خوشگوار ازدواجی زندگی

رہنمااصول برائے خوشگوار ازدواجی زندگی: نکاح ایک عبادت ،زندگی کی رہنما اصول برائے خوشگوار-ازدواجی-زندگی:راحت وسکون کا سامان اورجنسی تسکین کا جائز ذریعہ ہے ،نکاح کا دن ہرجوان لڑکے ولڑکی کے لئے خوشیوں ومسرتوں سے بھرپوراورہرجوڑے کا یادگاردن ہوتاہے ۔
رشتہ طے ہونے کے بعد سے نکاح کی تقریب کی تزئین،سامان کی خریدوفروخت ،عزیزواقارب کوحاضری کی دعوت وغیرہ میں نہایت مصروف اور شادی کے دن کے انتظارمیں بے قراروبے چین نظرآتے ہیں، اللہ اللہ کرکے شادی کا دن اپنی تمام رنگینیوں،خوشیوں ومسرتوں اورمبارک بادیوں کے ساتھ دولہااوردلہن کی زندگی کا ایک ناقابل ِفراموش حصہ بن جاتاہے ۔۔۔اللہ تعالیٰ تمام شادی شدہ جوڑوں کے لئے ہردن عیدکا دن اورہررات شب براءت بنائے ۔آمین
ان سب خوشیوں اورتیاریوں کے باجود ایک اہم اورزندگی کو پرسکون بنانے والے ایک قیمتی تحفہ سے لوگ عموماً غافل ہوتے ہیں،وہ قیمتی تحفہ” ازدواجی زندگی کے اسلامی اصول ، تعلیمات وہدایات“ ہیں جن کی طرف خطبہءنکاح کی آیتیں اشارہ کرتی ہیں ،اس اللہ سے ڈروجس کانام لے کر تم آپس میں ایک دوسرے سے (حقوق وغیرہ سے متعلق )سوال کرتے ہو اوررشتہ داری سے ڈرو(رشتہ داری کو توڑنے سے بچوجس میں ازدواجی رشتہ بھی داخل ہے )۔(النسائ:۱)
اللہ سے ڈروجیسے اس سے ڈرنے کا حق ہے ،(شادی سے پہلے کی زندگی میں،شادی کے بعد کی زندگی میں )(آل عمران : ۲۰۱)
اللہ سے ٹھیک اوردرست بات کہو۔(بطورخاص نکاح کے بندھن میں بندھتے وقت بیویوںسے حقوقِ زوجیت اورحسن ِسلوک کا جو وعدہ اورقول وقرارکرتے ہو ،ان کو پوراکرو)(الاحزاب:۲۷)
ان اہم ہدایات وتعلیمات سے نوجوان لڑکے ولڑکیاں اورخاندان کے بزرگ افراد جو دودلوں کے جوڑنے میں سنگ ِمیل اداکرنے کا رول اداکررہے ہوتے ہیں وہ سب عمومًا غافل ہوتے ہیں اور نکاح کے بندھن میں بندھ جانے کے بعد میاں بیوی کے آپسی حقوق کیا ہیں ؟ان کی ادائیگی میں کیاراحتیں ہیں اورادانہ کرنے میں کیامصیبتیں،الجھنیں چھپی ہوئی ہیں نہ دولہاکوپتہ ہوتاہے کہ لفظ” قبول“ سے اپنے ناتواں کندھوں پرکس بارِگراں کواٹھانے جارہاہے ،نہ بیوی بننے والی لڑکی کو پتہ ہوتاہے کہ وہ کس بندھن میں بندھی جارہی ہے، اس کی کیانزاکتیں ہیں؟نہ ہی ان مشفق ومہربان والدین کوکچھ احساس ہوتاہے جواپنی اولادکو دولہاودلہن کی شکل میں نہایت خوش وشادماں دیکھنے کےلئے انتھک کوشش میں لگے ہوئے ہوتے ہیں کہ ان کے لئے ایساتحفہ (خوش گوارازدواجی زندگی کے اصول ) شادی کے موقع پردیاجائے جو اس رشتہ کوہمیشہ خوشیوں کے ساتھ باقی رکھنے والااورازدواجی زندگی کونہایت خوش گواراورجنت نشاں بناسکے ۔
الغرض جب شادی کے چنددن بخوشی گزرجاتے ہیں اورایک دوسرے کی حق تلفی شروع ہوجاتی ہے، تب بیوی کی طرف سے ناز ونخرے ناقابلِ برداشت ہوجاتے ہیں، یا شوہرکے ناجائزونامناسب مطالبات کی وجہ سے گھراجڑتاہوانظرآتاہے، تب علماءکرام کی طرف رجوع کیاجاتاہے اور پریشانیوں کی شکایات ،مقدس رشتوں کی پامالی کے واقعات کا حکم معلوم کیاجاتاہے۔
شوہرکہتاہے میں نے غصہ میں اس طرح کی بات کہہ دی ہے ،اب رشتہ باقی رہاکہ نہیں ؟دارالافتاءمیں اورفون پرمسائل معلوم کر نے میں سوالات کی اکثریت ان ہی امورسے متعلق ہوتی ہے۔
یہی وہ باتیں ہیں جواستاذِمحترم مشفق ،محسن ومربی اور داعی کبیر حضرت مولانامفتی محمداسلم صاحب رشادی مدظلہ العالی مہتمم جامعہ غیث الہدی بنگلور کو پریشان کررہی تھیں،عرصہءدراز سے آپ کی خواہش وفکر تھی کہ اس موضوع پرایک مختصررسالہ ترتیب دیاجائے جو”نکاح کی اہمیت ،ازدواجی حقوق ،خوش گوارازدواجی زندگی کے اصول ،طلاق کی شرعی حیثیت اورطلاق کاغلط استعمال “وغیرہ پرمشتمل ہوجس کوامت کے نوجوان اورخاندانی بزگوں کے سامنے پیش کیا جائے اوران کی ذہن سازی کی جائے تاکہ امت کے نوجوانوں میں پائی جانے والی” شرحِ طلاق“ کم ہوسکے،لوگ پرسکون ازدواجی زندگی بسرکرسکیں۔

اس کیٹگیری میں اسی سے متعلق مضامین شامل ہیں جو دراصل ایک مستقل کتاب جس کے مضامین کو متفرق طور پوسٹ کیا گیاہے  عبداللطیف قاسمی

0
نکاح کی فضیلت ،مقاصد اوراحکامات

نکاح کی فضیلت:کہاجاتاہے کہ انسان ”ایک سماجی حیوان “ہے یعنی وہ اپنی بہت سی ضروریات کے لئے سماج کا محتاج ہے ، انسان کو اس بات کی ضرورت ہوتی ہے کہ وہ خاندان کے ...

1
خوش گوارازدواجی زندگی

خوش گوارازدواجی زندگی کی تالیف کا پس منظر: تمام تعریفیں اس مہربان رب کے لئے ہیں جس نے انسان کو ایک جان سے پیدافرمایا اوراس کے سکون کے لئے اس کی رفیقہءحیات ...