں نے قرآنی آیات اور احادیث رسول اللہ کا صاف صاف مطلب یہی سمجھاکہ آپ علیہ الصلوۃ والسلام پرنبوت کوختم کردیا گیاہے،آ پ کے بعدکوئی نبوت کا دعوی کرے، توجھوٹا ہے،یہی وجہ ہے کہ عہدنبوت وعہدخلفاء راشدین میں جوجھوٹے پیداہوئے ان کا مقابلہ کیاگیا۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں مسیلمہ کذاب نے نبوت کادعوی کیا اورایک بڑی جماعت جو اذان ونماز،روزہ کے قائل تھی،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت اورقرآن کے منکر نہیں تھی،مسیلمہ کے ساتھ ہوگئی،تمام مہاجر وانصار صحابہ کرام(جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تربیت وصحبت یافتہ تھے)نے مسیلمہ کذاب کو دعوی نبوت اور اس کی جماعت کو اس کی تصدیق کی بناپر کافر اورواجب القتل سمجھا،حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ نے منکرینِ ختم نبوت کے خلاف اعلان جنگ کیا

اورتمام منکرینِ ختم نبوت کو کیفرکردار تک پہنچایا،صحابہ میں سے کسی نے بھی اس پر انکارنہیں کیااورکسی نے بھی یہ نہیں کہا کہ یہ لوگ اہل قبلہ،کلمہ گوہیں،قرآن پڑھتے ہیں،نماز،روزہ، حج،زکوۃ اداکرتے ہیں،ان کو کیسے کافرسمجھ لیاجائے؟حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کاابتداء اً اختلاف کرنا،شرح صدر کے بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی موافقت کرنے کی جوتفصیلات کتبِ احادیث میں منقول ہیں، وہ منکرین زکوۃ سے متعلق ہیں نہ کہ منکرین ختم نبوت سے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوچکی ہے،بے شمار قبائل مرتد ہوچکے ہیں،بعض نے زکوۃ دینے سے انکار کردیا ہے،اس کے علاوہ مسلمان اندرونی وبیرونی دشمنوں کے خطرات میں گھرے ہوئے ہیں،مسلمان بے سروسامانی کی عالم میں ہیں:ان تمام حالات کی پرواہ کئے بغیر حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے حضرت خالد بن ولید ؓ کی امارت میں ایک لشکر یمامہ کی جانب مسیلمہ کذاب کی سرکوبی کے لئے روانہ فرمایا،مسیلمہ کذاب چالیس ہزار کے لشکر کے ساتھ مسلمانوں کے ساتھ مقابلہ کیا جن میں سے تقریبا اٹھائیس ہزار قتل ہوئے اورمسیلمہ کذاب کو حضرت وحشی ؓ نے مسیلمہ کذاب کو جہنم رسید کیا اور وہ فخرکرتے تھے کہ میں زمانہ اسلام میں سیدالشہداء کو قتل کیا اورزمانہ ء اسلام میں ایک بدترین شخص کو جہنم رسیدکیا اور اس معرکہ میں تقریبا بارہ سو صحابہ نے تحفظ ختم نبوت کے لئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیاجن میں سات سو قراء صحابہ بھی تھے۔(مستفاد از ختم نبوت:مفتی شفیع عثمانیؒ:۲۰۳)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں