کعبۃ اللہ کی کنجی اورعثمان بن طلحہ

کعبۃ اللہ کی کنجی اورعثمان بن طلحہ:حضرت مولانا مفتی محمد شفیع عثمانی رحمۃ اللہ علیہ

اِنَّ اللّٰهَ يَاۡمُرُكُمۡ اَنۡ تُؤَدُّوا الۡاَمٰنٰتِ اِلٰٓى اَهۡلِهَا ۙ وَاِذَا حَكَمۡتُمۡ بَيۡنَ النَّاسِ اَنۡ تَحۡكُمُوۡا بِالۡعَدۡلِ‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ نِعِمَّا يَعِظُكُمۡ بِهٖ‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ سَمِيۡعًۢا بَصِيۡرًا‏ ۞ (النساء:۵۸)

ترجمہ:بے شک اللہ تم کو فرماتا ہے کہ پہنچا دو امانتیں امانت والوں کو اور جب فیصلہ کرنے لگو لوگوں میں تو فیصلہ کرو انصاف سے اللہ اچھی نصیحت کرتا ہے تم کو بے شک اللہ ہے سننے والا دیکھنے والا-

آیت کا شان نزول

مذکورہ آیات میں سے پہلی آیت کے نزول کا ایک خاص واقعہ ہے کہ کعبہ کی خدمت اسلام سے پہلے بھی بڑی عزت سمجھی جاتی تھی اور جو لوگ بیت اللہ کی کسی خاص خدمت کے لئے منتخب ہوتے تھے،وہ پوری قوم میں معزز و ممتاز مانے جاتے تھے، اسی لئے بیت اللہ کی مختلف خدمتیں مختلف لوگوں میں تقسیم کی جاتی تھیں۔

زمانہ جاہلیت سے ایام حج میں حجاج کو زمزم کا پانی پلانے کی خدمت آں حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عم محترم حضرت عباس کے سپرد تھی، جس کو سقایہ کہا جاتا تھا، اسی طرح اور بعض خدمتیں آں حضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دوسرے چچا ابو طالب کے سپرد تھی، اسی طرح بیت اللہ کی کنجی رکھنا اور مقررہ ایام میں کھولنا بند کرنا عثمان بن طلحہ سے متعلق تھا۔

عثمان بن طلحہ کلیدبردارکعبہ

عثمان بن طلحہ کا اپنا بیان ہے کہ زمانہ جاہلیت میں ہم پیر اور جمعرات کے روز بیت اللہ کو کھولا کرتے تھے اور لوگ اس میں داخل ہونے کی سعادت حاصل کرتے تھے، ہجرت سے پہلے ایک روز رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے کچھ صحابہ کے ساتھ بیت اللہ میں داخل ہونے کے لئے تشریف لائے (اس وقت تک عثمان بن طلحہ اسلام میں داخل نہیں ہوئے تھے)۔

انہوں نے آں حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اندر جانے سے روکا اور انتہائی ترشی دکھائی، آپ نے بڑی برد باری کے ساتھ ان کے سخت کلمات کو برداشت کیا، پھر فرمایا، اے عثمان شاید تم ایک روز یہ بیت اللہ کی کنجی میرے ہاتھ میں دیکھو گے، جبکہ مجھے اختیار ہوگا کہ جس کو چاہوں سپرد کر دوں، عثمان بن طلحہ نے کہا کہ اگر ایسا ہوگیا تو قریش ہلاک اور ذلیل ہوجائیں گے، آپ نے فرمایا کہ نہیں ! اس وقت قریش آباد اور عزت والے ہوجائیں گے۔آپ یہ کہتے ہوئے بیت اللہ کے اندر تشریف لے گئے۔

اس کے بعد جب میں نے اپنے دل کو ٹٹولا تو مجھے یقین سا ہوگیا کہ آپ نے جوکچھ فرمایا ہے، وہ ہو کر رہے گا، میں نے اسی وقت مسلمان ہونے کا ارادہ کرلیا ؛لیکن میں نے اپنی قوم کے تیور بدلے ہوئے پائے، وہ سب کے سب مجھے سخت ملامت کرنے لگے، اس لئے میں اپنے ارادہ کو پورا نہ کرسکا، جب مکہ فتح ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بلا کر بیت اللہ کی کنجی طلب فرمائی، میں نے پیش کردی۔

کعبۃ اللہ کی کنجی قیامت تک تمہارے ہی خاندان کے پاس

بعض روایات میں ہے کہ عثمان بن طلحہ کعبۃ اللہ کی کنجی لے کر بیت اللہ کے اوپر چڑھ گئے تھے، حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے آپ کے حکم کی تعمیل کے لئے زبردستی کنجی ان کے ہاتھ سے لے کر آں حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دے دی تھی، بیت اللہ میں داخلہ اور وہاں نماز ادا کرنے کے بعد جب آں حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر تشریف لائے ،تو پھر کنجی مجھ کو واپس کرتے ہوئے فرمایا: لو اب یہ کنجی ہمیشہ تمہارے ہی خاندان کے پاس قیامت تک رہے گی، جو شخص تم سے یہ کنجی لے گا وہ ظالم ہوگا۔

مقصد یہ تھا کہ کسی دوسرے شخص کو اس کا حق نہیں کہ تم سے یہ کنجی لے لے، اسی کے ساتھ یہ ہدایت فرمائی کہ بیت اللہ کی اس خدمت کے صلہ میں تمہیں جو مال مل جائے ،اس کو شرعی قاعدہ کے موافق استعمال کرو۔

عثمان بن طلحہ کہتے ہیں کہ جب میں کنجی لے کر خوشی خوشی چلنے لگا، تو آپ نے پھر مجھے آواز دی اور فرمایا ! کیوں عثمان جو بات میں نے کہی تھی وہ پوری ہوئی یا نہیں ؟ اب مجھے وہ بات یاد آگئی جو آں حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہجرت سے پہلے فرمائی تھی کہ ایک روز تم یہ کنجی میرے ہاتھ میں دیکھو گے، میں نے عرض کیا کہ بے شک آپ کا ارشاد پورا ہوا اور اس وقت میں کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوگیا (مظہری بروایت ابن سعد)

مذکورہ آیت جوف کعبہ میں نازل ہوئی

حضرت فاروق اعظم عمر بن الخطابؓ فرماتے ہیں : اس روز جب آں حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیت اللہ سے باہرت شریف لائے ،تو یہ آیت آپ کی زبان پر تھی :ان اللہ یامرکم ان تودو الامانات الی اھلھا۔ اس سے پہلے میں نے یہ آیت کبھی آپ سے نہیں سنی تھی۔

صورت امانت کی بھی رعایت

ظاہر ہے کہ یہ آیت اس وقت کعبۃ اللہ کے جوف میں نازل ہوئی تھی، اسی آیت کی تعمیل میں آں حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوبارہ عثمان بن طلحہ کو بلا کر کنجی ان کو سپرد کی؛کیونکہ عثمان بن طلحہ نے جب یہ کنجی آں حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دی تھی تو یہ کہہ کردی تھی کہ ” میں یہ امانت آپ کے سپرد کرتا ہوں “ اگرچہ ضابطہ سے ان کا یہ کہنا صحیح نہ تھا؛ بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی کو ہر طرح کا اختیار تھا کہ جو چاہیں کریں؛ لیکن قرآن کریم نے صورت امانت کی بھی رعایت فرمائی اور آں حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کی ہدایت کی کہ کنجی عثمان ہی کو واپس فرما دیں ۔

حالانکہ اس وقت حضرت عباسؓ اور حضرت علی ؓ نے بھی آں حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ درخواست کی خدمت بھی ہمیں عطا فرما دیجئے، مگر آیت مذکورہ کی ہدایت کے موافق آں حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی درخواست رد کر کے کنجی عثمان بن طلحہ کو واپس فرمائی ، تفسیر مظہری۔(معارف القرآن ۴۴۴/۲)

اصلاحی ،علمی اورتحقیقی دینی مضامین کےلئے فیضان قاسمی ویب http://faizaneqasmi.comکا مطالعہ کیجئے اور دوست واحباب کو شیئرکیجئے ۔