نیک بیوی کی چارصفات

نیک بیوی کی چارصفات:ازدواجی زندگی کوخوش گواراورپرسکون بنانے کے لئے بیوی کا کرداربھی اہم ہوتاہے،اس لئے بیوی کے لئے ان صفات کو اپنانانہایت ضروری ہے جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بطورنمونہ بیان فرمایاہے ،چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا۔

خیرمایکنزالمرأ المرأة الصالحة ،اذانظرالیھاسرَّتہ، واذااامرھا،اطاعتہ،واذاغاب عنھا ،حفظتہ ۔(ابوداؤدعن ابن عباس، کتاب الزکوة باب حقوق الاموال،۲۳۵/۱،رقم: ۱۶۶۴)

دنیاکا بہترین خزانہ نیک بیوی ہے ،جب شوہراس کو دیکھے، تو وہ اس کو خوش کردے ،جب اس کوکوئی حکم دے ،تو اس کی اطاعت کرے اورجب وہ گھرسے باہر ہو،تو اس کی حفاظت کرے ۔

حسن سیرت

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:بیوی ایسی ہوکہ اس کو دیکھنے سے دل خوش ہوجائے۔

خوبصورت بیوی کو دیکھنے سے آنکھیں خوش ہوتی ہیں ،خوب سیرت بیوی کودیکھنے سے دل خوش ہوتاہے ،کتنے لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کی بیویاں چاندکا ٹکڑاہوتی ہیں؛ لیکن ضدی اورجھگڑالوہوتی ہیں، شوہران کی صورت دیکھنا پسندنہیں کرتا،لہذااپنے کردار،اخلاق ،خدمت ووفاداری ،حسنِ سلوک کے ذریعہ شوہرکے دل کو جیتنے کی فکرکرے اوراپنے اخلاق وکردارسے شوہرکے دل پرحکومت کرے ،خود کو ،بچوں کواورگھرکو صاف ستھرااورگھرکی چیزوں کوسلیقہ سے رکھے۔

گھرمیں شوہرآئے، تو مسکراہٹ سے استقبال کرے ،روانہ کرے ،تودعاؤں سے الوداع کرے ،موقع کی مناسبت اورشوہرکی طبیعت کا خیال رکھتے ہوئے اپنی ضروریات اورمشکلات سنائے ،پست آوازسے بات چیت کی عادت بنائے ،شوہرکے رشتہ دارومتعلقین کے ساتھ اکرام کا معاملہ کرے،کوئی کام ایسانہ کرے جس سے شوہرکی نگاہ میں گرجائے ،یابے وقعت اوربے وفاثابت ہوجائے ،نیک بیوی کی صفات۔

اطاعت

بیوی شوہر کی اطاعت کرنے والی ہو۔

اللہ تعالیٰ نے مردکو قوام بنایاہے ،دنیا میں چھوٹے چھوٹے امورکو انجام دینے کے لئے ذمہ داربنائے جاتے ہیں ،شریعت نے گھرکا نظام سنبھالنے کے لئے شوہرکو ذمہ دار بنایاہے ،عورت کو امیربنایاجاتا،تو باہرکی ذمہ داریوں کو سنبھالنا مشکل ہوتا،نیز عورت کے مزاج میں نرمی اورجلدبازی ہوتی ہے، جس کی وجہ سے اس کے فیصلے دوراندیشی پر مبنی نہیں ہوتے ہیں ۔

لہذا جب اللہ نے گھرکا امیرمردکو بنادیاہے، توعورت کو چاہئے کہ اس کی اطاعت کرے ،اس کے فیصلوں کوقبول کرے ،تمام شرعی ،جائز ومباح اموراورشوہرکے حقوق کے سلسلہ میں شوہرکی اطاعت کرے ؛البتہ خلافِ شرع امور میں کسی کی اطاعت جائز نہیں ہے ،بیوی اپنے شوہرکی بات ماننے والی ہو،شوہرکی بات ماننے کا جذبہ ہواوریہ سمجھے کہ شوہرکی بات ماننے ہی میں میری سعادت اورمیرے لئے برکت ہے،جوعورت خاوندکی بات مان لیتی ہے ،خاونداس کی بڑی بڑی غلطیاں معاف کردیاکرتاہے ۔

اللہ والوں نے فرمایا: بیوی اگرکوئی بات زبردستی منوابھی لے، تو اس میں برکت نہیں ہوتی ہے ،لہذا عورت کوچاہئے اگرچہ وہ اپنی ذہانت ،عقل مندی،بصیرت وغیرہ کے اعتبارسے شوہرسے فائق ہو؛ لیکن شوہرکے سامنے اپنی بات پیش کرے اور شوہرکو مطمئن کرے اورخوش کرے تاکہ امورخانہ داری میں برکت ہو،زندگی میں سکون واطمینان ہو ۔

حفاظت

جب شوہرگھرسے باہر ہو،تواپنی عزت وناموس کی حفاظت کرے ،مردعورت کی ہرغلطی معاف کرسکتاہے ؛لیکن کردارکی غلطی کو نظراندازنہیں کرسکتا،اپنے بچوں اورگھربارکی حفاظت کرے،بچوں کی بہترین تربیت کرے ،مال ،اخلاق ا ورکرادوغیرہ سے متعلق کوئی ایسی حرکت نہ کرے جس سے خاوندکے دل میں شک یابیوی پربے اعتمادی پیداہو ،شوہرکے دل میں اگرجھوٹ بولنے ،روپیہ یا راز چھپانے، گھرکی باتوں کو دوسروں کو سنانے وغیرہ کا شک پیداہوگیا، تو شوہرکے دل سے محبت رخصت ہوجائے گی ۔

بلاضروتِ شدیدہ غیرمحارم سے ہرگز بات نہ کرے،اگرضروت پیش ہی آجائے ،تو سخت لہجہ میں بات کرے ۔

اللہ تعالیٰ کاارشادہے

فلاتخضعن با لقول ۔(الاحزاب:۳۲)

غیرمحارم سے بات کرنے میں نرم لہجہ اختیارنہ کرو ۔

حضرت ثوبانؓ فرماتے ہیں:ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا۔

لوعلمنا ای المال خیر،فنتخذہ ؟

اگرہمیں معلوم ہوجائے کہ کون سامال افضل ہے؟ تو ہم اس کو اختیارکریں۔

آپ نے ارشادفرمایا

افضلہ لسان ذاکر،وقلب شاکر،وزوجة مؤمنة تعینہ علی ایمانہ ۔(رواہ احمدو الترمذی عن ثوبان فی سورة التوبة رقم:۳۰۹۴)

بہترین مال: ذکرکرنے والی زبان ،شکرکرنے والادل اورنیک بیوی ہے جو دینی امورمیں شوہرکا تعاون کرنے والی ہو۔

دینی امورمیں بیوی کو ایک قدم آگے رہنا چاہئے

شوہردینی وضع قطع کا پابندرہناچاہتاہے ،دینی کاموں میں وقت ومال خرچ کرناچاہتاہے ،رشتہ داراورمہمانوں کااکرام کرنا چاہتاہے ،اولادکی دینی تربیت کرنا چاہتاہے ،گھرکوتصویراورٹی ،وی سے پاک رکھنا چاہتاہے ،بچوں کو شرعی لباس پہنانا چاہتاہے ،توان تمام باتوں میں شوہرکا ساتھ دے اور ہردینی کام میں شوہرکے شانہ بشانہ چلے؛ بلکہ دینی امورمیں بیوی کو ایک قدم آگے رہنا چاہئے ،کسی بھی اعتبار سے رکاوٹ نہ بنے ؛بلکہ شوہرکی معاون ومددگاربنے۔ ان شاءاللہ۔ میاں بیوی دونوں کو اجرملے گا،بچوں کی تعلیم وتربیت سے متعلق شوہرسے مشورہ کرتی رہے ۔

خاوندکی پریشانی کے وقت اس کو تسلی دے ،اس کی حوصلہ افزائی کرے ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہماری مائیں حضرت خدیجہ ؓ ،حضرت ام سلمہ ؓوغیرہ آپ کی پریشانی کے وقت نہایت خوش اسلوبی اورعقل مندی سے تسلی دیاکرتی تھیں کہ آپ کوسکون واطمینان حاصل ہوجاتاتھا،مشکل آسان نظرآتی تھی۔

لہذابیوی کو چاہئے کہ وہ شوہرکی غم خوار،وفاداراورخدمت گزارہوجیسے حضرت خدیجة الکبری ؓ تھیں ،آپ کو اللہ کاسلام آیاکرتاتھا۔(مستفاد: ازازدواجی زندگی کے سنہرے اصول )

رہنما اصول برائے خوش گوارازواجی زندگی :اس کتاب کے دیگرمضامینhttps://faizaneqasmi.com ویب سائٹ میں خوش گوارازدواجی زندگی کے کالم میں ملاحظہ فرمائیں۔ابوفیضان قاسمی جامعہ غیث الہدی بنگلور