وتر کی نمازسےمتعلق مدلل ومفصل بحث

وتر کی نمازسے متعلق مدلل ومفصل بحث: ابوفیضان قاسمی

نمازوترکے متعلق گیارہ ضروری واختلافی مباحث ہیں:(۱)نماز وترواجب ہے۔(۲)نماز وتر کا وقت عشاءکی نماز کے بعد سے صبح صادق کے درمیان ہے۔(۳)اگر وتر فوت ہوجائے، تو اس کی قضاءلازم ہے ۔(۴)وتر کی رکعت کی تعداد تین ہے۔(۵)نماز وترتین رکعت ایک سلام کے ساتھ ہے ۔(۶)وتر کی تیسری رکعت میں رکوع سے پہلے دعائے قنوت پڑھنے کے لئے تکبیر کے ساتھ رفع یدین کیاجائے گا ۔(۷)دعائے قنوت رکوع سے پہلے پڑھی جائے گی۔(۸)رفع یدین کے بعد دعائے قنوت پڑھی جائے گی۔(۹)نماز وترسال بھرواجب ہے ۔(۱۰)وتر کی نماز کے بعد دو رکعت مستحب ہیں۔(۱۱)وتر صرف رمضان میں با جماعت ادا کی جاسکتی ہے۔

پہلی بحث نماز وتر واجب ہے

الف:حضرت خارجہ بن حذافہ ؓ سے مروی ہے

خرج علینا رسول اللہﷺ:۔ فقال: ان اللہ امدکم بصلوة، ھی خیر لکم من حمر النعم، جعلہ اللہ لکم فیما بین صلوةالعشاءالی ان یطلع الفجر۔(رواہ الترمذی،۱۔۳/۱،قال الحاکم صحیح الاسناد)

اس روایت میں لفظ امد (اضافہ کرنا) مدد پہنچانا کے معنی میں ہے ،اس کی نسبت اللہ کی طرف کی گئی ہے،نماز وترمحض سنت ہوتی ،تواللہ تبارک وتعالیٰ کے بجائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نسبت کی جاتی،جیسے تراویح میں سننت لکم قیامہ ہے ۔(درس ترمذی ۲۰۷/۲)

ب:حضرت ابو سعید خدریؓ سے مروی ہے

قال رسول اللہ ﷺ :من نام عن وترہ او نسیہ، فلیصلہ ،اذا اصبح، او ذکرہ۔(دار قطنی کتاب الوتر،من نام عن وترہ اونسیہ۱۶/۲: ۱۶۳۷)

اس روایت میں نماز وترکی قضا کا حکم دیا گیا ہے،قضا کا حکم واجبات میں ہوتا ہے نہ کہ سنن میں۔(درس ترمذی ۲۰۶/۲)

ج:عن عبد اللہ بن بریدة ؓ سمعت رسول اللہ ﷺ یقول :الوتر حق ،فمن لم یوتر، فلیس منا،الوتر حق ،فمن لم یوتر، فلیس منا،الوترحق فمن لم یوتر فلیس منا۔(سنن ابی داود،باب من لم یوتر: ۲۰۱/۱ رقم: ۱۴۱۹)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وتر پر مواظبت من غیر ترک فرمائی ہے اور تارک ِوتر پر نکیر کرتے ہوئے ’’من لم یوتر، فلیس منا‘‘فرمایا ہے ۔

وتر کا وقت: عشاءاورصبح صادق کے درمیان ہے

حضرت خارجہ بن حذافہ ؓ کی سابقہ روایت میں جعلہ اللہ لکم فیما بین صلوة العشاءالی ان یطلع الفجر۔ کی صراحت ہے۔

نماز وترفوت ہوجائے ،توقضالازم

الف:حضرت ابو سعید خدری ؓ سے مروی ہے

قال رسول اللہ ﷺمن نام عن وترہ، او نسیہ ،فلیصلہ اذا ذکرہ۔(ابو داود، باب فی الدعاءبعدالوتر۲۰۳/۱رقم:۱۴۳۱دار قطنی کتاب الوتر،من نام عن وترہ اونسیہ۱۶/۱: ۱۶۳۷ ،سنن بیھقی)۔

ب:عن طاوسؒ:الوتر واجب یعاد الیہ اذا نسی۔(مصنف عبد الرزاق ۳۸۸/۲،رقم:۴۵۹۹)

حضرت طاوس سے مروی ہے : نماز وترواجب ہے،اگر بھولے سے رہ جائے، تو قضا کی جائے گی۔

نماز وتر تین رکعت

امام ابوحنیفہ ،امام ملک اور امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ کے نزدیک وتر تین رکعت متعین ہے،امام شافعیؒ اوراصحاب ظواہرکے نزدیک وترایک رکعت ہے ، غیرمقلدین اس مسئلہ میں بے جاتشدد، بے فائدہ بحث ومباحثہ کرتے ہیں اوراتنشارپھیلانے کی کوشش کرتے ہیں ۔(مستفاداز معارف السنن۲۲۰/۴)

احادیث میں لفظ ایتاردومعنی کے لئے استعمال ہواہے ،صرف وترکے لئے اور پوری صلوة اللیل مع الوتر کے لئے استعمال ہواہے،نیز آپ علیہ السلام سے عددوترکی روایات مختلف ہیں،ایک رکعت سے سترہ رکعت تک کی روایات موجودہیں ۔(درس ترمذی۲۱۸/۲)

امام نسائی ؒنے سنن نسائی میں ”کتاب قیال اللیل وتطوع النھار“میں بالترتیب ابواب قائم فرما ئے ہیں،پہلا” باب کیف الوتربواحدة“تا ”باب کیف الوتربثلاث عشرة رکعة“

وترکی مختلف روایات میں عمدہ تطبیق

علامہ شبیراحمدعثمانی ؒ نے ”فتح الملہم شرح مسلم“ میں ان روایات میں عمدہ تطبیق دی ہے ،حضرت والانے ان مختلف روایات کی اس طرح توجیہ کی ہے :آپ علیہ الصلوة والسلام کا عام معمول یہ تھا آپ صلوة اللیل کو دوہلکی رکعتوں سے شروع فرماتے،(جوتہجدکی مبادی میں سے ہوتیں)اس کے بعدآٹھ طویل رکعتیں ادافرماتے (یہ آپ علیہ الصلوة والسلام کی اصل تہجدہوتی تھیں)پھرتین رکعات وترادافرماتے ،بعدازاں دورکعت نفل بیٹھ کرادافرماتے (جووترکی توابع میں سے ہوتیں)اس کے بعد جب فجرطلوع ہوتی ،تو دورکعت سنت ادافرماتے ،اس طرح کل سترہ رکعات ہوجاتی ہیں۔

حضرات صحابہ نے جب ان تمام رکعات کو بیان کرناچاہا،تو انہوں نے اوتربسبع عشرہ رکعة کہہ دیا ،بعض حضرات نے سنت ِفجرکو خارج کردیا ؛کیونکہ وہ صلوة اللیل حقیقة نہیں تھیں،اس لئے انہوں نے اوتربخمس عشرة رکعة کہا،پھربعض حضرات نے شروع کی رکعتیں خفیفتین کو اوروترکی بعدکی نفلوں کو ساقط کردیااورسنن فجرکوشمارکرتے ہوئے وتربثلاث عشرہ رکعة کہا ،بعض حضرات نے رکعتین خفیفتین ،وترکی بعدکی دورکعتیں اورسنت فجرسب کو ساقط کرتے ہوئے احدی عشرة رکعة بیان کیا،آخرعمرمیں آپ علیہ السلام کا جسم کچھ بھاری ہوگیا، تو آپ علیہ الصلوة والسلام نے تہجد کی صرف چھ رکعتیں ادافرمائی اور تین رکعات وتر ادافرمائی،تو بعض حضرات نے اوتربتسع رکعة روایت کیا ،بعض اوقات آپ نے اس میں کمی کی اورتہجدکی صرف چاررکعت اوروترکی تین رکعت ادافرمائی ،تو بعض رواة نے اوتربسبع بیان کیا ۔

مذکورہ بالاتمام روایات میں لفظ ایتار کااطلاق پوری صلوة اللیل مع الوتر پرکیا گیاہے ،صرف اوتربخمس میں وترکا استعمال حقیقی ہوا ہے۔

اوتربواحدۃ کا مطلب

اوتربواحدة کا مطلب یہ ہے کہ آپ علیہ الصلوة والسلام تہجدکی نماز دودورکعت ادافرماتے ،جب وترکا وقت آتا،توآپ دورکعتوں کے ساتھ ایک رکعت مزیدشامل فرمالیتے ،یہ مطلب ہرگزنہیں کہ آپ صرف ایک رکعت ادافرماتے تھے ،اس طرح تمام روایات میں بہترین تطبیق ہوجاتی ہے ۔(ملخص از فتح الملہم باب صلوة اللیل وعددالرکعات۲۸۸/۲،درس ترمذی ۲۱۳/۲)

وترتین رکعات پرجمہورکے دلائل

الف: عن ابی سلمہؓبن عبد الرحمن انہ سأل عائشةؓ کیف کانت صلوة رسول اللہ فی رمضان ،فقالت ما کان رسول اللہ ﷺیزید فی رمضان، ولا فی غیرہ علی احدی عشرة رکعة، یصلی اربعا، فلا تسأل عن حسنھن ،وطولھن ،ثم یصلی اربعا، فلا تسأل عن حسنھن وطولھن ،ثم یصلی ثلاثا۔الخ۔(البخاری،باب قیام النبی صلﷺ باللیل۱۵۴/۱ رقم:۱۱۴۷،مسلم)۔

اس روایت میں صراحت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وتر کی تین رکعتیں تہجد سے الگ پڑھا کرتے تھے۔(درس ترمذی۲۱۶/۲)

ب:عن عباس ؓ قال: کان رسول اللہﷺیصلی من اللیل ثمان رکعات، و یوتر ثلاث ویصلی رکعتین قبل صلوةالفجر۔(نسائی:۱۹۱/۱رقم:۱۷۰۱،مسنداحمد:۳۰۰۴)

ج:عن ابن جریج قال سألنا عائشة ؓ بأی شیءکان یوتر رسول اللہﷺ؟ قالت کان یقرأ فی الاولی بسبح السم ربک الاعلی،وفی الثانےةبقل یا ایھا الکافرون،وفی الثالثہ بقل ھو اللہ احد،والمعوذتین۔(ترمذی۱۰۶/۱رقم:۴۶۳ ،صحیح ابن حبان :۲۴۴۸،ورواہ الدارمی عن ابن عباس باسنادصحیح : ۱۶۲۷وراہ ابوداود:۱۴۲۳والنسائی عن ابی کعب:۱۶۹۹)

د:عن عامرالشعبیؒقال سألت عبداللہ بن عباس وعبداللہ بن عمرعن صلوة رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باللیل ،فقال ثلاث عشرة رکعة ویوتربثلاث ورکعتین بعدالفجر۔(ترمذی۱۰۶/۱رقم:۲۶۴،ابن ماجة:۱۳۶۱)

ہ:عن علی قال کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یوتربثلاث یقرأ فیھن بتسع سورمن المفصل ،یقرأ فی کل رکعة بثلث سورآخرھن قل ھو اللہ احد۔(ترمذی۱۰۶/۱رقم: ۴۶۰)

یہ تمام احادیث وتر کی تین رکعات پر صحیح اورصریح ہیں۔

غیرمقلدین کے دلائل اوران کے جوابات

الف:عن ابن عمر ؓ ان رجلا جاءالی النبی صلی اللہ علیہ وسلم وھویخطب،فقال کیف صلاة اللیل ؟فقال:مثنی مثنی ،فاذا خشیت الصبح ،فاوتربواحدة ،توترلک ماقدصلیت ۔(بخاری ،باب صلوة اللیل رقم: ۴۷۳)

ان روایات کی بناپر یوں کہنا کہ حضرت عبداللہ بن عمرؓ وترایک رکعت کے قائل تھے اورحدیث صحیح مرفوع روایت سے بھی وترکا ایک رکعت ہونا ثابت ہوتا ہے ، صحیح نہیں ہے ،اس لئے کہ حضرت عبداللہ بن عمرؓ کامقصد اس روایت سے یہ ثابت کرنا ہے کہ جب صلوة اللیل دودورکعت پڑھتے رہیں اورصبح کا وقت ہوجائے ،یاصلوة اللیل مکمل کرنا چاہو،توتین رکعات اداکرکے ،اب تک اداکی گئی رکعات کو وتربناؤ۔اگریہ مطلب نہ لیاجائے، تو پیچھے عامر شعبی نے جو ابن عباسؓ اورابن عمر ؓسے صلاة کاطریقہ معلوم کیا تو جواب میں ان حضرات نے فرمایا کہ تہجدپڑھتے رہو جب تکمیل کے قریب ہوجائے تو تین رکعت وترپڑہو ،جس کی وجہ سے پوری صلوة اللیل وتربن جائے گی ۔

تین رکعت پڑہو ،جس سے پوری صلوة اللیل وتربن جائے

اس مطلب کا پہلا قرینہ بخاری شریف کی مذکورہ روایت اورحضرت عائشہ ؓ کی روایت ہے جس میں ایتارسے مرادپوری صلوة اللیل کو وتربنانے کا طریقہ بیان کیا گیاہے ، دوسراقرینہ ، ترمذی ،ابن ماجہ اورطحاوی کی روایت ہے کہ شعبیؓ فرماتے ہیں

سألت ابن عباس وابن عمر کیف کانت صلاة رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باللیل ؟فقالا:ثلاث عشرة رکعة ،ثمان ویوتربثلاث،ورکعتین بعدالفجر۔ب:عن عبد اللہ بن عمر ؓقال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : الوتررکعة من آخراللیل۔(رواہ مسلم ،باب صلوة اللیل:رقم: ۲۵۷)

میں نے حضرت ابن عباسؓ اورابن عمر ؓ سے دریافت کیاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صلوة اللیل کیسی تھی ؟(کتنی تھی ،کیا ترتیب تھی ؟)توان دونوں حضرات نے فرمایا :آٹھ رکعت صلوة اللیل ادافرماتے ،تین رکعت وتر اور صبح صادق کے بعد دورکعت سنت ادافرماتے ۔

معلوم کہ حضرت ابن عمرؓ وابن عباس ؓ کی روایات سے وترایک رکعت ہونے پراستدلال درست نہیں ہے،اس لئے کہ خود راوی تین رکعات کی صراحت کررہے ہیں ،نیز ایک رکعت وتران کا مذہب بھی نہیں ہے ۔

حضرت عائشۃؓ کی روایت

عن عائشةؓ زوج النبی صلی اللہ علیہ وسلم قالت: کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یصلی فیما بین ان یفرغ من صلوة العشاءوھی التی یدعو الناس العتمة الی الفجراحدی عشرة رکعة ،یسلم بین کل رکعتین ،ویوربواحدة ،(رواہ مسلم باب صلوة اللیل وعددالرکعات: رقم: ۷۳۶)

یہ روایت بھی مجمل ہے ، حضرت عائشہ ؓ کہنا چاہتی ہیں کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دودورکعت ادافرماتے ،جب آٹھ رکعت ہوجاتےں ،تو تین رکعات ادافرماتے ،اب تک صرف دودورکعت ہوتی تھی ، آخرمیں دورکعت کو مزیدایک رکعت کے اضافہ کے ساتھ تین بناکر وتربناتے ،جس سے یہ آخرشفعہ بھی وترہوجاتا،نیز تمام صلوة اللیل بھی وترہوجاتی۔

صرف ایک ہی رکعت وترادافرماتے تھے، الفاظ کے ظاہرسے سمجھ میں بھی آئے؛لیکن اس کو مرادنہیں لیا جاسکتا،اس لئے کہ حضرت عائشة ؓ ہی سے تین رکعات وتر کی بے شمار صحیح صریح روایات موجودہیں(کمرمرسابقا) اوراکثرصحابہ کا عمل بھی تین رکعات ہی کا ہے ،اس وجہ سے یہ مطلب مرادلینا صحیح نہیں ہے،نیز دیگرحضرات صحابہ کی راویات جن سے وترکا صرف ایک رکعت ہونا معلوم ہوتاہے ،ان میں بھی یہی توجیہ کی جائے گی ۔(مستفاد : از معارف السنن ۲۱۳/۴)

ابن عمرؓ اورابن عباس ؓ کی روایات مبہم ہیں،صراحةً ایک رکعت پردلالت نہیں کرتیں

حضرات صحابہ کی روایات اوران کے عمل کا جائزہ لیاجائے، تو وترصر ف ایک رکعت کے قائل حضرت معاویہؓ اورحضرت سعدبن ابی وقاص ہیں ، حضرت عائشہ ، حضرت ابوموسی اشعری ،حضرت ابن عمر اورحضرت ابن عباس رضی اللہ عنہم سے وترکی ایک کی روایات مبہم ہیں ،صراحةً ایک رکعت وترپردلالت نہیں کرتیں،نیز حضرت ابن عمرؓ اورحضرت ابن عمر ؓ تین رکعات کی روایات ہیں جیساکہ شعبی کا سوال اوران حضرات کا جواب گزرادہے ،نیز ابن عمرؓ وتردوسلام کے قائل ہیں ،لہذاان کی طرف موہم روایات کی بنار پروترایک سلام کی نسبت ہرگز درست نہیں ۔(مستفاداز:معارف السنن۲۲۰/۴)

عبداللہ بن سلمہ ؓ کہتے ہیں کہ حضرت سعد بن ابی وقاصؓ نے ہمیں نماز عشاءپڑھائی ،پھرمسجدکے ایک کنارہ صرف ایک رکعت وتراداکی ،میں آپ کے پیچھے ہوگیا اور ان کا ہاتھ پکڑکرعرض کیا ،حضرت !ایک رکعت کیسی ہے ؟ آپ نے فرمایا : وترہے جسے پڑھ کرسوجاتاہوں۔(شرح معانی الاثار،باب الوتر:۱۷۵۳)

ابراہیم نخعیؒ فرماتے ہیں: حضرت عبداللہ بن مسعود ؓنے حضرت سعدبن ابی وقاصؓ کے ایک رکعت وترکی ادائیگی پر اعتراض کیاہے ۔(شرح معانی الاثار،باب الوتر،۲۰۷/۱،رقم: ۱۷۵۵)

عن عطا ءان معاویة ؓ اوتربرکعة ،فانکر ذالک علیہ ،فسئل ابن عباس ،فقال اصاب السنة ۔(مصنف ابن شیبہ ،من کا ن یوتربرکعة : ۸۸/۲،رقم:۶۸۱۰)

ابن عباس ؓ نے فرمایا: معاویةؓپراعتراض نہ کرکہ وہ مجہتدہیں۔

حضرت معاویةؓ اور حضرت سعدبن ابی وقاصؓ کے ایک رکعت وتراداکرنے پر حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے نکیر فرمائی ہے ،(حکاہ فی معارف السنن عن البدرالعینی عن ابن شیبة۲۲۵/۴)نیز حضرات تابعین کا دیگرحضرات صحابہ کی طرف رجوع اوربنظرتعجب استفساراس بات کی دلیل ہے کہ صرف ایک رکعت وتر اداکرنا مسلم معاشرہ میں ایک نئی بات ہے ۔

حضرت شعبی ؒ فرماتے ہیں : حضرت عبداللہ اورسعد بن ابی وقاص ؓ کی اولادتین رکعت وتر دوسلام کے ساتھ اداکرتی تھی۔( ۔ مصنف ابن شیبہ ۸۹/۲،رقم:۳۶۴۱۴،شرح معانی الاثار۲۰۷/۱رقم:۱۷۵۴)

وتر کی تین رکعات ایک ہی سلام کے ساتھ

اس کی دلیل یہ ہے کہ تثلیثِ وتر کی جو روایات ذکر کی گئیں، ان میں سے کسی بھی روایت میں دو سلام کاذکر نہیں ہے،اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول دو سلاموں کے ساتھ وتر پڑھنے کا ہوتا ،تو یہ ایک غیر معمولی بات ہوتی اور حضرات صحابہ کرام ضرور اس کی تفصیل بیان فرماتے،اس لئے یہی کہا جائے گا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز مغرب کی طرح ایک ہی سلام سے وتر کی تین رکعات ادا فرماتے تھے۔

عن عائشة ؓ اوتربثلاث لا یفصل فیھن۔(مسنداحمد:۲۵۲۲۳)

عن المسوربن مخرمة قال:دفنا بابکرلیلا ،فقال عمر،انی لم اوتر،فقام ،فصففنا وراءہ ،فصلی بناثلاث رکعات ،لم یسلم الافی آخرھن ۔شرح معانی الاثار،باب الوتر،۲۰۶/۱،رقم:۱۷۴۲سندہ صحیح ،قالہ البنوریؒ:معارف السنن۲۰۷/۴ )

عن الحسن قال کان ابی بن کعب یوتربثلاث لایسلم الافی الثالثة مثل المغرب۔(مصنف عبدالرزاق،باب کیف التسلیم فی الوتر۳۹۹/۲رقم:۴۶۷۱)

عن عبد اللہ بن مسعود ؓ قال قال رسول اللہﷺ :وتر اللیل ثلث ،کوترالنھار صلوة المغرب ۔(رواہ الدار قطنی مرفوعاباسنادضعیف ،الوترثلاث کثلاث المغرب۲۰/۲،رقم:۷۳۶۱وروی البیھقی فی السنن الکبری باسنادصحیح موقوفاعلی ابن مسعود:۲۱۸۴)

عن عائشة ؓ قالت کان رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یوتربثلث لایسلم الافی آخرھن ،وھذاوترامیرالمؤمنین عمربن الخطاب ،وعنہ اخذہ اھل المدینة ۔(المستدرک للحاکم،کتاب الوتر :۴۴۷/۱،رقم:۱۴۴۰ )

عن عمربن الخطاب انہ قال مااحب انہ اوتربثلث رکعات لم یفصل بینھن بسلام ۔(مصنف ابن ابی شیبة۹۰/۲،رقم:۶۸۳۱ )

جلیل القدر صحابہ ایک سلام کے ساتھ تین رکعات کے قائل

صحابہ کرام کی ایک بڑی جماعت جن میں حضرت ابو بکر صدیق ؓ،حضرت عمر فاروق ؓ،حضرت علی ؓ،حضرت عبد اللہ مسعودؓ،حضرت ابن عباس ؓ،حضرت حذیفہ بن الیمانؓ،حضرت انسؓ اور حضرت ابی بن کعب ؓ جیسے جلیل القدر صحابہ ایک سلام کے ساتھ تین رکعات پڑھنے کے قائل ہیں،ان حضرات کی روایات و آثار ،مصنف عبد الرزاق،مصنف ابن ابی شیبہ اور طحاوی وغیرہ میں موجود ہیں،پھر خاص طور سے حضرت عائشہؓ کی روایات سے تو کتب حدیث بھری پڑی ہیں،لہذا حنفیہ کی یہ توجیہ آثار صحابہ سے مؤید ہے۔

نماز مغرب کو وتر النھار کہا گیا ہے اور نماز وتر کو وتر اللیل ،لہذا اگر وترکو نماز مغرب پر قیاس کیا جائے ،تو بھی تین رکعات بسلامٍ واحدٍ ثابت ہوتی ہے۔(درس ترمذی،۲۲۹/۲ تا ۲۳۱)

وترتین رکعات بسلام واحد کی وجہ ترجیح

علامہ ظفراحمد تھانوی ؒاپنی معرکة الآراءکتاب ”اعلاءالسنن“ میں تحریر فرماتے ہیں :ہمارے علم کے مطابق حضرت ابن عمر ؓ کے علاوہ کسی سے مرفوعا وتردوسلاموں سے مروی نہیں ہے ،اس کے برخلاف حضرات صحابہ ؓکی ایک بڑی تعدادنے ایک سلام کے ساتھ وترکی رکعات روایت کی ہیں نیز ان کا اس پر عمل بھی ہے ۔

ہم نے اکثرصحابہ کی روایات پر عمل کیا ؛کیونکہ یہ روایات درایةً وروایةً راجح ہیں ،روایةً اس لئے کہ کثیرصحابہ کی روایت کا قلیل افراد کی روایت پر راجح ہونا ظاہر ہے ،درایةً اس لئے کہ تین رکعت دوسلاموں کے ساتھ نماز اداکرنے کی کوئی مثال فرض ونفل میں نہیں ہے ،حضرت حسن بصری سؒے کہا گیا :حضر ت ابن عمر ؓوتردوسلام کے ساتھ اداکرتے تھے،حسن بصری ؒنے فرمایا :کا ن عمرافقہ منہ کا ن ینھض فی الثالثة بالتکبیر ۔(رواہ الحاکم۴۴۷/۱،رقم:۱۱۴۱ )

حضرت ابن عمر ؓکی روایت کا جواب یہ ہے کہ نماز وتردوسلاموں کے ساتھ نقض وترکے منسوخ ہونے سے پہلے کی روایت ہے ،جیساکہ بعض صحابہ شروع رات میں وترپڑھ لیتے ،پھررات کے آخری حصہ میں مزیدایک رکعت ملاکر وترکو ختم کردیتے ،یہ حکم منسوخ ہوگیا ،اس لئے یہ حکم غیرمعقول ہے ،ابتدائے اسلام میں اس کی اجازت تھی پھراس سے منع کردیاگیا ،ہوسکتا ہے حضرت ابن عمر ؓوغیرہ کواس کی خبرنہ ہوئی ہو ۔(ملخص از:اعلاءالسنن ۳۳/۶)

عن ابن ملیکة قال اوتر معاویة بعدالعشاءبرکعة، وعندہ مولی لابن عباس ،فاتی ابن عباس فقال دعہ، فانہ قد صحب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔(بخاری،کتاب المناقب ،باب ذکرمعاویة ۵۳۱/۱،رقم : ۳۷۶۴)

اس روایت سے معلوم ہوا کہ اہل مکہ ایک رکعت وترکو جانتے نہیں تھے ،اسی وجہ سے حضرت ابن عباس ؓ کے تلامذہ نے تعجب کیا، حضر ت ابن عباس ؓ حضرات تابعین کو حضرات اکابرصحابہ وائمہ مجتہدین پر نکیر کرنے سے منع کیاہے ۔(اعلاءالسنن ۴۲/۶)

دعائے قنوت رکوع سے پہلے

حضرت عمر، حضرت علی ،حضرت عبداللہ بن مسعود وغیرہ صحابہ رضی اللہ عنہم ،امام ابوحنیفة، امام مالک اورعبداللہ بن مبارک رحمة اللہ علیہم کے نزدیک قنوت رکوع سے پہلے ہے ۔
حضرت ابوبکر صدیقؓ،حضرت عثمان ؓکے نزدیک رکوع کے بعد ہے ،یہی مذہب ا مام شافعی اورامام احمد بن حنبل ؓ کا ہے ،حضرت انس ؓ کے نزدیک رکوع سے پہلے اوررکوع کے بعد دونوں درست ہیں ،
خلاصہ کلام یہ ہے کہ قنوت رکوع سے پہلے ہے یا رکوع کے بعد، یہ اختلاف اولی اورغیراولی کا ہے ۔(معارف السنن ۴۴۲/۴)

عن عاصم ؓ قال سألت انس بن مالکؓ عن القنوت ،فقال قد کانت القنوت، قلت قبل الرکوع او بعدہ؟قال قبلہ،قال فان فلانا اخبرنی عنک انک قلت بعد الرکوع،فقال کذب،انما قنت رسول اللہﷺ بعد الرکوع شھرا۔( بخاری ،کتاب الوتر،باب القنوت قبل الرکوع اوبعدہ۱۰۰۲،۱۳۶/۱)۔
عن ابی بن کعب ؓ: ان رسول اللہ ﷺ کان یوتر، فیقنت قبل الرکوع۔(ابن ماجة،باب القنوت قبل الرکوع او بعدہ:۸۳،رقم:۱۱۸۲)

عن علقمہ ؓ :’ان ابن مسعود ؓ واصحاب النبیﷺ کانوا یقنتون فی الوتر قبل الرکوع۔(مصنف ابن ابی شیبة،فی القنوت قبل الرکوع اوبعدہ،۹۷/۲،رقم:۶۹۱۱)

عن ابراھیم النخعیؒ،ان القنوت فی الوتر واجب فی شھررمضان وغیرہ قبل الرکوع ،فاذا اردت ان تقنت فکبر،واذا اردت ان ترکع، فکبر ایضا۔( الآثار للامام ابی حنیفة بروایة محمد۲۵۳/۱،رقم:۲۱۳)

ان روایات سے معلوم ہوا کہ حنفیہ کے نزدیک اس مسئلہ میں مرفوع احادیث بھی ہے اور تعامل صحابہ بھی۔(درس ترمذی۲۳۵/۲)۔

ابن حجر ؒ فرماتے ہیں

قال مجموع ما جاءعن انس فی ذالک ان القنوت للحاجة بعد الرکوع،لا خلاف عنہ فی ذالک‘امابغیر الحاجة الصحیح عنہ انہ قبل الرکوع، وقداختلف عمل الصحابة فی ذالک ،والظاہر انہ من الاختلاف المباح۔(فتح الباری،باب القنوت قبل الرکوع او بعدہ۶۰۵/۲، رقم:۱۰۰۴)

دعائے قنوت پڑھنے کے لئے رفع یدین

دعائے قنوت پڑھنے کے لئے رفع یدین سنت ہے ۔(معارف السنن ۲۴۷/۴)

حضرت عبد اللہ مسعود ؓ سے مروی ہے

انہ کان یرفع یدیہ اذا قنت فی الوتر۔(مصنف ابن ابی شیبہ،رفع الیدین فی قنوت الوتر۱۰۰/۲رقم:۶۵۵۴)

عن سفیانؒ کانوا یستحبون ان تقرأ فی الثالثة من الوتر’قل ہو اللہ احد‘ ثم تکبر، وترفع ایدیکم ثم تقنت۔( قیام اللیل للمروزی،باب رفع الایدی عندالقنوت:۳۲۰)

قال الطحاوی: اما التکبیر فی القنوت فی الوتر، فانھا تکبیرة زائدة فی تلک الصلوة،وقد اجمع الذین یقنتون قبل الرکوع علی الرفع معھا۔(شرح معانی الاثار، کتاب المناسک ،باب رفع الیدین عند رؤیة البیت۴۱۷/۱،رقم:۳۸۲۵)

کونسی دعائے قنوت پڑھی جائے

قنوت وتر کی دعاء’اللھم اھدنا فیمن ھدیت الخ،اللھم انا نستعینک ونستغفرک الخ دونوں دعائیں جائز ہیں اور دونوں احادیث سے ثابت ہیں،امام محمدؒکے نزدیک قنوت میں کوئی دعاءمخصوص نہیں ہے،دعائے ماثورہ بھی پڑھ سکتا ہے، بشرطےکہ کلام الناس کے مشابہ نہ ہو۔

احناف نے دعائے استعانت کو اس لئے ترجیح دی ہے ،کہ وہ اشبہ بالقرآن ہے ،علامہ سیوطیؒ نے”الدرالمنثور ،خاتمہ الجزءالسادس “میں نقل کیا ہے کہ قرآن پاک میں سورة الخلع والحفدکے نام سے دو مستقل سورتیں تھیں،مصحف ابی بن کعب ،مصحب ابوموسی اشعری اورمصحف ابن عباس میں مذکورہیں، حضر ت عمرؓ وترمیں مذکورہ دونوں سورتیں (قنوت احناف )پڑھتے تھے ۔(معارف السنن۲۴۴/۴)

امام ابوبکرعبداللہ بن محمد بن شیبة ؒ نے” مصنف ابن شیبة“میں ”قنوت الوترمن الدعاء“کے تحت مذکورہ دودعاؤوں کے علاوہ مزید دودعائیں ذکرکیں ہیں ۔(مصنف ابن شیبة ،فی قنوت الوترمن الدعاء۵۵/۲)

نماز وترسال بھرواجب

حضرت ابراہیم نخعی ؒ فرماتے ہیں

عبداللہ لایقنت السنة کلھافی الفجر،ویقنت فی الوترکل لیلة قبل الرکوع ۔(مصنف ابن شیبة ،القنوت فی النصف من رمضان ۹۹/۲،رقم:۶۹۴۲)

عن ابراھیم عن ابن مسعود ؓکان یقنت فی السنة کلھا فی الوترقبل الرکوع ۔(کتاب الاثار،باب القنوت فی الصوة ۳۲/۱،رقم:۲۱۲)

عن عبدالرحمن بن ابی لیلی انہ سئل عن القنوت ،فقال حدثنا البراءبن عازبؓ قال سنة ماضیة ۔(حدیث اوراہل حدیث : ۵۷۹ بحوالہ آثارالسنن،وراجعت الیہ ولکن لم اجدہ فیہ)

یعنی یہ جاری وساری سنت ہے ( ایساطریقہ جودین میں رواج پذیرہے )

نماز وترکے بعددورکعت مستحب

وترکے بعد دورکعت پڑھنا رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے ،ان دورکعت کی حیثیت میں اختلا ف ہے ،امام ابوحنیفہ ؒاورامام شافعی ؒ سے وترکے بعد دورکعت کے سلسلہ میں کچھ بھی مروی نہیں ہے ، امام مالک اورامام احمد بن حنبل ؒ صرف جواز کے قائل ہیں ،بعض فقہائے احناف استحباب کے قائل ہیں ۔(ملخص از معارف السنن ۲۵۸/۴)

حضرت ام سلمیؓ سے مروی ہے

ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم کان یصلی بعدالوتررکعتین۔(ترمذی،باب لاوتران فی لیلة ۱۰۸/۱،رقم:۴۷۱)

(۲)حضرت ابوامامہؓ سے مروی ہے

ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم کان یصلیھمابعدالوتر،وھوجالس یقرأفیھا اذازلزلت وقل یاایھالکافرون ۔

ان روایتوں سے معلوم ہواکہ وترکے بعددورکعت مستحب ہے ،علماءنے فرمایاکہ ان دورکعتوں کو بیٹھ کرپڑھنا سنت ہے ،اس لئے کہ اللہ کے نبی علیہ السلام قصدابیٹھ کر پڑھتے تھے اوربعض علماءنے فرمایا کہ کھڑے ہوکر پڑھنا افضل ہے ۔(درس ترمذی ۲۳۹/۲)

نماز وترصرف رمضان المبارک میں بعدتراویح باجماعت اداکی جاسکتی ہے،اس پرتمام مسلمانوں کااجماع ہے ۔(ھدایہ ۱۵۱/۱)

کتبہ عبداللطیف قاسمی جامعہ غیث الھدی بنگلور ،بروزجمعرات ۱۱؍ رجب المرجب ۱۴۳۶؁ھ مطابق ۳۰/ اپریل ۲۰۱۵؁ء

درس قرآن، درس حدیث ، فقہ وفتاوی ، اصلاحی ،دینی اورتحقیقی مضامین کے لئے فیضان قاسمی ویب سائٹ کی طرف رجوع کیجئے اوردوست واحباب کو متوجہ بھی کیجئے ۔جزاکم اللہ خیرا